Main Icon

اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 380

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ . ( )

عن البراء بن عازب رضي الله عنهما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم انه قال فی الانصار : لا يحبهم الا مؤمن ولا يبغضهم الا منافق من احبهم احبه الله ومن ابغضهم ابغضه الله . ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن عازبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :( 1 ) مذکورہ حدیث پاک میں انصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت کرنے کا بیان ہے اور یہ باب بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے کا ہے ، اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 2 ) مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ انصار سے فقط مؤمن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور مؤمنین کی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے لیے ہے اور یہ باب بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے کا ہے ، اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 3 ) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانوہ کامل مؤمنین ہیں جن کی بدولت آج ہم سب مؤمن ہیں ، ہم حقیقی مؤمن اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت نہ کریں ، گویا اِس حدیث پاک میں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی محبت کو اِیمان کی نشانی اور علامت فرمایا گیا ہے اور اُن کی محبت کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ یہ باب بھی رِضائے الٰہی کے لیے محبت ، اُس کی ترغیب دلانے اور اُس کی علامات وغیرہ کے بارے میں ہے ، اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

¥
اَنصار ومہاجرین صحابہ کرام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر جن مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی انہیں ’’مہاجرین ‘‘ کہا جاتا ہے اور مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں ’’انصار ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی فضیلت ، ان سب سے اپنی رضامندی اور اعلیٰ انعام واکرام کو اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں خود بیان فرمایا ہے :وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)(پ۱۱ ،التوبۃ:۱۰۰ )ترجمۂ کنزالایمان: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اورجو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ( پیروی کرنے والے ) ہوئےاللہان سے راضی اور وہاللہسے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں ، یہی بڑی کامیابی ہے ۔
حدیثِ مذکورمیں اَنصار کی محبت کوایمان کی علامت اور اُن سے بغض کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّان سے محبت کرنے والوں کو پسند فرماتا اور اُن کے معاندین کوناپسند فرماتا ہے ۔ انصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے و ہی محبت کرے گا جو کامل مؤمن ہوگا اور ان سے بغض و ہی رکھے گا جو اعتقادی یا عملی منافق ہو گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی محبت عطا فرمائے ۔ آمین
¥
اَنصار کے اَوصاف حمیدہ :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اَنصار سے محبت کے متعلق احادیث کی جو شرح فرمائی ہے اس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے : ’’اَنصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبہت سی خوبیوں کے حامل ہیں ۔ مثلاًانصار نے دین اسلام کی مدد ونصرت کی ، دین اِسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی ، مہاجرین صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکواپنے پاس عزت واِحترام سے ٹھہرایا ، اِسلام کی خاطرجانی و مالی قربانی دی ، اَنصار حضور نبی کریم رؤوف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ محبت کرتے تھے اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اُن سے محبت فرمایا کرتے تھے ، انصار بارگاہِ رسالت میں اپنے اَموال اور قیمتی جانور پیش کیا کرتے

تھے ، انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی مول لی وغیرہ وغیرہ ۔ اِن تمام اَوصاف حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ اُن سے محبت کو اِیمان کی علامت اور اُن سے بغض کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا ۔ ‘‘ ( )
¥
اَنصار کے فضائل پر اَحادیث مبارکہ :حضور نبی اکرم ، شہنشاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوانصار سے بہت محبت تھی ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی خوشی پر خوش ہوتے ، لوگوں کے سامنے ان سے محبت کا اظہار فرماتے ، ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے تھے ۔ اِس ضمن تین اَحادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) حضرت سیدنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ بچوں اورعورتوں کوایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ’’الٰہی تو جانتا ہے ، اے انصار ! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو ۔ الٰہی تو جانتا ہے ، اے انصار ! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو ۔ ‘‘ ( ) ( 2 ) دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں اَنصار کا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور اَنصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں ۔ ‘‘ ( ) (3 ) حضرت سیدناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ایمان کی نشانی اَنصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی اَنصار سے بغض ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’مُرْسَلِیْن ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1) جو انصا ر صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ناپسند فرماتاہے ۔
(2) انصا رصحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوحضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ عشق تھا ۔
(3) حضور نبی پاک
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اَنصار سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے ۔
(4) دِین اِسلام کی خدمت اور اُس کی اِشاعت میں اَنصا ر صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا بہت بڑ ا حصہ ہے ۔
(5) اَنصا ر صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت اِیمان کی علامت اور اُن سے بغض منافقت کی علامت ہے ۔
(6) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانایک دوسرے سے محبت فرماتے ، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اور اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر دل وجان سےلَبَّیْککہتے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا ادب واحترام نصیب فرمائے ، ان کی محبت نصیب فرمائے ، ان کی شان بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 380