Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 594

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قالت : كَانَ لِاَبيْ بَكْر الصِّدِيقِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ غُلَا مٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ وَكَانَ اَبُو بَكْرٍ يَاْ كُلُ مِنْ خَرَاجِهِ فَجَاءَ يَوْمًا بِشَيْءٍ فَاَكَلَ مِنْهُ اَبُو ْبَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الغُلامُ : تَدْرِي مَا هَذَا ؟ فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ : وَمَا هُوَ؟قَالَ : كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِاِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا اُحْسِنُ الْكَهَانَةَ اِلَّا اَنّي خَدَعْتُهُ فَلَقِيَنِيْ فَاَعْطَانِي بِذٰلِكَ هٰذَا الَّذِي اَكَلْتَ مِنْهُ فَاَدْخَلَ اَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهِ.اَلْخَرَاجُ : شَيْءٌ يَجْعَلُهُ السَّيِّدُ عَلَى عَبْدِهِ يُؤدِّيْهِ اِلَی السَّیِّد كُلَّ يَومٍ وَبَاقِيْ كَسْبِهِ يَكُونُ لِلْعَبْدِ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان لابي بكر الصديق رضی اللہ عنہ غلا م يخرج له الخراج وكان ابو بكر يا كل من خراجه فجاء يوما بشيء فاكل منه ابو بكر فقال له الغلام : تدري ما هذا ؟ فقال ابو بكر : وما هو؟قال : كنت تكهنت لانسان في الجاهلية وما احسن الكهانة الا اني خدعته فلقيني فاعطاني بذلك هذا الذي اكلت منه فادخل ابو بكر يده فقاء كل شيء في بطنه.الخراج : شيء يجعله السيد على عبده يؤديه الی السید كل يوم وباقي كسبه يكون للعبد.

حدیث ترجمہ

اُمّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہےکہ میرے والِدِمحترم حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا ایک غلام ان کے لئے کما کر لاتا اور آ پ اس سے کھایا کرتےتھے۔ ایک دن وہ کوئی(میٹھی )چیز لایا تو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےاس میں کھایا۔ اس نے عرض کی : آپ جانتے ہیں یہ کیا چیز تھی؟ پوچھا: کیاتھی؟کہا:میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک آدمی کے لئے کہانت کی تھی(فال کھولی تھی)حالانکہ مجھے کہانت کا صحیح علم نہ تھابلکہ میں نے اسے دھوکہ دیاتھا ۔اب وہ مجھے ملا تواس نےمجھے یہ چیز دی جو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کھائی ہے ۔ یہ سنتے ہی آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے منہ میں ہاتھ ڈال کر جو کچھ پیٹ میں تھا سب کی قے کر دی۔ امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:آقااپنے غلام پرجو چیز لازم کرے کہ مزدوری کر کے روازنہ مجھے اتنا دے دیا کرو بقیہ تم لے لیا کرو تو آقا کو ملنے والی یہ رقم خَراج کہلاتی ہے ۔

