باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حُضورتاجدارِرِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”رمضان کےبعد افضل روزےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ:شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ وَاَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيْضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1246 ، باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ نہ رکھا کرتے بلکہ پورے شعبان ہی کے روزے رکھ لیا کرتے تھے ۔“ایک روایت میں ہے: ”تھوڑے دنوں کے علاوہ سارے شعبان کے روزے رکھتے۔“

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُوْمُ مِنْ شَهْرٍ اَكْثَـرَ مِنْ شَعْبَانَ فَاِنَّهُ كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ كُلَّهُ.وَفِيْ رِوَايَةٍ: كَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ اِلَّا قَلِيْلًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1247 ، باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان

حضرت سَیِّدَتنا مجیبہ باہلیہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَااپنے والد یا چچا سےروایت کرتی ہیں کہ وہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے ایک سال کے بعد دوبارہ حاضر ہوئے تو اُن کی حالت اور صورت بدل چکی تھی۔پس اس نے کہا: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’تم کون ہو؟‘‘عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیاآپ مجھے پہچانتے ہیں؟‘‘ فرمایا:’’تم کون ہو؟‘‘عرض کی:’’میں باہلی ہوں گذشتہ سال حاضرِ خدمت ہوا تھا۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’کس چیز نے تمہاری حالت بدل دی، تم تو ایک حسین آدمی تھے۔‘‘عرض کی:’’میں نے آپ سے جدا ہونے کے بعد صرف رات کے کھانے پر اِکتفا کیا(یعنی کثرت سے روزے رکھے)۔‘‘حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’تو نے اپنی جان کو تکلیف میں رکھا۔‘‘پھر فرمایا:’’ماہِ صبر(یعنی رمضان)کے روزے رکھو اور ہر مہینے میں ایک روزہ رکھو۔‘‘عرض کی:’’زیادہ کیجئے، مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔‘‘ارشادفرمایا:’’دو دن کے روزے رکھو۔‘‘ عرض کی:’’بڑھا دیجئے۔‘‘فرمایا: ’’تین دن کے روزے رکھو۔‘‘عرض کی:’’زیادہ کیجئے۔‘‘فرمایا:’’حُرمت والے مہینوں میں کچھ دن روزے رکھو اور کچھ دن چھوڑ دو،حُرمت والے مہینوں میں کچھ دن روزے رکھو اور کچھ دن چھوڑ دو،حُرمت والے مہینوں میں کچھ دن روزے رکھو اور کچھ دن چھوڑدو۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ فرمایا،ان کو ملایا اور پھر چھوڑ دیا۔

عَنْ مُجِيْبَةَ الْبَاهِليَّةِ عَنْ اَبِيْهَا اَوْ عَمِّهَا:اَنَّهُ اَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْـطَلَقَ فَاَتَاهُ بَعْدَ سَنَةٍ وَ قَدْ تَغَيَّرَتْ حَالُهُ وَ هَيْئَتُهُ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ الله اَمَا تَعْرِفُنِي؟ قَالَ : وَ مَنْ اَنْتَ ؟ قَالَ : اَنَا الْباهِليُّ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ الْاَوَّلِ . قَالَ : فَمَا غَيَّرَكَ وَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الهَيْئَةِ! قَالَ : مَا اَكَلْتُ طَعَامًا مُنْذُ فَارَقْتُكَ اِلَّا بِلَيْلٍ . فَقَالَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:عَذَّبْتَ نَفْسَكَ! ثُمَّ قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَومًا مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَ: زِدْنِي فَاِنَّ بِیْ قُوَّةً قَالَ: صُمْ يَوْمَيْن قَالَ: زِدْنِي قَالَ: صُمْ ثَلاثَةَ اَ يَّامٍ قَالَ: زِدْنِي قَالَ:صُمْ مِنَ الْحُرُم وَاتْرُكْ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ وَقَالَ بِاَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ فَضَمَّهَا ثُمَّ اَرْسَلَهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1248 ، باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان