باب : اخلاص و نیت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 1

اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرتاللہاور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرتاللہاوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘

عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:’’ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ‘ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ اِلَیْہِ۔( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْي…الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ایک لشکر کعبہ معظمہ پرحملہ کرے گاجب وہ ’’بَیْدَاء ‘‘کے مقام پرپہنچے گاتوانکے اگلے پچھلے سب کوزمین میں دھنسا دیا جائے گا،اُمُّ المومنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :’’میں نے عرض کی، یَا رَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانکے اگلے پچھلے سب کیسے دھنسادئیے جائیں گے حالانکہ ان میں سے بعض تودکاندار ہوں گے اورکچھ ان لشکریوں میں سے نہ ہوں گے؟فرمایا:’’انکے اول وآخرکودھنسادیاجائے گاپھروہ اپنی اپنی نیتوں پراٹھائے جائیں گے۔‘‘

عَنْ اُمِّ الْمُؤمِنِیْنَ اُمِّ عَبْدِاللہِ عَائِشَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہَاقَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْزُوْجَیْشٌ اَلْکَعْبَۃَ فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم قَالَتْ:قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ!کَیْفَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم وَفِیْہم اَسْوَاقُہم وَمَنْ لَیْسَ مِنْہم ؟ قَالَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم ثُمَّ یُبْعَثُوْنَ عَلٰی نِیَّاتِہم ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ،ہذَالَفْظُ الْبُخَارِي (بخاری،کتاب البیوع،باب ماذکرفی الاسواق، ۲/۲۴، حدیث:۲۱۱۸)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 2 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرت سیِّدَتُناعائِشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ جنابِ رِسالت مآبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:’’فتحِ مکہ کے بعدہجرت نہیں البتہ جہاداورنِیَّت باقی ہے اورجب تمہیں جہادکی طرف نکلنے کوکہاجائے توچل پڑو۔‘‘
اِمام نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ اب مکہ سے ہجرت نہیں کیونکہ وہ دَارُالْاِسْلام بن چکا ہے۔‘‘

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’ لَا ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ،وَلٰکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ ،وَاِذَااسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ ( مسلم، کتاب الامارۃ، باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ …الخ، ص ۱۰۳۶، حدیث:۱۸۶۴)
قَالَ النَّوَوِی : ’’ وَ مَعْنَاہُ لَا ہِجْرَۃَ مِنْ مَکَّۃَ لِاَنَّھَا صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 3 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

’’حضرتِ سَیِّدُنا ابو عَبْد اللہ جابِر بن عبد اللہ اَنصَارِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ ایک جنگ میں ہم رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم راہ تھے کہ آپ نے فرمایا:’’بے شک!مَدِینَۂ مُنَوَّرَہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم نے جہاں بھی سفرکیا یا کسی بھی وادی سے گزرے تو وہ تمہارے ساتھ تھے انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔‘‘ایک روایت میں ہے:’’مگر وہ ثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔‘‘ (مسلم)امام بخاری نے اس حدیث کوحضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت کیا ہے فرماتے ہیں :ہم رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم راہ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے آپ نے فرمایا:’’ہمارے پیچھے مدینے میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ ہم جس گھاٹی اور وادی کو عبور کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں عُذر(مجبوری)نے روک رکھا ہے۔‘‘

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ جَابِرِبْنِ عَبْدِاللہِ الْاَنْصَارِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم ا قَال:کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فِیْ غَزَاۃٍ فَقَالَ: ’’ اِنَّ بِالْمَدِیْنَۃِ لَرِجَالًامَاسِرْتُمْ مَسِیرًا، وَلَاقَطَعْتُمْ وَادِیًااِلَّا کَانُوْامَعَکُمْ حَبَسَہم الْمَرَضُ۔ ‘‘ وَفِیْ رِوَایَۃٍِ : ’’ اِلَّا شَرَکُوْکُمْ فِی الْاَجْرِ ‘‘ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ وَرَاوَہُ الْبُخَارِیْ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَال: ’’ اِنَّ اَقْوَامًاخَلْفَنَابِالْمَدِیْنَۃِ مَا سَلَکْنَا شِعْبًا وَّلَاوَادِیًااِلَّاوَہم مَعَنَا،حَبَسَہم الْعُذْرُ۔ ‘‘ ( مسلم،کتاب الامارۃ،باب ثواب من حبسہ عن الغزومرض اوعذرآخر، ص ۱۰۵۸ ،حدیث: ۱۹۱۱ ، بِتَغَیُّرٍ قَلِیْلٍ ) ( بخاری،کتاب المغازی،باب نزول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحجر ،
۳/۱۵۰، حدیث: ۴۴۲۳ ، بِتَغَیُّرٍ قَلِیْلٍ )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 4 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا اَبُو یَزِیْد مَعْن بِنْ یَزِیْد بِنْ اَخْنَسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمیہ خود بھی اوران کے والد ودادا بھی صحابی تھے فرماتے ہیں :میرے والد یزید نے کچھ دینار صَدَقہ کیلئے نکالے اور مسجد میں ایک آدمی کے پاس رکھ آئے،میں آیا تومیں نے وہ دینار لئے اور اپنے والد کے پاس آگیا،انہوں نے فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم!میں نے تجھے دینے کا ارادہ نہیں کیا تھا،پھر میں اس معاملے کو بارگاہِ ِرِسالت میں لے گیا،صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اے یزید!تجھے تیری نِیَّت کا ثواب ملے گا اور اے معن!جو تو نے لیا وہ تیرا ہے۔‘‘

عَنْ اَبِیْ یَزِیْدَ مَعْنِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ الْاخْنَسِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم وَھُوَوَاَبُوْہٗ وَجَدُّہٗ صَحَابِیُّوْنَ، قَالَ: کَانَ اَبِیْ، یَزِیدُ اَخْرَجَ دَنَانِیرَ یَتَصَدَّقُ بِہَا فَوَضَعَہَا عِنْدَ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ فَجِئْتُ فَاَخَذْ تُہَا فَاَتَیْتُہٗ بِہَا، فَقَالَ: وَاللہِ! مَا اِیَّاکَ اَرَدْتُ ، فَخَاصَمْتُہٗ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ’’ لَکَ مَا نَوَیْتَ یَا یَزِیدُ! وَلَکَ مَا اَخَذْتَ یَا مَعْنُ۔‘‘رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ۔( بخاری، کتاب الزکاۃ، باب إذا تصدق علی ابنہ وہو لا یشعر، ۱ /۴۸۰، حدیث: ۱۴۲۲)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 5 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اسحاق سَعْد بن اَبی وقَّاص مالک بن اُھَیْب بِنْ عَبْد مَنَاف بِنْ زُہْرَہ بِنْ کِلَاب بِنْ مُرَّہ بِنْ کَعْب بِنْ لُؤَیّ قُرَشِی زُھْرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُجو اُن دس حضرات میں سے ہیں جنہیں جنت کی خوشخبری دی گئی فرماتے ہیں : حَجَّۃُالوَدَ اع کے موقع پررَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری عِیادت کے لئے تشریف لائے مجھے سخت دردتھا میں نے عرض کی: یَا رَسُوْ لَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میری بیماری شدت اختیار کرچکی ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ، میں ایک مالدار شخص ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ، کیا میں دوتہائی مال صَدَقہ کردوں ؟فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!نصف مال صَدَقہ کر دوں ؟ فرمایا:نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی ؟فرمایا: ایک تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی زیادہ ہے،(سنو!)تمہارا اپنے وارثوں کومالدار چھوڑ جاناان کو مفلس چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز کرتے پھریں ، بے شک تم جوکچھ بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے خرچ کرو گے اس کاثواب پاؤ گے یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ،اس کا بھی اجر ہے۔ فرماتے ہیں :میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْ لَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا میں اپنے اصحاب سے (ہجرت کے معاملہ )میں پیچھے چھوڑدیا جاؤنگا‘‘؟ فرمایا:’’ تم ہرگز پیچھے نہ چھوڑے جاؤگے کیونکہ تم اللہعزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے جو بھی عمل کرو گے اس سے تمہارا مرتبہ بڑھے گا اور پھر تم یقینا لمبی عمر دئیے جاؤگے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو تم سے فائدہ پہنچے گا جب کہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے نقصان اٹھائیں گے۔‘‘ (پھرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ دعا کی): یا اللہعزَّوَجَلَّ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور انہیں ان کی حاجت سے نہ پھیر! البتہ سعد بن خولہ کی حالت قابلِ رحم ہے۔ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاحضرت سَعَدبن خَولہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے لئے اظہارِ افسوس کر نا اس لئے تھاکہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں ہی فوت ہوئے ۔

عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ مَالِِکِ بْنِ اُھَیْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُھْرَۃَ بْنِ کِلابِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّالْقُرَشِيِّ الزُّہْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، اَحَدِالْعَشَرَۃِ الْمَشْھُوْدِ لَہم بِالْجَنَّۃِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ۔قَالَ:جَائَ نِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُوْدُنِیْ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اِشْتَدَّبِیْ فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّيْقَدْ بَلَغَ بِیْ مِنَ الْوَجَعِ مَاتَرٰی،وَاَنَا ذُوْمَالٍ وَلَایَرِثُنِيْ اِلَّا ابْنَۃٌ لِیْ،اَفَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِیْ؟قَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالشَّطْرُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالثُّلُثُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ اَوْ کَبِیْرٌ اِنَّکَ اَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَذَرَہم عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ، واِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِیْ بِہَا وَجْہَ اللہِ اِلَّا اُجِرْتَ عَلَیْہَا حَتّٰی مَا تَجْعَلُ فِیْ فِیِّ امْرَاَتِکَ،قَالَ: فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ اُخَلَّفُ بَعْدَ اَصْحَابِیْ؟قَالَ اِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖ وَجْہَ اللہِ اِلَّاازْدَدْتَّ بِہٖ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً۔وَلَعَلَّکَ اَنْ تُخَلَّفَ حَتّٰی یَنْتَفِعَ بِکَ اَقْوَامٌ وَیُضَرَّبِکَ اٰخَرُوْنَ، اللہم اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ہِجْرَتَہم ،وَلَا تَرُدَّہم عَلٰی اَعْقَابِہم ،لٰکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔یَرْثِیْ لَہٗ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ( بخاری، کتاب الجنائز، باب رثی النبی سعد بن خولۃ، ۱ / ۴۳۸ ، حدیث: ۱۲۹۵ ، بتغیر قلیل / مسلم،کتاب الوصیۃ،باب الوصیۃ بالثلث، ص ۸۸۳ ، حدیث: ۱۶۲۸)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 6 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عزَّوَجَلَّنہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔‘‘

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: ’’ إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ ‘‘ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ ‘‘( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص ۱۳۸۷ ، حدیث: ۲۵۶۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 7 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو موسی عبد اللہ بن قَیْس اَشْعَرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ’’ ایک آدمی بہادری دکھا نے کے لئے ،ایک قومی غیرت اورایک رِیا کاری کی غرض سے لڑتا ہے تو ان میں سے کوناللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں ہے؟‘‘ َ ارشادفرمایا:’’ جو اس غرض سے لڑے کہاللہ عزَّوَجَلَّکا کلمہ بلند ہو ،تو وَہی اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے ۔‘‘

عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی عَبْدِاللہِ بْنِ قَیْسِ الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:’’ سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ یُقَاتِلُ شُجَاعَۃً وَیُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَیُقَاتِلُ رِیَآءً أَیُّ ذَلِکَ فِی سَبِیْلِ اللہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیْلِ اللہِ۔ ‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ( بخاری ، کتاب التوحید باب قولہ تعالٰی ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، ۴ / ۵۶۱ ،حدیث: ۷۴۵۸ بتغیر قلیل )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 8 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکرہ نُفَیْع بن حَارِث ثَقَفِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جب دو مسلمان تلواریں لئے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں توقاتل ومقتول دونوں آگ میں ہیں۔‘‘ (راوی فرماتے ہیں ) میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقاتل تو واقعی اس کاحق دار ہے مگر مقتول کا کیا قصور ہے؟ ‘‘ ارشاد فر مایا:’’ وہ بھی تواپنے مُقابِل کو قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘

عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ نُفَیْعِ بْنِ الْحَارِثِ الثَّقَفِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہم ا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ہَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ ؟ قَالَ إِنَّہُ کَانَ حَرِیْصًا عَلَی قَتْلِ صَاحِبِہٖ۔ ( بخاری ، کتاب العلم ، باب وان طائفتان من المؤمنین … الخ ، ا/ ۲۳ ، حدیث: ۳۱)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 9 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:مرد کی باجماعت نماز کا ثواب اس کی گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز کے مقابلے میں بیس اور اس سے کچھ زیادہ درجے ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب ان میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کی نِیَّت سے مسجد کی طرف چلتا ہے اور نماز کے علاوہ اس کاکوئی اور مقصد نہیں ہوتا تو مسجد میں پہنچنے تک ہر ہر قدم کے بدلے اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ مسجدمیں داخل ہونے کے بعد جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے توجب تک کسی کو تکلیف نہ دے یا بے وضو نہ ہوتو فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں :’’یا اللہ عَزَّوجَلَّ! اِس پر رحم فرما،یا اللہ عَزَّوجَلَّ! اِسے بخش دے، یَا اللہ عَزَّوجَلَّ ! اِس کی توبہ قبول فرما ۔‘‘

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’ صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلَی صَلَا تِہِ فِی سُوْقِہِ وَبَیْتِہِ بِضْعًاوَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً وَذَالِکَ أَنَّ أَحَدَہم إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ إِلَّا الصَّلَاۃُ ، فَلَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً إِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی الصَّلَاۃِ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ ہِیَ تَحْبِسُہُ،وَالْمَلٰئِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِی مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ:اللہم ارْحَمْہُ اللہم اغْفِرْ لَہُ اللہم تُبْ عَلَیْہِ مَا لَمْ یُوْذِ فِیْہِ مَا لَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔
( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ وانتظار الصلاۃ، ص ۳۳۳ ، حدیث: ۶۴۹)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 10 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو الْعَبَّاس عبد اللہ بن عباس بن عبد الْمُطَّلِبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمسے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت،شمعِ بزمِ ہدایت،نَوشَۂ بزمِ جنَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے رَبّ عزَّوَجَلَّ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ بے شکاللہ عزَّوَجَلَّنے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں پھر انہیں بیان فرمادیا ،پس جوکو ئی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کر سکے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کے نامۂ اعمال میں ایک کامل نیکی کا ثواب لکھتا ہے اور اگر اراد ے کے ساتھ عمل بھی کرلے تواللہ عزَّوَجَلَّدس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیوں کا ثواب لکھتا ہے اور جب کوئی برائی کا ارادہ کرے لیکن پھر اس برائی سے باز آجائے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کے لئے ایک کامل نیکی کا ثواب لکھتا ہے اور اگر ارادے کے بعد برائی بھی کر لے تواللہ عزَّوَجَلَّصرف ایک برائی لکھتا ہے۔ ‘‘

عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ عَبْدِاللہِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا یَرْوِیْ عَنْ رَبِّہٖ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ: ’’ إِنَّ اللہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ فَمَنْ ہم بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَااللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً،وَإِنْ ہم بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَااللہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ واِنْ ہم بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللہُ عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً وَإِنْ ہم بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔
( بخاری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۴ / ۲۴۴ ، حدیث: ۶۴۹۱ ، بتغیر قلیل )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 11 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اَبو عَبْدِ الرَّحْمٰن عَبْدُ اللہ بن عمر بن خَطَّابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمفرماتے ہیں :’’ میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ گزشتہ زمانے میں تین شخص کہیں جارہے تھے جب رات ہوئی تو پناہ لینے کے لئے ایک غار میں داخل ہوئے اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گری جس نے غار کا منہ بند کردیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا: اس مصیبت سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہاللہ عَزَّوجَلَّکی بارگاہ میں پیش کر کے دعا کریں۔ چنانچہ، ان میں سے ایک نے کہا :یا اللہعزَّوَجَلَّ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے ہو گئے تھے میں ان سے پہلے نہ تو اپنے اہل و عیال کو پینے کے لئے دودھ دیا کرتا تھا نہ ہی اپنے خادموں کو ، ایک دن میں درختوں کی تلاش میں بہت دور نکل گیا جب واپس آیا تو میرے والدین سو چکے تھے میں دودھ لے کر ان کے پاس آیا تو انہیں سویا ہوا پایا میں نے نہ تو انہیں جگانا مناسب سمجھا نہ ہی ان سے پہلے اہل وعیال میں سے کسی کو دینا پسند کیا ،بچے بھوک کی وجہ سے میرے پاؤں میں بِلبِلاتے رہے لیکن میں دودھ کا پیالہ لئے اپنے والدین کے پاس کھڑا رہا، جب صبح ہوئی تو میں نے انہیں دودھ پیش کیا ۔ یا اللہعَزَّوَجَلّ!َ اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما! اس کی دعا سے چٹان کچھ سِرَک گئی ، لیکن ابھی اتنی جگہ نہ بنی تھی کہ وہ نکل سکتے ، پھردوسرے نے کہا: یا اللہعزَّوَجَلَّ! مجھے میرے چچا کی بیٹی لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی ایک روایت میں ہے کہ میں اس سے ایسی شدید محبت کرتا تھا جیسے مرد عورتوں سے کرتے ہیں ،میں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کر دیا ، پھر وہ قحط میں مبتلا ہوئی تو میرے پاس آئی میں نے اس شرط پر اسے 120 دینا ر دیئے کہ وہ میری خواہش پوری کردے ، وہ مجبور تھی تیار ہوگئی ،جب میں اس کے ساتھ تنہائی میں گیا اور اس پر قابو پالیا (ایک روایت میں ہے کہ جب میں اس کی دونوں رانوں کے بیچ بیٹھ گیا) تو اس نے کہا : اللہعزَّوَجَلَّسے ڈر اور ناحق مُہر کو نہ توڑ (یعنی اس برے کام سے باز آجا) یہ سن کر میں نے اسے چھوڑ دیا اورمیں بدکاری سے باز رہا، حالانکہ مجھے اس سے شدید محبت تھی، پھر میں نے ا س سے وہ دینا ر بھی واپس نہ لئے ،یا اللہعزَّوَجَلَّ! اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فر ما !چٹان کچھ اور سَرَک گئی لیکن اب بھی وہ باہر نہ نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا :یا اللہعزَّوَجَلَّ! میں نے کچھ مزدوروں سے کام کروایا اور سب کی مزدوری دے دی لیکن ان میں سے ایک مزدور اُجرت چھوڑ کر چلا گیا، میں نے وہ تجارت میں لگا دی تو اس کی رقم بڑھتی رہی کچھ عرصہ بعد وہ آیااور کہا : اے اللہ عزَّوَجَلَّکے بندے !میری اجرت مجھے دے دے۔ میں نے کہا :یہ اونٹ، گائے، بکری ا ور غلام جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب تمہارے ہیں۔ اس نے کہا: اےاللہ عزَّوَجَلَّکے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا : میں مذاق نہیں کر رہا یہ سب کچھ تمہارا ہی ہے۔ چنانچہ، وہ سب مال لے کر چلا گیا اور کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے اللہعزَّوَجَلَّ!اگر میرا یہ عمل تیری رضا کے لئے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما!پس چٹان ہٹ گئی اوروہ تینوں باہر نکل کر اپنی منزل کی طرف چل دئیے ۔

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم اقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:اِنْطَلَقَ ثَلٰثَۃُ نَفَرٍمِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَتّٰی اٰوَاھُمُ الْمَبِیْتُ اِلٰی غَارٍ فَدَخَلُوْہُ، فَانْحَدَرَتْ صَخْرَۃٌ مِنَ الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَیْہم الْغَارَ، فَقَالُوْااِنَّہُ لَایُنْجِیْکُمْ مِنْ ھٰذِہِ الصَّخْرَۃِ اِلَّا اَنْ تَدْ عُوْااللہَ بِصَالِحِ اَعْمَالِکُمْ۔قَالَ رَجُلٌ مِنْھُمْ :اللہم کَانَ لِیْ اَبَوَانِ شَیْخَانِ کَبِیرَانِ وَکُنْتُ لَا اَغْبِقُ اَھْلًا وَلَا مَالًا فَنَأَی بِیْ طَلَبُ الشَّجَرِ یَوْمًا فَلَمْ اُرِحْ عَلَیْہم ا حَتّٰی نَامَا فَحَلَبْتُ لَھُمَا غَبُوْقَھُمَا فَوَجَدْتُھُمَانَائِمَیْن، فَکَرِھْتُ اَنْ اُوْقِظَھُمَاوَاَنْ اَغْبِقَ قَبْلَھُمَااَھْلًا اَوْ مَالًا، فَلَبِثْتُ وَالْقَدْحُ عَلٰی یَدِیْ اَنْتَظِرُ اِسْتِیْقَاظَھُمَاحَتّٰی بَرَقَ الْفَجْرُ، وَالصِّبْیَۃُ یَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمِیَّ، فَاسْتَیْقَظَا فَشَرِبَاغَبُوْقَھُمَا،اللھُمَّ!اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ ابْتِغَائَ وَجْھِکَ فَفَرِّجْ عَنَّا مَانَحْنُ فِیْہِ مِنْ ھٰذِہِ الصَّخْرَۃِ۔ ‘‘ فَانْفَرَجَتْ شَیْئًا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ الْخُرُوْجَ مِنْہُ،قَالَ الْاٰخَرُ:اللہم إِنَّہُ کَانَتْ لِیْ اِبَْنَۃُ عَمٍّ کَانَتْ اَحَبَّ النَّاسِ اِلَیَّ وَفِیْ رِوَایَۃٍ ’’ کُنْتُ اُحِبُّھَا کَأَشَدِّ مَا یُحِبُّ الرِّجَالُ النساء ‘‘ فَاَردْتُھَاعَلٰی نَفْسِھَا فَامْتَنَعَتْ مِنِّیْ حَتّٰی اَلَمَّتْ بِھَا سَنَۃٌ مِنَ السِّنِیْنَ، فَجَائَتْنِیْ فَاَعْطَیْتُھَاعِشْرِیْنَ وَمِائَۃَ دِیْنَارٍ عَلٰی اَنْ تُخَلِّیَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ نَفْسِھَا فَفَعَلَتْ حَتّٰی اِذَا قَدَرْتُ عَلَیْھَا، وَفِیْ رِوَایَۃٍ ’’ فَلَمَّا قَعَدْتُّ بَیْنَ رِجْلَیْھَا ‘‘ قَالَتْ اِتَّقِ اللہَ وَلَا تَفُضَّ الْخَاتَمَ اِلَّا بِحَقِّہِ فَانْصَرَفْتُ عَنْھَا وَھِیَ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ وَتَرَکْتُ الذَّھَبَ الَّذِیْ اَعْطَیْتُھَا،اللھُمَّ! اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ ابْتِغَائَ وَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنَّامَانَحْنُ فِیْہِ،فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَۃُغَیْرَ اَنَّھُمْ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ الْخُرُوْجَ مِنْھَا۔وَقَالَ الثَّالِثُ:’’اللہم اِسْتَأْجَرْتُ اُجَرَائَ وَاَعْطَیْتُھُمْ اَجْرَھُمْ غَیْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَکَ الَّذِیْ لَہٗ وَذَھَبَ فَثَمَّرْتُ اَجْرَہُ حَتّٰی کَثُرَتْ مِنْہُ الْاَمْوَالُ،فَجَائَ نِیْ بَعْدَ حِیْنَ فَقَالَ یَا عَبْدَ اللہِ اَدِّ اِلَیَّ اَجْرِیْ، فَقُلْتُ:کُلُّ مَاتَرَی مِنْ اَجْرِکَ مِنَ الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِیْقِ، فَقَالَ:یَاعَبْدَاللہِ! لَا تَسْتَھْزِیئْ بِیْ! فَقُلْتُ:لَا اَسْتَھْزِیئُ بِکَ، فَاَخَذَہُ کُلَّہُ فَاسْتَاقَہُ فَلَمْ یَتْرُکْ مِنْہُ شَیْئََا،اللھُمَّ!اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ ابْتِغَائَ وَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِیْہِ ‘‘ فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَۃُ فَخَرَجُوْا یَمْشُوْنَ۔ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ) ( بخا ری، کتاب الانبیائ، باب حدیث الغار، ۲ / ۴۶۴، حدیث: ۳۴۶۵)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 12 ، باب : اخلاص و نیت کا بیان