Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 591

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:اَ تَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَقَالَ: جِئتَ تَسْئَلُ عَنِ البِرِّ ؟ قُلْتُ:نَعَمْ فَقَالَ:اسْتَفْتِ قَلْبَكَ،البرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَيْهِ النَّفسُ وَاطْماَنَّ اِلَيْهِ القَلْبُ، وَالْاِ ثْمُ مَا حَاكَ في النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ،وَ اِنْ اَفْتَاكَ النَّاسُ وَاَفْتَوْكَ.

عن وابصة بن معبدرضی اللہ عنہ قال:ا تيت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فقال: جئت تسئل عن البر ؟ قلت:نعم فقال:استفت قلبك،البر ما اطمانت اليه النفس واطمان اليه القلب، والا ثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر،و ان افتاك الناس وافتوك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا وابِصہ بن مَعْبَدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ ایک مرتبہ میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :” تو نیکی کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے ؟“میں نے عرض کی :جی ہاں۔فرمایا :”اپنے دل سے سوال کر،نیکی وہ ہے جس پر نفس اوردل مطمئن ہوں اور گناہ وہ ہےجوتیرے دل میں کھٹکےاورتیرے سینےمیں شبہہ ہو۔ اگرچہ لوگ تجھےفتویٰ دیں، اگرچہ وہ تجھے فتویٰ دیں۔

شرح حدیث

غیب داں نبی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور سے معلوم ہواکہ ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں کے دلی حالات سے باخبر ہیں جبھی تو سائل کو بتا دیا کہ تم اپنےدل میں یہ سوال لے کر آئے ہو۔ مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہ غیبی خبرہے کہ حضرت وابصہ جو سوال دل میں لے کر آئے تھے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے بغیرعرض کئے ہوئے ارشا دفرمادیا۔معلوم ہوتا ہے کہاللّٰہتعالیٰ نے انہیں دلوں کے حال پر مطلع فرمایا ہے کیوں نہ ہو!انہیں تو پتھروں کے دلوں پر اطلاع ہے کہ فرماتے ہیں:”اُحُد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے۔“(نیکی وہ ہے جس پر دل اور نفس مطمئن ہوں اور گناہ وہ ہےجوتیرے دل میں کھٹکے) یعنی آج سے اے وابصہ!گناہ اور نیکی کی پہچان یہ ہے کہ جس پر تمہارا دل و نفسِ مطمئنہ جمے وہ نیکی ہوگی اور جسے تمہارا دل و نفسِ مطمئنہ قبول نہ کرے وہ گناہ ہوگا۔ عام لوگوں کے فتویٰ کا تم اعتبار نہ کرنا اپنے دل و نفس کا فتویٰ قبول کرنا کہ تمہارے دل کا فتویٰ ہمارا فیصلہ ہوگا ۔دِلی سکون چلا گیا :منقول ہےکہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدَتُنَا رابعہ عدویہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاکو ایک عرصہ تک بہت زیادہ بے چینی ہوئی، دلی سکون چلا گیا ۔ جب غورو فکر کیا تو پتا چلا کہ انہوں نے شاہی مشعل کی روشنی میں اپنی قمیص کا چاک سی لیاتھا بس یہ خیال آتے ہی فوراً سِلا ہواحصہ پھاڑ ڈالا، تب جا کر دِل کو قرار و سکون ملا۔گھی کے چالیس مٹکےبہادیئے:حضرت سَیِّدُنَا ابنِ سیرینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْمُبِیْننےایک مرتبہ چالیس مٹکے گھی خریدا، ان میں سے کسی ایک مٹکے سے غلام نے مرا ہو ا چوہا نکالا ،تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے پوچھا :یہ کس مٹکے سے نکلا ہے؟ غلام نے لاعلمی کا اِظہار کیا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے تمام مٹکے بہا دئیے۔ ( تاکہ کسی مسلمان تک شبہ والا مال نہ پہنچے۔)پرہیز گار گھرانہ:حضرت سَیِّدُنَا بِشْرحافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِیکی ہمشیرۂ محترمہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آئیں اور عرض کی: ہم اپنے مکان کی چھت پرسوت کاتتے ہیں تو بسا اوقات شاہی مشعلوں کی روشنی ہم پر پڑتی ہے تو ہمارے لئے اس روشنی میں سوت کاتنا جائز ہے یا نہیں ؟ یہ سن کر حضرت سیدنا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے پوچھا :آپ کون ہیں؟کہا:میں بشر حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِیکی بہن ہوں۔ اس پر آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہروپڑے اور فرمایا:سچی پرہیز گاری تمہارے گھر ہی سے تو نکلی ہے،تم ان مشعلوں کی روشنی میں سوت نہ کاتا کرو۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو!آمینمدنی گلدستہ’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) نیکیوں پر مطمئن اور گناہوں سے بے چین وہی دل ہوتا ہے جو خواہشات کی گندگیوں سے ملوث نہ ہو۔
(2) جس چیز کی حلت و حرمت میں شک ہو توعلماء سے راہنمائی لئے بغیر اسے ہر گز استعمال نہ کیا جائے۔
(3) نیک لوگ غلطی سے اگر کوئی مشکو ک شے استعمال کر لیں تو جب تک اس کا ازالہ نہ کر یں انہیں دلی سکون نہیں ملتا ۔
(4)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے نہ تو خود شبہ والی اشیاء استعمال کرتے ہیں نہ ہی دوسروں کے لئے اسے روا رکھتے ہیں، اگرچہ اس کے لئے انہیں کتنے ہی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے ۔
(5) بعض چیزیں فتویٰ کے اعتبار سے جائز ہوتی ہیں لیکن بطورِتقویٰ ان سے بچنے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔
(6) اولیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی بہت ز یادہ احتیاط برتتے ہیں جن کی طرف عام لوگ توجہ بھی نہیں کرتے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیکیوں پر مطمئن اور گناہوں سے بے چین ہونے والادل عطا فرمائے، شبہات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 591