Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1030

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلَا اَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوْا بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ! قَالَ:اِسْبَاغُ الْوُضُوْ ءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا اِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذٰلِكُمُ الرِّبَاطُ.

عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:الا ادلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات؟ قالوا بلى يا رسول الله! قال:اسباغ الوضو ء على المكاره وكثرة الخطا الى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے اعمال کے بارے میں نہ بتاؤں جن کے سبباﷲ عَزَّ وَجَلَّگناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند فرماتا ہے؟“صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: کیوں نہیںیارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرمایا:”مشقت کے وقت کامل وضو کرنا، مسجد کی طرف زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنااوریہی تمہارے لیے رباط (اسلامی سرحد کی حفاظت)ہے۔

شرح حدیث

کامل وضو سے مراد:شرح طیبی میں ہے:گناہوں کا مٹنا بخشش سے کنایہ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد نامہ اعمال سے گناہوں کا مٹنا ہو جو مغفرت پر دلالت کرتا ہے ۔درجات میں بلندی سے مراد جنت میں اعلیٰ منازل ہیں۔ کامل وضو سے مراد وضو کرتے وقت پانی کا ان تمام اعضاء تک کامل طریقے سے پہنچانا جہاں تک پہنچانا چاہیے، غرہ میں زیادتی کرنا(یعنی جہاں تک دھونے کا حکم ہے اس سے زیادہ دھونا)اورتین بار اعضائے وضو دھونا۔ اوروُضُوبناہےاَلْوَضَاءَۃسے اس کا معنیٰ ہے حُسن اور صفائی۔ وضو کو وضو اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ وضو کرنے والے کو پاک صاف کرتا اورحسین بناتا ہے۔”اَلْمَكَارِه“سے مراد مشقت و تکلیف ہے اور مشقت کی صورت یہ ہے کہ پانی ناپید ہویا پانی کی سخت ضرورت ہو یا مہنگے داموں پانی خرید کر وضو کرے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:(کامل وضو سے مراد)اعضائے وضو کامل دھونااورتین بار دھونااور وضو کی سنتوں کا پورا کرنا ہے۔مشقت سے مراد سردی یا بیماری یا پانی کی گرانی کا زمانہ ہےیعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا۔(مسجد کی طرف زیادہ قدم چلنا)یااس لئے کہ گھرمسجد سے دور ہویا قدم قریب قریب ڈالے۔ مطلب یہ کہ ہر وقت نمازمسجد میں پڑھنا،نماز کے علاوہ وعظ وغیرہ کے لئے بھی مسجد میں حاضری دینا موجب ثواب ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواہ مخواہ قریب کی مسجد چھوڑکر دورجاکرنماز پڑھے۔(ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا)یعنی ایک وقت کی پڑھ کر دوسری نماز کا منتظر رہنا،خواہ مسجد میں بیٹھ کریا اس طرح کہ جسم گھر میں یا دکان میں ہواورکان اذان کی طرف اور دِل مسجدمیں لگا ہو۔(یہی تمہارے لیے رباط ہے۔)رباط کے لغوی معنی ہیں گھوڑاپالنا۔اصطلاح میں جہاد کی تیاری یا سرحدِ اسلام پررہ کر کفار کے مقابلے میں ڈٹا رہنا ربَاط ہے۔ رباط بڑی عبادت ہے، ربّ فرماتا ہے:﴿ وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا ﴾(پ۴، آل عمران:۲۰۰)(ترجمۂ کنزالایمان:صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو۔)حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے مقابل مورچے سنبھالنا ظاہری رباط ہے اور مذکورہ بالا اعمال باطنی رباط یعنی نفس وشیطان کے مقابل حدودِایمان کی حفاظت۔مدنی گلدستہ’’خیر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) وضومسلمان کو پاک و صاف کرتا اورحسین بناتا ہے۔
(2) مشقت و تکلیف کے وقت وضو کرنا بہت افضل عمل ہے۔
(3) وضو سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور جنت میں اعلیٰ منازل ملتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کامل طریقے سے وضو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1030