Main Icon

باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1251

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَومَ عَاشُوْرَاءَ وَاَمَرَ بِصِيَامِهِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صام يوم عاشوراء وامر بصيامه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دس محرم الحرام کا روزہ رکھااور اس کا حکم بھی دیا۔

شرح حدیث

عاشورا کے روزے کا استحباب:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانعاشورہ کے روزے کے متعلق فرماتے ہیں:”پہلے وجوبی حکم دیا اور فرضیت رمضان کے بعد استحبابی۔واقعہ یہ ہوا کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے بعدِ ہجر ت یہودِ مدینہ کو روزہ رکھتے پایا ان سے اس کی وجہ پوچھی وہ بولے کہ اس دن ﷲ تعالیٰ نے موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکو فرعون سے نجات دی کہ اسے غرق کیا،سرکار(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے فرمایا:نَحْنُ اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْبمقابلہ تمہارے موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکا ہم پر زیادہ حق ہے یہ فرماکر عاشورہ کا روزہ مسلمانوں پر فرض کردیا،پھر روزہ رمضان سے اس کی فرضیت تو منسوخ ہوگئی مگر حضور (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)استحبابًا خودبھی یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ کو بھی حکم دیتے رہے۔“تنہاعاشورا کاروزہ رکھنا:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”بعض فقہا نے تنہاعاشورا کا روزہ رکھنا مکروہ قرار دیا ہے اور اکثر فقہا نے کہا ہے کہ مکروہ نہیں کیونکہ یہ فضیلت والےدنوں میں سے ہے۔علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشورا کا روزہ رکھنا سنت ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1251