- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 320
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ : کَانَ اَبُوْ طَلْحَةَ اَكْثَرَ الاَنْصَارِ بِالْمَدِيْنَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ اَحَبُّ اَمْوَالِهٖ اِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيْهَا طَيِّبٍ فَلَمَّا نَزَلَتْ هذِهِ الآيةُ : )لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ ( قَامَ اَبُوْ طَلْحَةَ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ یَقُوْلُ : ) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ ( وَاِنَّ اَحَبَّ مَالِيْ اِلَيَّ بَيْرُحَاءُ ، وَ اِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلهِ تَعَالىٰ ، اَرْجُوْ بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ تَعَالىٰ ، فَضَعْهَا يَا رَسُوْلَ اللهِ حَيْثُ اَرَاكَ اللهُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ! ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ! وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَاِنِّيْ اَرٰى اَنْ تَجْعَلَهَا فيِ الْاَقْرَبِيْنَ ، فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ : اَفْعَلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، فَقَسَّمَهَا اَبُوْ طَلْحَةَ فيِ اَقَارِبِهٖ وبَنِيْ عَمِّهٖ.( )
وعنه قال : کان ابو طلحة اكثر الانصار بالمدينة مالا من نخل وكان احب امواله اليه بيرحاء وكانت مستقبلة المسجد وکان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب فلما نزلت هذه الآية : )لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون ﱟ ( قام ابو طلحة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ان الله تبارك وتعالی یقول : ) لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون ﱟ ( وان احب مالي الي بيرحاء ، و انها صدقة لله تعالى ، ارجو برها وذخرها عند الله تعالى ، فضعها يا رسول الله حيث اراك الله ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بخ! ذلك مال رابح ، ذلك مال رابح! وقد سمعت ما قلت واني ارى ان تجعلها في الاقربين ، فقال ابو طلحة : افعل يا رسول الله ، فقسمها ابو طلحة في اقاربه وبني عمه.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مدینہ منورہ میں کھجور کے باغات کے لحاظ سے انصار میں سب سے زیادہ مال دار تھے اور انہیں اپنے اموال میں بَیْرُحَاء نامی باغ یا کنواں بہت پسند تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرمایا کرتے تھے پس جب یہ آیت نازل ہوئی :لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ(پ۴ ، آل عمران ، ۹۲)ترجمۂ کنزالایمان : تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔تو حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !بے شک اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیارشادفرماتا ہے :)لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ( (پ۴ ، آل عمران ، ۹۲)ترجمۂ کنزالایمان : “ تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ “ اور مجھے اپنے تمام مالوں میں بَیْرُحَاءباغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ لہذاوہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کی رضا) کے لیے صدقہ ہے اور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس اس کے ثواب اور ذخیرے کی اُمید رکھتا ہوں۔ پس یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس کو اس مصرف میں خرچ
کیجئے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو بتائے۔ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ بہت خوب! یہ سودا نفع بخش ہے ، یہ سودا نفع بخش ہے اور تم نے جو کہا وہ میں نے سن لیا۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔ “ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں ایسا ہی کروں گا۔ ‘‘ چنانچہ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔
شرح حدیث
سیدنا ابوطلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے باغ کا نام:“ بَيْرُحَاء “ حضرت سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایک باغ کا نام ہے ، محدثین نے اس کے کئی معنی اور ان کی وجوہات بیان کی ہیں ، ان میں سے دو یہ ہیں : (1) حاء ایک آدمی کا نام تھا جس نے یہ کنواں کھدوایا تھا (اور عربی میں کنویں کو بئر کہتے ہیں) لہذا بَيْرُحَاء کا معنی ہوا حاء کا کنواں اورچونکہ یہ کنواں اس باغ میں تھااس لیے باغ کا نام بھی یہی ہو گیا۔ (2)’’ بَيْرُحَاء‘‘کھلی زمین کے معنی میں ہے ۔ اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے کھلا باغ۔ ‘‘( )میٹھاپانی پینا نمکین پانی پینے سے افضل ہے:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ اس حدیث پاک میں اس بات کا ثبوت ہے کہ صالحین و اہل فضل کے لیے میٹھا پانی پینا اور طلب کرنا مباح ہے نیز میٹھا پانی پینا نمکین پانی سے افضل ہے کیونکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میٹھا پانی نوش فرمایا کرتے تھے اور اس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مثالی کردار اور اسوۂ حسنہ کا بیان ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام چیزوں میں بہترین چیز اختیار فرماتے تھے اور آپ سے کسی افضل شے کا ترک ہونا محال ہے۔ “ ( )وقف کا اعلان کردینا ضروری ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے : “ حضرت ابو طلحہ کے اس عرض و معروض کا مقصد یہ تھا کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے اس عمل خیر پر گواہ ہوجائیں اور مسلمانوں میں اس وقف کا اعلان ہوجائے۔ خیال
