Main Icon

اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 377

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَقُوْلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلالِيْ؟اَلْيَوْمَ اُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلِّي. ( )

عن ابي هريرةرضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ان الله تعالی يقول يوم القيامة : اين المتحابون بجلالي؟اليوم اظلهم في ظلي يوم لا ظل الا ظلي. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بے شک !اللہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت فرمائے گا : کہاں ہیں میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والے ؟ آج میں انہیں اپنے ( عرش کے ) سائے میں رکھوں گا کہ آج میرے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

رب تعالٰی کے استفسار فرمانے کی وجہ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث مذکور میں اُن خوش نصیبوں کے لئے بشارت ہے جن کی آپس کی محبت صرف جلالِ الٰہی اور رضائے الٰہی کی وجہ سے ہو ۔ اس محبت کی بدولت انہیں قیامت کے اس ہولناک اور وحشت والے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا ، جب سورج ایک یا سوا میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا ، تانبے

کی دہکتی ہوئی زمین پر ننگے پاؤں ، ننگے بدن کھڑا کردیا جائے گا اور اس دن
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرش اور اس کی رحمت کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکو ہر چیز کا علم ہے اس کے باوجود یہ فرمانا کہ میرے جلال کے سبب محبت کرنے والے کہاں ہیں ؟ یہ اس لئے ہوگا تاکہ ساری مخلوق کے سامنے اُن خوش نصیبوں کی عزت افزائی ہو ۔ ( )
¥
جلالِ الہٰی کی وجہ سے آپس میں محبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان فرمایا گیا کہ جلال الٰہی کی وجہ سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ یہاں جلال الٰہی سے کیا مراد ہے ؟ شارحین نے اس کی مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی جن کی آپس کی محبت صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہیبت اور اس کی تعظیم و فرمانبرداری کے لئے ہو کسی دنیوی یا اور کسی مقصد کے لئے نہ ہو ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی میری عظمت اور میری اطاعت کے ساتھ محبت کرنے والے ۔ ‘‘ ( ) علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی کہاں ہیں وہ لوگ؟ جن کی محبت نفسانی وشیطانی خواہشات سے پاک تھی اور وہ ایک دوسرے سے محبت امور دنیا میں سے کسی دنیوی امر کی وجہ سے نہیں بلکہ میری اور میری رضا کے لیے کیا کرتے تھے ۔ ‘‘ ( )
¥
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے کیامراد ہے ؟شرح صحیح مسلم میں ہے : قاضی عیاض مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے مراد عرش کا سایہ ہے یعنی جن کی آپس کی محبت صرف رضائے الٰہی کے لئے ہوگی ، کل بروز قیامت وہ عرش کے سائے میں ہو ں گے تاکہ سورج کی تپش ، محشر کی گرمی اورمخلوق کے سانسوں کی گرمی سے حفاظت میں

رہیں ۔ حضرت سیدنا عیسیٰ بن دینا ر
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے مراد اس کی پناہ ہے ۔ یعنی بروز قیامت وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ میں ہوں گے جس کی وجہ سے ناپسندیدہ اُمور سے محفوظ رہیں گے اور ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سائے سے مراد راحت و سکون ہے یعنی بروز قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں راحت و سکون عطا فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥
رو زِقیامت پُر نور چہرے اور بے خوف لوگ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جن مسلمانوں کی آپس کی محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے قرآن کی وجہ سے ہو ، آپس کی قرابت داری یا کسی مالی لَین دَین کی وجہ سے نہ ہو تو بروزِ قیامت ان پر انعام اکرام کی ایسی برسات ہو گی کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاموشہداءعظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامبھی ان پر رشک کریں گے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کچھ بندے وہ ہیں جو نہ تو نبی ہیں ، نہ شہید ، روز ِقیامت اُن کے مقام ومرتبے کو دیکھ کر حضراتِ انبیاء و شہداء بھی اُن پر رشک کریں گے ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمیں بھی ارشاد فرمائیے کہ وہ کون لوگ ہیں؟ ‘‘ ارشادفرمایا : ’’وہ لوگ جو آپس کی قرابت داری اور مالی لَین دَین کے وجہ سے محبت نہیں کرتے بلکہ قرآن کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! اُن کے چہرے بھی نورانی ہوں گے اور وہ خود بھی پُرنور ہوں گے ، جب تمام لوگ خوفزدہ ہوں گے تو انہیں کوئی خوف نہیں ہوگااور جب تمام لوگ غمگین ہوں گے تو انہیں کوئی غم نہ ہوگا ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)(پ۱۱ ،یونس:۶۲ )ترجمۂ کنزالایمان: سن لو بے شکاللہکے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’عرشِ الٰہی ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
کل بروزِ قیامت چند خوش نصیب لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کی عزت افزائی کے لیے خود رب تعالیٰ انہیں یاد فرمائے گااور ان کے لیے انعامات واعزازات کا اعلان فرمائے گا ۔
(2) جو لوگ دنیا میں فقط
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال ، اس کی عزت وعظمت ، اس کی بڑائی اور اس کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرتے ہوں گے تو رب تعالیٰ ان پر خصوصی انعامات واکرام کی بارش فرمائے گا ۔
(3) کل بروزِ قیامت انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور شہدائے عظام کو خصوصی مقام ومرتبہ عطا فرمایا جائے گا لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے والوں کو وہ انعام واکرام دیے جائیں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے ۔
(4) خالص رضائے الٰہی کے لئے وہی محبت ہوتی ہے جو ہر قسم کے دُنیوی اَغراض ومقاصد سے پاک ہو ۔
(5) جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک اور متقی پرہیزگار بندے ہیں ، قیامت کے دن جب تمام لوگ خوفزدہ اور غمگین ہوں گے تو انہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم ۔
(6) رضائے الٰہی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے کل بروزِ قیامت چہرے بھی نورانی ہوں گے اور وہ خود بھی نورانی ہوں گے ۔
(7) روز ِقیامت گرمی وتپش اپنی انتہا کوپہنچ چکی ہوگی ، عرشِ الٰہی کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ مخلوق اس دن کی ہولناکی سے دوچار ہوگی مگر بعض خوش نصیبوں کو عرش کے سائے میں جگہ ملے گی جہا ں وہ راحت و سکون میں ہوں گے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے جنہیں عرشِ الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا ، کل بروزِ قیامت جنہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 377