- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 380
اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 380
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ . ( )
عن البراء بن عازب رضي الله عنهما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم انه قال فی الانصار : لا يحبهم الا مؤمن ولا يبغضهم الا منافق من احبهم احبه الله ومن ابغضهم ابغضه الله . ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن عازبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کی باب سے مناسبت :( 1 ) مذکورہ حدیث پاک میں انصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت کرنے کا بیان ہے اور یہ باب بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے کا ہے ، اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 2 ) مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ انصار سے فقط مؤمن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور مؤمنین کی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے لیے ہے اور یہ باب بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے کا ہے ، اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 3 ) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانوہ کامل مؤمنین ہیں جن کی بدولت آج ہم سب مؤمن ہیں ، ہم حقیقی مؤمن اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت نہ کریں ، گویا اِس حدیث پاک میں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی محبت کو اِیمان کی نشانی اور علامت فرمایا گیا ہے اور اُن کی محبت کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ یہ باب بھی رِضائے الٰہی کے لیے محبت ، اُس کی ترغیب دلانے اور اُس کی علامات وغیرہ کے بارے میں ہے ، اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥اَنصار ومہاجرین صحابہ کرام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر جن مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی انہیں ’’مہاجرین ‘‘ کہا جاتا ہے اور مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں ’’انصار ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی فضیلت ، ان سب سے اپنی رضامندی اور اعلیٰ انعام واکرام کو اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں خود بیان فرمایا ہے :وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)(پ۱۱ ،التوبۃ:۱۰۰ )ترجمۂ کنزالایمان: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اورجو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ( پیروی کرنے والے ) ہوئےاللہان سے راضی اور وہاللہسے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں ، یہی بڑی کامیابی ہے ۔
حدیثِ مذکورمیں اَنصار کی محبت کوایمان کی علامت اور اُن سے بغض کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّان سے محبت کرنے والوں کو پسند فرماتا اور اُن کے معاندین کوناپسند فرماتا ہے ۔ انصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے و ہی محبت کرے گا جو کامل مؤمن ہوگا اور ان سے بغض و ہی رکھے گا جو اعتقادی یا عملی منافق ہو گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی محبت عطا فرمائے ۔ آمین
¥اَنصار کے اَوصاف حمیدہ :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اَنصار سے محبت کے متعلق احادیث کی جو شرح فرمائی ہے اس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے : ’’اَنصار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبہت سی خوبیوں کے حامل ہیں ۔ مثلاًانصار نے دین اسلام کی مدد ونصرت کی ، دین اِسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی ، مہاجرین صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکواپنے پاس عزت واِحترام سے ٹھہرایا ، اِسلام کی خاطرجانی و مالی قربانی دی ، اَنصار حضور نبی کریم رؤوف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ محبت کرتے تھے اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اُن سے محبت فرمایا کرتے تھے ، انصار بارگاہِ رسالت میں اپنے اَموال اور قیمتی جانور پیش کیا کرتے
تھے ، انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی مول لی وغیرہ وغیرہ ۔ اِن تمام اَوصاف حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ اُن سے محبت کو اِیمان کی علامت اور اُن سے بغض کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا ۔ ‘‘ ( )
¥اَنصار کے فضائل پر اَحادیث مبارکہ :حضور نبی اکرم ، شہنشاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوانصار سے بہت محبت تھی ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی خوشی پر خوش ہوتے ، لوگوں کے سامنے ان سے محبت کا اظہار فرماتے ، ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے تھے ۔ اِس ضمن تین اَحادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) حضرت سیدنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ بچوں اورعورتوں کوایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ’’الٰہی تو جانتا ہے ، اے انصار ! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو ۔ الٰہی تو جانتا ہے ، اے انصار ! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو ۔ ‘‘ ( ) ( 2 ) دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں اَنصار کا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور اَنصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں ۔ ‘‘ ( ) (3 ) حضرت سیدناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ایمان کی نشانی اَنصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی اَنصار سے بغض ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’مُرْسَلِیْن ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) جو انصا ر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ناپسند فرماتاہے ۔
(2) انصا رصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوحضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ عشق تھا ۔
(3) حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اَنصار سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے ۔
(4) دِین اِسلام کی خدمت اور اُس کی اِشاعت میں اَنصا ر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا بہت بڑ ا حصہ ہے ۔
(5) اَنصا ر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت اِیمان کی علامت اور اُن سے بغض منافقت کی علامت ہے ۔
(6) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانایک دوسرے سے محبت فرماتے ، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اور اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر دل وجان سےلَبَّیْککہتے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا ادب واحترام نصیب فرمائے ، ان کی محبت نصیب فرمائے ، ان کی شان بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 380