Main Icon

اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 379

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَجُلًا زَارَ اَخًا لَهُ في قَرْيَةٍ اُخْرٰى فَاَرْصَدَ اللهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكاً فَلَمَّا اَ تَى عَلَيهِ قَالَ : اَ يْنَ تُريدُ؟ قَالَ : اُرِيْدُ اَخًا لِیْ في هٰذِهِ القَريَةِ. قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا عَلَيهِ؟ قَالَ : لَا غَيْرَ اَنِّي اَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ تَعَالٰى قَالَ : فَاِنِّي رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكَ بِاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَبَّكَ كَمَا اَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. ( )

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ان رجلا زار اخا له في قرية اخرى فارصد الله له على مدرجته ملكا فلما ا تى عليه قال : ا ين تريد؟ قال : اريد اخا لی في هذه القرية. قال : هل لك عليه من نعمة تربها عليه؟ قال : لا غير اني احببته في الله تعالى قال : فاني رسول الله اليك بان الله قد احبك كما احببته فيه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک شخص اپنے ایک مسلمان بھائی سے ملاقات کے لئے دوسری بستی کی طرف چلا تواللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرمادیا جب وہ اس کے پاس پہنچا تو فرشتے نے پوچھا : ’’کہاں کاا رادہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’اس بستی میں میرا ایک دینی بھائی ہے اس کے پاس جارہاہوں ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’کیا تجھ پر اس کا کوئی احسان ہے جس کابدلہ د ینے جارہے ہو ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’نہیں ، بلکہ میں اس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرشتے نے کہا : ’’بے شک ! میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تیرے لیے یہ پیغام لایا ہوں کہ جس طرح تو اس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرتا ہے ایسے ہیاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی تجھ سے محبت فرماتاہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے جانا :مذکورہ حدیث پاک میں ایسے مسلمان بندے کا ذکر خیر ہے جو اپنے بھائی سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ملاقات کو جاتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے جانا بھی ایک بابرکت اور مبارک عمل ہے ۔ اپنے مسلمان بھائی کی رضائے الہی کی خاطر زیارت یا ملاقات کو جانے والے کے بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ تین فرامین مُصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے اپنے کسی اِسلامی بھائی سے ملنے جاتاہے تو ایک منادی اسے مخاطب کرکے کہتا ہے کہ : خوش ہو جا کیونکہ تیرا یہ چلنا مبارک ہے اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنالیا ہے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’نبی جنت

میں جائے گا ، صدیق جنت میں جائے گا اور وہ شخص بھی جنت میں جائے گا جومحض
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے اپنے کسی بھائی سے ملنے شہر کے مضافات میں جائے ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’جوشخص اپنے مؤمن بھائی سے ملتاہے وہ واپس لوٹنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے اور جو اپنے مؤمن بھائی کی عیادت کرتا ہے وہ واپس لوٹنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
مسلمان بھائی سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے محبت :مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کسی مسلمان بھائی سے محبت کرنے والے شخص کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ واقعی بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرتا ہے ، کسی بھی عمل کے قبول ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کیا جائے ، جو عمل رضائے الٰہی کے لیے نہ ہو وہ عمل مردود ہوجاتا ہے ۔ رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنے والے سے تو جنت بھی خوش ہوتی ہے ۔ چنانچہ حضرتِ سیدنا اَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی پاک ، صاحبِ لَولاک ، سیّاحِ افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جب کوئی اپنے کسی بھائی سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرتاہے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتاہے کہ تونے اچھا کیااور تیرے لیے پاکیزہ جنت ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے عرش کے ملائکہ سے فرماتاہے : ” میرا بندہ میرے لئے لوگوں سے ملتا ہے ، اس کی میزبانی کرنامیرے ذمہ ہے ۔ “ پھراللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے جنت کے علاوہ کسی ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔ ‘‘ ( )کونسی محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہے ؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کسی بھی مسلمان سے محبت کرنے کی فضیلت تو معلوم ہوگئی لیکن کون سی محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ہے اور کون سی محبت رب تعالیٰ کی رضا کے لیے

نہیں ہے ؟ اس کا جاننا بے حد ضروری ورنہ رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنا کیونکر ممکن ہے ؟
حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینے اس کو بالتفصیل بیان فرمایا ہے ۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1393صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلددوم ، ص۵۸۲ تا۶۰۰کا خلاصہ پیش خدمت ہے جس میں محبت کی چار اقسام اور رضائے الٰہی میں داخل محبت کی تفصیل کچھ یوں ہے : ( 1 ) بسااوقات بغیر فائدے کے باطنی طبیعتوں اور پوشیدہ اخلاق میں موافقت و مناسبت کی وجہ سے کسی کی فقط ذات سے محبت کی جاتی ہے ، حسن وجمال کی وجہ سے بھی محبت کرنا بھی اسی قسم میں شامل ہے ، اس قسم کی محبت کے ساتھ اگر کوئی مذموم غرض یعنی برا مقصد مل جائے تو یہ محبت مذموم ہوجاتی ہے ۔ مثلاً کسی حسین وجمیل صورت سے نفسانی خواہشات پوری کرنے کی خاطر محبت کرنا ، یہ مذموم محبت ہے کیونکہ یہ جائز نہیں ہے اور اگر اس محبت کے ساتھ کوئی مذموم غرض نہ ملی ہوتو یہ مباح ہوتی ہے یعنی نہ تو قابل تعریف ہے اور نہ ہی قابل مذمت ۔ ( 2 ) کسی سے دنیوی مقصد کے لیے محبت کرنا ۔ مثلاً سونے چاندی سے جاہ ومرتبہ ، مال یا علم حاصل کرنے کے لیے محبت ، بادشاہ کے دل میں جگہ بنانے یا اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس کے قریبی لوگوں سے محبت ، شاگرد کی اپنے استاد سے حصول علم کے لیے محبت ۔ اگر اس محبت میں مذموم مقاصد کا ارادہ کیا جائے مثلاً ہم عصر لوگوں پر غالب آنا ، یتیموں کا مال کھانا ، قاضی کا عہدہ پاکر رعایا پر ظلم کرنا تو یہ محبت بھی مذموم ہوگی ۔ لیکن اگر اس کے ذریعے جائز مقاصد کا ارادہ کیا جائے تو یہ جائز ہوگی ۔ ( 3 ) کسی سے اخروی مقصد کے لیے محبت کرنا ۔ مثلاً شاگرد کا اپنے استاد سے یا مرید کا اپنے پیر سے اس لیے محبت کرنا کہ ان کے ذریعے وہ علم حاصل کرکے اچھے اعمال کرسکے اور آخرت میں کامیاب ہوسکے تو یہ محبت رضائے الٰہی کے لیے محبت ہے ۔ اسی طرح استاد کا اپنے شاگرد سے اس لیے محبت کرنا کہ یہ شاگرد علم پھیلانے کا ذریعہ ہے جس کے سبب اسے رب تعالی کی بارگاہ میں اسے عزت وعظمت ملتی ہے تو یہ محبت بھی رضائے الٰہی کے زمرے میں شامل ہے ۔ ( 4 ) اگر انسان کسی سے علم وعمل میں اضافے یا کسی اور غرض کے لئے محبت نہ کرے بلکہ خالصتاًاللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرے ۔ تو یہ محبت کا سب سے اعلیٰ ترین ، انتہائی دقیق اور مشکل درجہ ہے لیکن بہرحال ممکن ہے ۔ ( )

¥
رضائے الٰہی میں داخل محبتیں :( 1 ) جوشخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے اپنا مال صدقہ کرے ، اس کا قرب پانے کے لئے مہمانوں کو جمع کرے اور ان کے لئے لذیذ کھانے تیار کرے اور اچھے کھانے بنانے کی وجہ سے ملازم سے محبت کرے تو یہ شخص بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرنے والا شمار ہوگا ، اسی طرح اگر یہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو اس کی طرف سے مستحقین کو صدقہ پہنچاتا ہے تو اس وقت بھی یہ رضائے الٰہی کے لئے محبت کرنے والا شمارہوگا ۔ ( 2 ) اگر کوئی مالدار اپنے کپڑے دھونے والے ، گھر کی صفائی کرنے والے اور کھانا پکانے والے ( ملازمین ) سے محبت کرتا ہے جن کی بدولت اسے علم وعمل کے لئے وقت مل جاتا ہے اور یہ کام کروانے کا مقصد خود کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں مشغول رکھنا ہو تو یہ شخص بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرنے والوں میں شمار ہو گا ۔ ( 3 ) اگر کوئی مالدار اس شخص سے محبت کرے جس پر اپنا مال خرچ کرتا ہے ، اسے لباس ، کھانا ، رہائش اور دنیا کی تمام ضروری اشیاء فراہم کرتا ہے اور اس کا مقصد اس مستحق کو علم وعمل حاصل کرنے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکا قرب پانے کے لئے فارغ کرنا ہو تویہ بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرنے والوں میں شمار ہوگا ۔ اَسلاف کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا ایک گروہ ایسا تھا جن کی کفالت مالدار کیا کرتے تھے ، لہٰذا دونوں ( یعنی مدد کرنے والے اور جن کی مدد کی گئی )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرنے والے شمار ہوں گے ۔ ( 4 ) بلکہ اگر کوئی شخص کسی نیک عورت سے اس لئے نکاح کرے کہ اس کے ذریعے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکے اور اپنے دین کو بچائے رکھے یا نیک اولاد کے حصول کے لئے نکاح کرے جو اس کے لئے دعا کرے اور اپنی زوجہ سے اس لئے محبت کرے کیونکہ یہ ان دینی مقاصد کے حصول کا آلہ ہے تو یہ شخص بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرنے والا شمار ہوگا ۔ اسی لئے روایات میں اہل وعیال پر خرچ کرنے حتی کہ مرد اگر اپنی زوجہ کو ایک لقمہ کھلائے تو اس کے متعلق بھی بے شمار اجر وثواب بیان کیا گیا ہے ۔ ( 5 ) جوشخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے والا ، اس کی رضا چاہنے والا اور کل قیامت میں اس سے ملاقات کا شوق رکھنے والا مشہور ہو اگر وہغَیْرُاللہسے محبت کرے تو بھی رِضائے الٰہی کے لئے محبت کرنے والا شمار ہوگا کیونکہ وہ اسی شے سے محبت کرے گا جو اس کے نزدیکاللہ عَزَّ وَجَلَّکے قریب کرنے والی اور اس کی رضا کا ذریعہ ہے ۔ ( 6 ) اگر کوئی شخص

اپنے دل میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور دنیا دونوں کی محبتیں جمع کرنا چاہتا ہواور اس مقصد کے لئے کسی ایسے شخص سے محبت کرے جو ان دونوں میں کامیاب ہو تاکہ اس کے ذریعہ یہ بھی دونوں کو برقرار رکھ سکے تو ایسا شخص بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت کرنے والوں میں شمار ہو گا ۔ جیساکہ طبعی طور پر دنیوی راحت اور اُخروی سعادت کا طلب گار شاگرداپنے استاذ سے اس لئے محبت کرے کہ وہ دِین سکھانے کے ساتھ ساتھ مالی تعاون کے ذریعے اس کی دنیاوی ضروریات پوری کرتا ہے تو وہ بھی رِضائے الٰہی کے لئے محبت کرنے والا شمار کیا جاتا ہے ۔حاصل کلام :اِس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ محبت کہ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّاور یومِ آخرت پر ایمان نہ ہوتا تو اس کا تصور بھی نہ ہوتا تو یہ محبت ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت“ شمار کی جائے گی ، اِسی طرح محبت میں زیادتی کا معاملہ ہے کہ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان نہ ہونے پر یہ زیادتی بھی نہ ہوتی تو یہ زیادتی ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے محبت“ شمار ہوتی ۔ حضرت سیِّدُنا ابومحمد احمد بن حسن جَرِیْریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا : ’’ پہلے زمانے میں لوگوں کے باہمی معاملات کا تعلق دِین سے تھا حتی کہ دِین کمزور ہوگیا ، دوسرے زمانے میں لوگ وفا کے ذریعے معاملات کرتے تھے حتی کہ وفا ختم ہوگئی ، تیسرے زمانے میں لوگوں نے مروّت کے ساتھ معاملات کئے حتی کہ مروّت بھی ختم ہوگئی اور اب لالچ وخوف کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت کا معنی :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اپنے بندے سے محبت یہ ہے کہ ربّ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھتا ہے ، اس سے راضی ہو جاتا ہے ، اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اور اس سے مُحبّ والا یعنی محبت کرنے والے جیسا سلوک فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اپنے بندے سے محبت یہ ہے کہ رب تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ،