شرح حدیث

صدیق اکبر کا کمال تقویٰ:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں امیرالمومنین حضرت سیدناصدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے کمالِ تقویٰ و پرہیز گاری کا بیان ہے کہ جیسے ہی شبہہ والی شے کا علم ہوا فوراً بتکلف قے کردی تاکہ مشکوک شے جزو بدن نہ بنے ۔اللّٰہاکبر ! کیا شان ہے صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی!اور کیوں نہ ہو کہ یہ حضرات اس نبی آخرُ الزماںصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تربیت یافتہ تھےجو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ متقی وپرہیز ہیں، جن کی نظر فیضِ اثر نے ناجائز وحرام کھانے والوں کو ایسا حلال و طیب کھانے والا بنایا کہ وہ حرام تو حرام شبہہ والی اشیاء سے بھی کوسوں دور رہنے والے بن گئے۔حضرت سَیِّدُنا امام ابو حامد محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیمذکورہ حدیث ذکر کرنے کے بعدفرماتے ہیں:”سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے اتنی شدت سے قےکی تھی کہ دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا کہ شاید آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی جان نکل جائے گی۔ قے کرنے کے بعدآپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:’’اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!جوکچھ رگوں نے روک لیااورآنتوں میں مل گیامیں اس سے تیری بارگاہ میں معذور ہوں۔‘‘ایک روایت میں ہے کہ جب صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکایہ واقعہ بارگاہِ رسالت میں عرض کیا گیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کیا تم نہیں جانتے کہ صدیق اپنے پیٹ میں پاکیزہ شے ہی ڈالتا ہے۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:(سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے ایک غلام کی کمائی سے کھاتے تھے )اہل عرب اپنے غلاموں کو کاروبار کی اجازت دے دیتے تھے اور ماہوار یا روزانہ کچھ پیسے مقرر کردیتے تھے جو غلام مولیٰ کو ادا کرتا رہتا تھا خواہ وہ کمائی کرتا یا نہ کرتا،زیادہ کرتا یا کم جیسا کہ آج کل لوگ تانگہ و گاڑیاں ٹھیکے پر دے دیتے ہیں، اسے خَراج کہتے تھے یہاں اسی کا ذکر ہے۔(صدیق اکبر
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے غلام کی لائی ہوئی مٹھائی کھالی)اورغلام سے پوچھا نہیں کہ کہاں سے لایا ہے؟ کیونکہ وہ ہمیشہ ہی لاتا تھا اور آپ کھاتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی تحقیق ضروری نہیں جس چیز کی حلت کا گمان غالب ہو اسے کھالے، صحابہ کرام جنگوں میں کفار کے مال و اسباب بلکہ پہنے ہوئے کپڑوں پر قبضہ کرلیتے تھے اوران کی تحقیق نہ فرماتے تھے،یہ عمل خلاف تقویٰ نہیں۔( غلام کی لائی ہوئی وہ مٹھائی)دو طرح سے حرام تھی:ایک یہ کہ کہانت یعنی فال کھولنے کی اجرت ہے اور فال کھولنا بھی حرام ہے،اس کی اُجرت بھی حرام۔دوسرے یہ کہ دھوکا کی شِیرنی ہے جیسے کوئی غیر طبیب کسی کو دھوکا دے کرطبیب بنے،اس کی اجرت لےیہ حرام ہے۔ غالب یہ ہے کہ غلام نے دیدہ دانستہ یہاں جرم کی نیت نہ کی تھی بلکہ اسے دھوکا یہ لگا کہ میں نے یہ کہانت اسلام سے پہلے کی تھی جب مجھ پر احکام شرعی جاری نہ تھے کیونکہ یہ اسی کا معاوضہ ہے اس لیے حلال ہے، اب مسلمان ہو کر نہ کہانت کروں گا،نہ اجرت لوں گا،اسی خیال پر اس نے جناب صدیق اکبر(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) کو پہلے بتایا بھی نہیں۔(صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےفوراً قے کر دی)یہ حضرت صدیق اکبر(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) کا انتہائی تقویٰ ہے کہ جو شے واقعی حرام تھی اور بے علمی میں کھا لی گئی اسے قے کے ذریعہ پیٹ سے نکال دیا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو جناب صدیق کی خلافت کو غلط اور آپ کو خائن و غاصب کہتے ہیں جو ہستی ناجائز مٹھائی اپنے پیٹ میں نہ رہنے دے وہ ناجائز طور پر خلافت پر کیوں کرقابض ہوسکتی ہے۔اس حدیث کی بناء پر بعض شوافع فرماتے ہیں کہ جو بے خبری میں بھی ناجائز چیز کھالے وہ قے کردے مگر ہمارے (اَحناف کے)ہاں یہ خصوصی تقویٰ تھا نہ کہ عمومی فتویٰ۔حرام چیز کھانا حرام ہے،قے کرنا واجب نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام بعینہٖ قبضہ کے بعد بھی ملکیت میں نہیں آتا اور نہ وہاں تبدّلِ مِلک کے اَحکام جاری ہوں۔دینار کی تلاش:ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا ابو عبدُاللّٰہ کَہْمَسْ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکا ایک دینار گم ہوگیا ،آپ اسے تلاش کرنے لگے تو لوگوں نے بھی تلاش شروع کر دی ،کچھ ہی دیر میں ایک دینار مل گیا ، آپ کوپیش کیا گیا تو یہ کہتے ہوئے لینے سےانکار کردیا کہ ممکن ہے یہ کسی اور کا ہومیرا نہ ہو۔بیت المال کا سیب:ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن عبد العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْعَزِیْزبیت المال سے لوگوں میں سیب تقسیم فرمارہے تھے۔آپ کے ایک کم سِن شہزادے نے بھی ایک سیب اٹھایا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے لے کر واپس رکھ دیا ۔وہ روتا ہوا اپنی والدۂ محترمہ کے پاس گیا تو انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے کچھ سیب منگوا کر اسے دیئے اور آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے لئے بھی رکھ دئیے ۔جب آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہگھر تشریف لائے اور سیب دیکھےتو فرمایا: یہ کہاں سے آئے؟ زوجۂ محترمہ نے صورتحال واضح کی تو فرمایا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتجھے جزائے خیر عطا فرمائے! میرا بھی سیب کھانےکو بہت جی چاہ رہا تھا ۔بیت المال کے درہم کی واپسی:امیرُ المومنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےدور خلافت میں بیت المال کے نگران نے بیت المال میں پڑا ہوا ایک درہم امیرالمومنین کے کم سن شہزادے کو دے دیا۔ آپ نے اس نگران کو بلا کر فرمایا : تیری خرابی ہو! کیا تجھےمجھ سے کوئی دشمنی ہے؟ اس نے عرض کی :حضور! مجھ سے کیا غلطی سرزد ہوگئی ؟آپ نے وہی درہم دکھا کرفرمایا : کیا تو یہ چاہتا ہے کہ کل بروزِقیامت ساری امت مجھ سے اس درہم کے بارے میں جھگڑا کرے ؟ یہ کہہ کر آپ نے وہ درہم واپس کر دیا ۔مدنی گلدستہ’مُلْتَزَم‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر چیز کی تحقیق ضروری نہیں جس کے حلال ہونے کا غالب گمان ہو اسےکھا لینا جائز ہے ۔
(2) کہانت یعنی فال کھولنا اور اس کی اجرت لینا دونوں حرام ہیں ۔
(3) اگر غلطی سے کوئی حرام چیز کھا لی تو پیٹ میں پہنچے کے بعد اس کی قے کرنا ضروری نہیں ۔ سَیِّدُنَا صدیق اکبر
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا عمل کمال تقویٰ پر مبنی تھا۔
(4) حرام
بِعَیْنہٖقبضہ کے بعد بھی ملک میں نہیں آتا اور اس میں تبدیلیٔ مِلک کے احکام جاری نہیں ہوتے۔
(5) غیر طبیب کسی کو دھوکا دے کرطبیب بن جائے اور لوگوں کا علاج کرے تواس کام پر اسے اُجرت لینا ناجائز وگناہ ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں لقمہ ٔحرام سے بچائے اور بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْنکے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 594