- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 378
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتّٰى تُؤْمِنُوا وَلا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوااَوَ لَا اَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟اَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ. ( )
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : والذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوااو لا ادلكم على شيء اذا فعلتموه تحاببتم ؟افشوا السلام بينكم. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے ! تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ ، اور تم مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو اور کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جسے بجا لاؤ توآپس میں محبت پیدا ہوجائے ؟اپنے درمیان سلام کو عام کرو ۔ ‘‘
شرح حدیث
مؤمن ہی جنت میں داخل ہوں گے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ جنتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی وہ نعمت ہے جو اس نے فقط مؤمنوں کے لیے بنائی ہے ۔ اس میں فقط مؤمنین ہی داخل ہوں گے ، کافروں پر جنت حرام ہے ، بعض مؤمنین تو اَوّلاًکہ ان پر رب تعالیٰ کا کرم ہوگا اور وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور بعض وہ کہ اپنے اعمال کی سزا پانے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے ۔ کوئی کافر جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا ۔ یہاں حدیث پاک میں بھی جنت میں داخلے کے لیے اصل ایمان کو مشروط فرمایا گیا ہے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک ایمان نہ لے آئے کیونکہ جنت کافروں پر حرام ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : (α اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ(۵۰)) (پ۸ ،الاعراف:۵۰ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے شکاللہنے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے ۔ ‘‘ ( ) تمام شارحین نے اسی
بات کی تصریح فرمائی ہے کہ یہاں جنت میں داخلہ مطلق ایمان پر موقوف فرمایا گیا ہے ۔
¥کامل مؤمن نہیں ہوسکتے :حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ تم اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو ۔ یہاں کامل مؤمن ہونے کی نفی ہے ۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کئے بغیر نہ ہی تمہارا ایمان کامل ہو سکتا ہے اور نہ تمہاری ایمانی حالت درست ہوسکتی ہے ۔ ‘‘ ( ) چنانچہعَلَّامَہ عَبْدُ الرَّحْمٰن جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِي عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہاں کمالِ ایمان کی نفی ہے ۔ یعنی تم اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو ۔ ‘‘ ( ) تقریباً تمام شارِحین نے اسی بات کی تصریح فرمائی ہے کہ یہاں ایمان کامل کی نفی ہے ۔
¥اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت کو کمال ایمان کی نشانی بیان فرمایا گیا ہے ۔ واقعی کامل مؤمن اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کرنے والا ہوتاہے ، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو الفت ومحبت کا درس دیا ہے ، اسلام میں کسی بھی مسلمان سے ، اس کی آل اولاد ، اس کے رشتہ داروں ، دوستوں یا دیگر متعلقین سے بلاوجہ شرعی نفرت کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ۔ مسلمانوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت ہی اُن کے درمیان بھائی چارے کو فروغ کا سبب ہے ، باہمی الفت ومحبت بڑی بڑی معاشرتی اچھائیوں کو فروغ دینے اور بڑے بڑے گناہوں کے خاتمے میں ایک بہترین معاون کا کردار ادا کرتی ہے ۔ جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں توہ ایک دوسرے کی غیبت ، چغلی ، بہتان ، تہمت ، بغض اور حسد جیسی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں ، جبکہ آپس میں نفرت اور دشمنی ان سب باطنی بیماریوں کو پیدا کرتی اور پھیلاتی ہے ۔ الغرض مؤمن کامل کی صفت الفت ومحبت
