Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 334

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً اَتَاهُ قَالَ : اِنَّ لِيْ اِمْرَاَةً وَاِنَّ اُمِّيْ تَاْمُرُنِيْ بِطَلَاقِهَا؟فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَاِنْ شِئْتَ فَاَضِعْ ذٰلِكَ الْبَابَ اَوِ احْفَظْهُ.( )

وعن ابي الدرداء رضي الله عنه ان رجلا اتاه قال : ان لي امراة وان امي تامرني بطلاقها؟فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: الوالد اوسط ابواب الجنة فان شئت فاضع ذلك الباب او احفظه.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے اُن کے پاس آکر عرض کی : ’’میری ایک بیوی ہے اور میری والدہ اسے طلاق دینے کا حکم دے رہی ہے۔ ‘‘ (تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کے دروازو ں کا درمیانی دروازہ ہے ، پس اگر تم چاہو تو یہ دروازہ ضائع کر دو یا اسے محفوظ کر لو۔ ‘‘حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے حضرت سَیِّدُنَاابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا کہ میری ماں مجھے بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ یہ شخص حضرت ابو درداء سے مسئلہ دریافت کرنے آیاتھا کہ فرمائیے میں کیا کروں اسے طلاق دوں یا نہ دوں کہ طلاق تمام مباح چیزوں میں بہت ہی ناپسندیدہ چیز ہے۔ ( )نیز یہ شخص بیوی سے محبت یا کسی اور وجہ سے اسے طلاق نہیں دینا چاہتا تھا۔ ( )

شرح حدیث

جنت کا درمیانی دروازہ:فرمایا : ’’والد جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے۔ ‘‘ یعنی سب سے بہترین اور اعلیٰ دروازہ ہے ، مطلب یہ کہ والد کے ساتھ حسن سلوک کرنا جنت میں داخلہ کا سبب ہے اور والد کی اطاعت و رعایت کے سبب بندہ جنت کے اعلیٰ دراجات کو حاصل کرلیتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت کے چند دروازے ہیں اور داخل ہونے کے لحاظ سے سب سے بہتر درمیانی دروازہ ہے اور والد کے حقوق کا تحفظ اس درمیانی دروازے سے جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔ نیز یہاں لفظ والد سے صرف باپ مراد نہیں بلکہ دونوں ماں باپ مراد ہیں ، والد کا معنی ہے پیدا کرنے والا اور اس مفہوم میں ماں باپ دونوں داخل ہیں اور جب یہ حکم باپ

کے لیے ہے تو ماں کے لیے بدرجہ اَولیٰ ثابت ہوگا۔ ‘‘ ( )
خلافِ شرع کاموں میں والدین کی اِطاعت نہیں:والدین کی اِطاعت شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے لازم ہے اوراگر وہ خلافِ شرع کاموں کا حکم دیں جیسے بیوی پر ظلم و ستم کرنے ، بلاوجہ شرعی اُس کا خرچہ نہ دینے اور اسے میکے میں چھوڑ آنے کا کہیں تو اس صورت میں ان کی اِطاعت نہ کرنا لازم ہے کیونکہ بلاوجہ شرعی ایسے اَحکام پرعمل میں بیوی پر ظلم وزیادتی ہے اور کسی پر بلا وجہ ظلم وزیادتی ناجائز وحرام ہے اور شرعی اَحکام کے مقابلے میں کسی رشتہ دار کا کوئی حق نہیں ہے ۔ بطورِ خاص والدین کے بارے میں ایک مقام پر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ-وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ-اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۸)(پ۲۰ ، العنکبوت : ۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے۔
تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عمومی طور پر اِرشاد فرمادیا ہے کہ : ’’خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اِطاعت نہیں ہے۔ ( ) اعلیٰ حضرت ، عظیم البرکت ، مجددِدِین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’اطاعتِ والدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکبِ کبیرہ ہوں ، اُن کے کبیرہ (گناہوں ) کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ (بیٹا یا اولاد) اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتا ، ہاں اگروہ کسی ناجائز بات کاحکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائزنہیں ، لَاطَاعَۃَ لِاَحَدٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللہِ تَعَالٰی۔ ‘‘( ) (یعنی رب تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’اطاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)جنت کا درمیانی دروازہ داخل ہونے کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ ہے۔
(2)ماں باپ کی اطاعت کرنا جنت کے درمیانی دروازے سے جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔
(3)بعض صورتوں میں ماں باپ کے حکم پر طلاق دینا واجب نہیں ہوتا بلکہ بہتر ہوتا ہے۔
(4)والدین کی اطاعت شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے لازم ہے ،اگر وہ خلاف شرع کاموں کا حکم دیں تو اس میں ان کی اطاعت نہ کرنا لازم ہے۔
(5)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرنے میں کسی کی بھی بات نہیں مانی جائے گی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں جائز باتوں میں والدین کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جنت کے درمیانی دروازے سے جنت میں داخلہ عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 334