- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 2
حدیث مبارکہ
عَنْ اُمِّ الْمُؤمِنِیْنَ اُمِّ عَبْدِاللہِ عَائِشَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہَاقَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْزُوْجَیْشٌ اَلْکَعْبَۃَ فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم قَالَتْ:قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ!کَیْفَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم وَفِیْہم اَسْوَاقُہم وَمَنْ لَیْسَ مِنْہم ؟ قَالَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم ثُمَّ یُبْعَثُوْنَ عَلٰی نِیَّاتِہم ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ،ہذَالَفْظُ الْبُخَارِي (بخاری،کتاب البیوع،باب ماذکرفی الاسواق، ۲/۲۴، حدیث:۲۱۱۸)
عن ام المؤمنین ام عبداللہ عائشۃرضی اللہ عنہاقالت:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یغزوجیش الکعبۃ فاذا کانوا ببیدائ من الارض یخسف باولہم واخرہم قالت:قلت یارسول اللہ!کیف یخسف باولہم واخرہم وفیہم اسواقہم ومن لیس منہم ؟ قال یخسف باولہم واخرہم ثم یبعثون علی نیاتہم ۔متفق علیہ،ہذالفظ البخاري (بخاری،کتاب البیوع،باب ماذکرفی الاسواق، ۲/۲۴، حدیث:۲۱۱۸)
حدیث ترجمہ
اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ایک لشکر کعبہ معظمہ پرحملہ کرے گاجب وہ ’’بَیْدَاء ‘‘کے مقام پرپہنچے گاتوانکے اگلے پچھلے سب کوزمین میں دھنسا دیا جائے گا،اُمُّ المومنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :’’میں نے عرض کی، یَا رَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانکے اگلے پچھلے سب کیسے دھنسادئیے جائیں گے حالانکہ ان میں سے بعض تودکاندار ہوں گے اورکچھ ان لشکریوں میں سے نہ ہوں گے؟فرمایا:’’انکے اول وآخرکودھنسادیاجائے گاپھروہ اپنی اپنی نیتوں پراٹھائے جائیں گے۔‘‘
شرح حدیث
بُری صُحبت کی نَحُوستعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی’’عُمْدَۃُ الْقَارِی‘‘ میں فرماتے ہیں :’’ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ یہ لشکر خانۂ کعبہ کو ڈھانے کا ارادہ کرے گا پھر انہیں مقامِ ’’بَیْدَائ‘‘ میں دھنسا دیائے گا اور وہ خانہ کعبہ تک پہنچ بھی نہ پائے گا ۔‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب البیوع، باب ماذکرفی الاسواق، ۸/ ۳۹۸، تحت الحدیث:۲۱۱۸)
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبَارِیمیں فرماتے ہیں کہ اُس لشکر میں سے صرف’’شُرَیْد‘‘ نامی شخص زندہ بچے گا جو باقی لوگوں کو اس کی خبر دے گا ۔(فتح الباری،کتاب البیوع،باب ماذکرفی الاسواق، ۵/۲۹۲، تحت الحدیث:۲۱۱۸)عَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ذِی الْجَلَالشرحِ بخاری میں فرماتے ہیں کہ جس نے فتنہ یا مَعْصِیَت (گناہ) میں کسی قوم کا ساتھ دیکر ان کی تعداد بڑھائی ، اسے بھی ان کے ساتھ عذاب دیا جائے گاجبکہ انہیں اس کام پر مجبور نہ کیا گیا ہو۔(شرح ابن بطال، کتاب باب ما ذکر فی الاسواق، ۶/۲۵۰، تحت الحدیث:۲۱۱۸)
