Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1028

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا تَوَضَّاَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ اَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيْئَةٍ نَظَرَ اِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَاِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَاِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتّٰى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ.

عن ابی هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اذا توضا العبد المسلم او المؤمن فغسل وجهه خرج من وجهه كل خطيئة نظر اليها بعينيه مع الماء او مع اخر قطر الماء فاذا غسل يديه خرج من يديه كل خطيئة كان بطشتها يداه مع الماء او مع اخر قطر الماء فاذا غسل رجليه خرجت كل خطيئة مشتها رجلاه مع الماء او مع اخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور چہرہ دھوتا ہے تو اُس کے وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں جو اُس نے اپنی دونوں آنکھوں سے کئے تھے پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جو ہاتھوں سے پکڑ کر کئے پانی کے ساتھ یا آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں پھر جب دونوں پاؤں دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جن کی طرف پیرچل کر گئے پانی کے ساتھ یا آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ (وُضو کر کے) وہ گناہوں سے پاک ہوکر نکلتا ہے۔“

شرح حدیث

تمام بدن کے گناہ معاف:مُفَسِّرِشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اگرچہ انسان کان، ناک، منہ سب سے گناہ کرتا ہے مگر زیادہ گناہ آنکھ سے ہوتے ہیں۔جیسے اجنبی عورت کودیکھنا۔اسی لئے صرف آنکھ کا ذکر فرمایا ورنہاِنْ شَآءَ اﷲچہرے کے ہر عضو کے گناہ منہ دھوتے ہی معاف ہوجاتے ہیں۔(وہ گناہ جو ہاتھوں سے کئے)جیسے نامحرم کو چھولینا یا غیر کی چیز بلا اجازت ٹٹولنا۔ چلنے سے مراد ناجائز مقام پر جانا ہے۔خیال رہے کہ یہاں صرف ان اعضاء کے گناہوں کی ہی معافی مراد نہیں بلکہ سارے گناہ مراد ہیں حتّٰی کہ دل و دماغ کے بھی گناہ۔ان اعضاء کا ذکر اس لیے ہے کہ زیادہ گناہ انہیں سے صادر ہوتے ہیں،لہٰذا یہ حدیث گزشتہ حدیث حضرت عثمان کے خلاف نہیں اورہوسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں وضو کامل کا ذکر تھا جس میں سارے سنن و مستحبات ادا کئے جائیں وہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے اور یہاں وہ وضو مراد ہے جو اتنا کامل نہ ہو اس سے صرف ان اعضاء کے گناہ ہی معاف ہوں گے،لہٰذا دونوں حدیثیں درست ہیں۔قَاضِیْ شَمْسُ الدِّیْن مُحَمَّد بِنْ عَطَاءُاﷲ ہَرَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”وضو جس طرح ظاہر سے نجاست حکمیہ جو نماز سے مانع ہوتی ہے اسے دورکرتا ہے یونہی باطن سے نجاست معنویہ(یعنی گناہوں ) کوبھی دورکرتا ہے۔گناہوں سے پاک ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور ان پر مواخذہ نہیں ہوگا ۔یہ بھی ہوسکتا ہے گناہ کرنے سے جو نحوست اوردل پر جو سیاہی پیدا ہوتی ہے وہ وضو کرنے کی برکت سے مٹادی جاتی ہے۔“ماءِذُنُوب:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک سے بعض علما نے یہ استدلال کیا ہےکہ مستعمل پانی سے وضو نہیں ہوگا اوراسی حدیث کی وجہ سے مستعمل پانی کو ماءِ ذُنوب (گناہوں والا پانی)کہا گیا ہے۔“مدنی گلدستہ’’پاکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) وضو سے چہرے کے تمام اعضا آنکھ، ناک، کان کے گناہ نکل جاتے ہیں۔
(2) ہاتھ دھونے سے ہاتھوں کے اورپیر دھونے سے پیروں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(3) وہ کامل وضو جس میں سارے سنن و مستحبات ادا کئے جائیں اس سے سارے جسم کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(4) مستعمل پانی سے وضو نہیں ہوتا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بالکل پاک فرمادے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1028