- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 328
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّكُمْ سَتَفْتَحُوْنَ اَرْضًا يُذْكَرُ
فِيْهَا الْقِيْرَاطُ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : سَتَفْتَحُوْنَ مِصْرَ وَهِيَ اَرْضٌ يُسَمَّى فِيْهَا الْقِيْرَاطُ فَاسْتَوْصُوْا بِاَهْلِهَا خَيْرًا فَاِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا.وَفِيْ رِوَايَةٍ : فَاِذَا فْتَتَحْتُمُوْهَا فَاَحْسِنُوْا اِلٰى اَهْلِهَا فَاِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا اَوْ قَالَ : ذِمَّةً وصِهْرًا. ( )قَالَ الْعُلَمَاءُ : اَلرَّحِمُ الَّتِيْ لَهُمْ كَوْنُ هَاجَرَ اُمِّ إسْمَاعِيْلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ، “ وَالصِّهْرُ “ كَوْنُ مَارِيَةَ اُمِّ إبْرَاهِيْمَ ابْنِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ.
وعن ابي ذر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : انكم ستفتحون ارضا يذكر
فيها القيراط.وفي رواية : ستفتحون مصر وهي ارض يسمى فيها القيراط فاستوصوا باهلها خيرا فان لهم ذمة ورحما.وفي رواية : فاذا فتتحتموها فاحسنوا الى اهلها فان لهم ذمة ورحما او قال : ذمة وصهرا. ( )قال العلماء : الرحم التي لهم كون هاجر ام إسماعيل صلى الله عليه وسلم منهم ، “ والصهر “ كون مارية ام إبراهيم ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ عنقریب تم ایک ایسی زمین فتح کرو گے جس میں قیراط کابہت ذکر کیا جاتا ہے۔ “ ایک روایت میں ہے : “ عنقریب تم مصر فتح کرو گے اور یہ وہ سرزمین ہے جس میں قیراط کا بہت نام لیا جاتا ہے ، تو تم اس کے باشندوں سے بھلائی کرنا کیونکہ ان سے معاہدہ بھی ہے اور رشتہ داری بھی۔ “ اور ایک روایت میں ہے : “ جب تم مصر فتح کر لوتو اس کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا کیونکہ ان سے معاہدہ اور رشتہ داری ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں ) یا یہ فرمایا کہ ان سے معاہدہ اور سسرالی رشتہ داری ہے۔ “ علماء فرماتے ہیں : (مصر والوں سے نسبی)رشتہ داری یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَااسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنَا حاجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اہل مصر میں سے تھیں اورسسرالی رشتہ داری یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہزادے حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنَا ماریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا تعلق مصرسے تھا۔
شرح حدیث
فتح مصر سے متعلق غیبی خبر:مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ تم عنقریب مصر کو فتح کروگے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس فرمان میں ایک سرزمین کے فتح ہونے کی خبر دی ہے جو کہ غیب کی خبر ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ غیبی خبروں میں سے ایک خبر ہے اور سرکارِدوعالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے اور بے شک حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جیسی خبر دی ویسا ہی واقع ہوا۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس سے معلو م ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیب کی خبریں دی ہیں جو کہ حرف بہ حرف پوری بھی ہوئی ہیں ۔ اس مسئلے سے متعلق دلائل کے ساتھ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے فتاوی رضویہ شریف کی 29ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ان دو رسائل کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے : (1)خَالِصُ الْاِعْتِقْادْ۔ اس رسالے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب سے متعلق 120دلائل ذکر فرمائے ہیں۔ (2)اِزَاحَۃُ الْعَیْب بِسَیْفِ الْغَیْب۔ اس رسالے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے علم غیب پر دلائل دینے کے ساتھ منکرین علم غیب کا شاندار رد بھی فرمایاہے۔قیراط اور اس کا ذکر کیے جانے کا معنی:دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تم جو زمین فتح کروگے اس میں قیراط کا نام بہت لیا جاتا ہے۔ ‘‘ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’قیراط بہت چھوٹا سا وزن ہے یعنی دینار کا بیسواں حصہ یعنی وہاں کے تاجرین بہت ہی بے مروت ہیں کسی کی رعایت رتی بھر بھی نہیں کرتے ، قیراط تک کا حساب کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہ چند رتی کا ہو ، یہ کہتے رہتے ہیں اتنی چھٹانک اتنی رتی۔ معلوم ہوا کہ اہل مصر معاملات میں بہت سخت ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجر کو سخت گیر ہونا نہیں چاہیے معمولی چیزوں میں تولہ رتی کا حساب نہ کرے ، سونا چاندی اور چیز ہے اس میں رتی کا بھی حساب لگتا ہے۔ ‘‘( )اہل مصر سے بھلائی اور نیک سلوک کے دو اسباب:مذکورہ حدیث پاک میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مصر والوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اور اس کے دو سبب بیا ن فرمائے : (1)ایک یہ کہ مصر والوں کے ساتھ سسرالی رشتہ داری ہے ، کیونکہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باندی حضرت سَیِّدَتُنَا ماریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مصر سے آئی تھیں اور آپ سے ہی فرزند رسول حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پیدا ہوئے۔ جب نبی
کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صاحبِ مصر مقوقس کو اسلام کی دعوت پر مبنی خط بھیجا تو جواب میں اس نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہدیہ میں دو کنیزیں بھیجیں ، ایک حضرت ماریہ اور دوسری سیرین ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیرین حضرت حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو عطا فرمادی اور حضرت ماریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنے پاس رکھا۔ (2) دوسرا سبب یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنَا ہاجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی مصر سے ہی تھیں۔ یوں ان سے نسبی رشتہ بھی ہے اور اس رشتہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ بھلائی اور اچھا سلوک کیا جائے۔ ‘‘( )سسرالی رشتے کا بھی احترام کیا جائے:مذکورہ حدیث پاک سے دو مسئلہ معلوم ہوئے : (1)ایک یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے نسبی رشتے کی طرح سسرالی رشتے کا بھی احترام کرے ، ساس سسر کو اپنا ماں باپ سمجھے ، ان کی قرابت داروں کو اپنا عزیز جانے بلکہ ان کی بستی کا وہاں کے باشندوں کا احترام کرے کہ وہ ساس و سسر کے ہم وطن ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ نبی کے رشتہ داروں بلکہ نبی کے ملک والوں کا بھی ادب کرے لہذا ہم پر لازم ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اولاد کا ، مکہ مکرمہ والوں کا احترام و ادب کریں ، ان کی سختی پر تحمل کریں ، اہل عرب کی سختی پر تحمل کرنے والوں کے لیے شفاعت کا وعدہ ہے۔ وہ لوگ کیسے ہی سہی مگر ہمارے رسول کے اہل وطن ہیں حضور کے پڑوسی ہیں۔ ایک بزرگ گولڑوی غلام محی الدین صاحب حج کے بعد جناب حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گاؤ ں پہنچے وہاں سات دن قیام کیا ہر روز الگ الگ جماعتوں کی دعوت فرماتے رہے حتی کہ ایک دن وہاں کے کتوں کی دعوت کی ، خود انہیں کھلاتے تھے روتے جاتے تھے کہ یہ جناب حلیمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے وطن کے کتے ہیں ان سب باتوں کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ غرض یہ کہ وہاں کے درو دیوار کی عزت کرے۔ افسوس ! ان بے دینوں پر جو ازواجِ پاک یا صحابہ کبار کی بُرائیاں کرتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے حضور کو ایذا ہوتی ہے۔ ‘‘( )
سسرالیوں کےلیےآزمائش:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک سے ہمیں یہ درس ملتاہے کہ انسان کو اپنی زوجہ کے والدین اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے لیکن افسوس!ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے صورت حال یہ ہے کہ سسرالیوں کی ایک تعداد اپنے دامادوں کی ترش روی ، سنگ دلی اور من مانی سے پریشانی کا شکار ہے ، پہلے داماد صاحب نت نئے تقاضے کر کے اور بات بات پر منہ بگاڑ کے اپنے سسرال والوں کے لیے وبال جان بنتے ہیں ، پھر انہیں دھمکیاں لگا لگا کر اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرتے ہیں اور مطالبات پورے نہ ہونے پر ان کی نور نظر کی زندگی اندھیر بنا دیتے ہیں ، پھر ان کی بیٹی کو طلاق کی سند تھما کر گھر سے نکال دیتے ہیں اور اس کے بعد بھی انہیں آئے دن تنگ کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور اگر کوئی داماد اپنے سسرال والوں کا خیال رکھتا ہے اور انہیں عزت و احترام سے نوازتا اور مشکلات میں ان کا ساتھ دیتا ہے تو اپنے گھر میں اس کی یوں شامت آ جاتی ہے کہ اس کے ماں باپ اور بہن بھائی یہ الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ تو بس اپنے سسرال والوں کا ہی ہو کر رہ گیا ہے ، انہوں نے تعویز گنڈے اور جادو کروا کے ہمارے بیٹے کو ہم سے چھین لیا ہے ، اپنی ساس کی بہت خدمت کرتا اور سگی ماں کو تمیز سے بلانا تک پسند نہیں کرتا وغیرہ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام مسلمانوں کو عقل سلیم اور ہدایت عطا فرمائے ، اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینمدنی گلدستہ
’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غیب کا علم عطا فرمایاہے اور آپ نے غیب کی جو خبریں دی ہیں وہ حرف بحرف پوری بھی ہوئی ہیں۔
(2)تاجر کو چاہیے کہ وہ سخت گیر نہ ہو اور معمولی چیزوں میں قلیل وزن کا حساب نہ کرے۔
(3)نسبی رشتہ داروں کی طرح سسرالی رشہ داروں سے بھی بھلائی اور نیک سلوک کرنا چاہیے۔
(4)حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اولاد اور آپ کے ہم وطنوں کی بھی تعظیم و توقیر کرنی چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں نرم مزاج اور سخی بنائے اور اپنے نسبی و سسرالی دونوں رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 328