Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 592

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سِرْوَعَةَ عُقبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِاَ بيْ اِهَابِ بْنِ عَزِيْزٍ فَاَتَتْهُ امْرَاَةٌ فَقَالَتْ:اِنّيْ قَدْاَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي قَدْ تَزَوَّجَ بِهَا فَقَالَ لَهَاعُقْبَةُ:مَااَعْلَمُ اَنَّكِ اَرْضَعْتِنِي وَلَااَخْبَرْتِنِیْ فَرَكِبَ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِالْمَدِينَةِ فَسَاَ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:كَيْفَ وَقَدْ قِيْلَ؟ فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ .

عن ابي سروعة عقبة بن الحارث رضی اللہ عنہ انه تزوج ابنة لا بي اهاب بن عزيز فاتته امراة فقالت:اني قدارضعت عقبة والتي قد تزوج بها فقال لهاعقبة:مااعلم انك ارضعتني ولااخبرتنی فركب الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بالمدينة فسا له فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:كيف وقد قيل؟ ففارقها عقبة ونكحت زوجا غيره .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو سِروعہ عُقْبہ بن حارثرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمروی ہےکہ انہوں نے ابو اِہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی توان کے پاس ایک عورت آئی اورکہا کہ میں نے عقبہ اور جس سے اس نے شادی کی ہے اسے دودھ پلایا ہے ۔ حضرت سیدناعقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس عورت سے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ تو نے مجھے دودھ پلایا اور نہ ہی تو نے مجھے اس کی خبر دی ۔ یہ کہہ کر آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسوار ہوکر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں مدینہ منورہ حاضرگئے اور اس مسئلے کے بارے میں دریافت کیا۔ نبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”یہ نکاح کیسے ہو سکتا ہے ،جب کہ یہ بات کہی گئی ہے ؟“ پس حضرت سَیِّدُنَا عقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس عورت سے جدائی اختیار کر لی اور اس عورت نے کسی اور مردسے شادی کرلی۔

شرح حدیث

مقام تہمت سے بچے:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!حدیثِ مذکورمیں فرمان نبوی پراپنی پسندیدہ شے ترک کرنے اور مشکوک امر سے بچنے کی ایک بہترین ایمان افروز جھلک ہے۔حضرت سَیِّدُنا عقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی زوجہ کو صرف اس لئے چھوڑ دیا کہ پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکااس کے ساتھ رہنا پسند نہ فرمایا حالانکہ وہ عورت آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپر حرام نہ تھی کیونکہ کسی ایک عورت کی گواہی سے حُرمَتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی،آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکااس سے نکاح درست تھا لیکن اس معاملے میں آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپر یہ تہمت لگ سکتی تھی کہ دیکھو رضاعی بہن کو بیوی بنا کر رکھا ہوا ہے! لہٰذا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات پسند نہ فرمائی کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارے صحابی پر ایسی کوئی تہمت لگے،اس لئے تقویٰ واحتیاط کے پیشِ نظران دونوں میں تفریق کو پسند فرمایا۔معلوم ہواکہ چاہے کوئی کتنا ہی پاک دامن و پرہیز گار ہو لیکن اسے پھر بھی تہمت والی جگہوں سے بچنا چاہیے۔ایک عورت کی گواہیعَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”جمہورعلمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکا مذہب ہےکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا عقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو ان کی زوجہ سے علیحدگی کاحکم بطورِ احتیاط دیا تھا تاکہ وہ کسی مشکوک معاملے میں مبتلا نہ ہوں۔اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ ایسے معاملات میں ایک عورت کی گواہی قابل قبول نہیں ہوتی ۔“ایک عورت کی گواہی پر بھی تفریق افضل ہے:حضرت سَیِّدُنَا عقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنوفل ابن عبد مناف کی اولاد سے ہیں۔ فتحِ مکہ کے دن اسلام لائے، آپ کا شمار اہل مکہ میں ہوتاہے آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُصحابی ہیں۔اس حدیث کی بنا پر احناف بھی کہتے ہیں کہ صرف ایک عورت کی خبر پر عورت کو علیحدہ کردینا افضل ہےمگررضاعت کا ثبوت 2مردیاایک مرد2عورتوں کی گواہی سے ہوگا۔اس حدیث میں حُرمت کا فتویٰ نہیں بلکہ تقویٰ و احتیاط کا مشورہ ہے۔فقہائے کرام(رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَام)فرماتے ہیں: کوئی عورت بِلاوجہ ہر بچہ کو دودھ نہ پلائے اور جس کو پلائے اسے مشہور کردے تاکہ آئندہ نکاح میں احتیاط رہے۔ جب حضرت سیدنا عقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے علیحدگی کاحکم دیا تو فرمانِ نبی پر لبیک کہتے ہوئے فوراًاپنی زوجہ کو طلاق دے دی ۔ پھر اس عورت نے عدت گزار کر دوسری جگہ شادی کر لی۔مدنی گلدستہ’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو بارِگاہ رسالت سے جو حکم ہوتا اس کی بجا آوری کے لئے وہ اپنی سب سے پیاری چیز ترک کرنے میں بھی کسی قسم کا تَرَدُّد نہ کیا کرتے ۔
(2) حصولِ علمِ دِین کے لئے سفر کرنا سنتِ صحابہ ہے۔
(3) چاہے کوئی کتنا ہی پرہیز گار وپاکدامن ہو لیکن اسےپھر بھی تہمت والی جگہ سے بچنا چاہیے۔
(4) رضاعت کا ثبوت دو مرد یا ایک مرداوردو عورتوں کی گواہی سے ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک بنائے اور تقوی ٰ وپرہیزگاری عطا کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 592