Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 324

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اُمُّ الْمُؤْمِنِيْنَ مَيْمُوْنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اَنَّهَا اَعْتَقَتْ وَلِيْدَةً وَلَمْ تَسْتَاْذِنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِيْ يَدُوْرُ عَلَيْهَا فِيْهِ قَالَتْ : اَشَعَرْتَ يَارَسُوْلَ اللهِ اَنِّي اَعْتَقْتُ وَلِيْدَتِي قَالَ : اَوَ فَعَلْتِ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : اَمَا اِنَّكِ لَوْ اَعْطَيْتِهَا اَخْوَالَكِ كَانَ اَعْظَمَ لِاَجْرِكِ.( )

وعن ام المؤمنين ميمونة بنت الحارث رضي الله عنها : انها اعتقت وليدة ولم تستاذن النبي صلى الله عليه وسلم فلما كان يومها الذي يدور عليها فيه قالت : اشعرت يارسول الله اني اعتقت وليدتي قال : او فعلت قالت : نعم ، قال : اما انك لو اعطيتها اخوالك كان اعظم لاجرك.( )

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتنا میمونہ بنت حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ولیدہ لونڈی آزاد کی اور حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت طلب نہ کی ، جب وہ دن آیا جس میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے پاس تشریف لاتے تھے تو انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی ولیدہ آزاد کر دی ہے؟‘‘

ارشاد فرمایا : “ کیا تم نے یہ کام کر دیا ہے؟‘‘عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو یہ تمہارے لیے اجر عظیم کا باعث ہو تا۔ “ مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ اُمُّ المومنین حضرت میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی ولیدہ لونڈی آزاد کی۔ ولیدہ وہ لونڈی کہلاتی ہے جو اپنے مملوک غلام اور لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہو یعنی خانہ زاد۔ اُمُّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت لیے بغیر اُس لونڈی کوآزاد کر دیا اور جب ان کی باری کے دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے تو انہیں اس کی خبر دی۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے معلوم کیا کہ کیا تم نے لونڈی آزاد کر دی ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی کہ جی ہاں ! میں نے اسے آزاد کر دیا ہے ۔ اس پر تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر تم وہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دے دیتی کیونکہ تنگیٔ حال کی وجہ سے انہیں خادم کی بہت ضرورت تھی ، تو یہ تمہارے لیے اجر عظیم کا باعث ہوتا۔ ( )

شرح حدیث

صلہ رحمی غلام آزاد کرنے سے افضل:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث پاک میں صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ صلہ رحمی کرنا غلام آزاد کرنے سے افضل ہے۔ نیز ماں کے عظیم مرتبہ اور حق کی وجہ سے ماں کے عزیزو اقارب کو زیادہ توجہ دینی چاہیے اور ان کے ساتھ زیادہ بھلائی کرنی چاہیے اور اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے مال سے صدقہ و خیرات کرنا جائز ہے۔ ‘‘( )رشتہ داروں کو صدقہ دینا کب افضل ہے؟فقیہ اعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی علامہ ابن بطال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : “ رشتہ داروں کو صدقہ دینا بہ نسبت غیر رشتہ داروں کے افضل ہے۔ جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ “ مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے اور رشتہ

داروں کو دینا صدقہ اور صلہ رحم دونوں ہے۔ “ مگر یہ حکم مطلقًا درست نہیں اگر کوئی مسکین رشتہ دار سے زیادہ محتاج و ضرورت مند ہے تو اس صورت میں مسکین کو دینا افضل ہوگا۔ نسائی کی روایت میں ہے کہ فرمایا : “ کیوں نہیں اسے دے کر اپنی بھتیجی کو بکری چرانے سے نجات دلائی۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے کچھ رشتہ دار زیادہ ضرورت مند تھے ، اس لیے ان پر صدقہ کرنا افضل فرمایا۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ رشتہ داروں پر صدقہ کرنا مطلقًا افضل نہیں بلکہ بعض صورتوں میں عام مسکین کو دینا زیادہ افضل ہوتا ہے جیساکہ جب کوئی مسکین محتاج ہو اور اگر اسے صدقہ دیا جائے تو صدقہ کا نفع اس کے ساتھ دیگر افراد کو بھی ہوگا تو اس صورت میں اس مسکین کو دینا زیادہ افضل ہے لیکن مذکورہ حدیث پاک میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا اس لیے فرمایا کہ وہ زیادہ مستحق تھے اس لیے انہیں صدقہ دینا زیادہ بہتر تھا۔ تو حق یہ ہے کہ رشتہ داروں کو صدقہ دینا افضل ہے یا عام مساکین کو اس میں افضلیت کا اعتبار حالات کے لحاظ سے ہوگا یعنی جو زیادہ مستحق ہے اسے دینا زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘( )
شادی شدہ عورت کا اپنے مال میں تصرف :مذکورہ حدیث پاک کے تحت شارحین حدیث نے شادی شدہ عورت کے اپنے مال میں شوہر کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہےکہ شادی شدہ عورت اپنے مال میں شوہر کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے کیونکہ اس عورت اور بالغ مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ، جس طرح ایک عقلمند بالغ مرد اپنے مال میں تصرف کرسکتا ہے اسی طرح یہ عورت بھی اپنے مال میں بغیر اجازت تصرف کرسکتی ہے۔ ( )مدنی گلدستہ
’’کریم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)جب رشتہ دار ضرورت مند ہوں تو ان ہی پر صدقہ کرنا چاہیے۔
(2)رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا عام مسکین پر صدقہ کرنے سے افضل ہے لیکن جب کوئی مسیکن زیادہ حاجت مند ہوتو اسی کو صدقہ دینا افضل ہے۔
(3)ماں کے عظیم مرتبے کے پیش نظر اس کے رشتہ داروں کے ساتھ زیادہ صلہ رحمی کرنی چاہیے۔
(4)بیوی اپنے مال میں شوہر کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے محتاج رشتہ داروں پر صدقہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 324