والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرت سَیِّدنا ابو عبد الرحمٰن عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کونسا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’وقت پر نماز ادا کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی : “ پھر کونساہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’پھر کونسا ہے ؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَاَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَيُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ تَعَالىٰ؟ قَالَ : اَلصَّلَاةُ عَلٰى وَقْتِهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ اَيُّ؟ قَالَ : بِرُّ الوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : ثُمَّ اَيُّ؟ قَالَ:اَلْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 312 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا مگر اس صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو کسی کا غلام پائے تو اسے خریدکر آزاد کردے۔ ‘‘

وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَجْزِيْ وَلَدٌ وَالِدًا اِلَّااَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوْكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 313 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے کہ حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ

مہمان کی تعظیم کرے ، جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ دار سے صلہ رحمی کرے ، جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اورقیامت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ‘‘

وَعَنْهُ اَيْضًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 314 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، حضور نبی کریم رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو پیدا فرمایا حتی کہ جب وہ ان سے فارغ ہوگیا (یعنی ان کی تخلیق مکمل فرمادی) تو رحم نے کھڑے ہو کر عرض کی : ’’یہ قطع رحم سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے۔ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : “ ہاں ، کیا تواس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اس سے تعلق جوڑ وں اور جو تجھے توڑے میں اس سے تعلق توڑ دوں۔ ‘‘ رحم نے عرض کی : ’’ کیوں نہیں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’یہ شرف تجھے دے دیا۔ ‘‘پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو :فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)(پ۲۶ ، محمد : ۲۳ ، ۲۲)ترجمۂ کنزالایمان : تو کیا تمہارے یہ لچھن (انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔ ‘‘بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے : (جب رشتہ داری نے عرض کی )تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :

“ جو تجھے جوڑے گا میں اس سے تعلق جوڑوں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اس سے تعلق توڑلوں گا ۔ “

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللهَ تَعَالیٰ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتّٰى اِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ القَطِيْعَةِ ، قَالَ : نَعَمْ اَمَا تَرْضَيْنَ اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَاَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلٰى ، قَالَ : فَذٰلِكَ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمْ : (فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)).( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيْ : فَقَالَ اللهُ تَعَالَى : مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 315 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نےعرض کی : ’’ پھر

کون؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’پھر کون؟‘‘ارشادفرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’پھر کون؟‘‘ ارشادفرمایا : ’’تمہارا باپ۔ ‘‘اور ایک روایت میں یوں ہے : (اس شخص نے عرض کی ) ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں میرے اچھے سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہارا باپ ، پھر تمہارا قریبی ، پھر تمہارا قریبی۔ “

وَعَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ مَنْ اَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ؟ قَالَ: اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اَبُوْكَ.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ : يَارَسُوْلَ اللهِ مَنْ اَحَقُّ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ : اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ، ثُمَّ اَبَاكَ ، ثُمَّ اَدْنَاكَ اَدْنَاكَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 316 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، پھر اس کی ناک خاک آلود ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو کہ جو والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پائے اور (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہو۔ “

وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَغِمَ اَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ اَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ اَنْفُ مَنْ اَدْرَكَ اَبَوَيْهِ عِنْدَ الكِبَرِ اَحَدَهُمَا اَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 317 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میرے کچھ قریبی رشتہ دار ہیں ، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں ، میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے بُرا سلوک کرتے ہیں ، میں ان کے ساتھ بُردباری سے پیش آتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جاہلانہ برتاؤ کرتے ہیں۔ ‘‘ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ اگر ایسا ہی ہے جیسا تونے کہا توتم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو اور جب تک تو اس حالت پر رہے گا تب تکاللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تیرے لیے ان کے خلاف ایک مددگار رہے گا۔ “

وَعَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً قَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ لِيْ قَرَابَةً اَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُوْنِيْ وَاُحْسِنُ اِلَيْهِمْ وَيُسِيْئُوْنَ اِلَيَّ وَاَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُوْنَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَاَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ ظَهِيْرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلٰى ذٰلِكَ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 318 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکار مکہ مکرمہ سردار مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے اس کے رزق میں فراخی اور عمر میں وسعت کی جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔ ‘‘

وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ اَحَبَّ اَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِيْ رِزْقِهٖ ، ويُنْسَاَ لَهُ فِيْ اَثَرِهٖ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 319 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرت سَیِّدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مدینہ منورہ میں کھجور کے باغات کے لحاظ سے انصار میں سب سے زیادہ مال دار تھے اور انہیں اپنے اموال میں بَیْرُحَاء نامی باغ یا کنواں بہت پسند تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرمایا کرتے تھے پس جب یہ آیت نازل ہوئی :لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ(پ۴ ، آل عمران ، ۹۲)ترجمۂ کنزالایمان : تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔تو حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !بے شک اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیارشادفرماتا ہے :)لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ( (پ۴ ، آل عمران ، ۹۲)ترجمۂ کنزالایمان : “ تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ “ اور مجھے اپنے تمام مالوں میں بَیْرُحَاءباغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ لہذاوہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کی رضا) کے لیے صدقہ ہے اور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس اس کے ثواب اور ذخیرے کی اُمید رکھتا ہوں۔ پس یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس کو اس مصرف میں خرچ

کیجئے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو بتائے۔ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ بہت خوب! یہ سودا نفع بخش ہے ، یہ سودا نفع بخش ہے اور تم نے جو کہا وہ میں نے سن لیا۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔ “ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں ایسا ہی کروں گا۔ ‘‘ چنانچہ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔

وَعَنْهُ قَالَ : کَانَ اَبُوْ طَلْحَةَ اَكْثَرَ الاَنْصَارِ بِالْمَدِيْنَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ اَحَبُّ اَمْوَالِهٖ اِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيْهَا طَيِّبٍ فَلَمَّا نَزَلَتْ هذِهِ الآيةُ : )لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ ( قَامَ اَبُوْ طَلْحَةَ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ یَقُوْلُ : ) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ ( وَاِنَّ اَحَبَّ مَالِيْ اِلَيَّ بَيْرُحَاءُ ، وَ اِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلهِ تَعَالىٰ ، اَرْجُوْ بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ تَعَالىٰ ، فَضَعْهَا يَا رَسُوْلَ اللهِ حَيْثُ اَرَاكَ اللهُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ! ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ! وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَاِنِّيْ اَرٰى اَنْ تَجْعَلَهَا فيِ الْاَقْرَبِيْنَ ، فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ : اَفْعَلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، فَقَسَّمَهَا اَبُوْ طَلْحَةَ فيِ اَقَارِبِهٖ وبَنِيْ عَمِّهٖ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 320 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : ’’ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’میں ہجرت اور جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اللہتعالیٰ سے (اس کے) اجر و ثواب کا طلبگار ہوں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ “ عرض

کی : ’’جی ہاں! بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ ‘‘ ارشادفرمایا : “ کیاتو اللہتعالی سے اجر و ثواب کا طلبگار ہے؟ “ عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور اُن سے اچھا سلوک کر۔ “ اور بخاری و مسلم کی ایک اورروایت میں ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ اَقدس میں حاضر ہوکر جہاد کے لیے اجازت طلب کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ “ عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ تو تم اُن کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے ۔ “

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : اَقْبَلَ رَجُلٌ اِلیٰ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ اَبْتَغِي الْاَجْرَ مِنَ اللهِ تَعَالیٰ. قَالَ : فَهَلْ لَكَ مِنْ وَالِدَيْكَ اَحَدٌ حَيٌّ؟ قَالَ : نَعَمْ! بَلْ كِلَاهُمَا ، قَالَ : فَتَبْتَغِي الْاَجْرَ مِنَ اللهِ تَعَالىٰ؟ قَالَ : نَعَمْ! قَالَ : فَارْجِعْ اِلىٰ وَالِدَيْكَ فَاَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا : جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَاْذَنَهُ فيِ الْجِهَادِ فَقَالَ : اَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ قَالَ : نَعَمْ! قَالَ : فَفِيْهِمَا فَجَاهِدْ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 321 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ،

شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : “ بدلے کے طورپر بھلائی کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اُس سے قطع تعلق کیا جائے تو وہ تعلق جوڑے۔ ‘‘

وَعَنْهُ عَنِِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِىءِ وَلٰكِنَّ الوَاصِلَ الَّذِيْ اِذَا قَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 322 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ رشتہ داری عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی کہہ رہی ہے : جو مجھے ملائے رکھے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ملائے گا اور جو مجھے توڑے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے توڑ دے گا۔ ‘‘

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُوْلُ : مَنْ وَصَلَنِيْ وَصَلَهُ اللهُ وَمَنْ قَطَعَنِيْ قَطَعَهُ اللهُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 323 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتنا میمونہ بنت حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ولیدہ لونڈی آزاد کی اور حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت طلب نہ کی ، جب وہ دن آیا جس میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے پاس تشریف لاتے تھے تو انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی ولیدہ آزاد کر دی ہے؟‘‘

ارشاد فرمایا : “ کیا تم نے یہ کام کر دیا ہے؟‘‘عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو یہ تمہارے لیے اجر عظیم کا باعث ہو تا۔ “ مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ اُمُّ المومنین حضرت میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی ولیدہ لونڈی آزاد کی۔ ولیدہ وہ لونڈی کہلاتی ہے جو اپنے مملوک غلام اور لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہو یعنی خانہ زاد۔ اُمُّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت لیے بغیر اُس لونڈی کوآزاد کر دیا اور جب ان کی باری کے دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے تو انہیں اس کی خبر دی۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے معلوم کیا کہ کیا تم نے لونڈی آزاد کر دی ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی کہ جی ہاں ! میں نے اسے آزاد کر دیا ہے ۔ اس پر تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر تم وہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دے دیتی کیونکہ تنگیٔ حال کی وجہ سے انہیں خادم کی بہت ضرورت تھی ، تو یہ تمہارے لیے اجر عظیم کا باعث ہوتا۔ ( )

وَعَنْ اُمُّ الْمُؤْمِنِيْنَ مَيْمُوْنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اَنَّهَا اَعْتَقَتْ وَلِيْدَةً وَلَمْ تَسْتَاْذِنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِيْ يَدُوْرُ عَلَيْهَا فِيْهِ قَالَتْ : اَشَعَرْتَ يَارَسُوْلَ اللهِ اَنِّي اَعْتَقْتُ وَلِيْدَتِي قَالَ : اَوَ فَعَلْتِ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : اَمَا اِنَّكِ لَوْ اَعْطَيْتِهَا اَخْوَالَكِ كَانَ اَعْظَمَ لِاَجْرِكِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 324 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرت سَیِّدَتُنااسماء بنت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہے ، فرماتی ہیں : رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں میرے پاس میری ماں آئی اور ا س وقت وہ مشرکہ تھی تو میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : ’’میری ماں میرے پاس آئی ہے اوراسے کچھ طمع ہے ، کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں ؟ ‘‘ارشادفرمایا : ’’ ہاں ، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔ “

وَعَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِيْ بَكْرِ الصِّدِّيْقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ اُمِّي وَهِيَ مُشرِكَةٌ فِيْ عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : قَدِمَتْ عَلَيَّ اُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ اَفَاَصِلُ اُمِّي؟ قَالَ : نَعَمْ صِلِيْ اُمَّكِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 325 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب ثَقَفِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے عورتوں کی

