- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:بے شک حلال ظاہر ہے اورحرام بھی ظاہرہےاوراُن کے درمیا ن مشکوک چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔تو جو ان مشکوک چیزوں سے بچا اس نے اپنا دِین اور اپنی عزت محفوظ کرلی اور جوان مشکوک چیزوں میں پڑ ا وہ حرام میں پڑ گیا ۔جیسے وہ چرواہا جو ممنوعہ چراہ گا ہ کے قریب بکریاں چَراتاہو توقریب ہے کہ وہ جانورا س چراہ گاہ میں بھی چرنے لگیں۔ خبردار! ہر بادشا ہ کی چراہ گاہ ہوتی ہے اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی مقرر کردہ چراہ گاہ اس کی حرام کردہ اَشیاء ہیں۔خبرادر!جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑاہے جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سا را جسم خراب ہو جاتاہے۔ سنو! وہ ٹکڑا دل ہے۔
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم يَقُوْلُ:اِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَاِنَّ الْحَرامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَاَ لِدِ يْنِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الحِمٰى يُوشِكُ اَنْ يَرْتَعَ فِيْهِ اَلَا وَ اِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى اَلَا وَ اِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ اَلَا وَ اِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَ اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ اَلَا وَهِيَ القَلْبُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 588 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
حضرت سیدنااَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راستے میں ایک کھجو رپائی تو فرمایا:” اگر مجھے اس کے صدقہ سے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے ضرور کھاتا۔ “
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَجَدَ تَمْرَةً فِي الطَّرِيْقِ فَقَالَ:لَوْلَا اَنِّيْ اَخَافُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَاَ كَلْتُهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 589 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
حضرت سیدنا نَواس بن سَمعانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’نیکی اچھے اخلاق ہیں اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ با ت ناپسند ہو کہ لوگ اس سے واقف ہوں ۔ ‘‘
عَنِ النَّواسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِِثْمُ مَاحَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ اَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 590 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا وابِصہ بن مَعْبَدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ ایک مرتبہ میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :” تو نیکی کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے ؟“میں نے عرض کی :جی ہاں۔فرمایا :”اپنے دل سے سوال کر،نیکی وہ ہے جس پر نفس اوردل مطمئن ہوں اور گناہ وہ ہےجوتیرے دل میں کھٹکےاورتیرے سینےمیں شبہہ ہو۔ اگرچہ لوگ تجھےفتویٰ دیں، اگرچہ وہ تجھے فتویٰ دیں۔
عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:اَ تَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَقَالَ: جِئتَ تَسْئَلُ عَنِ البِرِّ ؟ قُلْتُ:نَعَمْ فَقَالَ:اسْتَفْتِ قَلْبَكَ،البرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَيْهِ النَّفسُ وَاطْماَنَّ اِلَيْهِ القَلْبُ، وَالْاِ ثْمُ مَا حَاكَ في النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ،وَ اِنْ اَفْتَاكَ النَّاسُ وَاَفْتَوْكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 591 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو سِروعہ عُقْبہ بن حارثرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمروی ہےکہ انہوں نے ابو اِہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی توان کے پاس ایک عورت آئی اورکہا کہ میں نے عقبہ اور جس سے اس نے شادی کی ہے اسے دودھ پلایا ہے ۔ حضرت سیدناعقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس عورت سے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ تو نے مجھے دودھ پلایا اور نہ ہی تو نے مجھے اس کی خبر دی ۔ یہ کہہ کر آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسوار ہوکر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں مدینہ منورہ حاضرگئے اور اس مسئلے کے بارے میں دریافت کیا۔ نبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”یہ نکاح کیسے ہو سکتا ہے ،جب کہ یہ بات کہی گئی ہے ؟“ پس حضرت سَیِّدُنَا عقبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس عورت سے جدائی اختیار کر لی اور اس عورت نے کسی اور مردسے شادی کرلی۔
