- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 377
اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 377
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَقُوْلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلالِيْ؟اَلْيَوْمَ اُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلِّي. ( )
عن ابي هريرةرضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ان الله تعالی يقول يوم القيامة : اين المتحابون بجلالي؟اليوم اظلهم في ظلي يوم لا ظل الا ظلي. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بے شک !اللہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت فرمائے گا : کہاں ہیں میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والے ؟ آج میں انہیں اپنے ( عرش کے ) سائے میں رکھوں گا کہ آج میرے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
رب تعالٰی کے استفسار فرمانے کی وجہ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث مذکور میں اُن خوش نصیبوں کے لئے بشارت ہے جن کی آپس کی محبت صرف جلالِ الٰہی اور رضائے الٰہی کی وجہ سے ہو ۔ اس محبت کی بدولت انہیں قیامت کے اس ہولناک اور وحشت والے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا ، جب سورج ایک یا سوا میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا ، تانبے
کی دہکتی ہوئی زمین پر ننگے پاؤں ، ننگے بدن کھڑا کردیا جائے گا اور اس دناللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرش اور اس کی رحمت کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکو ہر چیز کا علم ہے اس کے باوجود یہ فرمانا کہ میرے جلال کے سبب محبت کرنے والے کہاں ہیں ؟ یہ اس لئے ہوگا تاکہ ساری مخلوق کے سامنے اُن خوش نصیبوں کی عزت افزائی ہو ۔ ( )
¥جلالِ الہٰی کی وجہ سے آپس میں محبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان فرمایا گیا کہ جلال الٰہی کی وجہ سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ یہاں جلال الٰہی سے کیا مراد ہے ؟ شارحین نے اس کی مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی جن کی آپس کی محبت صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہیبت اور اس کی تعظیم و فرمانبرداری کے لئے ہو کسی دنیوی یا اور کسی مقصد کے لئے نہ ہو ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی میری عظمت اور میری اطاعت کے ساتھ محبت کرنے والے ۔ ‘‘ ( ) علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی کہاں ہیں وہ لوگ؟ جن کی محبت نفسانی وشیطانی خواہشات سے پاک تھی اور وہ ایک دوسرے سے محبت امور دنیا میں سے کسی دنیوی امر کی وجہ سے نہیں بلکہ میری اور میری رضا کے لیے کیا کرتے تھے ۔ ‘‘ ( )
¥اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے کیامراد ہے ؟شرح صحیح مسلم میں ہے : قاضی عیاض مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے مراد عرش کا سایہ ہے یعنی جن کی آپس کی محبت صرف رضائے الٰہی کے لئے ہوگی ، کل بروز قیامت وہ عرش کے سائے میں ہو ں گے تاکہ سورج کی تپش ، محشر کی گرمی اورمخلوق کے سانسوں کی گرمی سے حفاظت میں
رہیں ۔ حضرت سیدنا عیسیٰ بن دینا رعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے مراد اس کی پناہ ہے ۔ یعنی بروز قیامت وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ میں ہوں گے جس کی وجہ سے ناپسندیدہ اُمور سے محفوظ رہیں گے اور ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے مراد راحت و سکون ہے یعنی بروز قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں راحت و سکون عطا فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥رو زِقیامت پُر نور چہرے اور بے خوف لوگ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جن مسلمانوں کی آپس کی محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے قرآن کی وجہ سے ہو ، آپس کی قرابت داری یا کسی مالی لَین دَین کی وجہ سے نہ ہو تو بروزِ قیامت ان پر انعام اکرام کی ایسی برسات ہو گی کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاموشہداءعظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامبھی ان پر رشک کریں گے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کچھ بندے وہ ہیں جو نہ تو نبی ہیں ، نہ شہید ، روز ِقیامت اُن کے مقام ومرتبے کو دیکھ کر حضراتِ انبیاء و شہداء بھی اُن پر رشک کریں گے ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمیں بھی ارشاد فرمائیے کہ وہ کون لوگ ہیں؟ ‘‘ ارشادفرمایا : ’’وہ لوگ جو آپس کی قرابت داری اور مالی لَین دَین کے وجہ سے محبت نہیں کرتے بلکہ قرآن کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! اُن کے چہرے بھی نورانی ہوں گے اور وہ خود بھی پُرنور ہوں گے ، جب تمام لوگ خوفزدہ ہوں گے تو انہیں کوئی خوف نہیں ہوگااور جب تمام لوگ غمگین ہوں گے تو انہیں کوئی غم نہ ہوگا ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)(پ۱۱ ،یونس:۶۲ )ترجمۂ کنزالایمان: سن لو بے شکاللہکے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’عرشِ الٰہی ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)کل بروزِ قیامت چند خوش نصیب لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کی عزت افزائی کے لیے خود رب تعالیٰ انہیں یاد فرمائے گااور ان کے لیے انعامات واعزازات کا اعلان فرمائے گا ۔
(2) جو لوگ دنیا میں فقطاللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال ، اس کی عزت وعظمت ، اس کی بڑائی اور اس کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرتے ہوں گے تو رب تعالیٰ ان پر خصوصی انعامات واکرام کی بارش فرمائے گا ۔
(3) کل بروزِ قیامت انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور شہدائے عظام کو خصوصی مقام ومرتبہ عطا فرمایا جائے گا لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے والوں کو وہ انعام واکرام دیے جائیں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے ۔
(4) خالص رضائے الٰہی کے لئے وہی محبت ہوتی ہے جو ہر قسم کے دُنیوی اَغراض ومقاصد سے پاک ہو ۔
(5) جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک اور متقی پرہیزگار بندے ہیں ، قیامت کے دن جب تمام لوگ خوفزدہ اور غمگین ہوں گے تو انہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم ۔
(6) رضائے الٰہی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے کل بروزِ قیامت چہرے بھی نورانی ہوں گے اور وہ خود بھی نورانی ہوں گے ۔
(7) روز ِقیامت گرمی وتپش اپنی انتہا کوپہنچ چکی ہوگی ، عرشِ الٰہی کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ مخلوق اس دن کی ہولناکی سے دوچار ہوگی مگر بعض خوش نصیبوں کو عرش کے سائے میں جگہ ملے گی جہا ں وہ راحت و سکون میں ہوں گے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے جنہیں عرشِ الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا ، کل بروزِ قیامت جنہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 377