- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 315
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللهَ تَعَالیٰ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتّٰى اِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ القَطِيْعَةِ ، قَالَ : نَعَمْ اَمَا تَرْضَيْنَ اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَاَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلٰى ، قَالَ : فَذٰلِكَ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمْ : (فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)).( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيْ : فَقَالَ اللهُ تَعَالَى : مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ.( )
وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الله تعالی خلق الخلق حتى اذا فرغ منهم قامت الرحم فقالت : هذا مقام العائذ بك من القطيعة ، قال : نعم اما ترضين ان اصل من وصلك ، واقطع من قطعك؟ قالت: بلى ، قال : فذلك لك ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اقرؤوا ان شئتم : (فهل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامكم(۲۲) اولىك الذین لعنهم الله فاصمهم و اعمى ابصارهم(۲۳)).( )
وفي رواية للبخاري : فقال الله تعالى : من وصلك وصلته ومن قطعك قطعته.( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، حضور نبی کریم رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو پیدا فرمایا حتی کہ جب وہ ان سے فارغ ہوگیا (یعنی ان کی تخلیق مکمل فرمادی) تو رحم نے کھڑے ہو کر عرض کی : ’’یہ قطع رحم سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے۔ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : “ ہاں ، کیا تواس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اس سے تعلق جوڑ وں اور جو تجھے توڑے میں اس سے تعلق توڑ دوں۔ ‘‘ رحم نے عرض کی : ’’ کیوں نہیں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’یہ شرف تجھے دے دیا۔ ‘‘پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو :فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)(پ۲۶ ، محمد : ۲۳ ، ۲۲)ترجمۂ کنزالایمان : تو کیا تمہارے یہ لچھن (انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔ ‘‘بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے : (جب رشتہ داری نے عرض کی )تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :
“ جو تجھے جوڑے گا میں اس سے تعلق جوڑوں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اس سے تعلق توڑلوں گا ۔ “
شرح حدیث
اللہعَزَّوَجَلَّفراغت سے پاک ہے:مذکورہ حدیث پاک میں صلہ رحمی کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جب مخلوق کو پیدا کیا یعنی تمام مخلوقات کو پیدا کیا یا مکلفین کو پیدا کیا حتی کہ جب وہ انہیں تخلیق فرماکر فارغ ہو گیا یعنی ان کی تخلیق مکمل فرمادی۔ یاد رہے کہ اللہتعالیٰ کے لیے لفظ “ فارغ “ کا استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ اللہتعالیٰ مصروفیت و فراغت کے وصف سے پاک ہے اور قرآن وحدیث میں جہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس کے حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہیں ، جیسے اسی حدیث ِ پاک میں مذکور لفظ “ فَرَغَ “ سے متعلق عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اس سے تخلیق کو پورا اور مکمل کرنا وغیرہ مجازی معنی مراد ہیں کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کو ایک کام میں مشغولیت دوسرے کام سے مانع نہیں (فراغت مشغولیت کے بعد ہوتی ہے اور)اللہ عَزَّوَجَلَّ کو کوئی چیز مشغول نہیں کر سکتی۔ (وہ اس سے پاک اور بلند و بالا ہے) تو جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوقات کو تخلیق فرمادیا تو رحم یعنی رشتہ داری نے کھڑے ہوکر عرض کی۔ ہوسکتا ہے کہ رحم نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کے بعد یا بنی آدم کی ارواح کے پیدا ہونے کے بعد یہ کلام کیا ہو۔ نیز حدیث پاک میں جو رحم کے کلام کرنے کا فرمایا گیا ہے تو ممکن ہے کہ رحم نے زبانِ حال سے یہ کلام کیا ہو یا زبان قال سے یہ کلام کیا ہو یا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کلام کے وقت اس میں حیات اور عقل کو پیدا فرمادیا ہو۔ ‘‘( )رحمت اِلٰہی سے دوری کا سبب:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’رحم سے مراد رحمی رشتہ داری ہے ، اُس عالم میں ہر چیز کی شکل ہے۔ لہٰذا یہ رشتہ داری ایک خاص شکل میں تھی اور اس نے صاف صاف یہ عرض کیا ، قیامت میں ہمارے اَعمال ، قرآن ، رمضان کی خاص شکلیں ہوں گی وہ کلام کریں گے لہٰذا حدیث واضح ہے۔ بعض شارحین نے کہا کہ یہ حدیث متشابہات سے ہے کہ اسے بغیر سمجھے
