- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 7
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: ’’ إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ ‘‘ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ ‘‘( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص ۱۳۸۷ ، حدیث: ۲۵۶۴)
عن ابی ھریرۃ عبدالرحمن بن صخر رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’ إن اللہ لا ینظر إلی اجسامکم ولا إلی صورکم ولکن ینظر إلی قلوبکم ‘‘ رواہ مسلم۔ ‘‘( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص ۱۳۸۷ ، حدیث: ۲۵۶۴)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عزَّوَجَلَّنہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔‘‘
شرح حدیث
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمِرقاۃ میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنیاللہ عزَّوَجَلَّنظراعتباری سے تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا کیونکہ اس کے ہاں تمہاری خوبصورتی وبد صورتی کاکوئی اعتبار نہیں اور نہ وہ تمہارے اَموال کی طرف نظر فرماتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک ان کی قِلَّت و کَثْرَت(کمی و زیادتی) کا کوئی اعتبار نہیں ،بلکہ دلوں میں موجود یقین،صِدق،اِخلاص،رِیا کاارادہ،شہرت اور بقیہ اَخلاقِ حَسَنَہ(اچھے اخلاق) اوراَخلاقِ سَیِّئَہ (برے اخلاق) کو دیکھتا ہے اور تمہارے اَعمال دیکھتا ہے یعنی ان کی اچھی بُری نیت کو اور پھر اس کے مطابق تمہیں اُن اعمال کی جزا عطا فرمائے گا۔ نِہَایَہ میں ہے کہ یہاں ’’نظر ‘‘کامعنی پسندیدگی یارحمت ہے اس لئے کہ کسی پر نظر رکھنا محبت کی دلیل ہے جب کہ ترکِ نظر( نظر ہٹا لینا) غضب ونفرت کی علامت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۹/۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۴)
علَّا مہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :حد یث میں فرمایا گیا کہ’’اللہ عزَّوَجَلَّتمہاری صورتوں کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘ ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ صرف ظاہری اعمال سے حاصل نہیں ہوتابلکہ دل میںاللہ عزَّوَجَلَّکی عظمت ،اس کے ڈر اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس سے حاصل ہوتاہے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ۸/۱۲۱، الجزء السادس عشر)ظاہر وباطن دونوں کادرست ہونا ضروری ہےمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :حدیثِ مذکور میں ’’دیکھنے ‘‘سے مراد ’’کرم ومحبت سے دیکھنا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کو بھی دیکھتا ہے، جب اچھی صورتیں اچھی سیرت سے خالی ہوں ، ظاہر باطن سے خالی ہو(یعنی صرف ظاہر اچھا ہو اور باطن برا ہو ) مال صَدَقہ وخیرات سے خالی ہو، تو ربّ تعالیٰ اسے نظرِ رحمت سے نہیں د یکھتا، ا س حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ صرف اعمال اچھے کرو اور صورت بُری بناؤ بلکہ صورت و سیرت دونوں ہی اچھی( یعنی شریعت کے مطابق ) ہونی چاہئیں۔ کوئی شریف آدمی گندے برتن میں اچھا کھانا نہیں کھاتا، رب تعالیٰ صورت بگاڑنے والوں کے اچھے اعمال سے بھی خوش نہیں ہوتا۔اگرصرف صورت اچھی ہو اورکردار برا ہو تو بھی نقصان اور اگر باطنی حالت درست ہو ظاہری حالت شریعت کے خلاف ہوتب بھی نقصان ۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح ، ۷ /۱۲۸)بُری نِیَّت اعمال کو برباد کر دیتی ہےمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کا دلاللہ عزَّوَجَلَّکی توجۂ خاص کامرکز ہے ۔ اس کی بارگاہ میں مقام ومرتبہ اور ثواب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک دِلی کیفیت درست نہ ہو۔ اس لئے اپنے دل کوبُری صِفات سے پاک وصاف اوراچھے اخلاق واچھی سوچ سے معمور رکھنا چاہئے، وہاں دلی کیفیت پر فیصلے ہوتے ہیں ،اگر نِیَّت درست نہیں تو عمل بے کار وباعثِ وَبال ہے۔ چنانچہ،تین رِیا کاروں کا اَنجامنبیوں کے سلطان ،رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال کیا جائے گا،ایک وہ جو راہِ خدا میں قتل کیا گیا تھا ،اللہ عزَّوَجَلَّاسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّفرمائے گا:’’ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کیا ؟‘‘ وہ
عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیری رضا کے لئے جہاد کیا حتی کہ شہید کر دیا گیا۔اللہ عزَّوَجَلَّفرمائے گا :تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے :فلاں شخص بہت بہادرہے، تو یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی۔ پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص کہ جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قراٰن کی تلاوت کی،اللہ عزَّوَجَلَّاسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّفرمائے گا :تجھے جو علم عطا ہوا اس کے بارے میں تیرا عمل کیسا رہا؟ وہ عرض کرے گا :اے میرےرب عزَّوَجَلَّ! میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قراٰن کی تلاوت کی۔اللہ عزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا:تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص عالِم ہے اور تو نے قراٰن اس لئے پڑھا تاکہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے، یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی ،پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا شخص وہ ہوگا جسےاللہ عزَّوَجَلَّنے بہت وُسعت اور کثیر مال عطا کیا تھا،اللہ عزَّوَجَلَّاسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّفرمائے گا: تو نے اس کے شکر میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب میں نے کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس میں تجھے خرچ کرنا پسند ہو اور میں نے تیری رضا کے لئے خرچ نہ کیا ہو۔اللہ عزَّوَجَلَّفرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے: فلاں شخص بہت سخی ہے پس (دنیا میں)کہہ لیا گیا، پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار،ص ۱۰۵۵، حدیث :۱۹۰۵)حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی گِریَہ وزَارِیجب یہ حدیث ِپاک حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہَرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے بیان کی گئی توآپ اتنا روئے اتنا روئے ،قریب تھا آپ کی رُوح پرواز کر جاتی، پھر فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّنے سچ فرمایاہے :مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵)(پ۱۲، ہود :۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان: جودنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے۔ (جامع العلوم والحکم من خمسین۔۔۔الخ، تحت الحدیث الاول،ص۲۷)اللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔معاملہ نہایت تشویشناک ہےمعاملہ نہایت نازک و تشویشناک ہے کہ ریا کار شہید کی جان بھی گئی اور آخرت بھی برباد ہوئی اور بروز قیامت اس سے کہا جائے گاکہ ’’جہاد سے تیرا مقصوداسلام کی سر بلندی نہیں بلکہ اپنی تعریف تھی، لہٰذا دنیا میں تیری خوب واہ واہ ہوگئی اور تجھے تیرے جہاد کا بدلہ دنیا میں مل گیا‘‘ اسی طرح عالِم نے علمِ دین سیکھنے میں کتنی مشقتیں برداشت کیں سب رائیگاں گئیں اور ایسی مصیبت ملی کہ سب سے پہلے جہنم میں نہایت ذِلّت کے ساتھ گھسیٹ کر پھینکا جائے گا، جہنم کی گہرائی آسمان و زمین کے فاصلہ سے کروڑوں گنا زیادہ ہے،اللہ عزَّوَجَلَّکی پناہ! عالِم سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری محنت خدمت دین کے لیے نہ تھی بلکہ عِلْم کے ذریعہ عزت و مال کمانے کے لئے تھی وہ تجھے دنیامیں حاصل ہوگئے اب ہم سے کیا چاہتا ہے ،اسی طرح ریا کار سخی کا حال ہوگا کہ مال بھی گیا اور جہنم کا عذاب بھی مقدَّر ہوا ، اگرچہ عالمِ دین، شہید اورسخی کا مقام بہت بلند ہے لیکن جب نِیَّت میں خرابی ہو تو سرَا سر خسارہ ہے حدیثِ مذکورمیں تینوں کو عمل میں اخلاص نہ ہو نے کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۱۹۱ -۱۹۲، ملخصاً)
اس حدیث پاک کو دیکھتے ہوئے بعض علمائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلامنے اپنی کتابوں میں اپنا نام بھی نہ لکھا اور جنہوں نے لکھا ہے وہ نامْوَری ومشہوری کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی دعا حاصل کرنے کے لیے لکھا۔( مراٰۃُ المناجیح ، ۱/۱۹۱ )
اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے مُخْلِص بندوں کے صَدْقے ہمیں اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ریا کاری کی تباہ کاریوں سے ہماری حفاظت فرمائے ، ہر کام اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّممیرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو
کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی
بُری نِیَّت کے وَبال سے متعلق ایک نہایت ہی عبرتناک اور دل ہلادینے والی حکایت پڑھئے اور اپنے کریم پروردگا ر سے اخلاص کی عظیم دولت کی بھیک مانگئے ! چنانچہ،رِیا کاری کی تباہ کاریحضرتِ سیِّدُنا منصور بن عَمَّا رعَلَیْہ ِرَحْمَۃُ اللہ الغَفَّارارشاد فرماتے ہیں :’’ ایک نہایت عبادت گزار،پابندِ تَہَجُّداور گِرْیَہ وزَارِی کرنے والا شخص میرا بہت مُعْتَقِداور میرے دُکھ سُکھ کا ساتھی تھا۔ وہ اکثر ملاقات کے لئے میرے پاس آیا کرتا تھا۔ پھر کافی دن تک نہ آیا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ شدید بیمار ہے۔ میں اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ اس کا چہرہ سیاہ، آنکھیں نیلی اورہونٹ موٹے ہو چکے ہیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: ’’اے میرے بھائی!لَااِلٰہَ اِلَّا اللہکی کثرت کر! ‘‘اس نے آنکھیں کھولیں اور بمشکل میری طرف دیکھا، پھر اس پر غشی طاری ہو گئی۔ دوسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ۔ تیسری مر تبہ میں نے کہاکہ ’’اگر تو نے کَلِمَۂ طَیِّبَہ نہ پڑھا تو نہ میں تجھے غسل دوں گا، نہ کفن اور نہ ہی تیری نمازِ جنازہ پڑھوں گا۔‘‘یہ سن کر اُس نے آنکھیں کھولیں اور کہا ’’اے میرے بھا ئی منصور! کلمۂ طیبہ اور میرے درمیا ن رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا:’لَا حَوْلَ وَلَا قُوۃ اِلَّابِ اللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم‘‘ کہاں گئیں تیری وہ نمازیں ، وہ روزے اور راتوں کا قیام؟‘‘ :یہ سن کر اس نے بڑی حسرت سے کہا :، میرے وہ اعمالاللہ عزَّوَجَلَّکی رضاکے لئے نہیں تھے، بلکہ میں اس لئے عبادت کیا کرتا تھا تاکہ لوگ مجھے نمازی، روزے داراور تہجدگزار کہیں۔ جب میں تنہائی میں ہوتا توچھپ کر بَرَہْنہ ہو کر شراب پیتااور نافرمانیوں سے اپنے ربعزَّوَجَلَّکا مقابلہ کرتا۔ ایک عرصہ تک گناہوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھرمیں ایساشدید بیمار ہوا کہ بچنے کی امید نہ رہی،میں نے قراٰن پاک منگواکرپڑھنا شروع کیا جب سورۂ یٰس تک پہنچا تو قراٰن کریم کو بلند کرکے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی : ’’اےاللہ عزَّوَجَلَّ! اس قراٰن عظیم کے صَدْقے مجھے شفا عطا فرما، میں آیندہ گناہ نہیں کروں گا۔‘‘اللہ عزَّوَجَلَّنے میری دعا قبول کی اور میں صحتیاب ہو گیا ۔ پھر شیطان لعین نے مجھے میرے رب کریمعَزَّوَجَلسے کیا ہوا عہد بھلا دیا اور میں پھر عرصۂ دراز تک گناہوں میں مشغول رہا ۔ پھر مجھ پر شدید بیماری مُسَلَّط کر دی گئی ۔جب موت کے سائے گہرے ہونے لگے تو میں نے پھر قراٰن کریم کا واسطہ دے کر معافی وصحت کی بھیک مانگی ،میرے کریم پرورد گار نے مجھے پھر شفا عطا فرما دی ۔لیکن میں پھر نفسانی خواہشات اور نافرمانیوں میں پڑگیا ۔میں نے پھر قراٰن پاک منگوا یا اور پڑھنے لگا توایک حرف بھی نہ پڑھ سکا۔ اب میں سمجھ گیا کہاللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیمجھ پر سخت ناراض ہے، میں نے قراٰن کریم ہاتھ میں اٹھا کر عرض کی : ’’یا اللہ عزَّوَجَلَّ! اس مَصْحَف شَرِیف کی عظمت کا صَدْقہ! مجھے اس بیماری سے شفا عطا فرما ۔‘‘ تو میں نے ہاتف ِ غیبی کی یہ آواز سنی ’’جب تجھ پر بیماری آتی ہے تو توبہ کرلیتا ہے، جب تندرست ہوجاتا ہے تو پھر گناہ کرنے لگتا ہے۔شدت مرض میں تو روتا ہے، اور قوت ملنے کے بعد پھر نافرمانیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ کتنی ہی مصیبتوں اور آزمائشوں میں تو مبتلا ہوا مگراللہ عزَّوَجَلَّنے تجھے ان سب سے نجات عطا فرمائی۔ اس کے منع کرنے اور روکنے کے باوجود تو گناہوں میں مُسْتَغْرَق (ڈوبا) رہا اور عرصۂ دراز تک اس سے غافل رہا۔ کیا تجھے موت کا خوف نہ تھا؟ تو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود گناہوں پر ڈَٹا رہا اور تو اپنے اوپراللہ عزَّوَجَلَّکا فضل وکرم بھول گیا ۔ خوفِ خدا سے نہ کبھی تجھ پر کپکپی طاری ہوئی نہ تیرے آنسو بہے۔ کتنی مرتبہ تو نےاللہ عَزَّوَجَلّسے کیا ہوا وعدہ توڑڈالا،بلکہ تو ہر بھلائی کو بھول گیا ۔دنیا ہی میں تجھے بتایا جارہا ہے کہ تیرا ٹھکانا قبر ہے، جو ہر لمحہ تجھے موت کی آمد کی خبر سنا رہی ہے۔‘‘
حضرتِ سَیِّدُنا منصور بن عما رعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! اس کی باتیں سن کر میں زارو قطار روتا ہوا واپس پلٹا ، گھر پہنچنے سے پہلے ہی مجھے خبر ملی کہ اس کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ہماللہ عزَّوَجَلَّسے حُسنِ خا تمہ کی
دعا کرتے ہیں کیونکہ بہت سے روزے دار اور راتوں کو قیام کرنے والے بُرے خاتمے سے دوچار ہو گئے۔(ملخصاًالروض الفائق ص۱۷)تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہپیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ بُری نِیَّت اور رِیا کاری انسان کو کیسی بڑی بڑی آفات میں مبتلا کر دیتی ہے ۔اعمال برباد ہوجاتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّکی رحمت سے دوری ہوجاتی ہے، مرتے وقت اگر کوئی نیک عمل کرنا بھی چاہے تو بسا اوقات اس کی توفیق بھی نہیں ملتی۔ اور انسان حسرت بھری موت مر جاتا ہے ۔ ہمیں خدائے بزرگ وبرتر کی خفیہ تدبیر سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ رو رو کر اپنے گناہوں سے سچی توبہ اورا س توبہ پر استقامت کی دعا کرنی چاہئے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے اور ہر عمل صرف اور صرف اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک اہم مسئلہ : اگر کوئی مسلمان مرتے وقت کلمہ نہ پڑھ سکے یامعاذَ اللہاس کی زبان سے کوئی کفریہ کلمہ نکل جائے پھر بھی اس پر کفر کا حکم نہیں لگا یا جائے گا ہوسکتا ہے کہ موت کی سختی کی وجہ سے اس کی زبان سے ایسے الفاظ بِلا قصد نکلے ہوں۔ دعوت اسلامی کے اِشاعتی ادارے مَکتَبَۃُالمدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلد اول حصہ4 ص 809 پر ہے : ’’مرتے وقتمَعَاذَ اللہاس کی زبان سے کلمہ کفر نکلا تو کفرکاحکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عقل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میں یہ کلمہ نکل گیااور بہت ممکن ہے کہ اس کی بات پوری سمجھ میں نہ آئے کہ ایسی شدت کی حالت میں آدمی پوری بات صاف طور پراداکرلے،دشوارہوتا ہے۔‘‘مَدَنی گلدستہ
’’ اِخلاص‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے اس حد یث ِمبارَکہ اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول(1) انسان کا ظاہر و باطن دونوں درست ہونے چاہئیں کیونکہاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگا ہ میں فیصلے انسان کی باطنی کیفیت کے مطابق ہوتے ہیں۔
(2) سیرت و صورت دونوں ہی شریعت کے مطابق ہونی چاہئیں ،اگرصرف صورت اچھی ہو اورکردار بُرا ہو تب بھی نقصان اور اگر باطنی حالت درست ہو اورظاہری حالت شریعت کے خلاف ہوتب بھی نقصان ۔
(3)بسا اوقات بُری نِیَّت سے نیکیاں کرنے کی وجہ سے انسان کو مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا ۔
(4) توبہ کرنے کے بعد گناہوں سے بالکل دور ہوجانا چاہئے ورنہ بہت بڑے اُخروِی نقصان کاا ندیشہ ہے۔
(5) اگرنِیَّت میں اِخلاص ہو اور پھر لوگ واہ واہ کریں تو اس سے ثواب میں کمی نہیں آئے گی بلکہ یہ تو رب عزَّوَجَلَّ کی طرف سے دُنیَوِی انعام ہے( مراٰۃ المناجیح ، ۱/ ۱۸۱ ) اِمامُ الْمُخْلِصِیْن، سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن ،شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّماور اُن کے صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْنکی آج تک دونوں جہانوں میں واہ واہ ہورہی ہے اور قیامت تک بلکہ اسکے بعدبھی ہوتی رہے گی۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّہے کلام الٰہی میں شمس وضحی تیرے چہرۂ نورفزاکی قسم قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زُلفِ دوتا کی قسم
تیرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا تیری خَلْق کو حق نے جمیل کیا کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا !تیرے خا لقِ حسن و اداکی قسماللہ عزَّوَجَلَّہمیں اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہر عمل اپنی رضا وخوشنودی کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 7