والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرت سَیِّدنا سلمان بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاکیزہ ہے۔ “ اور ارشاد فرمایا : “ عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ رشتہ دار پر صدقہ کرنے میں دو چیزیں ہیں ، ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔ “

وَعَنْ سَلْمَانِ بْنِِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِِ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا اَفْطَرَ اَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلٰى تَمْرٍ فَاِنَّهُ بَرَكَةٌ ، فَاِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَاِنَّهُ طَهُوْرٌ ، وَقَالَ : اَلصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِيْنِ صَدَقَةٌ وَعَلٰى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ : صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 332 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میری ایک زوجہ تھی اور میں اسے پسندکرتا تھا جبکہ (میرے والد)حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے ناپسند کرتے تھے ، چنانچہ (ایک دن) انہوں نے مجھ سے فرمایا : “ اسے طلاق دے دو ۔ “ تو میں نے انکار کردیا ، پھر (میرے والد)حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان سے یہ معاملہ عرض کیا تو سرکار دوعالم نور مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (مجھ سے) ارشاد فرمایا : “ اسے طلاق دے دو۔ “

وَعَنْ اِبْنِِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : کَانَتْ تَحْتِي اِمْرَاَةٌ وَكُنْتُ اُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ لِيْ : طَلِّقْهَا فَاَبَيْتُ فَاَتٰى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلِّقْهَا.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 333 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے اُن کے پاس آکر عرض کی : ’’میری ایک بیوی ہے اور میری والدہ اسے طلاق دینے کا حکم دے رہی ہے۔ ‘‘ (تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کے دروازو ں کا درمیانی دروازہ ہے ، پس اگر تم چاہو تو یہ دروازہ ضائع کر دو یا اسے محفوظ کر لو۔ ‘‘حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے حضرت سَیِّدُنَاابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا کہ میری ماں مجھے بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ یہ شخص حضرت ابو درداء سے مسئلہ دریافت کرنے آیاتھا کہ فرمائیے میں کیا کروں اسے طلاق دوں یا نہ دوں کہ طلاق تمام مباح چیزوں میں بہت ہی ناپسندیدہ چیز ہے۔ ( )نیز یہ شخص بیوی سے محبت یا کسی اور وجہ سے اسے طلاق نہیں دینا چاہتا تھا۔ ( )

وَعَنْ اَبي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً اَتَاهُ قَالَ : اِنَّ لِيْ اِمْرَاَةً وَاِنَّ اُمِّيْ تَاْمُرُنِيْ بِطَلَاقِهَا؟فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَاِنْ شِئْتَ فَاَضِعْ ذٰلِكَ الْبَابَ اَوِ احْفَظْهُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 334 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ خالہ ماں کے قائم مقام ہے۔ “

عَنِِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْاُمِّ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 335 ، والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان