- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 4
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ جَابِرِبْنِ عَبْدِاللہِ الْاَنْصَارِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم ا قَال:کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فِیْ غَزَاۃٍ فَقَالَ: ’’ اِنَّ بِالْمَدِیْنَۃِ لَرِجَالًامَاسِرْتُمْ مَسِیرًا، وَلَاقَطَعْتُمْ وَادِیًااِلَّا کَانُوْامَعَکُمْ حَبَسَہم الْمَرَضُ۔ ‘‘ وَفِیْ رِوَایَۃٍِ : ’’ اِلَّا شَرَکُوْکُمْ فِی الْاَجْرِ ‘‘ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ وَرَاوَہُ الْبُخَارِیْ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَال: ’’ اِنَّ اَقْوَامًاخَلْفَنَابِالْمَدِیْنَۃِ مَا سَلَکْنَا شِعْبًا وَّلَاوَادِیًااِلَّاوَہم مَعَنَا،حَبَسَہم الْعُذْرُ۔ ‘‘ ( مسلم،کتاب الامارۃ،باب ثواب من حبسہ عن الغزومرض اوعذرآخر، ص ۱۰۵۸ ،حدیث: ۱۹۱۱ ، بِتَغَیُّرٍ قَلِیْلٍ ) ( بخاری،کتاب المغازی،باب نزول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحجر ،
۳/۱۵۰، حدیث: ۴۴۲۳ ، بِتَغَیُّرٍ قَلِیْلٍ )
عن ابی عبد اللہ جابربن عبداللہ الانصاری رضی اللہ تعالی عنہم ا قال:کنا مع النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم فی غزاۃ فقال: ’’ ان بالمدینۃ لرجالاماسرتم مسیرا، ولاقطعتم وادیاالا کانوامعکم حبسہم المرض۔ ‘‘ وفی روایۃ : ’’ الا شرکوکم فی الاجر ‘‘ رواہ مسلم۔ وراوہ البخاری عن انس رضی اللہ عنہ قال:رجعنا من غزوۃ تبوک مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ’’ ان اقواماخلفنابالمدینۃ ما سلکنا شعبا ولاوادیاالاوہم معنا،حبسہم العذر۔ ‘‘ ( مسلم،کتاب الامارۃ،باب ثواب من حبسہ عن الغزومرض اوعذراخر، ص ۱۰۵۸ ،حدیث: ۱۹۱۱ ، بتغیر قلیل ) ( بخاری،کتاب المغازی،باب نزول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحجر ،
۳/۱۵۰، حدیث: ۴۴۲۳ ، بتغیر قلیل )
حدیث ترجمہ
’’حضرتِ سَیِّدُنا ابو عَبْد اللہ جابِر بن عبد اللہ اَنصَارِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ ایک جنگ میں ہم رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم راہ تھے کہ آپ نے فرمایا:’’بے شک!مَدِینَۂ مُنَوَّرَہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم نے جہاں بھی سفرکیا یا کسی بھی وادی سے گزرے تو وہ تمہارے ساتھ تھے انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔‘‘ایک روایت میں ہے:’’مگر وہ ثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔‘‘ (مسلم)امام بخاری نے اس حدیث کوحضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت کیا ہے فرماتے ہیں :ہم رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم راہ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے آپ نے فرمایا:’’ہمارے پیچھے مدینے میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ ہم جس گھاٹی اور وادی کو عبور کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں عُذر(مجبوری)نے روک رکھا ہے۔‘‘
شرح حدیث
’’غَزْوَۂِ تَبُوْک‘‘
’’ تَبُوک‘‘مَدِینَۂ مُنَوََّرَ ہ اور ملک ِشام کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ ’’تبوک ‘‘ ایک قلعہ کا نام ہے اور بعض کا قول ہے کہ ’’تبوک ‘‘ ایک چشمے کا نام ہے ۔ ممکن ہے یہ سب باتیں موجود ہوں ( اسطرح کہ مقام تبوک پر ایک قلعہ بھی ہو جس میں چشمہ بھی ہو ) ۔ غزوۂ تبوک سخت قحط کے دنوں میں ہوا۔ طویل سفر، ہواگرم، سواریاں کم، کھانے پینے کی تکلیف،دشمن کی تعداد بہت زیادہ۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو بڑی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کو ’’جَیْشُ الْعُسْرَۃ‘‘ (تنگ دستی کا لشکر)بھی کہتے ہیں اورچونکہ منافقوں کواس غزوہ میں بڑی شرمندگی اور شرمساری اٹھانی پڑی تھی۔ اس وجہ سے اس کا ایک نام’’غزوۂ فاضِحَہ‘‘(کفار کورُسواکرنے والا غزوہ)بھی ہے ۔ اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس غزوہ کے لئے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمماہ رجب ۹ھ جمعرات کے دن روانہ ہوئے۔(ملخص ازشرح المواہب،۴/۶۵،۶۶) منافقین قسمیں کھاکر جھوٹے عذر اور بہانے بنا کر وہیں رُک گئے اور مخلص مسلمانوں میں سے حضرت کَعْب بِنْ مَالِک، ہِلال بِنْ اُمَیَّہ، مُرَارَہ بِنْ رَبِیْع، اَبُوخَیْثَمَہ، اَبُوذَر غِفَارِیرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنبھی پیچھے رہ گئے۔ اِن میں سے اَبُوخَیْثَمَہ اور اَبُوذَر غِفَارِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما تو بعد میں جا کر شریکِ جہاد ہو گئے لیکن بقیہ تین حضرات جہاد میں شریک نہ ہو سکے۔ (ملخص ا زشرح ا لمواھب، ۴،/۷۸-۸۱۔۸۲)جہاد کی نِیَّتِ پر بھی ثواب مِلاعلامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ اس حدیث میں نیکی (بھلائی) کے کاموں میں نیت کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اگر کوئی شخص غزوہ میں شرکت کی نیت کرے یا کسی اور نیک کام کی نیت کرے پھر اسے کوئی ایسا عُذْر لاحق ہو جائے جس کی وجہ سے وہ نیک کام نہ کرسکے تو اسے اس کی نیت کا ثواب ملے گا اور وہ جتنا زیادہ اس نیکی کے فوت ہونے کا افسوس کرے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش میں وہ نیکی کرسکتا تو اس کا ثواب بھی اتنا بڑھتا جائے گا۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب ثواب من حبسہ عن الغزو مرض او عذر آخر، ۷/۵۷، الجزء الثالث عشر)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمِرْقَاۃ شرحِ مشکٰوۃ میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ عُذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوسکے وہ مجاہدین کے ساتھ اجر میں تو شریک ہیں لیکن مجاہدین کو ان پر فضیلت حاصل ہے وہ فضیلت دنیا میں مالِ غنیمت اوراللہ عزَّوَجَلَّکے دین کی مدد کرنا ہے اور آخرت میں یہ کہاللہ عزَّوَجَلَّنے مجاہدین کے درجات جہاد سے رہ جانے والوں کے درجات سے بڑھادیئے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجہاد، الفصل الاول، ۷/۳۸۰، تحت الحدیث:۳۸۱۵)
اس حدیث پاک سے اچھی نِیَّت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانجہاد میں جانے کی نِیَّت رکھتے تھے لیکن مجبوری کی وجہ سے نہ جا سکے انہیں اس سعادت سے محرومی پر بہت غم ہوا۔اللہ عزَّوَجَلَّکو ان کی نِیَّت کا اخلاص اور جہاد چھوٹنے پر غمگین ہونا ایسا پسند آیا کہ انہیں بھی جہاد کا ثواب عطا فرما دیا۔ اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبانی انہیں جہاد کے ثواب کی خوشخبری سنائی۔ ہماراپاک پَروَردگارکتناکریم ہے کہ اگراس کابندہ کسی نیک کام کی نِیَّت کرلے لیکن کسی مجبوری سے اس پر عمل پیرانہ ہوسکے تو اسے نِیَّت کی وجہ سے عمل کا ثواب مل جاتا ہے۔پھر اس عمل کے چھوٹنے کی وجہ سے جتنا زیادہ افسوس ومَلال ہو اتنا ہی اجر بھی بڑھا دیا جاتا ہے۔چنانچہ، منقول ہے کہشیطان نے نماز کے لیے جگایا!ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُقیام گاہ میں سورہے تھے۔ اچانک کسی نے بیدار کردیا،جب آپ نے آنکھ کھول کر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا،آپ نے فرمایا:’’ارے تو کون ہے؟اور تیرانام کیا ہے؟‘‘کہا:’’مجھ بدنصیب کا نام ’’اِبلیس‘‘ہے۔‘‘ آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے حیران ہو کر فرمایا،اِبلیس کا کام تو مومن کوسُلا کر اس کی نماز قضا کرادینا ہے،اگرتوواقعی اِبلیس ہے تو مجھے نمازکیلئے کیوں جگایا؟یہ سن کر شیطان نے دانت پیس کر کہا:’’اے فلاں !میں نے آپ کو اس لیے بیدار کردیا کہ اگر اس وقت آپ کی نماز فوت ہوجاتی تو آپ افسوس کرتے ہوئے اور دردِ دل سے روتے ہوئے آہ و فُغَاں کرتے تو نماز چھوٹنے کے غم میں آپ کا افسوس اور آپ کی بے قراری اور بارگاہِ باری میں آپ کی گِر یَہ وزاری (رونا،پیٹنا) ثواب میں دو سو رکعت نمازوں سے بھی بڑھ جاتی،تو میں نے اسی لئے آپ کو نماز کیلئے جگادیا ہے تاکہ آپ کا ثواب بڑھنے نہ پائے کیونکہ میں تو مسلمانوں کا حاسد ہوں اور اسی جذبۂ حسد کی وجہ سے میں نے آپ کو نماز کیلئے جگا دیا تاکہ آپ کو زیادہ ثواب نہ مل سکے میں تو مسلمانوں کا دشمن ہوں اور مَکرو کینہ ہی میرا کام ہے۔‘‘( مثنوی شریف،دفتر دوم بیدار کردن ابلیس …الخ، ۱/۲۶۳)
شیطان مردودمسلمانوں کا ایسابڑا دشمن ہے کہ اسے مسلمانوں کی نیکیوں میں اضافہ ہر گز ہر گز گوارا نہیں اولاًتو اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ نیکی کرنے ہی نہ دے،لیکن جب وہ اپنے اس مذموم ارادے میں کامیاب نہیں ہوتا تو بڑی نیکیوں سے چھوٹی نیکی کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے،اس ملعون کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک مکر ہے۔اس کے مکر وفریب سے بچنے کا واحد ذریعہ اخلاص و دعا ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں شیطان کے مکر وفریب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ ’’جہاد ‘‘کے حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے مدنی پھول(1)اگر کسی نیک کام کی نِیَّت کر لی جائے اور کسی مجبوری سے وہ کام نہ ہوسکے تواللہ عزَّوَجَلَّاس عمل کا ثواب عطا فرما دیتا ہے۔سفر یا بیماری کی وجہ سے چھوٹنے والے اعمال کا ثواب عطا کر دیا جاتا ہے۔
(2)باعمل مریض کوشفایابی کی صورت میں گناہوں سے پاکی اور وفات کی صورت میں مغفرت ورحمت کی دولت نصیب ہوتی ہے۔
(3)نیک عمل کے چھوٹ جانے پر جتنا زیادہ غم ہوتاہے اتنا ہی زیادہ اجر عطا کیا جاتا ہے۔
(4)شیطان کے خطر ناک حملوں سے بچنے کا سب سے طاقتورہتھیار دعا واخلاص ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 4