شارح بخاری حضرت علامہ سید محمود احمد رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفیوض الباری میں فرماتے ہیں :’’جناب عائشہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْھَا) کے سوال کرنے کامقصدیہ تھاکہ جولوگ خانۂ کعبہ پرچڑھائی کی نِیَّت سے آئیں گے وہ تو مجرم تھے لیکن جن کی یہ نِیَّت نہ ہو بلکہ وہ صرف خرید و فروخت کے لئے آئے ہونگے یا جو مجبور و قیدی ہوں گے اورانہیں زبر دستی لایاگیاہوگاکیاانہیں بھی دھنسادیاجائے گا؟ارشادفرمایا،سب کودھنسادیاجائے گا، مطلب یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو اچھے اور بُرے کی تفریق کئے بغیر سب کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔ اسی طرح ان سب کو بھی عذاب الٰہی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔البتہ بروزِقیامت ہرشخص اپنی اپنی نِیَّت پراٹھایاجائے گا۔‘‘ (ملخصاً فیوض الباری، ۸/ ۹۷ )
معلوم ہواکہ اُخروی معاملات کاتَعَلُّق نِیَّت سے ہے۔دنیامیں جوعمل جس نِیَّت سے کیاگیاآخرت میں اسی کے مطابق جزاوسزاکامعاملہ ہوگاجیساکہ حدیث مذکورمیں اس لشکر کی مُتَعَلِّق ارشادہوا کہ ان میں سے ہرایک کے ساتھ اسکی نِیَّت کے مطابق معاملہ ہو گا۔اس لئے نِیَّت کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ گناہ گاروں کی صحبت باعثِ ہلاکت ہے۔جب گناہ گاروں پرعذابِ الٰہی آتا ہے توان کی صحبت میں رہنے والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اگرچہ وہ گناہ گارنہ ہوں لیکن گناہوں کی نحوست ضروران تک پہنچتی ہے ۔صحبت کابہت اثرہوتاہےفرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ’’مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِیْسِ السُّوْ ءِکَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ وَکِیْرِ الْحَدَّادِ لَا یَعْدَمُکَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْکِ اِمَّا تَشْتَرِیْہِ اَوْ تَجِدُ رِیْحَہٗ وَکِیْرُالْحَدَّادِ یُحْرِقُ بَدَنَکَ اَوْ ثَوْبَکَ اَوْ تَجِدُ مِنْہُ رِیْحًا خَبِیْثَۃً ۔‘‘(بخا ری، کتاب البیوع، باب فی العطّار وبیع المسک، ۲/۲۰، حدیث:۲۱۰۱)
ترجمہ: ’’اچھے اور بُرے ہم نشین کی مِثال ، مشک بیچنے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ،لازمی ہے کہ مشک بیچنے والے سے یا تو تم مشک خریدو گے یا تم اس کی خوشبو پاؤ گے ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا تمہارے کپڑے یا بدن کو جلادے گا یا تم اس سے ناگوار بو پاؤ گے ۔‘‘
عقل مندانسان کوچاہیے کہ ہمیشہ اچھوں کی صحبت میں رہے اوراچھی اچھی نِیتَّیں کر کے اپنی آخرت سنوارے۔ حدیثِ مذکور سے یہ بھی معلوم ہواکہاللہ عزَّوَجَلَّاپنے گھرکی خودحفاظت فرماتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بدبخت نے حَرَمَیْن طَیِّبَیْن کی جانب بُری نظرڈالی وہ زمانے کے لئے عبرت بنادیاگیا۔نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ولادتِ باسعادت سے کئی برس پہلے جب اَبرَہَہ ملعونکَعبۃُ اللہ المُشَرَّفَہکونقصان پہنچانے آیاتواس کاکیساعبرت ناک انجام ہوااس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے۔اَبرَہَہ اوراس کاکَنِیسَہلُغَتِ حبشہ میں ’’اَبْرَہَہ‘‘سفیدچہرے والے کوکہتے ہیں۔اَبرَہَہکی کنیتاَبویَکْسُوْن تھی وہ مذہباً نصرانی تھا۔وہ چھوٹے قداورموٹے جسم کامالک تھا۔ایک مرتبہ اس نے اپنی کسی غلطی کے اِزالے کے لئے اپنے بادشاہاَصْحَمَہبِنْ بَحْرْنَجَاشِیکوتحائف اورنیازمندی کاخط بھیجا۔بادشاہ نے خوش ہوکریمن کی مستقل حکمرانیاَبرَہَہکو دے دی۔اَبرَہَہاس انعامِ شاہی پربہت خوش ہوااوراَراکینِ سلطنت،وُزرا واُمَرا کوجمع کرکے کہا:بادشاہ بہت مرتبے کامالِک ہے، اس نے مجھے معاف کرکے مجھ پربہت بڑااحسان کیاہے،اب کوئی ایسی تجویزبتاؤجس سے بادشاہ کادل اورزیادہ خوش ہو؟سب نے باہم مشورے کے بعدکہا:اے ہمارے سردار!اہلِ عرب کاکعبہ نہایت مُعَظَّم ومُقَدَّس سمجھا جاتا ہے۔پوراعرب اس کی زیارت کوآتاہے،اسی کی وجہ سے اہلِ عرب کوشرافت وبزرگی حاصل ہے حالانکہ وہ توصرف پتھروں کی ایک عمارت ہے،تم بادشاہ کے دِین کے مطابق یمن میں ایک کَنِیْسَہ(عبادت خانہ)تیارکروجس کی بنیادیں ’’زَرْوسِیْم‘‘(سونا وچاندی)کی ہوں اس کی دیوراریں قیمتی جواہرسے آراستہ کی گئی ہوں۔ پھرمختلف ملکوں بالخصوص عرب میں اعلان کرادوکہ جوکوئی اس کَنِیْسَہ کی زیارت کوآئے گااسے سوناوچاندی سے نوازا جائے گالوگ لالچ وحِرص پر اَطراف واَکناف سے اس کی زیارت کوآئیں گے اس کاطواف کریں گے اس طرح بادشاہ کی عزت اَفزائی ہوگی اوروہ تم سے خوش ہوجائے گا۔اَبرَہَہکویہ کفریہ تجویزبہت پسندآئی اس نے کَنِیْسَہ تیارکرایا اورسب ملکوں میں اس کی زِیارت کااعلان کیاجانے لگا۔چنانچہ مختلف ملکوں سے لوگ یمن آنے لگے۔اَبرَہَہ انہیں قیمتی تحائف دینے لگا۔کَنِیسَہ پرگندگیاہل ِعرب کو اَبرَہَہ کی یہ مذموم حرکت بہت ناگوارگزری۔ چنانچہ،قبیلہ بنِی کِنَانَہ کے زُہَیربن بَدر نامی شخص نے پہلے تواس کَنِیْسَہ کی کچھ عرصہ مُجَاوَرَتْاِختِیَارکی پھرموقع پاکراِس میں قضائے حاجت کرکے گندگی اس کی دیوارپرلَیپ کروہاں سے بھا گ آیا۔یہ خبراَطراف واَکناف میں آگ کی طرح پھیل گئی اورلوگ کَنِیْسَہ کے طواف اوراس میں عبادت سےمُتَنَفِّرْ(مُتَ۔نَفْ۔فِرْ)ہوگئے۔اس پراَبرَہَہ کوبہت طَیش آیااس نے’’کَعْبَہ مُعَظَّمَہ‘‘کوڈھانے کی قسم کھائی اورایک بہت بڑالشکرلے کرمَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی جانب روانہ ہوااس کے ساتھ سینکڑوں ہاتھی تھے اورسب سے آگے چلنے والاایک عَظِیْمُ الْجُثَّہْ (بہت بڑی جِسامت والا)ہاتھی تھا جس کانام محمودتھا۔حضرتِ سیِّدُناعَبْدُالمُطَّلِبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکواَبرَہہ کے لشکرکامعلوم ہواتوآپ نے اَبرَہَہ کو تِہَامَہ کے تِہائی مال کی پیش کش کی تاکہ وہ اس بُرے اِرادے سے بازآکرواپس چلاجائے لیکن اس نے انکارکردیا۔کَعْبَہ کے قریب پہنچ کراس نے اپنے ایک خا ص آدمی اَسْوَدْکے ذریعے اہلِ مکہ کے جانورقیدکرالئے۔ان میں 200اُونٹ حضرت عَبْدُالمُطَّلِبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے بھی تھے جوآپ نےحُجَّاجِ کِرَام کے لئے وقف کئے ہوئے تھے۔نورِ مصطفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چمکچناچہ حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ الْمُطَّلِبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُاَبْرَھَہ کی طرف گئے۔ ابرھہ کو آپ کی آمد کی اطلاع دیتے ہوئے اُس کے ایک وزیر انیس سَائِسُ الْفِیْل نے کہا: سیدِقریش اورعِیْرِمَکَّہ(مکہ کے قافلوں ) کا سردار آیاہے جولوگوں کوگھروں میں اوروُحُوش(جنگلی جانوروں )کو پہاڑوں کی چوٹیوں پرکھاناکھلاتاہے۔وہ راست گُفتار، کریم طبیعت،نیک رُو،باسِیادَت وباسَخاوت اور باہَیبَت انسان ہے۔اوراس(کی پیشانی)سے ایسانورچمَکتاہے جو مرعوب کردینے والاہے۔یعنی نورِمصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کی پیشانی میں چمَکتاہے۔(روح البیان، پ۳۰، الفیل، تحت الایۃ:۱، ۱۰/۵۱۳)یہ سن کراَبرَہَہ نے اپنا تخت خوب سجایااوربڑے رُعب سے اس پربیٹھ گیا۔ وہ آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کواپنے ساتھ تخت پربٹھانااپنی کسرِشان سمجھتاتھا۔لیکن جب آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُتشریف لائے تو وہ آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی پیشانی پرنورِمصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چمَک دَمَک دیکھ کربے اختیارتخت سے نیچے اترااورآپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکوتخت پربٹھاکرخودنہایت ادب سے بائیں جانب بیٹھ گیااورآنے کی وجہ دریافت کی۔آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا: ’’میں اپنے اُونٹ لینے آیاہوں۔‘‘اَبْرَہَہ نے کہا:’’میں خانۂ کعبہ کو ڈھانے آیاہوں جوتمہارااورتمہارے باپ داداکامُعَظَّم وَمُحْتَرَممقام ہے۔بڑیتَعَجُّبْ(تَعَجْ۔جُبْ)کی بات ہے کہ تم اُس کے لیے توکچھ نہیں کہتے اوراپنے اُونٹوں کے بارے میں بات کرتے ہو ۔‘‘فرمایا:’’میں اُونٹوں کامالک ہوں اس لئے انہی کے لیے کہتاہوں اورجوکَعْبَۂ مُعَظَّمَہ کامالک ہے وہ خوداس کی حفاظت اُسی طرح فرمائے گا،جیسے پہلے اسے تُبَّعْ اورسَیْف بن ذِی یَزْناورکِسرٰی سے محفوظ رکھا۔‘‘یہ سن کراَبرَہَہ نے طَیش میں آکرکہا:اس کے اونٹ واپس کردو، اب میں دیکھتاہوں مجھ سےکَعْبَہ کوکون بچاتاہے۔
حضرت عَبْدُ المُطَّلِبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُاپنے اونٹ لے کر واپس آگئے اورقریش کوجمع کرکے انہیں مشورہ دیاکہ تم سب پہاڑوں کی گھاٹیوں اورچوٹیوں پرپناہ لے لو۔چنانچہ قریش نے ایساہی کیا۔ پھر حضرت عَبْدُ المُطَّلِبرَضِیَ ا للّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کَعْبَہ مُعَظَّمَہ کے دروازے پرجاکربارگاہِ اِلٰہی میں اسکی حفاظت کی دُعاکی اور اپنی قوم کی طرف چلے گئے(دعا یہ تھی):اِنَّ الْمَرْئَ یُحْمِیْ رَحْلَہٗ فَامْنَعْ حِلَالَکَ لَا یَغْلِبَنَّ صَلِیْبُہم وَمِحَالُہم غَدْوًا مِحَالَکَ(اے اللہ عزَّوَجَلَّ !ہرآدمی اپنے سامان کامحافظ ہوتاہے،تُوبھی اپنے گھرکی حفاظت فرما کہ کل ان کی صلیب اورقوت تیری قوت پرغالب نہ آئے )۔(روح ا لبیان، پ۳۰، الفیل، تحت الایۃ:۱، ۱۰/۵۱۴)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدبااَدَب ہاتھیاَبرَہَہ نے صبح سویرے اپنے لشکرکوتیاری کاحکم دیااورہاتھیوں کوتیارکیالیکن محمودہاتھی نہ اٹھا اسے یمن یادوسری کسی طرف بھی چلاتے توچل پڑتاتھا،جب کَعْبَہ مُعَظَّمَہ کی طرف رخ کرتے توآگے چلنے کے بجائے زمین پربیٹھ جاتا۔اَبرَہَہ نے تنگ آکراِسے شراب پلائی تاکہ نشہ کی وجہ سے اسے سمت معلوم نہ ہواور کعبہ معظمہ کی طرف چل پڑے لیکن شراب پینے کے باوجودبھی وہ اس طرف نہ چلا۔کہاجاتاہے کہ نُفَیْل بِنْ حَبِیْب خَثْعَمِی نے ہاتھی کے کان پکڑکرکہاتھا:اُبْرُکْ مَحْمُوْدُ وَاِرْجِعْ رَاشِدًامِنْ حَیْثُ جِئْتَ فَاِنَّکَ فِیْ بَلَدِ اللہ الْحَرَام۔یعنی:’’اے محمود!گھٹنوں کے بَل بیٹھ یاسیدھاراستہ لے کرجہاں سے آیاہے وہیں چلاجا کیونکہ تواللہ عزَّوَجَلَّکے محترم شہرمیں آیاہے۔‘‘یہ سنتے ہی بااَدب ہاتھی پیچھے ہٹ گیااورحرم شریف کی طرف قدم نہ بڑھائے۔
حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُالمُطَّلِبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُپہاڑپرچڑھ کراَبرَہَہ کے لشکرکودیکھ رہے تھے اسی دوراناللہ عزَّوَجَلَّنے سیاہ پرندے بھیجے جن کی چونچیں سُرخ اورگردنیں سبز اورلمبی تھیں۔یہ پرندے اَبرَہَہ کے لشکرپرچھوٹی چھوٹی کنکریاں گراتے، جسے بھی وہ کنکری لگتی وہ فوراًہلاک ہوجاتاکچھ ہی دیرمیں سارے کاسارالشکرتباہ وبربادہوگیا۔چِیْچَک کی ابتداحضرتِ سیِّدُناعِکْرِمَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایاکہ جسے وہ کنکری لگتی وہ چیچک(یعنی ایسی بیماری جس کی وجہ سےجسم پردانے نکل آتے ہیں)∞میں مبتلاہوجاتا،چیچک کی بیماری سب سے پہلے عرب میں اسی دوران پیداہوئی۔قرآنِ کریم نے اَصحاب فِیل(ہاتھی والوں)∞کے واقعے کویوں بیان فرمایاہے:اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ(۱) اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ(۲) وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ(۳) تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍﭪ(۴) فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠(۵)(پ۳۰،الفیل:۱تا۵)
ترجمۂ کنزالایمان:∞اے محبوب کیاتم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کاکیاحال کیا،کیاان کا داؤں تباہی میں نہ ڈالا،اوران پرپرندوں کی ٹکڑیاں (فوجیں) ∞بھیجیں کہ انہیں کنکرکے پتھروں سے مارتے تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی۔(کھائے ہوئے بھوسے کی طرح)اَ برَہَہ اوراسکےوزیرکاعبرتناک انجاماَبرَہَہ یمن کی طرف بھاگاتواسے ایک گندی بیماری لاحق ہوگئی جس سے اس کاگوشت جھڑنے لگا،یہاں تک کہ جب وہ’’∞صَنْعَاء‘‘∞پہنچاتوچوزے کی طرح ہوچکاتھا۔پھر دل کی جانب سے اس کا سینہ پھٹااور وہ واصلِ جہنم ہوگیا۔بعد ازاں اس کابیٹا’’یَکْسُوْن‘‘تختنشینہوا۔اَبرَہَہ کاوزیر’’∞یَکْسُوْم‘‘∞ان پرندوں کودیکھ کرحبشہ کی جانب بھاگا۔پرندے اس کے ساتھ ساتھ رہے اس نے نَجَاشِی کے پاس پہنچ کرتمام واقعہ سنایاجونہی بات مکمل ہوئی اس پرکنکری گری اوروہ فوراًہلاک ہو گیا۔اس واقعے سے نجاشی کوبہت عبرت حاصل ہوئی۔اَ برَہَہ کے لشکرکی ہلاکت سے لوگوں کے دلوں میں قریش کی عزت وعظمت اورہیبت مزیدبڑھ گئی۔کَنِیسَہکی بربادیوہ کَنِیسَہ جسے اَبرَہَہنےمالِکثیرخرچکرکےکَعْبَۂ مُعَظَّمَہ کی ویرانی کے لئے بنایاتھا،خودایساویران ہواکہ اس کے اردگردبکثرت درندوں ،سانپوں اورجِنّات نے ڈیرے جمالئے،جوکوئی وہاں جاتاجنات اس کے پیچھےپڑجاتے۔ بنوعبَّاس کے پہلے خلیفہ’’سِفَّاح‘‘کے زمانے تک یہی حال رہا،جب اسے اَبرَہَہ کے کَنِیْسَہ کے متعلق بتایاگیاتواس نے اپناعامل یمن بھیجاجس نے کَنِیْسَہ کی بقیہ ماندہ عمارت کوتوڑکرقیمتی جواہرات وسوناچاندی سے مُرَصَّع اینٹیں اور دیگرقیمتی اشیاء کابہت بڑاذخیرہ حاصل کیا۔اس کے بعداس کَنِیْسَہ کانام ونشان بھی باقی نہ رہا۔(روح البیان، پ۳۰، الفیل، تحت الایۃ:۱، ۱۰/۵۱۱تا۵۱۷،ملخصًا)تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ’’اَبْرَہَہ‘‘نے جب حَرَم شریف کونقصان پہنچانے کاعزم کیاتو کیسی ذِلّت ورسوائی کی موت مرااورلوگوں کے لئے قیامت تک عبرت کا نشان بن گیا۔اسی طرح یزیدبدبخت کے ایک لشکرنے حَرَمَیْن طَیِّبَیْن کی بے ادبی کی تواسے بھی عبر ت کانمونہ بنادیاگیا۔مُسْلِم بِنْ عُقْبَہ یَزِیْدِی کاعبرتناک اَنجام۶۳ھمیں یزیدبدبخت نے مسلم بن عقبہ کوبارہ یابیس ہزارکالشکردے کرمَدِینَۂ مُنَوََّرَہ اورمَکَّۂ مُکَرَّمَہزَادَہم ا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاپرحملہ کرنے کے لیے بھیجا، اس بد بخت لشکر نے مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں وہ طوفان برپاکیاکہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ،قتل وغارت گری،گھروں کولوٹااورطرح طرح کے مظالم کابازارگرم کیا،سات سوصحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْنکوشہیدکیااورتابعینرَحِمَہم اللہ الْمُبِیْنوغیرہ کوملاکرکل دس ہزارسے زیادہ مسلمانوں کوشہیدکیا،نوجوانوں کوقیدکرلیااوراسی پربس نہ کیابلکہ ان بدکاروں نے وہاں کی عفت ماب، پاکدامن بیبیوں کوتین دن تک اپنی ہَوس کا نشانہ بنائے رکھا۔سرکاردوعالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضۂ مُقَدَّسَہ کی سخت بے حرمتی کی،مسجدنبوی شریف میں گھوڑے باندھے ان کی لیداورپیشاب منبراطہرپرپڑے،تین دن تک مسجدِنبوی شریف میں لوگ نماز کے لئے حاضرنہ ہوسکے صرف حضرتِ سَیِّدُناسعیدبن مسیبرَحْمَۃُ اللہ تَعاَلٰی عَلَیْہجو اَکابرتابعین میں سے تھے،مجنون بن کروہاں حاضررہے،ظالموں نے انہیں بھی گرفتارکرلیا،لیکن پھردیوانہ سمجھ کرچھوڑدیا،پھرکچھ لشکریوں نے ایک نوجوان کوقیدکرلیاتواس کی بوڑھی ماں مسلم بن عقبہ کے سامنے روپڑی منت سماجت کرتے ہوئے اپنی لختِ جگرکی رہائی کی فریادکی اس ظالم نے اس کے لڑکے کوبلاکرگردن تن سے جداکردی اورسراس کی ماں کی طرف پھینکتے ہوئے کہا: ’’کیاتواپنے زندہ رہنے کوغنیمت نہیں سمجھتی کہ بیٹے کولینے آگئی؟‘‘
اسی طرح ایک اور شخص کو قتل کیاگیاتواس کی ماں ام یزیدبن عبد اللہ بن ربیعہ نے قسم کھائی کہ اگرمیں قدرت پاؤں گی تو مسلم بن عقبہ کو زندہ یامردہ جلاؤں گی،جب وہ ظالم مَدِیْنَۂ مُنَوََّرَہمیں قتل وغارت کے بعدمَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی طرف چلا،تاکہ حضرت سَیِّدُناعبد اللہ بن زبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُاوروہاں کے ان مسلمانوں کاکام تمام کرے جویزیدکے خلاف ہیں تو راستے میں اس بدبخت پرفالج کاحملہ ہوااوریہ موت کے گھاٹ اُترگیا،یزیدکے حکم پرحُصَیْن بِن نُمَیْرکولشکرکاامیربنادیاگیا،مسلم بن عقبہ کووہیں دفن کرکے یہ لشکرآگے بڑھ گیا،جب اس عورت کو مسلم بن عقبہ کے مرنے کاپتہ چلاوہ کچھ آدمیوں کولے کراس کی قبرپرآئی تاکہ اسے قبرسے نکال کرجلائے اوراپنی قسم پوری کرے۔ چنانچہ، قبرکھودی گئی تولوگوں نے دیکھاکہ ایک خوفناک اژدھااس کی گردن سے لپٹاہواہے اوراس کی ناک کی ہڈی کواپنے منہ میں لے رکھاہے،یہ خوفناک منظردیکھ کرسب لوگ بھاگنے لگے اورعورت سے کہا:خدائے قہَّاروجَبّارنے خودہی اسے سزادے دی ہے اورعذاب کافرشتہ اس پرمسلط کردیا،اب تواس کورہنے دے،عورت نے کہا:خداکی قسم!میں اپنی قسم ضرورپوری کروں گی اوراس کوجلاکراپنے دل کو ٹھنڈا کروں گی، عورت کے اصرار پر لوگوں نے مجبورہوکرکہا:’’اچھاپھراسے پیروں کی طرف سے نکالناچاہیے۔‘‘ جب ادھرسے مٹی ہٹائی توپیروں پر بھی ایک اژدھالپٹاہواتھا،لوگوں نے عورت سے کہا کہ اب اسے چھوڑدے اسے یہی عذاب کافی ہے،مگروہ نہ مانی، وضوکرکے دورکعت نمازاداکی اوراللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں یوں دعامانگنے لگی: الٰہی عزَّوَجَلَّ !توخوب جانتاہے اس ظالم پرمیراغصہ محض تیری رضاکے لیے ہے،مجھے یہ قدرت دے کہ میں اپنی قسم پوری کروں اوراس کوجلاؤں ،یہ دعاکرکے اس نے ایک لکڑی سانپ کی دُم پرماری وہ گردن سے اترکرچلاگیاپھردوسرے سانپ کوماری وہ بھی چلاگیا،پھرمسلم بن عقبہ کی لاش کوقبرسے نکال کرجلادیاگیا۔ (خطبات محرم،ص۴۴۰،بحوالہ شام کربلا)؎∞سچ ہے کہ بُرے کام کاانجام بُراہےتُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہمحفوظ سدارکھناشہا!بے ادبوں سے
اورمجھ سے بھی سرْزَدنہ کبھی بے اَدبی ہواٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکعبہ گرتے ہی قیامت قائم ہوجائے گیکعبۃُ اللہ المُشَرَّفَہاللہ عزَّوَجَلَّکی نشانیوں میں سے ایک عظیمُ الشَّان نشانی ہے۔جب تک یہ قائم ہے دنیا باقی ہے جب اس کو گرادیاجائے گاتودنیاتباہ وبربادہوجائے گی اورقیامت بَرپاہوجائے گی۔قربِ قیامت میں ایک بدبخت حبشی خانۂ کعبہ کوگرادے گاجس کے فورًابعدقیامت قائم ہوجائے گی۔(اشعۃ اللمعات، ۲/۴۰۹ )بدبخت حبشیحبیب پَروَردگار،دوعالَم کے مالک ومختاربِاذنِ پَروَردگارغیبوں پرخبردارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیب کی خبردیتے ہوئے ارشادفرمایا:’’چھوٹی پنڈلیوں والاایک حبشی خانہ کعبہ کوگرادے گا۔‘‘ایک روایت ہے کہ’’گویا میں اسے دیکھ رہاہوں کہ وہ کالااورچَوڑی ٹانگوں والاہے،کعبہ کے پتھراُکھاڑاُکھاڑکرپھینک رہاہے ۔‘‘ (بخاری، کتاب الحج، باب ہد م ا لکعبۃ،۱/۵۳۷، حدیث:۱۵۹۵۔۱۵۹۶)
عمدَۃُ ا لقاَرِی شرح بخاری میں ہے :’’ آخری زمانے میں حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے وصال کے بعد جب سِینوں سے قراٰن پاک اُٹھا لیا جائے گا تو اس کے بعد وہ بدبخت حبشی خانۂ کعبہ کو گرائے گا۔‘‘ (عمدۃ ا لقا ری شرح بخا ری، کتاب الحج، باب قولہ تعالٰی جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام، ۷/ ۱۵۶، تحت الحدیث:۱۵۹۱)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمارہے ہیں :’’گویاوہ منظرمیرے سامنے ہے میں اسے دیکھ رہاہوں کہ وہ کعبے کوڈھارہاہے اوراس کاایک ایک پتھرگرارہاہے میں اس کے گرانے کواورپتھروں کے گرنے کو دیکھ رہاہوں اورآواز سن رہاہوں۔‘‘معلوم ہواکہ نگاہِ نبی ہمارے خواب وخیال سے بھی زیادہ قوی ہے کہ اگلے پچھلے واقعات کوملاحظہ فرمالیتی ہے۔ (مراٰۃالمناجیح، ۴/۲۰۴،ملخصاً)مدنی گلدستہ
’’کَعْبَہ ‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول(1)نافرمانوں کی جماعت میں اضافہ کرنے والے بھی عذاب میں گرفتارہوجاتے ہیں۔
(2)ظالموں اورنافرمانوں کی جماعت سے ہم یشہ دوررہناچاہیے کیامعلوم گناہوں کی نحوست سے ان پرکب عذاب آجائے اورنیک وصالح لوگ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔ہمیں ہرحال میںاللہ عزَّوَجَلَّسے ڈرناچاہیے اس کی حکمتیں وہی جانتاہے۔عاجزی واِنکساری اسے بہت پسندہے ہمیں اپنے نیک اعمال پرغروروتکبرنہیں کرناچاہیے وہ قادِرِمُطْلَق ہے جوچاہتاہے کرتاہے اس کے چاہنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔بس ہروقت اس سے عَفووکرم کی بھیک مانگنی چاہیے۔
(3) اللہ عزَّوَجَلَّ نے ہمارے پیارے آقا،احمدِمُجْتَبٰی، مدینے والے مُصْطَفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوغیب کاعلم عطافرمایاہے اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوقیامت تک بلکہ اس کے بعدکے حالات کی بھی خبردی ہے۔
اورکوئی غیب کیاتم سے نِہاں ہوبھلا
جب نہ خداہی چھپاتم پہ کروڑوں درود
(4)بارگاہ الٰہی میں ہرشخص کے ساتھ اس کی نِیَّت کے مطابق معاملہ کیاجاتاہے۔اللہ عزَّوَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں ہرآن اپنامطیع وفرمانبرداررکھے اورہمیشہ اچھوں کی صحبت میں رہنے کی توفیق عطافرمائے!اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عزَّوَجَلَّآج کے اس پُرفِتَن دورمیں تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی ہمیں بہت ہی پیاراسنتوں بھراماحول فراہم کرتی ہے، دین ودنیا کی بھلائی حاصل کرنے کے لئے مدنی ماحول سے وابستہ رہیے اِس کی بَرَکت سےاِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّاعلیٰ اَخلاقی اَوصاف غیرمحسوس طور پر آپ کے کردار کا حصّہ بنتے چلے جائیں گے ۔ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ وہ اپنے شہر میں ہونے والے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وارسنَّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت کرے اورسنَّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ہم راہ سنّتوں بھرا سفر کرے ۔ اِن مَدَنی قافِلوں میں سفر کی بَرَکت سےاِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّاپنے سابِقہ طرزِزندگی پر غوروفکر کا موقع ملے گا اور دل عاقِبت کی بہتری کے لئے بے چین ہوجائے گا ،جس کے نتیجے میں گناہوں پر نَدامت ہوگی اور توبہ کی سعادت ملے گی۔ عاشِقانِ رسول کے ہم راہ مَدَنی قافِلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں فُحش کلامی اور فُضول گوئی کی جگہ لب پردُرُود ِ پاک کا وِرد ہوگا اور زَبان تلاوتِ قراٰن اور ذکرونعت کی عادی بن جائے گی ، غُصّے کی جگہ نرمی، بے صَبری کی جگہ صبر وتحمُّل، تکبُّر کی جگہ عاجِزی اوراِحترامِ مسلم کا جذبہ ملے گا ۔ دنیاوی مال ودولت کے لالچ سے پیچھا چُھوٹے گا اور نیکیوں کی حِرص ملے گی ، الغرض بار بار راہِ خدا میں سفر کرنے والے کی زندَگی میں مَدَنی انقِلاب برپا ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ، اس ضمن میں مدنی ماحول کی برکتوں سے مالامال ایک مدنی بہار ملاحظہ فرمائیے:
مُرادآباد(یوپی،ہند)کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکاخلاصہ ہے:تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کے مشکبارمَدَنی ماحول سے وابَستگی سے قبل میں گناہوں کے سَمُندَرمیں غَرَق تھا۔نَمازوں سے دُوری‘فیشن پرستی اوربے حیائی کی نُحُوستوں میں جکڑاہوا ہونے کے سبب میری زندَگی کے ایّام جو کہ یقینا انمول ہیرے ہیں غفلت کی نَذر تھے۔رُوحانی اَمراض کے علاوہ میں جسمانی اَمراض میں بھی گرفتارتھا۔چنانچِہ، مجھے ناک کی ہڈّی بڑھ جانے کے ساتھ ساتھ دل کی بیماری بھی تھی، جس کی وجہ سے میں کافی اذیَّت کا شکار رہتا تھا۔ بِالآخِرعِصیاں کی تاریک رات کے سیاہ بادَل چَھٹے۔ہُوایوں کہ مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت سنّتوں کی تربیت کیلئے سفرکرنے والے مَدَنی قافلے میں سفرکی سعادت نصیب ہوئی، عاشقانِ رسول کی صُحبت کی بدولت میری زندگی میں مَدَنی اِنقِلاب برپاہوگیااورمیں نے تمام سابِقہ گناہوں سے توبہ کرکے اپنے آپ کوسنّتوں کے راستے پرڈال دیا،اَلْحَمْدُلِلّٰہ عزَّوَجَلَّ یہ بَرَکت بھی نصیب ہوئی کہ مَدَنی قافِلے سے واپَسی پرمیری ناک کی بڑھی ہوئی ہڈّی دُرُست ہوچکی تھی اور کچھ دنوں کے بعدمیرے دل کا مَرَض بھی خَتم ہوگیا۔
دل میں گر درد ہو ڈر سے رُخ زرد ہو پاؤ گے فَرحتیں قافلے میں چلو
ہے شِفا ہی شِفا، مرحبا! مرحبا! آکے خود دیکھ لیں ، قافِلے میں چلو
اللہ کَرَم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوت اسلامی تری دھوم مچی ہواٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 2