- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 8
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی عَبْدِاللہِ بْنِ قَیْسِ الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:’’ سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ یُقَاتِلُ شُجَاعَۃً وَیُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَیُقَاتِلُ رِیَآءً أَیُّ ذَلِکَ فِی سَبِیْلِ اللہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیْلِ اللہِ۔ ‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ( بخاری ، کتاب التوحید باب قولہ تعالٰی ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، ۴ / ۵۶۱ ،حدیث: ۷۴۵۸ بتغیر قلیل )
عن ابی موسی عبداللہ بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ قال:’’ سئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الرجل یقاتل شجاعۃ ویقاتل حمیۃ ویقاتل ریاء ای ذلک فی سبیل اللہ ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا فہو فی سبیل اللہ۔ ‘‘ متفق علیہ ( بخاری ، کتاب التوحید باب قولہ تعالی ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، ۴ / ۵۶۱ ،حدیث: ۷۴۵۸ بتغیر قلیل )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو موسی عبد اللہ بن قَیْس اَشْعَرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ’’ ایک آدمی بہادری دکھا نے کے لئے ،ایک قومی غیرت اورایک رِیا کاری کی غرض سے لڑتا ہے تو ان میں سے کوناللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں ہے؟‘‘ َ ارشادفرمایا:’’ جو اس غرض سے لڑے کہاللہ عزَّوَجَلَّکا کلمہ بلند ہو ،تو وَہی اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے ۔‘‘
شرح حدیث
اچھی نیت سے اعمال اچھے بنتے ہیںحضرت سیِّدُناعلامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعُمْدَۃُ الْقَارِی میں فرماتے ہیں :
(1)کَلِمَۃُ اللہ سے مراد اسلام کی دعوت دینا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مرادلَااِلٰہَ اِلَّا اللہہے۔
(2)نیک اَعمال اچھی نیت سے ہی نیک بنتے ہیں۔
(3)عبادت میں اِخلاص شرط ہے ، جومحض کسی دُنیوی غرض سے کوئی نیک عمل کرے تو اُس عمل کے ضائع ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور اگر اُس عمل کو کسی دینی غرض کی وجہ سے کیا جائے تو جمہور کے نزدیک وہ عمل درست ہے۔
(4)جو فضیلت مجاہدین کے بارے میں بیان ہوئی ہے وہ ان مجاہدین کے لئے ہے جو دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کریں۔
(5) نبیِّ آ خر الزماں ، سرْورِ ذِیشانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فصاحت و بلاغت کااعلیٰ مرتبہ عطا فرمایا گیا۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سوال کرنے والے کو اس کے سوال کے الفاظ سے ہٹ کر بہت جامع اندازمیں جواب عطا فرمایا کیونکہ غَیْظ و غَضَب اور حَمِیَّت (شرم، غیرت) کبھیاللہ عزَّوَجَلَّکے لئے ہوتی ہے تو کبھی دنیا کے لئے ، اس لئے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مختصر الفاظ میں جواب ارشاد فرمایا کہ’’ جو دینِ اسلام کی سر بلندی کے لئے لڑے وہاللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنے والا ہے‘‘۔ (عمدۃ القاری ، کتاب العلم باب من سئل وھو قائم عالما جالسا ، ۲/ ۲۷۸، تحت الحدیث:۱۲۳)
حضرتِ سیِّدُناعلَّامہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : اعمال ہمیشہ اچھی نیتوں سے ہی اچھے بنتے ہیں۔اور مُجَاھِدِیْن کے بارے میں جو فضیلت حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جواللہ عزَّوَجَلَّکے کلمے یعنی دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کرے۔ ’’حَمِیَّۃً‘‘سے مرا دجوش و غیرت ہے اورغیرت آل و اولادکی طرف سے ہوتی ہے۔(شرح مسلم للنووی ،کتاب الامارۃ ، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ … الخ ،۷/۴۹، الجزء الثالث عشر)
