Main Icon

باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 645

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُنْتُ اَمْشِىْ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِىٌّ غَلِيْظُ الْحَاشِيَةِ فَاَدْرَكَهُ اَعْرَابِىٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيْدَةً فَنَظَرْتُ اِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَقَدْ اَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ! مُرْ لِىْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِى عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ اِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ اَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.

عن انس رضي الله عنه كنت امشى مع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وعليه برد نجرانى غليظ الحاشية فادركه اعرابى فجبذه بردائه جبذة شديدة فنظرت الى صفحة عاتق النبى صلی اللہ علیہ وسلم وقد اثرت بها حاشية الرداء من شدة جبذته ثم قال يا محمد! مر لى من مال الله الذى عندك فالتفت اليه فضحك ثم امر له بعطاء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِيَ اللهُ تَعَالي عَنْهُسے مروی ہےکہ میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جا رہا تھا اور آپ پر موٹے کناروں والی نجرانی چادر تھی۔ایک اعرابی آیا اور اس نے چادر سے پکڑ کر آپ کو زور سےکھینچا، میں نے ديكهاکہ اس اعرابی کے سختی کے ساتھ کھینچنے کی وجہ سے آپ کی گردن پر چادر کے کنارے کا نشان پڑ چکا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّكا جو مال آپ کے پاس ہے میرے لئےاس میں سے حکم فرمادیں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی طرف دیکھا اورمسکرائے پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا ۔

شرح حدیث

رسولِ خدا کے اَخلاقِ عظیمہ:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اَعرابی کا یہ فعل اگر چہ ادب کے خلاف تھا اور قابلِ گرفت تھا لیکن آپ نے مُسامحت (درگزر ) اس لئے فرمائی کہ وہ جاہل اَعرابی آدابِ رِسالت سے نا آشنا تھا اس کی یہ حرکت جفاءِ قلب کا نتیجہ تھا اگر یہی فعل کوئی کرے تو یقیناً کفر ہے، اِس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدِعالَمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَبہت مہربان،حلیم اور کریم تھے اور اَخلاقِ عظیمہ کے حامل تھے۔“( ) مرآۃ المناجیح میں ہے:” غالبًا یہ بدوی (اَعرابی)نومسلم تھا جو ابھی دِین کے مسائل سے پورا واقف بھی نہ تھا اور بات کرنے کا طریقہ بھی نہ جانتا تھا اور تھا بھیمُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْبسے جن کو دِین پر پُختہ کیا جاتا ہے اس لیے حضور ِانور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو صرف نام شریف سے پکارا اور اس پر کوئی گرفت نہیں فرمائی گئی۔وہ یہ کہہ رہا ہے کہ آپ کے پاس فقراء میں تقسیم کرنے کے لیے زکوٰۃ و صدقات کے مال ہیں میں بھی فقیر ہوں مجھے بھی اس میں سے دیجئے۔حضورِ انور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اس کی یہ حرکت دیکھ کر اس کی یہ بات سن کرمسکرائے اور صحابہ کو حکم دیا کہ اسے مالِ زکوٰۃ سے کچھ دے دیں۔اس عطاء سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص کافر یا منافق نہ تھا کہ کفار و منافقین کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔یہاں (صاحبِ)اَشِعَّۃُ اللَّمْعَاتنے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ حُکَّام بادشاہوں اور بڑے لوگوں کو چاہیے کہ رعایا کی سختی پر صبروتحمل سے کام لیا کریں اس صبر کے پھل بہت شیریں ہوتے ہیں۔ “تکلیف واَذِ یَّت پر بہت زیادہ صبر:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اِس حدیث پاک میں حضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قوّتِ حلم اور اس بات پر دلالت ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماَذِیَّت و تکلیف پر بہت صبر کیا کرتے تھےخواہ اس اذیت و تکلیف کا تعلق آپ کے مال کے ساتھ ہو یا جان کے ساتھ اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جن لوگوں کے اسلام لانے کی اُمید ہوتی تو اُن کے سخت رویہ کو برداشت کر لیا کرتےاوراس قوَّتِ حِلم کا مظاہرہ اس لیے فرماتے تاکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد جو حکمران آئیں وہ بھی آپ کے خُلقِ جمیل کی پیروی کریں،در گُزر سے کام لیں اور بُرائی کو اچھےطریقہ سے دور کریں ۔“مدنی گلدستہ’’صبر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) کفارا ور منافقین کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
(2)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حضور نبی پاک صاحبِ لولاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ مبارکہ میں تکالیف برداشت کرنے کی عظیم قوت وصلاحیت رکھی ہے۔
(3) حاکم کو چاہیے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت پر عمل کرتے ہوئے قوم کی طرف سے ملنے والی تکالیف و اَذِیَّتوں پر صبر کرے اور در گُزر سے کام لے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی دوسروں کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 645