اسے بھلائی کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اس پر لطف وکرم فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )
کتنا خوش نصیب ہے وہ شخص ۔ ۔ ۔ !واضح رہے کہ دنیا میں اگر کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں بڑے مقام ومرتبے والا شخص اس سے محبت کرتا ہے تو وہ اسے اپنے لیے فخر محسوس کرتا ہے ، اپنے گھروالوں ، والدین اور قریبی دوستوں سے اس کا تذکرہ کرتاہے ، وہ اسے اپنے لیے بہت بڑا اعزاز تصور کرتاہے ، توکتنا خوش نصیب ہے وہ شخص جس سے دنیا وآخرت تمام معزز اور بڑے مقام ومرتبے والے افراد کا خالق ومالکعَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ۔ جس بندے سے رب تعالی خود محبت فرماتا ہے یقیناً ایسا شخص دنیا آخرت میں کامیاب وکامران ہوگیا ، دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں اس کا مقدر بن گئیں ۔ لہذا ہمیں بھی چاہیے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکامحبوب بننے کے لیے ربّ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت کریں ، گناہوں بھری زندگی سے توبہ کریں اور آئندہ کی زندگی کو نیکیوں میں بسر کرنے کی کوشش کریں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’ریاض الصالحین ‘‘ کے 12حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 12مدنی پھول
(1)
جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرتا ہے اس کی احادیث مبارکہ میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بسااوقات اسے اپنی نورانی مخلوق یعنی فرشتوں سے ملاقات کروا دیتا ہے ۔
(3) جو شخص
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی زیارت یا اُس سے ملاقات کے لیے جاتا ہے تواُس کا یہ سفر بہت ہی بابرکت اور مبارک ہوتا ہے ۔

(4) رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی کے پاس جانے والے کا ٹھکانہ جنت ہے ، ایسا شخص واپس آنے تک جنت کے باغات میں ہوتا ہے ۔
(5) اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے بعد جب کوئی شخص رخصت ہوتا ہے تو ایسے شخص کے لیے سترہزار 70000فرشتے اِستغفار کرتے ہیں اور اِس کے لیے قُربِ اِلٰہی کی دعا کرتے ہیں ۔
(6) بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اپنے بھائی سے محبت کرتا ہے ۔
(7) رضائے الٰہی کے لیے اپنے بھائی سے محبت کرنے والے سے کہا جاتا ہے : ” تونے اچھا کیااور تیرے لیے پاکیزہ جنت ہے ۔ “
(8) رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے والے شخص کی میزبانی رب تعالیٰ فرماتا ہے اور ا س کے لیے جنت کے علاوہ کسی ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
(9) ہروہ محبت کہ اگر
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور روز ِآخرت پر ایمان نہ ہوتا تو اُس کا تصور بھی نہ ہوتا تو یہ محبتاللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لیے محبت ہے ۔ یہی معاملہ محبت میں زیادتی کا بھی ہے ۔
(10) اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنے کے بہت سے درجے ہیں ، بغیر کسی دُنیوی غرض کے فقط
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرنا اعلیٰ اور بلند ترین درجے کی محبت ہے ۔
(11) رب تعالیٰ کی محبت جیسا عظیم الشان انعام حاصل کرنے کے لیے ہمیں بھی چاہیے کہ گناہوں بھری زندگی سے توبہ کریں اور آئندہ نیکیوں بھری زندگی گزارنے کی کوشش کریں ۔
(12) جب
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اُس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ، اسے بھلائی عطا فرماتا ہے ، اس پر لطف وعنایت کرتا اور رحمت ورضا وخیر عطا فرماتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائیوں سے ملاقات کرنے اور ان سے محبت کرنے توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 379