عَنْ اَبِيْ سِرْوَعَةَ عُقبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِاَ بيْ اِهَابِ بْنِ عَزِيْزٍ فَاَتَتْهُ امْرَاَةٌ فَقَالَتْ:اِنّيْ قَدْاَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي قَدْ تَزَوَّجَ بِهَا فَقَالَ لَهَاعُقْبَةُ:مَااَعْلَمُ اَنَّكِ اَرْضَعْتِنِي وَلَااَخْبَرْتِنِیْ فَرَكِبَ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِالْمَدِينَةِ فَسَاَ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:كَيْفَ وَقَدْ قِيْلَ؟ فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 592 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن بِن علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمافرماتے ہیں: میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ فرمان یا د کیا:” جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کر۔ “
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَ:حَفِظتُ مِنْ رَّسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم، دَعْ مَا یَرِيْبُكَ إِلٰی مَا لَا يَرِيبُكَ.مَعْنَاهُ :اتْرُكْ مَا تَشُكُّ فِيْهِ وَخُذْ مَا لَا تَشُكُّ فِيْهِ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 593 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
اُمّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہےکہ میرے والِدِمحترم حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا ایک غلام ان کے لئے کما کر لاتا اور آ پ اس سے کھایا کرتےتھے۔ ایک دن وہ کوئی(میٹھی )چیز لایا تو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےاس میں کھایا۔ اس نے عرض کی : آپ جانتے ہیں یہ کیا چیز تھی؟ پوچھا: کیاتھی؟کہا:میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک آدمی کے لئے کہانت کی تھی(فال کھولی تھی)حالانکہ مجھے کہانت کا صحیح علم نہ تھابلکہ میں نے اسے دھوکہ دیاتھا ۔اب وہ مجھے ملا تواس نےمجھے یہ چیز دی جو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کھائی ہے ۔ یہ سنتے ہی آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے منہ میں ہاتھ ڈال کر جو کچھ پیٹ میں تھا سب کی قے کر دی۔ امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:آقااپنے غلام پرجو چیز لازم کرے کہ مزدوری کر کے روازنہ مجھے اتنا دے دیا کرو بقیہ تم لے لیا کرو تو آقا کو ملنے والی یہ رقم خَراج کہلاتی ہے ۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قالت : كَانَ لِاَبيْ بَكْر الصِّدِيقِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ غُلَا مٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ وَكَانَ اَبُو بَكْرٍ يَاْ كُلُ مِنْ خَرَاجِهِ فَجَاءَ يَوْمًا بِشَيْءٍ فَاَكَلَ مِنْهُ اَبُو ْبَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الغُلامُ : تَدْرِي مَا هَذَا ؟ فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ : وَمَا هُوَ؟قَالَ : كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِاِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا اُحْسِنُ الْكَهَانَةَ اِلَّا اَنّي خَدَعْتُهُ فَلَقِيَنِيْ فَاَعْطَانِي بِذٰلِكَ هٰذَا الَّذِي اَكَلْتَ مِنْهُ فَاَدْخَلَ اَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهِ.اَلْخَرَاجُ : شَيْءٌ يَجْعَلُهُ السَّيِّدُ عَلَى عَبْدِهِ يُؤدِّيْهِ اِلَی السَّیِّد كُلَّ يَومٍ وَبَاقِيْ كَسْبِهِ يَكُونُ لِلْعَبْدِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 594 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا نافعرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہے کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمربن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے مہاجرین اولین کےلئےچار ہزاردرہم اوراپنے صاحبزادے کے لئے ساڑھے تین ہزار درہم وظیفہ مقررفرمایا۔ عرض کی گئی : ’’وہ بھی تو مہاجرین میں سے ہیں ،آپ نے ان کا وظیفہ کم کیوں رکھا ہے؟‘‘ فرمایا:’’اس کے ساتھ اس کے باپ نے بھی ہجرت کی تھی۔ یعنی وہ ان کی طرح نہیں جنہوں نے اکیلے ہجرت کی ۔‘‘
عَنْ نَافِعٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطّاب رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرينَ الْا َوَّلِينَ اَرْبَعَةَ اٰلَافٍ وَفَرَضَ لِاِبْنِهِ ثَلاَثَة اٰلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ فَقيلَ لَهُ:هُوَ مِنَ الْمُهَاجِريْنَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ؟فَقَالَ:اِنَّمَاهَاجَرَ بِهِ اَبُوْهُ يَقُولُ: لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 595 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
صحابی رسول حضر ت سَیِّدُنَا عطیہ بن عروہ سعدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کوئی بندہ اس وقت تک متقیوں کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا جب تک حرج والی چیزوں سے بچنے کے لئے بغیرحرج والی چیزوں کو نہ چھو ڑے ۔“
عَن عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِيِّ الصَّحَابِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُاَنْ يَكُوْنَ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ حَتّٰى يَدَعَ مَالَا بَاْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ بَاْسٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 596 ، باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان