Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 332

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَانِ بْنِِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِِ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا اَفْطَرَ اَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلٰى تَمْرٍ فَاِنَّهُ بَرَكَةٌ ، فَاِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَاِنَّهُ طَهُوْرٌ ، وَقَالَ : اَلصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِيْنِ صَدَقَةٌ وَعَلٰى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ : صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ. ( )

وعن سلمان بن عامر رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:اذا افطر احدكم فليفطر على تمر فانه بركة ، فان لم يجد تمرا فالماء فانه طهور ، وقال : الصدقة على المسكين صدقة وعلى ذي الرحم ثنتان : صدقة وصلة. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا سلمان بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاکیزہ ہے۔ “ اور ارشاد فرمایا : “ عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ رشتہ دار پر صدقہ کرنے میں دو چیزیں ہیں ، ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔ “

شرح حدیث

کھجور سےافطارکرنےکی فضیلت وفوائد:حدیث پاک میں کھجور سے روزہ اِفطار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، کھجور سے روزہ کھولنا سرکارِ دوعالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے ، نیز خالی پیٹ میٹھی چیز کھانا تندرستی ، خصوصًا نظر کے لیے بہت مفید ہے۔ اس لیے یہ عمل دینی اور دنیاوی برکتوں کا ذریعہ ہے ، کھجور محبوب بندوں کی غذا ہے۔ ‘‘( ) شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ کھجور سے افطار کرنا برکت اور زیادتی ثواب کا موجب و سبب ہے اور پانی سے افطارکرنا معدے کو الائشوں سے پاک و صاف کرنے کا ذریعہ ہے اور خوراک کی اشتہاء کا موجب ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں : جب معدہ خالی ہوتا ہے اور اس میں کھانے کی طلب اور خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ پوری رغبت سے کھانے کو قبول کرتا ہے ، پھر جب سب سے پہلے اس میں کوئی میٹھی چیز پہنچتی ہے تو اس سے معدے کو بہت نفع پہنچتا ہے اور بدن اس سے غایت درجہ فائدہ حاصل کرتا ہے ، خصوصًا نظر کہ میٹھی چیز سے اسے زیادہ قوت و طاقت پہنچتی ہے اور جبکہ اہل حجاز کے ہاں میٹھی چیز کھجور ہے تو ان کی طبعیت اسی کی طرف راغب ہوتی ہے اور ان کے اَبدان و اَجسام اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ، باقی رہا پانی

تو جب جگر روزہ کی وجہ سے خشک ہوچکا ہوتا ہے تو ایسے میں پانی سے غذا کا کامل فائدہ حاصل ہوتا ہے ، اسی وجہ سے پیاسے اور بھوکے انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ تھوڑا سا پانی پی کر کھانا کھائے۔ ‘‘( )
پانی سےافطارکرنےکےفوائد:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’پانی جیسے جسم کو پاک کرنے والا ہے ، ایسے ہی دل و دماغ کو بھی پاک و صاف کرنے والا ہے ، نیز پانی میں حرام ہونے کا احتمال بہت کم ہوتا ہے کہ کنویں کا پانی جنگل کا شکار اصل میں مباح ہے دوسرے چیزوں میں احتمال ہے کہ حرام کمائی سے حاصل کی گئی ہوں ، روزہ حلال سے افطار کرنا بہتر ہے۔ ‘‘( )عَلَّامَہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے پانی کو پاکیزہ کہا کیونکہ پانی عبادت کی ادئیگی میں رکاوٹ بننے والی چیز (یعنی ناپاکی ، حدث وغیرہ) کو زائل کردیتا ہے ، (اور یہ عظیم نعمت ہے) اسی وجہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر احسان جتاتےہوئے فرماتاہے : )αوَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ(۴۸)((پ۱۹ ، الفرقان : ۴۸)ترجمۂ کنزالایمان : اورہم نےآسمان سےپانی اتارا پاک کرنے والا۔ ‘‘( )رشتہ دار مسکین پر صدقہ کرناافضل ہے:اجنبی مسکین کو صدقہ دینے میں صرف ایک نیکی ہے جبکہ رشتہ دار مسکین کو صدقہ دینے میں دو نیکیاں ہیں ایک صدقہ کرنے کی اور دوسری صلہ رحمی کرنے کی اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دو نیکیاں ایک نیکی سے افضل ہیں۔ ( )اس سے معلوم ہو اکہ اجنبی مسکین کے مقابلے میں رشتہ دار مسکین پر صدقہ کرنا افضل ہے کیونکہ اس میں دگنا ثواب ہے لہذا جب بھی صدقہ دینے کا ارادہ کریں تو سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں میں مسکین اور سفید پوش لوگوں کو تلاش کریں ، اگر مل جائیں تو انہیں صدقہ دیں اور انہیں

دینے کے بعد بھی کچھ بچ جائے یا رشتہ داروں میں مساکین نہ ملیں تو اجنبی مسکینوں کو صدقہ دیں۔
مسکین رشتہ دار کو صدقہ دیتے وقت کی نیت:یہاں ایک اہم بات یاد رکھیں کہ جب بھی رشتہ دار مسکین کو صدقہ دیں تو صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کی نیت کریں تاکہ دونوں کا ثواب ملے ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اگر اپنے قریبی عزیز کو صرف اس کے فقیر ہونے کی وجہ سے صدقہ دے ، اس کے قریبی ہونے کو ملحوظ نہ رکھے تو صرف صدقہ کا ثواب ملے گا ، صلہ رحمی کا ثواب نہ ملے گا اور اگر صرف اس کی رشتہ داری کا لحاظ کر کے اسے کچھ دے اور ا س کے فقیر ومحتاج ہونے کا لحاظ نہ کرے تو صرف صلہ رحمی کا ثواب پائے گا ، صدقے کا ثواب نہ ملے گا ، اگر دونوں کی نیت کرے تو دونوں کا ثواب پائے گا۔ ‘‘( )حاجت مندعزیزکوخالی ہاتھ نہ لوٹائیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ صدقہ دینے کی توفیق عطا فرمائے تو سب سے پہلے اپنے عزیزوں اور قرابت داروں پر صدقہ کیجئے کہ اس میں دُگنا اجر ہے اور اس صدقہ پر ان کا حق زیادہ ہے ، عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ : اَلْحَقُّ لِلْقَرِیْب ثُمَّ لِلْبَعِیْد یعنی پہلے قریب والے کا حق ہے پھر دُور والے کا۔ صدقہ کے علاوہ بھی خیر خواہی اور صلہ رحمی کی نیت سے اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنے کی عادت بنائیے کہ اس سے خاندانوں میں محبت بڑھتی ہے اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جب کبھی کوئی رشتہ دار تنگدستی یا کسی حاجت کی وجہ سے سوال کرے ، اور بندہ اس کی مدد کرنے پر قادر ہو تو اسے چاہیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق ضرور اس کی امداد و اعانت کرے ، بخل سے کام لیتے ہوئے اسے بلا وجہ شرعی ہرگز خالی ہاتھ نہ لوٹائیے کہ حدیث پاک میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ، اسی ضمن میں دو فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : (1) “ جو شخص اپنےکسی قریبی رشتہ دار کے پاس آکر اس کی حاجت سے زائد وہ شے مانگے جو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عطا فرمائی ہے لیکن وہ اس پر بخل کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنم سے ايک اژدھا نکالے گا جس کا نام شجاع ہو گا ، وہ منہ سے زبان نکالے ہو گا پھر وہ اس شخص کے گلےکا طوق بن

جائے گا۔ “ ( )(2) “ اے امتِ محمد! اُس ذات پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے! اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُس شخص کا صدقہ قبول نہيں فرمائے گا جس کے رشتہ دار اُس کے صدقہ کے محتاج ہوں اور وہ صدقہ دوسرے لوگوں کی طرف پھیر دے۔ اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اللہ عَزَّوَجَلَّ قيامت کے دن اُس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ “ ( )
گناہگار رشتہ دار پر نیک اجنبی کوترجیح دینا:یاد رکھیں کہ اگر رشتہ دار فاسق و فاجر ہو اور اِس بات کا اندیشہ ہو کہ اگر اسے کچھ دیں گے تو وہ گناہ کے کام میں خرچ کرے گا تو ایسی صورت میں اجنبی نیکو کار شخص کو صدقہ دینا افضل ہے۔ شیخ الاسلام ، علامہ شہاب الدین ابن حجر مکی ہیتمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’بسا اوقات نیکوکار اجنبی پر صدقہ کرنا گناہگار قريبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے افضل ہوتاہے کیونکہ وہ اجنبی شخص اس صدقہ کو نیک کام میں خرچ کرے گا جبکہ فاسق رشتہ دار اسے گناہ کے کام میں خرچ کرےگا۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’جبلِ نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)کھجور سے روزہ افطار کرنا دینی اور دُنیوی برکتیں حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔
(2)خالی پیٹ میٹھی چیز کھانے سے نظر تیز ہوتی ہے۔
(3)رشتہ دار مسکین پر صدقہ کرنا اجنبی مسکین پر صدقہ کرنے سے افضل ہے اور اس میں دُگنا اجر ہے۔
(4)صدقہ دینے میں دیگر مساکین پر رشتہ دار مسکینوں کو ترجیح دینی چاہیے۔
(5)رشتہ دار کو صدقہ دیتے ہوئے صدقے اور صلہ رحمی کی نیت کرنے سے دونوں کا ثواب ملے گا ورنہ

دونوں میں سے جس ایک کی نیت کرے گا صرف اسی کا ثواب پائے گا۔
(6)گناہگار رشتہ دار کے مقابلے میں نیکو کار اجنبی کو صدقہ دینا افضل ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں کھجور سے روزہ افطار کرنے کی سنت پر عمل کرنے اور رشتہ دار مسکینوں پر صدقہ اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 332