- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 383
اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 383
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي كَرِيمَةَ الْمِقْدادِ بِنِ مَعْدِ يْكَرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَحَبَّ الرَّجُلُ اَخَاهُ فَليُخْبِرْهُ اَنَّهُ يُحِبُّهُ. ( )
عن ابي كريمة المقداد بن معد يكرب رضي الله عنه عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال : اذا احب الرجل اخاه فليخبره انه يحبه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدناابو کریمہ مِقداد بن مَعْدِیْکَرِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
محبت بڑھانے کا زبردست نسخہ :مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ ’’جب کوئی اپنے مسلمان بھائی سے رضائے الٰہی کے لئے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ میں تجھ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کی خاطر محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ دراصل یہ محبت بڑھانے کا بہت ہی زبردست نسخہ ہے ، جب ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو رضائے الٰہی کے لیے کی جانے والی اپنی اِس محبت کی اطلاع دے گا تو اِس اِطلاع کا فائدہ یہ ہوگا کہ اُس کے دل میں بھی محبت پیدا
ہوگی ۔ نتیجۃً وہ ایک دوسرے کے لئے دعا کریں گے اور دیگر نیک امور میں بھی ایک دوسرے کے معاون ہوں گے ۔ حضرت سیدنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’حدیث مبارکہ میں بتادینے کا حکم اس لیے فرمایا کیونکہ اِس سے محبت بڑھتی ہے ، اگر کوئی مسلمان بھائی جان لے کہ تم اس سے محبت کرتے ہو تو یقیناً وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور جب تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ بھی تم سے محبت کرتا ہے تو لازماً تمہاری محبت میں اضافہ ہوگا ، اس طرح محبت جانبَین سے بڑھتی رہے گی ۔ مسلمانوں کا آپس میں پیارومحبت کرنا شریعت کو مطلوب ومحبوب ہے اسی لیے اس کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’آپس میں تحفہ دو محبت بڑھے گی ۔ ‘‘ ( )
¥اطلاع دینے میں احتیاطی تدابیر :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ حدیث مذکور میں اپنے بھائی کو اپنی محبت کی اطلاع دینے کا حکم اور فائدہ تب ہی ہے جبکہ واقعی میں اُس سے محبت کرتا ہوں ، اگر محبت نہیں کرتا اور اسے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں تو یقیناً یہ جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ اسی طرح اپنے بھائی سے محبت کا اظہار خوشامد یعنی جھوٹی تعریف کے طور پر بھی نہ ہو کہ اس کی بھی شرعاً ممانعت ہے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یہ خبر دینا خوشامد کے لیے جھوٹ بولنے کے طریقہ سے نہ ہو بلکہ اس حدیث پر عمل کرنے کے لیے ہو ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہاِنْ شآءَ اللہاسے بھی اس سے محبت ہوجاوے گی ۔ اور پھر یہ دو طرفہ محبت بہت پختہ ہوگی یا وہ اس کے لیے دعا کرے گایہ عمل بہت ہی مُجَرَّب ہے ، محبت کی خبر دینے سے محبت پیدا ہوتی ہے جبكہ اِخلاص سے ہو اور محضاللہکے لیے ہو دنیاوی لالچ سے نہ ہو ۔ ‘‘ ( )
¥محبت بڑھانے کے مزید نسخے :دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۳صفحات پرمشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘
جلد دوم ، صفحہ ۶۵۵پر ہے : ” خلیفہ دوم امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : تین باتیں ایسی ہیں جنہیں اپنانے سے تمہارے دل میں مسلمان بھائی کی محبت بڑھے گی : ( 1 ) جب اس سے ملاقات کرو تو سلام میں پہل کرو ۔ ( 2 ) اس کے لیے مجلس کشادہ کرو اور ( 3 ) اسے پسندیدہ نام سے پکارو ۔ ‘‘ زبان کے اعتبار سے دوست کے حقوق یہ بھی ہیں کہ اسے جس شخص کے سامنے اپنی تعریف پسند ہو اس کے سامنے اس کی وہ تمام خوبیاں بیان کرو جو تمہیں معلوم ہیں ۔ محبت بڑھانے کا یہ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ اسی طرح اس کے اہل وعیال ، ہنر ، افعال حتّٰی کہ اس کی عقل ، اخلاق ، شکل وصورت ، تحریر ، اشعار ، تصنیفات اور اس کی ہر اس چیز کی تعریف کرنی چاہیے جس سے وہ خوش ہوتا ہے لیکن یہ سب جھوٹ اور مبالغہ کے بغیر ہو ، ہاں اس کی جو خوبی لائق تحسین ہو اسے ضرور بیان کیا جائے ۔ اس سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ جو اس کی تعریف کرے تم بخوشی اسے اس کے سامنے بیان کرو کیونکہ تعریف چھپانا خالِص حسد ہے ۔ مزید یہ کہ اگر وہ تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے یا بھلائی کا ارادہ ہی کرے تو بھی اس کا شکریہ ادا کرو اگرچہ کام مکمل نہ ہو ۔ چنانچہ خلیفہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا : ’’جو اچھا ارادہ کرنے پر اپنے مسلمان بھائی کی تعریف نہیں کرتا وہ اس کے اچھے کام پر بھی اس کی تعریف نہیں کرتا ۔ ‘‘
¥دوست کی محبت بڑھانے کا اہم ذریعہ :دوست کی محبت بڑھانے میں یہ بات سب سے اہم ہے کہ اُس کی عدم موجودگی میں جب کوئی اس کی برائی بیان کرے یا صراحتاً یا اشارتاً اس کی عزت کے درپے ہوتو اس کا دفاع کیا جائے ، اپنے دوست کی مدد وحمایت کے لیے کمربستہ ہوجائے ۔ اس بدگو کو خاموش کرادیا جائے اور اس سے سخت کلام کیا جائے ۔ ایسے وقت میں خاموش رہنا سینے میں کینہ اور دل میں نفرت پیدا کرتا ہے اور بھائی چارے کے حق میں کوتاہی ہے کیونکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو مسلمانوں کو دو ہاتھوں کے ساتھ اس وجہ سے تشبیہ دی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو دھوتا ہے لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے اور اس کا قائم مقام بنے ۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’مسلمان ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمت پر کمالِ شفیق اور مہربان ہیں ، آپ جب ا پنے کسی اُمتی کے لئے کوئی فائدہ مند چیز دیکھتے تو فوراً اُس کی طرف رہنمائی فرما دیا کرتے تھے ۔
(2) جب کوئی اپنے مسلمان بھائی سے رضائے الٰہی کے لئے محبت کرے تو چاہیے کہ اسے بتا دے کہ میں آپ سے رضائے ا لٰہی کے لئے محبت کرتا ہوں کہ ا س سے اس کے دل میں بھی محبت پیدا ہوجائے گی نیز مشکل وقت میں دونوں ایک دوسرے کے معاون بنیں گے ۔
(3) ایک دوسرے کے لئے دعا کرنے سے بھی محبت میں اضافہ ہوتاہے ۔
(4) اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرنا ، اس کے حق میں دعا کرنا ، اس کے لیے مجلس میں جگہ کشادہ کرنا ، اسے پسندیدہ نام سے پکارنااور اس کی خوبیوں کو بیان کرنا یہ تمام امور محبت میں اضافے کا باعث ہیں ۔
(5) اپنے مسلمان بھائی کی بُرائی سن کر اس کا دفاع کرنا بھی محبت بڑھانے کا ایک بہترین نسخہ ہے ، ایسے موقع پر خاموش رہنے سے دل میں کینہ اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔
(6) اپنے مسلمان بھائی سے محبت بڑھانے کے تمام طریقوں میں اس بات کو ضرور ملحوظِ خاطررکھے کہ نہ تو اس میں جھوٹ ہو اور نہ ہی ناجائز مبالغہ ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سے رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 383