Main Icon

اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 381

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ : الْمُتَحَابُّونَ في جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ. ( )

عن معاذ رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم يقول : قال الله عزوجل : المتحابون في جلالي لهم منابر من نور يغبطهم النبيون والشهداء. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ( بروز قیامت ) ارشاد فرمائے گا : آج میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والوں کے لیے نور کے منبر ہوں گے ، انبیاءاورشہداء اُن پر رشک کریں گے ۔ ‘‘

شرح حدیث

اس حدیث پاک میں بھی رضائے الٰہی کے لئے آپس میں محبت کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ایسے

خوش نصیب بروزِ قیامت نور کے منبروں پر ہوں گے اور انبیاء و شہدا ءانہیں دیکھ کر رشک کریں گے ۔
¥
انبیائے کرا م کے رشک کے معانی :حدیثِ مذکورمیں ”یَغْبِطُھُمُ النَّبِیُّونَ“ کے الفاظ آئے ہیں یعنی انبیاء کرام ان پرغِبْطَہکریں گے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانلفظِ ”غِبْطَۃ“کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یا تو یہاںغِبْطَہسے مراد ہے خوش ہونا ۔ تب تو حدیث واضح ہے کہ حضرات انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) اُن لوگوں کو اس مقام پر دیکھ کر بہت خوش ہوں گے اور ان لوگوں کی تعریف کریں گے اوراگرغِبْطَہبمعنیٰ رشک ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ اگرحضرات انبیاء و شہداء کسی پررشک کرتے تو ان پر کرتے تو یہ فرضی صورت کا ذکر ہے یا رشک اپنی اُمت کی بنا پر ہوگا کہ اُمت محمدیہ میں یہ لوگ ایسے درجے میں ہیں کہ ہماری امت میں نہیں یا یہ مقصد ہے کہ وہ حضرات اپنی امت کا حساب کرا رہے ہوں گے اوریہ لوگ آرام سے ان منبروں پر بے فکری سے آرام کررہے ہوں گے تو حضرات انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) ان لوگوں کی بے فکری پر رشک کریں گے کہ ہم مشغول ہیں یہ فارغ البال ۔ بہرحال اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ یہ حضرات انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) سے افضل ہوں گے ۔ ‘‘ ( )
¥
دو خوبیاں جمع کرنے کی تمنا :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینقل فرماتے ہیں کہ ” جب کوئی بندہ علم وعمل کے حوالے سے کسی خوبی سے متصف ہوتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اس کا اس خوبی کی وجہ سے ایک ایسا درجہ اور مقام ومرتبہ ہوتا ہے جس میں کوئی دوسراشخص شریک نہیں ہوتا جو اس خوبی سے متصف نہ ہو ، اگرچہ وہ اس سے بھی کسی ارفع واعلیٰ خوبی سے متصف ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بندے میں پائی جانے والی خوبی پر رشک کرتا ہے ، اس کی تمنا کرتا ہے اور اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے دیگر بلند مراتب اور مقامات کے ساتھ ساتھ یہ مرتبہ بھی اسے مل جاتا ۔ حدیث پاک میں جو فرمایا گیا کہ انبیاء اور شہداء بھی رضائے الٰہی کی خاطر

محبت کرنے والوں کے مقام ومرتبے پر رشک کریں گے اس کا یہی معنیٰ ہے کہ انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتو بذات خود بہت بلند مقامات اور درجات پر فائز ہوں گے کہ انہوں نے خلق خدا کو وحدانیت ورسالت کی دعوت دی ، حق کا اظہار کیا ، دین کو سربلند کیا ، ہرخاص وعام کی ہدایت ورہنمائی فرمائی ۔ الغرض انہیں وہ تمام کمالات اور فضائل حاصل ہیں جو ان جزئیات کا کل ہیں ۔ اسی طرح شہداء بذات خود مرتبہ شہادت پر فائز ہوں گے اور بڑی کامیابی کے ساتھ کامیاب ہوئے ہوں گے ، بلکہ جیسا ان کا معاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ ہے ویسا کسی کا بھی نہیں ہوگا ، لیکن جب یہ لوگ رضائے الٰہی کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کا مقام ومرتبہ دیکھیں گے ، رب تعالیٰ کی بارگاہ میں اُن کے قرب اورعزت وعظمت کا مشاہدہ کریں گے تووہ اِس بات کو پسند کریں گے کہ وہ اپنے موجودہ فضائل کے ساتھ ساتھ اِس فضیلت کو بھی حاصل کرتے تاکہ وہ دو فضیلتوں ، دودَرجوں ، دومرتبوں اور دو کامیابیوں کے جامع ہوتے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’حطیم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
کل بروزِ قیامت تمام لوگوں کے مراتب برابر نہیں بلکہ اعمال کے اعتبار سے مختلف ہوں گے ۔
(2) بروزِ قیامت نیک لوگ اپنے اپنے مقام و مرتبے کے مطابق اپنی اپنی نشستوں پر ہوں گے ، جس کامقام ومرتبہ جتنا زیادہ ہوگا اس کی نشست بھی اتنی ہی اعلیٰ ہو گی ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کا مقام ومرتبہ اتنا بلند وبالا ہوگا کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور شہدا بھی ان کے مقام پر رشک کریں گے ۔
(4) کوئی بھی اُمتی چاہے جتنے بھی افضل اعمال کرلے ، مقام ومرتبہ حاصل کرے مگر انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مقام ومرتبے کو ہرگز نہیں پہنچ سکتا ، لہٰذا یہ جو حدیث پاک میں انبیائے کرامعَلَیْہِمُالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے رشک کا ذکر ہے اِس سے رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے والوں کے مقام ومرتبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا مقصود ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے کل بروزِ قیامت ہمیں بھی بلند مقامات اور درجات عطا فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 381