ہے ، بغض ونفرت نہیں ۔ دیگر احادیث مبارکہ میں بھی مؤمن کی اس صفت محبت کو بیان فرمایا گیا ہے ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’مؤمن محبت کرتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو شخص نہ خود محبت کرے اور نہ اس سے محبت کی جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥محبت مسلمین سے متعلق مختلف اَقوال :دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلد۲ ، ص۵۷۹ تا۵۸۲سے مسلمانوں سے محبت کے متعلق چند اقوالِ بزرگانِ دِین پیش خدمت ہیں :
( 1 ) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! اگر میں دن میں روزہ رکھوں اور افطار نہ کروں ، رات بھر بغیر سوئے قیام کروں اور وقفے وقفے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں مال خرچ کرتا رہوں لیکن جس دن مروں اس دن میرے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کی محبت اور اس کے نافرمانوں سے عداوت نہ ہوتو یہ تمام چیزیں مجھے کچھ نفع نہ دیں گی ۔ ‘‘ ( 2 ) حضرت سَیِّدُنَا ابن سماکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے وفات کے وقت فرمایا : ’’اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو جانتا ہے اگرچہ میں تیری نافرمانی کیا کرتا تھا لیکن تیرے فرمانبرداروں سے محبت بھی کرتا تھا ، میرے اسی عمل کے سبب مجھے اپنا قُرب عطا فرما دے ۔ ‘‘ ( 3 ) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’اگر کوئی شخص رکن اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے ہو کر ستر70سال عبادت کرے پھر بھی قیامت کے دناللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اسی کے ساتھ اٹھائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا ۔ ‘‘ ( 4 ) حضرت سَیِّدُنَا مجاہدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر آپس میں محبت کرنے والے جب ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں تو ان کی خطائیں ایسی مٹتی ہیں جیسے سردیوں میں درختوں کے خشک پتے جھڑ جاتے ہیں ۔ ‘‘ ( 5 ) حضرت سَیِّدُنَا فضیل بن عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’انسان کا محبت ومہربانی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائی کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے ۔ ‘‘
¥اپنے درمیان سلام کو عام کرو :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے باہمی محبت کو پیدا کرنے کا ایک بہترین نسخہ عطا فرمایا ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرو ۔ اس فرما نِ عالی میں سلام عام کرنے کی بہت زیادہ ترغیب ہے ، تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ سلام کو عام کریں ، ہر شخص کو سلام کریں چاہے اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔ کسی کے دل میں محبت داخل کرنے کا سب سے پہلاسبب سلام ہے ۔ جب کوئی شخص دوسرے کو سلام کرتا ہے تو فطری طور پر اس کے دل میں سلام کرنے والے کی محبت پیدا ہوجاتی ہے ، کیونکہ سلام کرنا دراصل اگلے شخص کو اس کی جان ، مال ، عزت وآبرو کی سلامتی کی دعا اور ضمانت ہے ۔ سلام حصولِ محبت کی چابی ہے ۔ ذاتی دشمن کو بھی بندہ جب سلام کرتا ہے تو اس کا دل بھی نرمی کی جانب مائل ہو جاتاہے ۔ سلام مسلمانوں کا ایسا شعار ہے جس کا اظہار ا ُنہیں دیگر قوموں سے ممتاز کر دیتا ہے ۔ سلام میں ریاضت ِنفس ، عاجزی اور مسلما نوں کی حرمات کی تعظیم ہے ۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے منقول ہے کہ جس میں یہ تین باتیں جمع ہوجائیں وہ ایمان کو جمع کرلیتا ہے : ( 1 ) اپنے نفس کے ساتھ انصاف کرنا ( 2 ) سلام عام کرنااور ( 3 ) تنگی کی حالت میں خرچ کرنا ۔ سلام کی وجہ سے قطع تعلقی ، کینہ وفساد سے حفاطت رہتی ہے اوریہ لازم ہے کہ سلام صرف اور صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہو کسی نفسانی خواہش کی وجہ سے نہ ہو اور یہ بھی نہ ہو کہ سلام صرف اپنے دوست احباب ہی سے کرے بقیہ کو چھوڑ دے بلکہ بِلا امتیاز ہر مسلمان بھائی کو سلام کرے ۔ ‘‘ ( )سلام کرنے کی سنتیں اور آداب :میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو ! سلا م کر نا ہمارے پیا ر ے آقا ، تا جدا ر مد ینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیار ی سنت ہے ، بدقسمتی سے آ ج کل یہ سنت بھی ختم ہو تی نظر آرہی ہے ۔ ہمارے مسلمان بھائی
جب آپس میں ملتے ہیں تواَلسَّلَا مُ عَلَیْکُمْسے ابتدا کرنے کے بجائے ’’آداب عرض ، کیا حال ہے ؟ مزاج شریف ، صبح بخیر ، شام بخیر ‘‘ وغیرہ وغیرہ عجیب وغریب کلمات سے ابتدا کرتے ہیں ، یہ خلافِ سنت ہے ۔ رخصت ہوتے وقت بھی ’’خدا حافظ ، گڈبائی ، ٹاٹا ‘‘ وغیرہ کہنے کے بجائے سلام کرنا چاہے ۔ ہاں رخصت ہوتے ہوئےاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکے بعد اگر ’’خدا حافظ ‘‘ کہہ دیں تو حرج نہیں ۔ سلام جیسی پیاری سنت کو عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے آداب سے واقفیت ہو ، چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۲۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’سنتیں اور آداب ‘‘ ص۱۰ سے سلام کرنے کی چند سنتیں اور آداب پیش خدمت ہیں : ( 1 ) سلام کے بہترین الفاظ یہ ہیں : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗیعنی تم پر سلامتی ہو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ ‘‘ ( 2 ) سلا م کے جواب کے بہترین الفا ظ یہ ہیں : ’’وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗیعنی اور تم پر بھی سلامتی ہواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ ‘‘ ( 3 ) عام طو ر پرمعروف یہی ہے کہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ ہی سلام ہے ۔ مگر سلام کے دو سرے بھی بعض صیغے ہیں ۔ مثلاً کوئی آکر صرف کہے ’’سلام ‘‘ تو بھی سلام ہوجاتا ہے اور ’’سلام ‘‘ کے جواب میں’’سلام ‘‘ کہہ دیا ، یا’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ ہی کہہ دیا ، یا صرف ’’وَعَلَیْکُمْ‘‘ کہہ دیا تو بھی جواب ہوگیا ۔ ‘‘ ( 4 ) ہرمسلمان کو سلام کرنا چاہیے خواہ ہم اسے جانتے ہو ں یا نہ جانتے ہوں ۔ ہوسکے تو جب بس میں سوار ہوں ، کسی اسپتال میں جانا پڑجائے ، کسی ہوٹل میں داخل ہوں جہاں لوگ فارغ بیٹھے ہوں ، جہاں جہاں مسلمان اکٹھے ہوں ، سلام کردیا کریں ۔ یہ دو الفاظ زبان پر بہت ہی ہلکے ہیں ، مگر ان کے فوائد وثمرات بہت ہی زیادہ ہیں ۔ ( 5 ) بات چیت شروع کرنے سے پہلے ہی سلام کرنے کی عادت بنانی چاہیے ۔ ( 6 ) جب کوئی کسی کا سلام لائے تو اس طر ح جواب دیں ’’عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَامیعنی تجھ پر بھی اور اس پر بھی سلام ہو ۔ ‘‘ ( 7 ) جب گھر میں داخل ہوں تو گھر والوں کوسلام کیا کریں اس سے گھرمیں برکت ہوتی ہے اور اگر خالی گھر میں داخل ہوں تو ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ‘‘ کہیں یعنی اے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پرسلام ہو ۔ ‘‘ گھر میں جب داخل ہوں اس وقت بھی سلام کریں اور جب رخصت ہونے لگیں ، اس وقت بھی سلام کریں ۔ ( 8 ) اگر کچھ لوگ جمع ہیں ایک نے آکراَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہا ۔ تو کسی ایک کا جواب دے دینا کافی ہے ۔ اگر ایک نے
بھی نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے ۔ ( 9 )اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہنے سے دس نیکیاں ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَۃُ اللہْکہنے سے بیس نیکیاں جبکہاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہکہنے سے تیس نیکیا ں ملتی ہیں ۔ ( 10 ) سلام کا فوراً جواب دینا واجب ہے ۔ اگر بلا عذر تا خیر کی تو گناہ گارہوگا اور صرف جواب دینے سے گناہ معاف نہیں ہوگا ، تو بہ بھی کرنا ہوگی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی سلام جیسی پیاری سنت کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’سلام کرو ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)جنتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت ہی پیاری نعمت ہے جو اس نے تمام مسلمانوں کے لیے تیار فرمائی ہے ، جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے ، کافروں پر جنت حرام ہے ۔
(2) اسلام ہمیں الفت ومحبت کا درس دیتا ہے ، اور بندہ اس وقت تک کامل مؤمن نہیں بن سکتا جب تک وہ دوسرے مسلمان بھائیوں سے محبت نہ کرے ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے جو محبت کی جائے وہی محمود یعنی قابل تعریف ہے ۔
(4) سلام کرنا آپس میں الفت ومحبت پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔
(5) سلام حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت ہی پیاری سنت ہے ۔
(6) سلام کی وجہ سے محبتیں بڑہتیں اور نفرتیں ختم ہوتی ہیں ۔
(7) واقف وناواقف سب کو سلام کرنا چاہیے البتہ جنہیں شریعت نے منع کیا ہے انہیں سلام نہ کیا جائے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور ہمیں سلام جیسی پیاری سنت کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 378