حضرت سیِّدُنا عَلَّامَہ حَافِظ اِبِنْ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفتح الباری میں حدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں : یہ حدیث پاک مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ کے پانچ اسباب ہیں :(1)مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لئے (2)بہادری ظاہرکرنے کے لئے (3)دکھاوے کے لئے (4)غیرت کی وجہ سے (5)غصے کی وجہ سے ۔ان تمام میں سے ہر سبب اچھابھی ہوسکتا ہے اور برابھی(اگر یہ سب کاماللہ عزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے ہوں تو اچھے اور اگر دنیوی غرض کے لئے ہوں تو برے ) اسی لئے حدیثِ مذکور میں سائل کو ہاں یا نہ کے ساتھ جواب نہیں دیا گیا ۔ (فتح الباری ، کتاب الجہاد والسیر، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا، ۷/۲۴، تحت الحدیث:۲۸۱۰)نِیَّت بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیںمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیت بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں ،عمل کی اچھائی یا برائی نیت پر موقوف ہے۔جواللہ عزَّوَجَلَّکے دین کی سربُلندی اور کفر کو مغلوب کرنے کی نیت سے جہاد کرے وہاللہ عزَّوَجَلَّکی راہ کا
مجاہد ہے ۔اور جو لوگوں میں مجاہدو بہادر مشہور ہونے یااپنی واہ واہ کی خاطر یا صرف قومی غیرت کے لئے جہاد کرے تاکہ اس کے خاندان کا نام روشن ہو تو وہ مجاہد نہیں بلکہ رِیا کار ہے ۔
رِیا کاری کی تعریف:حُجَّۃُ الْاِسْلام حضرتِ سَیِّدُناامام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’رِیا کی اصل یہ ہے کہ اچھے اعمال دِکھا کر لوگوں کے دِلوں میں اپنا مقام بنایا جائے ،پس رِیا کی تعریف یہ ہوئی کہ ’’اللہ عزَّوَجَلَّ کی عبادت کے ذریعے بندوں (کی خوشنودی )کا ارادہ کرنا۔‘‘ (إحیاء العلوم،۳/۳۶۵)’’ اَ لْمَدِیْنَہ ‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے اخلاص ورِیا سے متعلق 7روایات
(1)رِیا کار کے چار نامبروزِ قیامت رِیا کار کو یوں پکارا جائے گا: ’’(1)اے ریا کار(2) اے دھوکے باز (3)اے نقصان اُٹھانے والے اور(4) اے دَغا باز !جا!اور اپنا ثواب اسی سے لے جس کے لئے توعمل کیا کرتاتھا۔ ‘‘(إحیاء العلوم، ۳/۳۶۲ )(2)رِیا کار کی تین نشانیاںحضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِ خداکَرَّمَ اللہ تَعَا لٰی وَجْہَہُ الکَرِیْمفرمایا کرتے تھے کہ ریا کار کی تین نشانیاں ہیں (1) جب تنہا ہوتا ہے تو عمل میں سستی کرتا ہے ،(2) جب لوگوں میں ہوتا ہے خوشی خوشی عمل کرتا ہے (3) تعریف کی جائے تو اس کا عمل بڑھ جاتا ہے اور جب برائی بیان کی جائے توعمل کم کر دیتا ہے۔ (إحیاء العلوم،۳/۳۶۴ )(3)ریا کار اپنے ربّ سے مذاق کرتا ہےحضرتِ سَیِّدُناقتادہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ جب بندہ ریا کاری کرتا ہے تواللہ عزَّوَجَلَّفرماتا ہے :’’میرے بندے کو دیکھو مجھ سے مذاق کرتا ہے۔‘‘ (إحیاء العلوم، ۳/۳۶۴ )
پیارے اسلامی بھائیو! نیک عمل پرپورا پورا ثواب اسی وقت ملتا ہے جب اس سے مقصود صرف اور صرف رِضائے الٰہی ہو اور جو لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے وہ ثواب سے محر وم ہوجاتا ہے۔ منقول ہے کہ(4)نیکی کر کے لوگوں سے تعریف چاہنا کیسا؟ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا عُبَادَہ بن صَامِتْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا: ’’ اگر میں اس طرح جہاد کروں کہ رضائے الٰہی کے علاوہ لوگوں سے تعریف کا بھی طلبگار ہوں تو اس طرح کرنا کیسا ہے ؟‘‘ فرمایا: تجھے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اس نے تین مرتبہ یہ بات دُہرائی آپ نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا پھرفرمایاکہاللہ عزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:’’ میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔‘‘ (إحیاء العلوم، ۳/۳۶۴ )(5)نیک عمل کے ذریعے اپنی تعریف نہ چاہو!ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُناسَعِیْد بِن مُسَیَّبعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ ا لرَّبسے پوچھا کہ ایک شخص نیکی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی تعریف بیان کی جائے اوراسے ثواب بھی ملے ؟ فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم پراللہ عزَّوَجَلَّکا غضب ہو؟ عرض کی: نہیں فرمایا: جب اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے عمل کرو تو خالص اُسی کے لئے کرو۔(ایضاً)(6)اللہ عزَّوَجَلَّکا کوئی شریک نہیںحضرتِ سَیِّدُنا ضَحَّاکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ’’یہ کاماللہ عزَّوَجَلَّکے لئے بھی ہے اور تمہارے لئے بھی‘‘ اور یہ بھی نہ کہے کہ’’ یہ کاماللہ عزَّوَجَلَّکے لئے بھی ہے اوراوروں کے لئے بھی‘‘ کیونکہاللہ عزَّوَجَلَّکاکوئی شریک نہیں۔ (إحیاء العلوم، ۳/۳۶۴ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہرنیک عمل صرف اور صرف رِضائے الٰہی کے لئے ہونا چاہئے۔ اس کی رضا مل گئی توسب کچھ مل جائے گا اور اس نعمت سے بڑھ کر کوئی اور دولت نہیں۔ اگرچہ جنت کے حصول یا جہنم کے خوف سے عمل کرنے والا بھی مخلص ہے لیکن کامل اخلاص یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت جنت کے لالچ یا جہنم کے خوف سے نہ ہو بلکہ مقصود صرف خالقِ حقیقی کی ذات پاک ہو ۔ شیخِ طریقت ،امیر اہلِ سنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرکَاتُہم الْعَالِیَۃاپنی شہرہ ٔآفاق تصنیف ’’فیضانِ سنت‘‘ میں اِخلاص کے ضمن میں ایک بہت ہی سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :(7)مجھے موتیوں والا چاہیےایک مرتبہ سلطان مَحمود غَزنویعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے کچھ قیمتی مَوتی اپنے افسران کے سامنے پھینکتے ہوئے فرمایا: ’’چُن لیجئے اور خود آگے چل دئیے۔تھوڑی دُور جانے کے بعد مُڑکر دیکھا تواَیاز گھوڑے پر سُوار پیچھے چلاآرہا ہے۔پوچھا ،اَیاز !کیا تجھے مَوتی نہیں چاہئیں ؟ اَیَّاز نے عَرض کی: عالی جاہ!جو موتیوں کے طالِب تھے وہ موتی چُن رہے ہیں ،مجھے تو مَوتی نہیں بلکہ موتیوں والا چاہیے۔ (فیضان سنت ، باب فیضانِ رمضان، ۱/ ۹۴۹)مَدَنی گُلدَستہ
’’ نبی ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول:(1) عمل چاہے کتناہی اچھاہو اگر نیت خراب ہو تو ثواب نہیں ملتا بلکہ بسا اوقات بہت اچھا عمل بھی نیت کی خرابی کی وجہ سے وبال بن جاتاہے جیسے صرف لوگوں کو دکھاوے کے لئے نماز پڑھنا اور رضائے الٰہی کی نیت نہ ہونا، وغیرہ۔
(2) رضا ئے الٰہی کے لئے کفار کو اپنی شجاعت دکھانا ، ان کے مقابلے میں اپنی شان و بہادری بیان کرنا عبادت ہے۔
(3) خدمتِ دین کے ساتھ مالِ غنیمت کی نیت بھی ہونانقصان دہ نہیں مگر کمال اس میں ہے کہ خالص خدمتِ دین کی نیت ہو، غنیمت بلکہ جنت حاصل کرنے کا بھی ارادہ نہ ہو۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح، ۵/ ۴۲۹۔۴۲۸)
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے اور ہر عمل کامل اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 8