ہی مان لو۔ رحم نے عرض کی : یہ قطع رحم سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے ، قطع رحم سے مراد حقوق قرابت ادا نہ کرنا۔ یعنی اس بات سے تیری پناہ لیتا ہوں کہ کوئی میرے حق ادا نہ کرے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : “ کیا تواس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے ، میں اس سے تعلق جوڑ وں اور جو تجھے توڑے ، میں اس سے تعلق توڑ دوں۔ ‘‘ یعنی جو شخص اپنے اہل قرابت کے حق بالکل ادا نہ کرے اور دوسری عبادتیں کرے گا وہ مجھ تک نہ پہنچ سکے گا اور جو حقوق ادا کرے گا اگرچہ گنہگار ہوگا وہ میری رحمت میں داخل ہوگا۔ بلکہ اسے دنیا ہی میں دیگر نیک کاموں کی توفیق بھی مل جاوے گی۔ اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ رشتہ داری کے حقوق ادا کرنا واجب ہے ، قطع رحمی گناہ کبیرہ ہے ، یہ ضرور خیال رہے کہ صلہ رحمی کے بہت درجے ہیں جتنا رشتہ قوی اتنے ہی حقوق زیادہ۔ ‘‘( )قطع رحمی کی نحوست:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قطع رحمی میں کوئی بھلائی اور خیر نہیں ، احادیث میں قطع رحمی کی کثیر نحوستوں کو بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ 2احادیث ملاحظہ کیجئے : (1) فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’پیراور جمعرات کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ آپس میں عداوت رکھنے اور قطع رحمی کرنے والوں کے علاوہ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔ ‘‘( ) (2) حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک بار صبح کے وقت مجلس میں تشریف فرماتھے کہ فرمایا : ’’میں قاطع رحم (یعنی رشتہ توڑنے والے) کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ یہاں سے اٹھ جائے تاکہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مغفرت کی دعا کریں ، کیونکہ قاطع رحم پر آسمان کے دروازے بندرہتے ہیں۔ ‘‘( ) (یعنی اگر وہ یہاں موجود رہے گا تو رحمت نہیں اُترے گی اور ہماری دعا قبول نہیں ہوگی۔ )ناراض رشتہ داروں سے صلح کرلیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو ذرا ذرا سی باتوں پر اپنی بہنوں ، بیٹیوں ، پھوپھیوں ، خالاؤں ، ماموؤں ، چچاؤں ، بھانجوں وغیرہ سے قطع رحمی کرلیتے ہیں ، ان لوگوں کے لیے بیان کردہ حدیث پاک میں عبرت ہی
عبرت ہے۔ مدنی التجاء ہے کہ اگر آپ کی کسی رشتے دار سے ناراضی ہے تو اگرچہ رشتے دار کا ہی قصور ہو صلح کے لیے خود پہل کیجئے اور خود آگے بڑھ کر خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے مل کر تعلقات سنوار لیجئے۔ اگر جھکنا بھی پڑے تو رضائے الٰہی کے لیے جھک جائیں۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ سربلندی پائیں گے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے عاجزی کرتا ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ ‘‘( )قاطع رحم کے سبب رحمت نازل نہ ہونا:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیث مبارکہ بیان فرمارہے تھے ، اس دوران فرمایا : ’’ہر قاطع رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہماری محفل سے اُٹھ جائے۔ ‘‘ ایک نوجوان اُٹھ کر اپنی پھوپھی کے ہاں گیا جس سے اس کا کئی سال پرانا جھگڑا تھا ، جب دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوگئے تو اس نوجوان سے پھوپھی نے کہا : ’’تم جاکر اس کا سبب پوچھو ، آخر ایسا کیوں ہوا؟‘‘ (یعنی حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اعلان کی کیا حکمت ہے؟) نوجوان نے حاضر ہوکر جب پوچھا تو حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں نے حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ سنا ہے : “ جس قوم میں قاطع رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہواس قوم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا۔ ‘‘( )ساس بَہُو میں صُلح کا راز:شیخ طریقت امیراہلسنت ، بانئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ۶۱۶صفحات پرمشتمل اپنی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘صفحہ ۱۵۴ پر مذکورہ بالا روایت نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں : دیکھا آپ نے!پہلے کے مسلمان کس قَدَرخوفِ خدا رکھنے والے ہُوا کرتے تھے! خوش نصیب نوجوان نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ڈر کے سبب فورًااپنی پھوپھی کے پا س خود حاضِر ہو کر صُلح کی ترکیب کر لی۔ سبھی کو چاہیے کہ غور کریں کہ خاندان میں کس کس سے اَن بَن ہے جب معلوم ہو جائے تو اب اگر شَرعی عذر نہ ہو تو فورًا ناراض رشتے داروں سے’’صُلح و صفائی‘‘کی ترکیب شروع
کر دیں۔ اگر جھکنا بھی پڑے تو بے شک رِضائے الٰہی کیلئے جھک جائیں۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ سر بلندی پائیں گے۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’ جواللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے عاجِزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے بُلندی عطا فرماتا ہے۔ ( ) اپنے گھروں اور مُعاشَرےکو اَمن کا گہوارہ بنانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوجائیے ، اور ہر ماہ کم از کم تین دن کیلئے مَدَنی قافِلے میں سنّتوں بھرا سفر کیجئے نیز مَدَنی اِنعامات کے مطابِق زندَگی گزاریئے۔ آپ کی ترغیب وتحریص کے لئے ایک مَدَنی بہار پیش کرتا ہوں ، چنانچِہ بابُ المدینہ(کراچی)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ طویل عرصے سے میری زوجہ اور والِدہ یعنی ساس بَہُو میں خُوب ٹھنی ہوئی تھی ، نتیجۃً زوجہ رُوٹھ کر مَیکے جابیٹھی۔ میں سخت پریشان تھا ، سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اِس مَسئلےکو کیسے حل کروں۔ اَیسے میں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی جاری کردہ ’’مَدَنی مُذاکرے ‘‘کی VCD’’گھر اَمن کا گہوارہ کیسے بنے!‘‘ میرے ہاتھ آئی۔ موضوع دیکھا تو بڑی اُمّید کے ساتھ یہ VCD خُود بھی دیکھی اوراپنی والِدۂ محترمہ کو بھی دِکھائی اورایک VCDاپنے سسرال بھی بھیج دی۔ میری والِدہ کو یہ VCDاتنی پسند آئی کہ اُنہوں نے اِسے دوبار دیکھا اور حیرت انگیز طور پر مجھ سے فرمانے لگیں : ’’چل بیٹا! تیرے سسرال چلتے ہیں۔ ‘‘میں نے سُکون کا سانس لیا کہ لگتا ہے جو کام میں بھر پور اِنفرادی کوشش کے باوُجود نہ کرسکا وہ اس VCDنے کردیا۔ میرے سسرال پہنچ کر والِدہ صاحِبہ نے بڑ ی مَحَبَّت سے میری زَوجہ کو منایا اور اُسے واپَس گھر لے آئیں۔ دوسری جانب میری زَوجہ نے بھی مُثبت طرزِ عمل کا مُظاہَرہ کیا اور گھر پہنچنے کے بعد دوسرے ہی دن اپنی ساس(یعنی میری والِدہ)سے کہنے لگیں : امّی جان !میرا کمرہ بَہُت بڑا ہے ، جبکہ دیگر گھر والے جس کمرے میں رہتے ہیں وہ قدرے چھوٹا ہے ، آپ میرا کمرہ لے لیجئے اور میں اُس چھوٹے کمرے میں رِہائش اختیار کر لیتی ہوں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارا گھر جو فتنے اور فساد کا شکار تھا ، دعوتِ اسلامی کی بَرَکت سے امن کا گہوارہ بن گیا۔مدنی گلدستہ
’’اسلام ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا منع ہے جو ا س کی شان کے لائق نہیں ۔
(2)رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے والوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنا رحم وکرم فرمائے گا اور ادا نہ کرنے والے اس کی رحمت سے محروم ہوسکتے ہیں۔
(3)قطع رحمی میں کوئی بھلائی اور کوئی خیر نہیں، قاطع رحم کے بار ے میں احادیث میں بہت سی وعیدیں بیان فرمائی گئی ہیں، لہذا قطع رحمی کو ترک کرکے صلہ رحمی کو اپنانا چاہیے۔
(4)صلہ رحمی کرنے سے مزید نیک کام کرنے کی توفیق ملتی ہے۔
(5)فساد پھیلانے والے اورشتہ داری توڑنے والوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لعنت فرمائی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے خاص حصہ عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 315