Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1032

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:”مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ اَوْ فَيُسْبِغُ الْوُضُوْ ءَ ثُمَّ يَقُوْلُ:اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اِلَّافُتِحَتْ لَهُ اَبْوَابُ الجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ اَيِّهَا شَاءَ“.( ) وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ:اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:”ما منكم من احد يتوضأ فيبلغ او فيسبغ الوضو ء ثم يقول:اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله الافتحت له ابواب الجنة الثمانية يدخل من ايها شاء“.( ) وزاد الترمذي:اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تم میں سے جو بھی وضو کرے اور اس میں مبالغہ کرے یا کامل طریقے سے وضو کرے پھر یوں کہے:”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُیعنی میں گواہی دیتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔“ تو اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں کہ جس سے چاہے داخل ہوجائے۔“ترمذی کی روایت میں (مذکورہ کلمات کے بعدآخر میں)یہ الفاظ زائد ہیں:”اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَیعنی اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّمجھے توبہ کرنے والوں سے بنا اور مجھے پاک و ستھرے لوگوں میں کردے۔“

شرح حدیث

وضو میں مبالغہ سے کیا مراد ہے؟مرآۃ المناجیح میں ہے:’’مبالغہ سے مراد ہے کہ اس کی خوبیوں کو انتہا پر پہنچادے،پورا کرنے(یعنی کامل طریقے)سے مرادہے کہ پورے اعضاء دھوئے،بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے۔مِنْکُمْفرماکر اشارہ فرمایا کہ سارے نیک اعمال مسلمانوں کو مفید ہیں،گمراہوں،بے دینوں کو نہیں،دوائیں زندہ کو فائدہ پہنچاتی ہیں نہ کہ مُردوں کو۔‘‘وضو کے بعد پڑھنے والے اَذکار:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:اس حدیث سے پتا چلا کہ وضو کرنے والے کے لیے وضو کے بعدکلمۂ شہادت پڑھنا مستحب ہے اور یہ بخاری و مسلم دونوں کی روایت میں ہے۔ وضو کرنے والے کو چاہیے کہ کلمۂ شہادت کے بعد وہ دعا بھی پڑھ لے جو ترمذی میں ہےاَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ“ نیز یہ بھی مستحب ہے کہ اس کے ساتھ وہ دعا بھی ملا لے جو امام نسائی نے اپنی کتاب ”عَمَلُ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ“ میں روایت کی ہے:”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ“غسل کرنے والے کے لیے بھی یہ اذکار (غسل کے بعد)پڑھنا مستحب ہیں۔حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اﷲ عَنْہُکے ساتھ حشر:حدیثِ پاک میں ہے :”اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔“مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی اس عمل کی برکت سےاﷲتعالیٰ اس کا حشر ابوبکرصدیق (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)کے غلاموں میں فرمائے گا کہ وہ ان سرکار کے ساتھ جنت میں جائے گا اور جیسے انہیں ہر دروازہ سے پکارا جائے گا کہ ادھر سے آؤ ایسے ہی ان کے صدقے میں اسے بھی، لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آٹھوں دروازے کھلنا حضرت صدیق اکبر کی خصوصیات میں سے ہےکیونکہ اس کا یہ داخلہ ان کے صدقے سے ہے۔خیال رہے کہ اگرچہ ہرجنتی داخل ایک ہی دروازہ سے ہوگا مگر ہر دروازہ سے پکاراجانا اس کی عزت افزائی کے لئے ہے۔مدنی گلدستہ’’مستحب‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اچھے طریقے سے تمام سنن و مستحبات کو ادا کرتے ہوئے وضو کرنا چاہیے۔
(2) جو کامل طریقے سے وضو کرنے کے بعد کلمۂ شہادت پڑھے اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔
(3) اَحادیث میں وضو کے بعد کی جو دعائیں اور اذکار مذکور ہیں انہیں پڑھنا چاہیے۔
(4) غسل کرنے والے کے لیے بھی ان دعاؤں کا پڑھنا مستحب ہے۔
(5) وضو کے بعد کلمۂ شہادت پڑھنے والے کا حشر حضرت ابو بکر صدیق
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ ہوگا نیز وضو کرنے والے کو چاہیے کہ کلمۂ شہادت کے بعدیہ دعا بھی پڑھ لے:”اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ“اور اس دعا کا ملانا بھی مستحب ہے:”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ“۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی وضو کے بعد کی دعائیں اور اَذکار پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمادے جن کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے پکارا جائے گا۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1032