Main Icon

اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 383

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي كَرِيمَةَ الْمِقْدادِ بِنِ مَعْدِ يْكَرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَحَبَّ الرَّجُلُ اَخَاهُ فَليُخْبِرْهُ اَنَّهُ يُحِبُّهُ. ( )

عن ابي كريمة المقداد بن معد يكرب رضي الله عنه عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال : اذا احب الرجل اخاه فليخبره انه يحبه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سیدناابو کریمہ مِقداد بن مَعْدِیْکَرِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

محبت بڑھانے کا زبردست نسخہ :مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ ’’جب کوئی اپنے مسلمان بھائی سے رضائے الٰہی کے لئے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ میں تجھ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کی خاطر محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ دراصل یہ محبت بڑھانے کا بہت ہی زبردست نسخہ ہے ، جب ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو رضائے الٰہی کے لیے کی جانے والی اپنی اِس محبت کی اطلاع دے گا تو اِس اِطلاع کا فائدہ یہ ہوگا کہ اُس کے دل میں بھی محبت پیدا

ہوگی ۔ نتیجۃً وہ ایک دوسرے کے لئے دعا کریں گے اور دیگر نیک امور میں بھی ایک دوسرے کے معاون ہوں گے ۔ حضرت سیدنا امام محمد غزالی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’حدیث مبارکہ میں بتادینے کا حکم اس لیے فرمایا کیونکہ اِس سے محبت بڑھتی ہے ، اگر کوئی مسلمان بھائی جان لے کہ تم اس سے محبت کرتے ہو تو یقیناً وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور جب تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ بھی تم سے محبت کرتا ہے تو لازماً تمہاری محبت میں اضافہ ہوگا ، اس طرح محبت جانبَین سے بڑھتی رہے گی ۔ مسلمانوں کا آپس میں پیارومحبت کرنا شریعت کو مطلوب ومحبوب ہے اسی لیے اس کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ چنانچہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’آپس میں تحفہ دو محبت بڑھے گی ۔ ‘‘ ( )
¥
اطلاع دینے میں احتیاطی تدابیر :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ حدیث مذکور میں اپنے بھائی کو اپنی محبت کی اطلاع دینے کا حکم اور فائدہ تب ہی ہے جبکہ واقعی میں اُس سے محبت کرتا ہوں ، اگر محبت نہیں کرتا اور اسے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں تو یقیناً یہ جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ اسی طرح اپنے بھائی سے محبت کا اظہار خوشامد یعنی جھوٹی تعریف کے طور پر بھی نہ ہو کہ اس کی بھی شرعاً ممانعت ہے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یہ خبر دینا خوشامد کے لیے جھوٹ بولنے کے طریقہ سے نہ ہو بلکہ اس حدیث پر عمل کرنے کے لیے ہو ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہاِنْ شآءَ اللہاسے بھی اس سے محبت ہوجاوے گی ۔ اور پھر یہ دو طرفہ محبت بہت پختہ ہوگی یا وہ اس کے لیے دعا کرے گایہ عمل بہت ہی مُجَرَّب ہے ، محبت کی خبر دینے سے محبت پیدا ہوتی ہے جبكہ اِخلاص سے ہو اور محضاللہکے لیے ہو دنیاوی لالچ سے نہ ہو ۔ ‘‘ ( )
¥
محبت بڑھانے کے مزید نسخے :دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۳صفحات پرمشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘

جلد دوم ، صفحہ ۶۵۵پر ہے : ” خلیفہ دوم امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : تین باتیں ایسی ہیں جنہیں اپنانے سے تمہارے دل میں مسلمان بھائی کی محبت بڑھے گی : ( 1 ) جب اس سے ملاقات کرو تو سلام میں پہل کرو ۔ ( 2 ) اس کے لیے مجلس کشادہ کرو اور ( 3 ) اسے پسندیدہ نام سے پکارو ۔ ‘‘ زبان کے اعتبار سے دوست کے حقوق یہ بھی ہیں کہ اسے جس شخص کے سامنے اپنی تعریف پسند ہو اس کے سامنے اس کی وہ تمام خوبیاں بیان کرو جو تمہیں معلوم ہیں ۔ محبت بڑھانے کا یہ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ اسی طرح اس کے اہل وعیال ، ہنر ، افعال حتّٰی کہ اس کی عقل ، اخلاق ، شکل وصورت ، تحریر ، اشعار ، تصنیفات اور اس کی ہر اس چیز کی تعریف کرنی چاہیے جس سے وہ خوش ہوتا ہے لیکن یہ سب جھوٹ اور مبالغہ کے بغیر ہو ، ہاں اس کی جو خوبی لائق تحسین ہو اسے ضرور بیان کیا جائے ۔ اس سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ جو اس کی تعریف کرے تم بخوشی اسے اس کے سامنے بیان کرو کیونکہ تعریف چھپانا خالِص حسد ہے ۔ مزید یہ کہ اگر وہ تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے یا بھلائی کا ارادہ ہی کرے تو بھی اس کا شکریہ ادا کرو اگرچہ کام مکمل نہ ہو ۔ چنانچہ خلیفہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا : ’’جو اچھا ارادہ کرنے پر اپنے مسلمان بھائی کی تعریف نہیں کرتا وہ اس کے اچھے کام پر بھی اس کی تعریف نہیں کرتا ۔ ‘‘
¥
دوست کی محبت بڑھانے کا اہم ذریعہ :دوست کی محبت بڑھانے میں یہ بات سب سے اہم ہے کہ اُس کی عدم موجودگی میں جب کوئی اس کی برائی بیان کرے یا صراحتاً یا اشارتاً اس کی عزت کے درپے ہوتو اس کا دفاع کیا جائے ، اپنے دوست کی مدد وحمایت کے لیے کمربستہ ہوجائے ۔ اس بدگو کو خاموش کرادیا جائے اور اس سے سخت کلام کیا جائے ۔ ایسے وقت میں خاموش رہنا سینے میں کینہ اور دل میں نفرت پیدا کرتا ہے اور بھائی چارے کے حق میں کوتاہی ہے کیونکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو مسلمانوں کو دو ہاتھوں کے ساتھ اس وجہ سے تشبیہ دی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو دھوتا ہے لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے اور اس کا قائم مقام بنے ۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’مسلمان ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمت پر کمالِ شفیق اور مہربان ہیں ، آپ جب ا پنے کسی اُمتی کے لئے کوئی فائدہ مند چیز دیکھتے تو فوراً اُس کی طرف رہنمائی فرما دیا کرتے تھے ۔
(2) جب کوئی اپنے مسلمان بھائی سے رضائے الٰہی کے لئے محبت کرے تو چاہیے کہ اسے بتا دے کہ میں آپ سے رضائے ا لٰہی کے لئے محبت کرتا ہوں کہ ا س سے اس کے دل میں بھی محبت پیدا ہوجائے گی نیز مشکل وقت میں دونوں ایک دوسرے کے معاون بنیں گے ۔
(3) ایک دوسرے کے لئے دعا کرنے سے بھی محبت میں اضافہ ہوتاہے ۔
(4) اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرنا ، اس کے حق میں دعا کرنا ، اس کے لیے مجلس میں جگہ کشادہ کرنا ، اسے پسندیدہ نام سے پکارنااور اس کی خوبیوں کو بیان کرنا یہ تمام امور محبت میں اضافے کا باعث ہیں ۔
(5) اپنے مسلمان بھائی کی بُرائی سن کر اس کا دفاع کرنا بھی محبت بڑھانے کا ایک بہترین نسخہ ہے ، ایسے موقع پر خاموش رہنے سے دل میں کینہ اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔
(6) اپنے مسلمان بھائی سے محبت بڑھانے کے تمام طریقوں میں اس بات کو ضرور ملحوظِ خاطررکھے کہ نہ تو اس میں جھوٹ ہو اور نہ ہی ناجائز مبالغہ ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سے رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 383