Main Icon

باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1248

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ مُجِيْبَةَ الْبَاهِليَّةِ عَنْ اَبِيْهَا اَوْ عَمِّهَا:اَنَّهُ اَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْـطَلَقَ فَاَتَاهُ بَعْدَ سَنَةٍ وَ قَدْ تَغَيَّرَتْ حَالُهُ وَ هَيْئَتُهُ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ الله اَمَا تَعْرِفُنِي؟ قَالَ : وَ مَنْ اَنْتَ ؟ قَالَ : اَنَا الْباهِليُّ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ الْاَوَّلِ . قَالَ : فَمَا غَيَّرَكَ وَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الهَيْئَةِ! قَالَ : مَا اَكَلْتُ طَعَامًا مُنْذُ فَارَقْتُكَ اِلَّا بِلَيْلٍ . فَقَالَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:عَذَّبْتَ نَفْسَكَ! ثُمَّ قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَومًا مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَ: زِدْنِي فَاِنَّ بِیْ قُوَّةً قَالَ: صُمْ يَوْمَيْن قَالَ: زِدْنِي قَالَ: صُمْ ثَلاثَةَ اَ يَّامٍ قَالَ: زِدْنِي قَالَ:صُمْ مِنَ الْحُرُم وَاتْرُكْ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ وَقَالَ بِاَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ فَضَمَّهَا ثُمَّ اَرْسَلَهَا.

عن مجيبة الباهلية عن ابيها او عمها:انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انـطلق فاتاه بعد سنة و قد تغيرت حاله و هيئته فقال: يا رسول الله اما تعرفني؟ قال : و من انت ؟ قال : انا الباهلي الذي جئتك عام الاول . قال : فما غيرك وقد كنت حسن الهيئة! قال : ما اكلت طعاما منذ فارقتك الا بليل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:عذبت نفسك! ثم قال: صم شهر الصبر ويوما من كل شهر قال: زدني فان بی قوة قال: صم يومين قال: زدني قال: صم ثلاثة ا يام قال: زدني قال:صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك وقال باصابعه الثلاث فضمها ثم ارسلها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتنا مجیبہ باہلیہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَااپنے والد یا چچا سےروایت کرتی ہیں کہ وہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے ایک سال کے بعد دوبارہ حاضر ہوئے تو اُن کی حالت اور صورت بدل چکی تھی۔پس اس نے کہا: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’تم کون ہو؟‘‘عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیاآپ مجھے پہچانتے ہیں؟‘‘ فرمایا:’’تم کون ہو؟‘‘عرض کی:’’میں باہلی ہوں گذشتہ سال حاضرِ خدمت ہوا تھا۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’کس چیز نے تمہاری حالت بدل دی، تم تو ایک حسین آدمی تھے۔‘‘عرض کی:’’میں نے آپ سے جدا ہونے کے بعد صرف رات کے کھانے پر اِکتفا کیا(یعنی کثرت سے روزے رکھے)۔‘‘حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’تو نے اپنی جان کو تکلیف میں رکھا۔‘‘پھر فرمایا:’’ماہِ صبر(یعنی رمضان)کے روزے رکھو اور ہر مہینے میں ایک روزہ رکھو۔‘‘عرض کی:’’زیادہ کیجئے، مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔‘‘ارشادفرمایا:’’دو دن کے روزے رکھو۔‘‘ عرض کی:’’بڑھا دیجئے۔‘‘فرمایا: ’’تین دن کے روزے رکھو۔‘‘عرض کی:’’زیادہ کیجئے۔‘‘فرمایا:’’حُرمت والے مہینوں میں کچھ دن روزے رکھو اور کچھ دن چھوڑ دو،حُرمت والے مہینوں میں کچھ دن روزے رکھو اور کچھ دن چھوڑ دو،حُرمت والے مہینوں میں کچھ دن روزے رکھو اور کچھ دن چھوڑدو۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ فرمایا،ان کو ملایا اور پھر چھوڑ دیا۔

شرح حدیث

حُرمت والے مہینے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حرمت والے مہینوں سے مراد رجب، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم الحرام ہیں۔ بار بار فرمانا تاکید اور ان مہینوں کے شرف کی وجہ سے ہے۔ تین انگلیوں کو ملانا اور پھر چھوڑ دینے سے مرادحُرمت والے مہینوں میں تین دن روزے رکھ کر پھر ناغہ کرنا ہے۔ناغہ کرنے میں حکمت یہ ہےکہ جب آدمی کسی نیکی کا عادی ہوجائے تو نفس کو اس سے الفت پیدا ہوجاتی ہے اور مشقت ختم ہوجاتی ہےاسی وجہ سے تین دن کے بعد ناغہ کرنے کا کہا گیا ہےکیونکہ مسلسل روزے رکھنے کی وجہ سے انسان روزوں کا عادی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اسے روزے رکھنے میں مشقت نہیں ہوتی البتہ درمیان میں ناغہ کرکے روزہ رکھنے میں مشقت ہوتی اور جس کام میں مشقت ہو اس میں ثواب زیادہ ہوتا ہے لہٰذا تین دن کے بعد ناغہ کرنے کافرمایا۔نیز حدیث پاک میں ماہ رمضان کو ماہ صبر کہا گیا کیونکہ صبر کا معنیٰ رکنا ہےاور روزے میں چونکہ نفس کو دن میں کھانے پینے اور ہمبستری سے روک دیا جاتا ہے اس لیےماہِ رمضان کو ماہِ صبر کہا گیا ہے۔“مدنی گلدستہ’’حرم‘‘کے3حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے اور یہ وہی مہینہ ہے جس میں لوگوں کے اعمالاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔
(2) رجب،ذوالقعدہ ،ذوالحجہ اور محرم الحرام حرمت والے مہینے ہیں۔
(3) صبرکا معنیٰ رکنا ہےاور روزے میں نفس کھانے پینے اور ہمبستری سے رُک جاتا ہے اس لئے ماهِ رمضان کو ماہِ صبر کہاجاتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شعبان المعظم اور حُرمت والے مہینوں میں روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1248