Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 322

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِىءِ وَلٰكِنَّ الوَاصِلَ الَّذِيْ اِذَا قَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا.( )

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ليس الواصل بالمكافىء ولكن الواصل الذي اذا قطعت رحمه وصلها.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ،

شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : “ بدلے کے طورپر بھلائی کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اُس سے قطع تعلق کیا جائے تو وہ تعلق جوڑے۔ ‘‘

شرح حدیث

صلہ رحمی کی تعریف وحقیقت:’’صلہ ‘‘کے معنی ہیں : ’’کسی بھی قسم کی بھلائی اور احسان کرنا۔ ‘‘( ) اور رحم سے مراد قرابت ، رشتہ داری ہے۔ ( ) بہارشریعت میں ہے : ’’صلہ رحم کے معنی رشتے کو جوڑنا ہے۔ یعنی رشتے والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک (یعنی بھلائی) کرنا۔ ‘‘( )مذکورہ حدیث پاک میں حقیقی صلہ رحمی کرنے والے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ کامل صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جو رشتہ داروں کے بُرا سلوک کرنے کے باوجود اُن سے بھلائی کرے۔ مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جو شخص اپنے عزیزوں سے سلوک کرے مگر بدلہ میں کہ وہ کچھ کریں تو اس کی عوض یہ بھی کرے وہ ناقص ہے ، کامل رشتے جوڑنے والا وہ ہے جو اپنے عزیزوں کی برائی کا بدلہ بھلائی سے کرے کہ وہ اس پر زیادتی کریں تو یہ سلوک کرے ، اس کی تفسیر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا عمل شریف ہے۔ یوسف عَلَیْہِ السَّلَامنے بھائیوں کے ظلم سہہ کر ان کی پرورش فرمائی ، رب تعالیٰ فرماتا ہے : )αاِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَؕ-( (پ۱۸ ، المؤمنون : ۹۶) ترجمۂ کنزالایمان : سب سے اچھی بھلائی سے بُرائی کو دفع کرو۔ غرضیکہ یہ حدیث کمال اخلاق کی تعلیم دے رہی ہے۔ ‘‘( )حقیقی صلہ رحمی پربڑے اجر کا وعدہ:امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’صلہ رحمی یہ نہیں کہ تو اسی سے تعلق جوڑ جو تجھ سے جوڑتا ہے بلکہ یہ تو بدلہ ہے ، صلہ رحمی یہ ہے کہ تو اس سے جوڑ جو تجھ سے قطع تعلق کرتا ہے اور یہی وہ حقیقی صلہ رحمی ہے کہ جس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں سے بہت بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے : )αوَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ((پ۱۳ ، الرعد : ۲۱)ترجمۂ

کنزالایمان : اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا۔ ( )
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ رشتہ داری جوڑکر رکھنے والوں سے جوڑنا کمال نہیں بلکہ جو رشتہ داری توڑتے ہیں ان سے جوڑنا کمال ہے ، ترغیب کے لیےدو فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ ہوں : (1) “ جس میں تین اوصاف ہوں گے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے آسان حساب لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر دے گا (اور وہ اوصاف یہ ہیں کہ) جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو ، جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کردو اور جو تم سے قطع تعلق کرے تم اس سے تعلق جوڑو۔ ‘‘( )(2) “ کیا میں اس چیز پر تمہاری رہنمائی نہ کروں جس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ درجات بلند فرماتا ہے؟‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی : ’’ جی ہاں ، یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !‘‘ ارشاد فرمایا : “ جو تم سے جاہلانہ سلوک کرے تم اس سے بُردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کردو ، جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم سے رشتہ داری توڑدے تم اس سے جوڑو۔ ( )
صلہ رحمی کرنے کے 10فائدے:حضرت سیدنا فقیہ ابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’صلہ رحمی کرنے کے 10 فائدے ہیں : (1) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ (2) لوگوں کی خوشی کا سبب ہے۔ (3) فرشتوں کو مسرت ہوتی ہے۔ (4) مسلمانوں کی طرف سے اس شخص کی تعریف ہوتی ہے۔ (5) شیطان کو اس سے رنج پہنچتا ہے۔ (6) عمر بڑھتی ہے۔ (7) رزق میں برکت ہوتی ہے۔ (8) فوت ہوجانے والے آباء واجداد (یعنی مسلمان باپ دادا) خوش ہوتے ہیں۔ (9) آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ (10) وفات کے بعد اس کے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے ، کیونکہ جب لوگوں کو اس کا احسان یاد آتا ہے تو لو گ اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں۔‘‘( )
دِین اِسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم:دِینِ اسلام کاایک اعلیٰ امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں اخلاقیات کی بہترین اور عمدہ تعلیمات دی گئی ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی برا سلو ک کرے تو اس کے بدلے میں تم بھی اس کے ساتھ برا سلوک نہ کروبلکہ اِس سے اچھا سلوک کرو اور اس کی طرف سے پہنچنے والی برائی کواس کے ساتھ بھلائی کر کے ٹال دو ، یہاں اِس حسین تعلیم کی جھلک ملاحظہ ہو ، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)(پ۲۴ ، حم السجدہ ، : ۳۴ ، ۳۵)ترجمۂ کنزالایمان : اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست ۔ اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا۔
حضرت سَیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ تم ہر ایک کی رائے پر چلنے والے نہ بنو کہ تم یوں کہو کہ اگر لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں تو ہم بھی ظلم کریں گے بلکہ اپنے آپ کو اس بات کا عادی بناؤ کہ لوگ اگر اچھائی کریں تو تم بھی اچھائی کرو اور اگر وہ ظلم کریں تو تم پھر بھی ظلم نہ کرو۔ ‘‘( )
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اس سے رشتہ داری جوڑو جو تم سے توڑ دے اور اس سے اچھا سلوک کرو جو تم سے بُرا سلوک کرے اور حق بات کہو اگرچہ اپنے آپ کے خلاف ہو۔ ‘‘( )
افسوس!فی زمانہ مسلمانوں کی بھی ایک تعداد اِسلام کی اِس عمدہ و اعلیٰ تعلیم پر عمل سے دور نظر آ رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے آج مسلمان بھی بے امنی اور بے سکونی کی بدترین آفت کا شکار ہیں ۔ اگر آج بھی مسلمان اِس تعلیم پر کامل طریقے سے عمل پیرا ہو جائیں تو کوئی بعید نہیں کہ یہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ

بن جائے اور ہر فرد ِبشر چین و سکون سے اپنی زندگی کے دن گزارنے لگے۔ دعا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں برائی کو بھلائی سے ٹالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’صدقہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)رشتہ داری جوڑنے میں کامل وہ ہے جو اسے توڑنے والوں کے ساتھ بھی جوڑے۔
(2)رشتہ داری توڑنے والوں کے ساتھ جوڑنا قیامت کے دن حساب میں آسانی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے جنت میں داخلے کا سبب اور درجات بلند ہونے کا ذریعہ ہے۔
(3)بُرا سلوک کرنے والوں سے اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دین اسلام کا انتہائی شاندار وصف ہے۔
(4)بُرا سلوک کرنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی انتہائی اعلیٰ مثال اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ مبارکہ ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمیں رشتہ داری توڑنے سے بچنے اور اسے توڑنے والوں سے جوڑنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل لوگوں کے بُرے سلوک سے بچائے اور بُرا سلوک کرنے والوں سے اچھا سلوک کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 322