Main Icon

باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 646

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ كَاَنِّى اَنْظُرُ اِلَى رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَحْكِى نَبِيًّا مِنَ الاَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللّٰہ وَسَلَامُہُ عَلَیْھِمْ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَاَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُوْلُ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِىْ فَاِنَّهُمْ لَايَعْلَمُونَ.

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ كانى انظر الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يحكى نبيا من الانبياء صلوات اللہ وسلامہ علیھم ضربه قومه فادموه وهو يمسح الدم عن وجهه ويقول اللهم اغفر لقومى فانهم لايعلمون.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِيَ اللهُ تَعَالٰي عَنْهسے روایت ہےکہ گویا میں اب بھی نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف دیکھ رہا ہوں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاممیں سے ایک نبیعَلَیْہِ السَّلاَمکا ذکر فرمایا کہ ان کی قوم نے ان کو مارا اور خون آلود کردیا ۔وہ نبیعَلَیْہِ السَّلاَماپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:”اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میری قوم کو بخش دے وہ نہیں جانتے۔“

شرح حدیث

اللّٰہکے نبی کا صبروعفوودرگزر:اِمام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں:’’معلوم ہواکہ وہ نبی (عَلَیْہِ السَّلَام)حِلم وصبر والے،عفوودرگزر کرنے والے اوراپنی قوم پر بہت شفیق تھے کہ اپنی قوم کے لئے ہدایت کی دعاکرتے تھےاور ان کی طرف سے سرزد ہونے والے جرم کا یہ عُذرپیش کرتے تھے کہ وہ نہیں جانتے ۔‘‘تشدد کرنے والوں کو دعا:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: شاید وہ نبی حضرتِ سَیِّدُنا نوحعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ السَّلَامتھے۔ قوم نے آپ پر تشدد کیا اورآپ کا گلا گھونٹا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوجاتے جب اِفاقہ ہوتاتودعاکرتے:’’اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!میری قوم کو بخش دے کیونکہ یہ لوگ مجھے نہیں جانتے۔“کفار کے لئے دعائے مغفرت کرنا کیسا؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:اُن نبیعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی قوم کےلئے دعا کی:” اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میری قوم کو بخش دے۔“اس کامعنیٰ یہ ہے کہ تو انہیں دنیا میں عذاب نہ دے اور نہ ہی ان کی نسلو ں کو ختم کرکیونکہ یہ بات تومعلوم ہے کفار کے لئے مغفرت طلب کرناکہ ان کے شرک اور کفرکو معاف کر دیا جائے یہ بالاجماع جائز نہیں ہے۔یہ ان نبیعَلَیْہِ السَّلَامکا کمال حِلْم اورحُسنِ اخلاق تھا کہ گناہ ان کی قوم نے کیا اور نبیعَلَیْہِ السَّلَامنےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اُن کا عُذر پیش کیاکہ انہوں نے یہ جرم اس وجہ سے کیا ہے کہ وہاللّٰہاور اس کے رسول کو نہیں جانتے۔“صحابہ کرام کا عشقِ رسول:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانراویٔ حدیث سیدنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے اس قول:’’ گویا میں اب بھی رسولُاللّٰہکو دیکھ رہا ہوں۔‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”یہ ہے تصورِ رسول، حضرات صحابہ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہروقت اپنے محبوب نبی (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی اَداؤں کے تصور میں رہتے تھے:
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا
تصور میں ترے رہناعبادت اس کو کہتے ہیں
نبی سے مراد یا تو نوح
عَلَیْہِ السَّلَامہیں جواپنی قوم سے بڑی تکلیف اُٹھاتے تھے حتّٰی کہ کئی کئی دن بے ہوش رہتے تھے، ہوش آنے پر پھر جاتے تبلیغ فرماتے یا خود حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی ذاتِ پاک مرادہے۔یہ واقعہ طائف کی تبلیغ اوراُحدشریف کے جہاد کاہےکہ حضورِاَنْوَر(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم)اُن ظالم کفارکو دعائیں دیتے جاتے تھے،چہرۂ پاک سے خون صاف کرتے جاتے تھے تاکہ خون آنکھوں یا منہ میں نہ پڑے یا زمین پر نہ گرے، زمین پر گرنے سے عذاب الہی آجانے کا اندیشہ تھا۔بخش دے کے معنیٰ یہ ہیں کہ تو انہیں ایمان کی توفیق دے، عذاب نہ دے، ورنہ کفار کے لیے بخشش کی دعا بحکم قرآن ممنوع ہے، نہ جاننے کے معنیٰ یہ ہیں کہ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں، اگرپہچانتے ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے۔مدنی گلدستہ’’بخشش‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) راہِ تبلیغ میں تکلیف برداشت کرنا انبیاء کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنت ہے۔
(2) کفار کے لئے مغفرت کی دعا کرناکہ ان کے شرک اور کفرکو معاف کر دیا جائےیہ جائز نہیں۔
(3) حضرات صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہروقت اپنے محبوب نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَداؤں کے تصوُّر میں رہتے تھے۔
(4) نبی کا خون زمین پر گرنے سے عذاب الٰہی آنے کا ڈر ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں راہِ خدا میں پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 646