رہے کہ دوسرے نفلی صدقات اکثر خفیہ دینا بہتر ہیں مگر وقف کا ہر طرح اعلان کردینا سخت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس موقوف چیز پر کوئی ناجائز قبضہ نہ کرسکے حتی کہ مسجد کی عمارت میں مینار گنبد وغیرہ ایسے نشانات قائم کردیئے جائیں جس سے وہ دور سے ہی مسجد معلوم ہو ، اس میں ریاء نہیں بلکہ وقف کا باقی رکھنا ہے ، نیز آپ کا اپنا دلی اخلاص ظاہرکرنا ریاء کے لیے نہ تھا بلکہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے دعا حاصل کر نے کے لیے تھا لہٰذا حدیث پاک پر کوئی اعتراض نہیں۔ ( )حضور کی چاہت رب کی طرف سےہے:حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : “ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرا یہ باغ صدقہ ہے اور اس کا بدلہ میں ابھی نہیں چاہتا بلکہ میں اس کا اجر آخرت کے لیے ذخیرہ کرنا چاہتا ہوں لہذا اللہ عَزَّوَجَلَّ حضور کو جو مصرف بتائے حضور اُس میں اسے خرچ فرمادیں۔ “ کیونکہ حضور نبی اکرم نورِ مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چاہنا اپنے نفس کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ اللہتعالیٰ کی طرف سے ہوتاہے اسی لیے اس طرح عرض کیا کہ (اللہ عَزَّوَجَلَّ حضور کو جو مصرف بتائے حضور اُس میں اسے خرچ فرمادیں) صحابہ کرام اپنے صدقے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک سے خرچ کراتے تھے تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے قبول ہوجائیں ، رب تعالیٰ فرماتا ہے :خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا(پ۱۱ ، التوبۃ ، ۱۰۳)
ترجمہ : آپ ان کے مالوں کے صدقے وصول فرمالیں اور ان کے ذریعہ انہیں پاک و صاف فرمادیں۔
آج مسلمان ختم و فاتحہ میں عرض کرتے ہیں نذرُاللہیعنی (اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیےنذر) نیازِ رسولُ اللہ یعنی (رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیےنیاز) اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔ ‘‘( )حضرت سیدناابوطلحہ کانفع بخش سودا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’معلوم
ہوتا ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اعمال کی قبولیت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کون سا عمل کس درجہ کا قبول ہے ، یہ باغ کیوں قبول نہ ہوتا ، باغ بھی اچھا تھا ، وقف کرنے والےبھی اچھے۔ یعنی صحابی اور جن کے طفیل وقف کیا گیا وہ اچھوں کے شہنشاہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے صدقے کی تعریف کرنے کے بعد حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : “ اے ابو طلحہ! میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ “ یعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مصرف بنادو کہ ہمیشہ وہ اس کی آمدنی کھایا کریں تاکہ تمہیں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے۔ خیال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہیں جن سے امیروغریب حتی کہ وقف کرنے والا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جیسے کنواں ، مسجد ، قبرستان ، مسافر خانہ۔ ( )دُور کےرشتہ داروں پر صدقہ کرنا:حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےیہ باغ اپنے چچا زاد بھائی حضرت سَیِّدُنَاحسان بن ثابت اور حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو دیا تھا ، حضرت سَیِّدُنَا حسان اور حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کا نسب تیسری پیڑھی حرام بن عَمرو پر مل جاتا ہےاور حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا چھٹی پیڑھی عَمرو بن مالک بن نجار پر مل جاتا ہے۔ ( ) عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ کرنامستحب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صدقات کی کیفیت اور نیکیوں کی صورتوں وغیرہ کے بارے میں اہل علم و فضل سے مشاورت کرنا مستحب ہے ۔ نیز اس حدیث میں دیگر بیان کردہ فوائد کے علاوہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کی بنسبت اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا افضل ہے جبکہ وہ اَقْرِباء محتاج ہوں ۔ نیز رشتہ دار صلہ رحمی کے زیادہ حق دار ہیں ، اگرچہ دُور ہی کے کیوں نہ ہوں کہ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کو رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے دور کے رشتہ داروں پر خرچ کیا۔ ‘‘( ) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : “ اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے تمام لوگوں سے اپنے رشتہ داروں اور کمزور گھروالوں پر صدقہ کرنا افضل ہےجبکہ وہ نفلی صدقہ ہو۔ “ ( )محبوب لونڈی راہِ خدامیں آزادکردی:حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ آپ نے ایک نہایت حسین و جمیل باندی خریدی اور آپ اس باندی سے بہت محبت کرتے تھے ، وہ باندی چند دن آپ کے پاس رہی کہ آپ نے اسے آزاد فرمادیا اور ایک شخص سے اس کی شادی کروادی جس سے اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب اس بچے سے ملتے تو اسے اپنے آپ سے چمٹا لیتے اور فرماتے : ’’میں تجھ سے تیری ماں کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔ ‘‘ تو آپ سے کسی نے کہاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو اس لونڈی پر حلال طریقے سے قدرت عطا فرمائی تھی اور آپ اس سے بے حد محبت بھی فرماتے تھے تو پھر آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : کیا تم نے نہیں سنا؟)لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ( (پ۴ ، آل عمران ، ۹۲) ترجمۂ کنزالایمان : “ تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ “ ( )
نوٹ : مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح باب نمبر37 ، حدیث نمبر 297کے تحت ملاحظہ کیجئے۔مدنی گلدستہ
’’صدقات‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)بھلائی تک پہنچنے کا ایک ذریعہ راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ کرنا بھی ہے۔
(2)نفلی صدقات پوشیدہ طور پر دینا بہتر ہے البتہ وقف کاہر طرح سے اعلان کر دینا ضروری ہے تاکہ اس کی حفاظت کی جاسکے۔
(3)نفلی صدقات عزیز و اَقارب کو دینا افضل ہے، چاہےقرابت داری قریب کی ہو یا دور کی۔
(4)کوئی بھی نیک کام کرنے سے پہلے علماء اور اہل فضل سے مشاورت کرنا مستحب ہے۔
(5)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اپنے صدقات حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست اقدس سے تقسیم کروایا کرتے تھے تاکہ وہ آپ کے ہاتھ مبارک کی برکت سے قبول ہوجائیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں بھی اپنی پیاری چیزیں راہ خدا میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے عزیز و اقارب پر صدقہ کرکے صلہ رحمی کرنے کی سعادت مرحمت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 320