جماعت! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرو۔ ‘‘ فرماتی ہیں : ’’میں حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ ’’آپ خالی ہاتھ اور تنگدست آدمی ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہٰذاآپ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر پوچھ آئیں کہ اگر میرا آپ (اور آپ کی اولاد )پرصدقہ کرنا جائز ہے تو ٹھیک ، ورنہ میں آپ لوگوں کے علاوہ کسی اور کو صدقہ دے دوں۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’تم خود جاؤ۔ ‘‘ فرماتی ہیں کہ میں گئی تو دیکھا کہ ایک انصاری خاتون سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازے پر کھڑی ہے اور اسے بھی یہی مسئلہ درپیش تھا۔ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قدرتی ہیبت عطا کی گئی تھی(جس کی وجہ سے ہم خدمت اقدس میں حاضر ہونے کی جرأت نہ کر سکیں) اتنے میں حضرت سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ باہر تشریف لائے تو ہم نے ان سے عرض کی : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں جاکر عرض کیجئے کہ دو۲عورتیں دروازے پر کھڑی ہیں ، آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہروں اور زیر کفالت یتیموں پرمال خرچ کریں تو کیا یہ صدقہ ہوجائے گا؟ اور یہ نہ بتائیے گا کہ ہم کون ہیں۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مسئلہ معلوم کیا تو رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’وہ عورتیں کون ہیں؟‘‘ عرض کی : ’’ایک انصاری خاتون ہیں اور دوسری حضرت زینب ہیں۔ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کون سی زینب؟‘‘ عرض کی : ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ۔ ‘‘ رحمت عالم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ ان کے لیے دو اجر ہیں۔ ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔ ‘‘

وَعَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ امْرَاَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، قَالَتْ : فَرَجَعْتُ اِلىٰ عَبْدِ اللهِ بْنِِ مَسْعُوْدٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : اِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيْفُ ذَاتِ اليَدِ ، وَاِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَاْتِهٖ ، فَاسْاَلْهُ فَاِنْ كَانَ ذٰلِكَ يُجْزِىءُ عَنِّي وَاِلَّاصَرَفْتُهَا اِلىٰ غَيْرِكُمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : بَلِ اِئْتِيْهِ اَنْتِ ، فَانْطَلَقتُ ، فَاِذَا اِمْرَاَةٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِبَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتِيْ حَاجَتُهَا ، وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ ، فَخَرجَ عَلَيْنَا بِلاَلٌ ، فَقُلْنَا لَهُ : اِئْتِ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاَخْبِرْهُ اَنَّ اِمْرَاَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْاَلَانِكَ : اَتُجْزِىءُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلىٰ اَزْوَاجِهِمَا وَعَلٰى اَيْتَامٍ فِيْ حُجُورِهِمَا؟ وَلَاتُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ ، فَدَخَلَ بِلاَلٌ عَلیٰ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَاَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هُمَا ، قَالَ : امْرَاَةٌ مِنَ الْاَنْصَارِ وَزَيْنَبُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَيُّ الزَّ يَانِبِ هِيَ؟ قَالَ : اِمْرَاَةُ عَبْدِ اللهِ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَهُمَا اَجْرَانِ : اَجْرُ القَرَابَةِ وَاَجْرُ الصَّدَقَةِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 326 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سفیان صخر بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ واقعۂ ہرقل کی ایک طویل حدیث پاک روایت کرتے ہیں کہ ہرقل نے حضرت ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا : ’’وہ یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟‘‘حضرت سَیِّدُنَا ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

فرماتے ہیں : ’’میں نے کہا : وہ فرماتے ہیں کہ ایک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہارے آباؤ اجداد جو کہتے تھے اسے چھوڑ دو اور وہ ہمیں نماز ادا کرنے ، سچ بولنے ، پاک دامن رہنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔‘‘

وَعَنْ اَبِيْ سُفْيَانَ صَخْرِ بْنِِ حَرْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فيِ ْحَدِيْثِهِ الطَّوِيْلِ فِيْ قِصَّةِ هِرَقْلَ اَنَّ هِرَقْلَ قَالَ لِاَبِيْ سُفْيَانَ : فَمَاذَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖ؟ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَقُوْلُ : اُعْبُدُوْا اللهَ وَحْدَهُ ، وَلَاتُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا ، وَاتْرُكُوْا مَا يَقُوْلُ آبَاؤُكُمْ ، وَيَاْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ ، وَالصِّدْقِ ، وَالْعَفَافِ ، وَالصِّلَةِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 327 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ عنقریب تم ایک ایسی زمین فتح کرو گے جس میں قیراط کابہت ذکر کیا جاتا ہے۔ “ ایک روایت میں ہے : “ عنقریب تم مصر فتح کرو گے اور یہ وہ سرزمین ہے جس میں قیراط کا بہت نام لیا جاتا ہے ، تو تم اس کے باشندوں سے بھلائی کرنا کیونکہ ان سے معاہدہ بھی ہے اور رشتہ داری بھی۔ “ اور ایک روایت میں ہے : “ جب تم مصر فتح کر لوتو اس کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا کیونکہ ان سے معاہدہ اور رشتہ داری ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں ) یا یہ فرمایا کہ ان سے معاہدہ اور سسرالی رشتہ داری ہے۔ “ علماء فرماتے ہیں : (مصر والوں سے نسبی)رشتہ داری یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَااسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنَا حاجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اہل مصر میں سے تھیں اورسسرالی رشتہ داری یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہزادے حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنَا ماریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا تعلق مصرسے تھا۔

وَعَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّكُمْ سَتَفْتَحُوْنَ اَرْضًا يُذْكَرُ

فِيْهَا الْقِيْرَاطُ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : سَتَفْتَحُوْنَ مِصْرَ وَهِيَ اَرْضٌ يُسَمَّى فِيْهَا الْقِيْرَاطُ فَاسْتَوْصُوْا بِاَهْلِهَا خَيْرًا فَاِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا.وَفِيْ رِوَايَةٍ : فَاِذَا فْتَتَحْتُمُوْهَا فَاَحْسِنُوْا اِلٰى اَهْلِهَا فَاِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا اَوْ قَالَ : ذِمَّةً وصِهْرًا. ( )قَالَ الْعُلَمَاءُ : اَلرَّحِمُ الَّتِيْ لَهُمْ كَوْنُ هَاجَرَ اُمِّ إسْمَاعِيْلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ، “ وَالصِّهْرُ “ كَوْنُ مَارِيَةَ اُمِّ إبْرَاهِيْمَ ابْنِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 328 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : )وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ(۲۱۴)( (پ۱۹ ، الشعراء : ۲۱۴) ترجمۂ کنزالایمان :اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ ۔ تو حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےقریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے توعام و خاص سبھی سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : “ اے عبدِ شمس کی اولاد! اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے مُرَّہ بن کعب کی او لاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے عبدِ مَناف کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے ہاشم کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے عبد المطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے فاطمہ!تم(بھی) اپنی جان کو جہنم کی آگ سے بچا لو کیونکہ میںاللہ عَزَّوَجَلَّ کی چیزوں میں سے تمہارے لیے بذاتِ خود کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ میری تم سے رشتہ داری ہے اور عنقریب میں اس رشتہ داری کا فیض تم کو پہنچاؤں گا (یعنی تم سے صلہ رحمی کروں گا)۔ ‘‘

وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ ) وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ ( دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ وَقالَ : يَا بَنِيْ عَبْدِ شَمْسٍ ، یَا بَنِيْ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ هَاشِمٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا فَاطِمَةُ اَنْقِذِيْ نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ. فَاِنِّيْ لَا اَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيئًا غَيْرَ اَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 329 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص سے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دوعالم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بغیر کسی اخفاء کے بلند آواز سے یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا : “ فلاں قبیلے والے میرے دوست نہیں بلکہ میرے دوست تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور نیک مسلمان ہیں ، لیکن اُس قبیلے والوں سے رشتہ داری ہے جس کی تری سے میں اسے تر کروں گا۔ ‘‘ (یعنی ان سے صلہ رحمی کروں گا۔ )

وَعَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ یَقُوْلُ : اِنَّ آلَ بَنِيْ فُلاَنٍ لَيْسُوْا بِاَوْلِيَائِيْ ، اِنَّمَاوَلِيِّيَ اللهُ وَصَالِحُ المُؤْمِنِيْنَ وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ اَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 330 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرت سَیِّدناابو ایوب خالد بن زید انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے ایسے عمل کے بارے میں خبر دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے ، سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔ ‘‘

وَعَنْ اَبِيْ اَيُّوْبَ خَالِدِ بْنِ زَيْدِ الْاَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًاقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا ، وَتُقِيْمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّ حِمَ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 331 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان