- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- حدیث نمبر 12
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم اقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:اِنْطَلَقَ ثَلٰثَۃُ نَفَرٍمِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَتّٰی اٰوَاھُمُ الْمَبِیْتُ اِلٰی غَارٍ فَدَخَلُوْہُ، فَانْحَدَرَتْ صَخْرَۃٌ مِنَ الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَیْہم الْغَارَ، فَقَالُوْااِنَّہُ لَایُنْجِیْکُمْ مِنْ ھٰذِہِ الصَّخْرَۃِ اِلَّا اَنْ تَدْ عُوْااللہَ بِصَالِحِ اَعْمَالِکُمْ۔قَالَ رَجُلٌ مِنْھُمْ :اللہم کَانَ لِیْ اَبَوَانِ شَیْخَانِ کَبِیرَانِ وَکُنْتُ لَا اَغْبِقُ اَھْلًا وَلَا مَالًا فَنَأَی بِیْ طَلَبُ الشَّجَرِ یَوْمًا فَلَمْ اُرِحْ عَلَیْہم ا حَتّٰی نَامَا فَحَلَبْتُ لَھُمَا غَبُوْقَھُمَا فَوَجَدْتُھُمَانَائِمَیْن، فَکَرِھْتُ اَنْ اُوْقِظَھُمَاوَاَنْ اَغْبِقَ قَبْلَھُمَااَھْلًا اَوْ مَالًا، فَلَبِثْتُ وَالْقَدْحُ عَلٰی یَدِیْ اَنْتَظِرُ اِسْتِیْقَاظَھُمَاحَتّٰی بَرَقَ الْفَجْرُ، وَالصِّبْیَۃُ یَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمِیَّ، فَاسْتَیْقَظَا فَشَرِبَاغَبُوْقَھُمَا،اللھُمَّ!اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ ابْتِغَائَ وَجْھِکَ فَفَرِّجْ عَنَّا مَانَحْنُ فِیْہِ مِنْ ھٰذِہِ الصَّخْرَۃِ۔ ‘‘ فَانْفَرَجَتْ شَیْئًا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ الْخُرُوْجَ مِنْہُ،قَالَ الْاٰخَرُ:اللہم إِنَّہُ کَانَتْ لِیْ اِبَْنَۃُ عَمٍّ کَانَتْ اَحَبَّ النَّاسِ اِلَیَّ وَفِیْ رِوَایَۃٍ ’’ کُنْتُ اُحِبُّھَا کَأَشَدِّ مَا یُحِبُّ الرِّجَالُ النساء ‘‘ فَاَردْتُھَاعَلٰی نَفْسِھَا فَامْتَنَعَتْ مِنِّیْ حَتّٰی اَلَمَّتْ بِھَا سَنَۃٌ مِنَ السِّنِیْنَ، فَجَائَتْنِیْ فَاَعْطَیْتُھَاعِشْرِیْنَ وَمِائَۃَ دِیْنَارٍ عَلٰی اَنْ تُخَلِّیَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ نَفْسِھَا فَفَعَلَتْ حَتّٰی اِذَا قَدَرْتُ عَلَیْھَا، وَفِیْ رِوَایَۃٍ ’’ فَلَمَّا قَعَدْتُّ بَیْنَ رِجْلَیْھَا ‘‘ قَالَتْ اِتَّقِ اللہَ وَلَا تَفُضَّ الْخَاتَمَ اِلَّا بِحَقِّہِ فَانْصَرَفْتُ عَنْھَا وَھِیَ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ وَتَرَکْتُ الذَّھَبَ الَّذِیْ اَعْطَیْتُھَا،اللھُمَّ! اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ ابْتِغَائَ وَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنَّامَانَحْنُ فِیْہِ،فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَۃُغَیْرَ اَنَّھُمْ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ الْخُرُوْجَ مِنْھَا۔وَقَالَ الثَّالِثُ:’’اللہم اِسْتَأْجَرْتُ اُجَرَائَ وَاَعْطَیْتُھُمْ اَجْرَھُمْ غَیْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَکَ الَّذِیْ لَہٗ وَذَھَبَ فَثَمَّرْتُ اَجْرَہُ حَتّٰی کَثُرَتْ مِنْہُ الْاَمْوَالُ،فَجَائَ نِیْ بَعْدَ حِیْنَ فَقَالَ یَا عَبْدَ اللہِ اَدِّ اِلَیَّ اَجْرِیْ، فَقُلْتُ:کُلُّ مَاتَرَی مِنْ اَجْرِکَ مِنَ الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِیْقِ، فَقَالَ:یَاعَبْدَاللہِ! لَا تَسْتَھْزِیئْ بِیْ! فَقُلْتُ:لَا اَسْتَھْزِیئُ بِکَ، فَاَخَذَہُ کُلَّہُ فَاسْتَاقَہُ فَلَمْ یَتْرُکْ مِنْہُ شَیْئََا،اللھُمَّ!اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذٰلِکَ ابْتِغَائَ وَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِیْہِ ‘‘ فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَۃُ فَخَرَجُوْا یَمْشُوْنَ۔ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ) ( بخا ری، کتاب الانبیائ، باب حدیث الغار، ۲ / ۴۶۴، حدیث: ۳۴۶۵)
عن ابی عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم اقال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:انطلق ثلثۃ نفرممن کان قبلکم حتی اواھم المبیت الی غار فدخلوہ، فانحدرت صخرۃ من الجبل فسدت علیہم الغار، فقالواانہ لاینجیکم من ھذہ الصخرۃ الا ان تد عوااللہ بصالح اعمالکم۔قال رجل منھم :اللہم کان لی ابوان شیخان کبیران وکنت لا اغبق اھلا ولا مالا فنای بی طلب الشجر یوما فلم ارح علیہم ا حتی ناما فحلبت لھما غبوقھما فوجدتھمانائمین، فکرھت ان اوقظھماوان اغبق قبلھمااھلا او مالا، فلبثت والقدح علی یدی انتظر استیقاظھماحتی برق الفجر، والصبیۃ یتضاغون عند قدمی، فاستیقظا فشرباغبوقھما،اللھم!ان کنت فعلت ذلک ابتغائ وجھک ففرج عنا مانحن فیہ من ھذہ الصخرۃ۔ ‘‘ فانفرجت شیئا لا یستطیعون الخروج منہ،قال الاخر:اللہم إنہ کانت لی ابنۃ عم کانت احب الناس الی وفی روایۃ ’’ کنت احبھا کاشد ما یحب الرجال النساء ‘‘ فاردتھاعلی نفسھا فامتنعت منی حتی المت بھا سنۃ من السنین، فجائتنی فاعطیتھاعشرین ومائۃ دینار علی ان تخلی بینی وبین نفسھا ففعلت حتی اذا قدرت علیھا، وفی روایۃ ’’ فلما قعدت بین رجلیھا ‘‘ قالت اتق اللہ ولا تفض الخاتم الا بحقہ فانصرفت عنھا وھی احب الناس الی وترکت الذھب الذی اعطیتھا،اللھم! ان کنت فعلت ذلک ابتغائ وجھک فافرج عنامانحن فیہ،فانفرجت الصخرۃغیر انھم لا یستطیعون الخروج منھا۔وقال الثالث:’’اللہم استاجرت اجرائ واعطیتھم اجرھم غیر رجل واحد ترک الذی لہ وذھب فثمرت اجرہ حتی کثرت منہ الاموال،فجائ نی بعد حین فقال یا عبد اللہ اد الی اجری، فقلت:کل ماتری من اجرک من الابل والبقر والغنم والرقیق، فقال:یاعبداللہ! لا تستھزیئ بی! فقلت:لا استھزیئ بک، فاخذہ کلہ فاستاقہ فلم یترک منہ شیئا،اللھم!ان کنت فعلت ذلک ابتغائ وجھک فافرج عنا ما نحن فیہ ‘‘ فانفرجت الصخرۃ فخرجوا یمشون۔ (متفق علیہ ) ( بخا ری، کتاب الانبیائ، باب حدیث الغار، ۲ / ۴۶۴، حدیث: ۳۴۶۵)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا اَبو عَبْدِ الرَّحْمٰن عَبْدُ اللہ بن عمر بن خَطَّابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمفرماتے ہیں :’’ میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ گزشتہ زمانے میں تین شخص کہیں جارہے تھے جب رات ہوئی تو پناہ لینے کے لئے ایک غار میں داخل ہوئے اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گری جس نے غار کا منہ بند کردیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا: اس مصیبت سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہاللہ عَزَّوجَلَّکی بارگاہ میں پیش کر کے دعا کریں۔ چنانچہ، ان میں سے ایک نے کہا :یا اللہعزَّوَجَلَّ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے ہو گئے تھے میں ان سے پہلے نہ تو اپنے اہل و عیال کو پینے کے لئے دودھ دیا کرتا تھا نہ ہی اپنے خادموں کو ، ایک دن میں درختوں کی تلاش میں بہت دور نکل گیا جب واپس آیا تو میرے والدین سو چکے تھے میں دودھ لے کر ان کے پاس آیا تو انہیں سویا ہوا پایا میں نے نہ تو انہیں جگانا مناسب سمجھا نہ ہی ان سے پہلے اہل وعیال میں سے کسی کو دینا پسند کیا ،بچے بھوک کی وجہ سے میرے پاؤں میں بِلبِلاتے رہے لیکن میں دودھ کا پیالہ لئے اپنے والدین کے پاس کھڑا رہا، جب صبح ہوئی تو میں نے انہیں دودھ پیش کیا ۔ یا اللہعَزَّوَجَلّ!َ اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما! اس کی دعا سے چٹان کچھ سِرَک گئی ، لیکن ابھی اتنی جگہ نہ بنی تھی کہ وہ نکل سکتے ، پھردوسرے نے کہا: یا اللہعزَّوَجَلَّ! مجھے میرے چچا کی بیٹی لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی ایک روایت میں ہے کہ میں اس سے ایسی شدید محبت کرتا تھا جیسے مرد عورتوں سے کرتے ہیں ،میں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کر دیا ، پھر وہ قحط میں مبتلا ہوئی تو میرے پاس آئی میں نے اس شرط پر اسے 120 دینا ر دیئے کہ وہ میری خواہش پوری کردے ، وہ مجبور تھی تیار ہوگئی ،جب میں اس کے ساتھ تنہائی میں گیا اور اس پر قابو پالیا (ایک روایت میں ہے کہ جب میں اس کی دونوں رانوں کے بیچ بیٹھ گیا) تو اس نے کہا : اللہعزَّوَجَلَّسے ڈر اور ناحق مُہر کو نہ توڑ (یعنی اس برے کام سے باز آجا) یہ سن کر میں نے اسے چھوڑ دیا اورمیں بدکاری سے باز رہا، حالانکہ مجھے اس سے شدید محبت تھی، پھر میں نے ا س سے وہ دینا ر بھی واپس نہ لئے ،یا اللہعزَّوَجَلَّ! اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فر ما !چٹان کچھ اور سَرَک گئی لیکن اب بھی وہ باہر نہ نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا :یا اللہعزَّوَجَلَّ! میں نے کچھ مزدوروں سے کام کروایا اور سب کی مزدوری دے دی لیکن ان میں سے ایک مزدور اُجرت چھوڑ کر چلا گیا، میں نے وہ تجارت میں لگا دی تو اس کی رقم بڑھتی رہی کچھ عرصہ بعد وہ آیااور کہا : اے اللہ عزَّوَجَلَّکے بندے !میری اجرت مجھے دے دے۔ میں نے کہا :یہ اونٹ، گائے، بکری ا ور غلام جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب تمہارے ہیں۔ اس نے کہا: اےاللہ عزَّوَجَلَّکے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا : میں مذاق نہیں کر رہا یہ سب کچھ تمہارا ہی ہے۔ چنانچہ، وہ سب مال لے کر چلا گیا اور کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے اللہعزَّوَجَلَّ!اگر میرا یہ عمل تیری رضا کے لئے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما!پس چٹان ہٹ گئی اوروہ تینوں باہر نکل کر اپنی منزل کی طرف چل دئیے ۔
شرح حدیث
اعمالِ صالحہ کے وسیلے سے دعاعَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہشرحِ بخاری میں اس حدیث ِپاک کے تحت فرماتے ہیں : جو شخص سچی نیت سے اپنے اُن اعمال کے وسیلہ سے دعا مانگے جو اس نے خالص اللہعزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے کئے تھے تو اُمید ہے کہ اس کی دعا قبول ہوگی ، جب غار میں پھنسے لوگوں نے اپنے ان اعمال کے وسیلے سے دعا مانگی جو انہوں نے خالص رضائے الٰہی کے لئے کئے تھے اور انہوں نے امید کی کہ ان کے وسیلے سے غار کا منہ کھل جائے گا، تو اللہعزَّوَجَلَّنے ان کی دعا قبول فرماکر اُن پر فضل فرمایا اور انہیں غار سے نجات دی ۔ لہٰذا جس طرح اُن غار والوں کی دعا قبول ہوئی اسی طرح ہر اس شخص کی دعا قبول ہونے کی امید ہے کہ جو صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لئے عمل کرے ۔(شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب، باب اجابۃ دعاء من بر والدیہ، ۹ /۱۹۳)
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : پریشانی و غم کی حالت اور اِسْتِسْقَاء (بارش) وغیرہ کی دعا مانگتے وقت اعمالِ صالحہ کا وسیلہ پیش کرکے دعا مانگنا مستحب ہے ، اس لئے کہ غار والوں نے ایسا ہی کیا اور ان کی دعا قبول ہوئی اور نبیِّ کریم ،رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہواقعہ غار والوں کی تعریف وفضیلت میں بیان فرمایا۔ اس حدیث پاک میں والدین کے ساتھ حسن سلوک ، حرام کام پر قدرت کے باوجوداس سے بچنا ، امانت کی ادائیگی اوردیگر معاملات میں نرمی برتنے اور اِجارے کے جواز کا بیان ہے، اس حدیث پاک میں کراماتِ اولیا کا ثبوت بھی ہے اور یہ اہل حق کا مذہب ہے ۔ (شرح مسلم للنووی ،کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار باب قصۃ اصحاب الغار والتوسل بصالح الاعمال، ۹/ ۵۶، الجزء السابع عشر)
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :مذکورہ حدیث سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے :
(1)اُمَمِ سابقہ (پچھلی امتوں ) کے واقعات اور ان کے اچھے اعمال کو بطور ترغیب بیان کرنا جائز ہے ،کیونکہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کوئی کلام بھی فائدے سے خالی نہیں ہوتا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غار والوں کا یہ واقعہ امت کی ترغیب کے لئے بیان فرمایا۔
(2) والدین اور بیوی بچوں کا نفقہ واجب ہے اور والدین کا حق دوسرے سب اہل وعیال سے ز یادہ ہے ۔
(3) حالتِ کَرب (دکھ اور مصیبت) میںاللہ عزَّوَجَلَّسے اپنے نیک اَعمال کے وسیلے سے دعا کرنا مستحب ہے جیسا کہ اِسْتِسْقَاء میں کی جاتی ہے ۔
(4) جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ کر لے اور پھر نیک اعمال میں مصروف ہوجائے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔
(5) اور جو برائی کا عَزْمِ مُصَمَّمْ(پکا اِرادہ) کرلے اور پھر رضائے الٰہی کے لئے اس برائی سے باز رہے تو اسے نیکی عطا کی جاتی ہے۔ (ملخصاً عمدۃ القاری ، کتاب البیوع، باب اذا اشتری شیئا لغیرہ …الخ، ۸/۵۲۸، تحت الحدیث:۲۲۱۵)
معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک،پاکدامنی اور مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی ،ان تینوں کا تعلق حُقُوقُ العِبادسے ہے اوریہ ایسی نیکیاں ہیں کہ جن کی برکت سے بڑی بڑی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں ،مصیبت میں پھنسے ہوئے مسافروں نے جب اپنے اِن اعمال کا وسیلہ بارگاہ خدا وندی میں پیش کیا تو انہیں غار کی قید سے نجات مل گئی ۔
قراٰن وحدیث میں ان تینوں اعمال کی بہت زیادہ اہم یت بیان کی گئی ہے۔والدین کے ساتھ حُسنِ سُلُوکغار میں پھنسے مسافروں میں سے ایک نے اپنے والدین کے ساتھ نہایت اچھا سُلُوک کیا تھا،والدین کو اولادپرترجیح دی ان کے آرام کی خاطر ساری رات کھڑے کھڑے گزار دی ،خود بھی بھوکا رہا اور گھر والوں کو بھی والدین سے پہلے دودھ نہ دیا، اس کایہ عمل بارگاہ رَبُّ الْعِزَّت میں ایسا مقبول ہوا کہ ایک بڑی مصیبت ٹلنے کا سبب بنا۔ بوڑھے ماں باپ کو اپنی چھوٹی اولاد پر ترجیح دینا بھی نیکی ہے کہ پہلے ان کی خدمت کرے بعد میں بچوں کو سنبھالے، خیال رہے کہ یہ بچوں پر ظلم نہیں بلکہ ماں باپ کے ادب و احترام کی اعلیٰ ترین مثال ہے، بوڑھے ماں باپ بھی بچوں کی طرح ہوجاتے ہیں جو انہیں تکلیف دے گا اس کی اولاد بڑھاپے میں اس کو تکلیف دے گی یہ خدمت یا ایذا رَسانی نقد سودا ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔والدین کو اُف تک نہ کہو!اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندوں کو والدین کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)‘‘(پ۱۵، اسراء :۲۳۔۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سُلُوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے’’ ہُوں ‘‘ نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن(بچپن) میں پالا۔
مذکورہ آیاتِ مبارکہ کے تحت صدرُ الْافاضِل حضرت علامہ مولاناسید محمد نعیم الدین مرادآبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیفرماتے ہیں : جب والدین پر ضُعْف (کمزوری) کا غلبہ ہو ، اعضاء میں قوّت نہ رہے اور جیسا تو بچپن میں ان کے پاس بے طاقت تھا ایسے ہی وہ آخرِ عمر میں تیرے پاس ناتواں رہ جائیں۔تو کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالنا جس سے یہ سمجھا جائے کہ ان کی طرف سے طبیعت پرکچھ گِرانی ہے ۔نہ انہیں جھڑکنا نہ تیز آواز سے بات کرنا بلکہ کمال حسنِ ادب کے ساتھ ماں باپ سے اس طرح کلام کر جیسے غلام و خادم آقا سے کرتا ہے ۔ان سے بہ نرمی و تواضع سے پیش آ ،اور ان کے ساتھ تھکے وقت میں شفقت و مَحَبَّت کا برتاؤ کر کہ انہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے مَحَبَّت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز انہیں دَرکار ہو وہ ان پر خرچ کرنے میں دَرَیغ (بُخل) نہ کر۔ مدعا یہ ہے کہ دنیا میں بہتر سُلُوک اور خدمت میں کتنا بھی مبالغہ کیا جائے لیکن والدین کے احسان کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے بندے کو چاہئے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُن پر فضل و رحمت فرمانے کی دعا کرے اور عرض کرے کہ یاربّ !میری خدمتیں ان کے احسان کی جزا نہیں ہو سکتیں تو ان پر کرم کرکہ ان کے احسان کا بدلہ ہو ۔
اور پارہ 1سورۃ البقرہ آیت 83کے تحت فرماتے ہیں :والدین کے ساتھ احسان کے طریقے جو مروی ہیں وہ یہ ہیں کہ (1)تہ دل سے ان کے ساتھ محبت رکھے ،(2)رفتار و گُفتَار میں نِشَسْت و بَرخَاسْت (اٹھنے بیٹھنے) میں ادب لازم جانے (3) ان کی شان میں تعظیم کے لفظ کہے،(4) ان کو راضی کرنے کی سعی کرتا رہے،(5) اپنے نفیس مال کو ان سے نہ بچائے،(6) ان کے مرنے کے بعد ان کی وصیتیں جاری کرے،(7) ان کے لئے فاتحہ، صدقات، تلاوتِ قراٰن سے ایصالِ ثواب کرے، (8) اللہعزَّوَجَلَّسے ان کی مغفرت کی دعا کرے، (9)ہفتہ وار ان کی قبر کی زیارت کرے۔ (10)والدین کے ساتھ بھلائی کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر وہ گناہوں کے عادی ہوں یا کسی بدمذہبی میں گرفتار ہوں تو ان کو بڑی نرمی کے ساتھ اصلاح و تقویٰ اور عقیدۂ حقہ کی طرف لانے کی کوشش کرے۔ا لغرض اگر ساری زندگی و الدین کی خدمت کی جائے تب بھی ان کے احسانات کا بدلہ نہیں اتر سکتا ۔مقبول حج کا ثوابخوب ہم دردی اور پیار و محبت سے ماں باپ کا دیدار کیجئے اور دنیا وآخررت کی بے شمار بھلائیوں کے حق دار بن جائیے، ماں باپ کی طرف بنظرِ رحمت دیکھنے کے بھی کیا کہنے!
سر کارِ مدینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ رحمت نشان ہے: جب اولاد اپنے ماں باپ کی طرف رحمت کی نظر کرے! تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے ہر نظر کے بدلے حجِ مَبْرُوْر(یعنی مقبول حج) کا ثواب لکھتا ہے ، صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْواننے عرض کی: اگر چہ دن میں سو مرتبہ نظر کرے! فرمایا:نَعَمْ ! اللہ اَکْبَرُ وَاَطْیَبُیعنی، ہاں ! اللہ عزَّوَجَلَّ سب سے بڑا ہے اوراَطْیَب( یعنی سب سے زیادہ پاک ) ہے۔ (شعب الایمان ، باب فی بر الوالدین، ۶ /۱۸۶، حدیث:۷۸۵۶)زخمی انگلیحضرتِ سَیِّدُنا بَایَزِید بِسْطَامِیقُدِّسَ سِرُّہ النُّوْرَانیفرماتے ہیں : سردیوں کی ایک سخت رات میں میری والدہ نے مجھ سے پانی مانگا، میں آبخورہ (پانی کا برتن) بھرکرآیاتو انہیں نیند آگئی تھی، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا، پانی کا آبخورہ لئے اس انتظار میں ماں کے قریب کھڑا رہا کہ بیدار ہوں تو پانی پیش کروں ، کھڑے کھڑے کافی دیر ہوچکی تھی اور آبخورے سے کچھ پانی گر کر میری انگلی پر جم کر برف بن گیا تھا ۔ بہر حال جب والدۂ محترمہ بیدار ہوئیں تو میں نے آبخورہ پیش کیا، برف کی وجہ سے چپکی ہوئی انگلی جوں ہی آبخورے سے جدا ہوئی اس کی کھال ادھڑ گئی اور خون بہنے لگا ماں نے دیکھ کر پوچھایہ کیا؟ میں نے سارا ماجرا عرض کیا تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی : اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی رہنا ۔ (نزہۃ المجالس، ۱/۲۶۱)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداللہ عزَّوَجَلَّہم اری ،ہمارے والدین کی اور تمام امتِ مُسْلِمَہ کی مغفرت فرمائے ۔ہمیں والدین کی فرمانبرداری کرتے ہوئے ان کی خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
شہا!عطار پر ہر آن رحمت کی نظر رکھنا
میرے ماں باپ پر ہر آن رحمت کی نظر رکھنا
میرے استاد پر ہر آن رحمت کی نظر رکھنا
کریں دن رات یہ سنت کی خدمت یَا رَسُوْلَ اللہ
مدنی التجا:والدین کے حقوق اور ان کی خدمت کی مزید برکتیں جاننے سکے لئے ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے اشاعتی ادارے ’’مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ‘‘ کے مطبوعہ 32 صفحات پر مشتمل رسالے ’’سمندری گنبد‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّوالدین کی خدمت اورادب واحترام کا جذبہ مزیدترقی پائے گا۔پاک دامنی کی بَرکاتجو اپنے آپ کو پاک دامن رکھتے ہوئے اپنی نظر وفکر اورکردارکی حفاظت کرتے ہیںاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں ان کا مرتبہ ومقام بہت اعلیٰ ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّپاک دامن لوگوں کی دعائیں بہت جلد قبول فرماتا ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ مصیبت میں پھنسے مسافروں میں سے ایک شخص اس وقت گناہ سے بچا تھا جب کوئی رکاوٹ نہ تھی لیکن جب خوفِ خدا رکھنے والی مجبور وپارسا لڑکی نے اُسے اللہ عزَّوَجَلَّ َ کا خوف دِلایا تووہ خوف ِخدا کے باعث اپنی اور اس کی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے گناہ سے باز رہا، اللہ عزَّوَجَلَّ کو اس کا یہ عمل ایسا پسندآیا کہ ایک بڑی مصیبت سے نجات کا باعث بنا ۔اَسباب مہیا ہوتے ہوئے گناہ چھوڑنا کمال ہےگناہ نہ کرنا بھی کمال ہے مگر نازک حالات میں گناہ سے باز رہنا بڑا کمال ہے۔ رَبّ تعالیٰ نے قراٰنِ کریم میں اپنے ان مومن بندوں کی تعریف بیان فرمائی ہے جو اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ چنانچہ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵)(پ۱۸، مؤمنون:۵) ترجمۂ کنز الایمان :اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
خوفِ خدا سے گناہ چھوڑنے والوں کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے :وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)(پ۲۷،الرحمٰن :۴۶ )
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
ایک اور جگہ ارشادِباری تعالیٰ ہے :وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱)(پ۳۰،النا زعات:۴۰۔۴۱)
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے۔
ہر مسلمان پر اپنی عزت وعِفَّت کی حفاظت لازم ہے، خدائے بُزُرْگ وبَرتَر مسلمانوں کو اپنی نظروں اور شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتاہے :قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ(پ ۱۸، النور: ۳۰ ۔۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان:مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفا ظت کریں یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔
اس آیت مبارکہ میں پہلے نظروں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ پہلے نظر بہکتی ہے پھر باقی اعضاء گناہ کی طرف مائل ہوتے ہیں ، یہاں پہلے ہی سبب سے روک دیاگیاتاکہ گناہوں کا سلسلہ آگے بڑھ ہی نہ سکے ۔احادیث ِ مبارکہ میں نظروں کی حفاظت کی خاص تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ ،زہر میں بجھا ہوا تیرحضرتِ سَیِّدُناابن مسعو درَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ربّعزَّوَجَلَّسے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بدنگاہی شیطان کے تیرو ں میں سے زہر میں بجھا ہوا ایک تیر ہے ،جو اُسے(یعنی بد نگاہی کو)میرے خوف سے چھو ڑ دے گا میں اسے ایسا ایمان عطا فرماؤں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کریگا۔ (معجم کبیر، ۱۰ /۱۷۳، حدیث:۱۰۳۶۲)
واقعی بد نگاہی شیطان کا ایساکامیاب اور زہریلا تیر ہے کہ بہت سے عابد وزاہد اس سے زخمی ہوکر جہنم میں چلے گئے۔ چنانچہ، منقول ہے کہبدنگاہی بربادیٔ ایمان کا سبب بن گئیایک مؤذن جسے اذان دیتے ہوئے چالیس سال ہو گئے تھے۔ ایک دن اذان دیتے ہوئے اس کی نظر ایک نصرانی عورت پر پڑی تو عقل اوردل جواب دے گئے۔ اذان چھوڑ کراس عورت کے پاس پہنچااور نکاح کا پیغام دیا وہ کہنے لگی: میرا مہرتجھ پر بھاری ہو گا۔ پوچھا: تیرا مہر کیا ہے؟ کہا: دین اسلام چھوڑ کر نصرانی بن جا! (معاذ اللہ)۔ یہ سن کراس بدنصیب نے مرتد ہوکر عیسائی مذہب اختیار کر لیا ۔نصرانی عورت نے کہا کہ میرا باپ گھر کے سب سے نچلے کمرے میں ہے، تو اس سے نکاح کی بات کرلے۔ چنانچہ، جب وہ اترنے لگا تواس کاپاؤں پھسلااور شادی کی تمنادل ہی میں لئے حالتِ کفر میں مر گیا ۔نَعُوْذُ بِ اللہ مِنْ سُوْئِ الْخَاتِمَۃِیعنی ہم برے خاتمے سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ (الروض الفائق، ص ۱۶)
نفسِ بے لگام تَو گُناہوں پہ اُکساتا ہے توبہ توبہ کرنے کی بھی عادت ہونی چاہئےتُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہحرام چیزوں کی طرف نظر کرنابہت بڑی بربادی جبکہ بدنگاہی سے بچنا بہت بڑی سعادت وفضیلت کا باعث ہے۔ چنانچہ،بد نگاہی سے بچنے کی فضیلتحضرتِ سَیِّدُنا مُعَاوِیَہ بِنْ حَیْدَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’تین آنکھیں جہنم نہ دیکھیں گی۔ ایک: وہ آنکھ جس نے را ہِ خدا میں پہرہ دیا ، دوسری :وہ آنکھ جو اللہعزَّوَجَلَّکے خوف سے روئے اورتیسری:وہ آنکھ جواللہ عزَّوَجَلَّکی حرام کردہ چیزوں کی طرف اٹھنے سے رُک جائے ۔‘‘(معجم کبیر، ۱۹ /۴۱۶، حدیث:۱۰۰۳)عبادت کی لذتحضرتِ سَیِّدُنا ابواُمَامَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس مسلمان کی نظر کسی عورت کے حسن پر جاپڑے اوروہ اپنی نگاہ جھکالے تو اللہعزَّوَجَلَّاس کے دل میں عبادت کی لذت عطا فرمائے گا۔‘‘(مسند امام احمد ، مسند ابو امامۃ، ۸ /۲۹۹، حدیث:۲۲۳۴۱)
جو خوش نصیب اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہیں انہیں مالک ِجنت، قاسمِ نعمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجنت کی ضمانت عطا فرمارہے ہیں۔ چنانچہ، منقول ہے کہجنت کی ضمانتشہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ جو مجھے اپنی دوداڑھوں کے درمیان والی چیز(یعنی زبان)اوردوٹانگوں کے درمیان والی چیز(یعنی شرمگاہ)کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتاہوں۔‘‘ (بخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، ۴/۲۴۰، حدیث:۶۴۷۴)
حضرتِ سَیِّدُنا عُبا دہ بن صامِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہسَیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں (۱)جب بات کروتو سچ بولو(۲)جب وعدہ کروتو اسے پوراکرو(۳)جب امانتیں تمہارے سِپُرد کی جائیں تو انہیں اداکردیا کرو(۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو(۵)اپنی نگاہیں نیچی رکھواور(۶)اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔‘‘(یعنی کسی مسلما ن کوتکلیف نہ دو۔)(مستدرک حاکم، کتاب الحدود ، باب من کفر بالرجم …الخ، ۵ /۵۱۳، حدیث:۸۱۳۰)عورتوں کے لئے جنت کتنی آسان !حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،دانائے غُیوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’عورت جب پانچوں نمازیں ادا کرے ،اپنی شرمگاہ کی حفاـ∞ظت کرے اوراپنے شوہرکی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے گی ۔‘‘ (الاحسان، ۶/ ۱۸۴، حدیث: ۴۱۵۱)بے داغ جوانی والا جنتی ہےحضرتِ سَیِّدُنا ابن عبا سرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمفرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ’’ اے قریش کے جوانو! اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، زنا مت کرو ، جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لئے جنت ہے ۔‘‘ایک روایت میں ہے اے قریش کے جوانو! زنامت کرنا کیونکہ جسکی جوانی بے داغ ہو گی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (التر غیب والتر ھیب، الترھیب من الزنا… الخ، ۳/ ۱۹۴، حدیث:۴۰،۴۱)سایۂ عرش ملے گاحضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریر ہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ’’ سات اشخاص ایسے ہیں کہ جس دن عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگااللہ عزَّوَجَلَّانہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا اور پھر ان سات افراد کاذکرفرمایااور ان میں اس شخص کا بھی ذکر کیا جسے صاحب حیثیت خوبصورت عورت گناہ کے لئے بلائے تو وہ کہے کہ میں اللہعزَّوَجَلَّسے ڈرتاہوں۔‘‘ ( بخاری،کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین، ۱/۴۸۰، حدیث:۱۴۲۳)
انسان اگر گناہوں سے بچنے کا پختہ ذہن بنا لے تواللہ عزَّوَجَلَّکی رحمت شامل حال ہوجاتی ہے پھر نہ صرف وہ خود گناہوں سے محفوظ رہتابلکہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی گناہوں سے بچ جاتے ہیں۔ چنانچہ، اس ضمن میں ’’اَحْمَد‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے4حکایات ملاحظہ ہوں۔(1)کِفْل بخشا گیاحضرتِ سَیِّدُناابو عبدالرحمٰن عَبْدُ اللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمفرماتے ہیں کہ اگر میں نے تاجدارِ رسالت،شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ حدیث سات مرتبہ نہ سنی ہوتی تو میں ہرگز تمہیں نہ سناتا لیکن میں نے اس سے بھی زیادہ مرتبہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سناکہ’’ بنی اسرائیل میں ’’ کِفل‘‘ نامی ایک بہت گناہ گار شخص تھا ۔ایک مرتبہ ایک مجبو ر عورت نے اس سے کچھ رقم کا سوال کیا تو اس نے بد کاری کی شرط پر اسے سو دینارد ئیے ۔ جب وہ عورت کے قریب ہو ا تو وہ زور زور سے کانپتے ہوئے رونے لگی، پوچھا :کیوں رورہی ہے؟ کہا: میں نے یہ کام پہلے کبھی نہیں کیا، آج ایک ضرو رت نے مجھے اس بُرے کام پر مجبور کردیا ہے۔یہ سن کرکِفل اس عورت سے دور ہٹ گیااور کہا:جب خوفِ خدا سے تیری یہ حالت ہے ، تومیں تو تجھ سے زیادہ اس سے ڈرنے کا حقدار ہوں ،جا! جورقم میں نے تجھے دی ہے وہ تیری ہے ، اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! آج کے بعد میں کبھی بھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کروں گا۔پھر اسی رات اس کا انتقال ہوگیا۔ صبح اس کے درو ازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی ’’اِنَّ اللہ قَدْ غَفَرَ لِلْکِفْلِ‘‘ ترجمہ: یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ نے کفل کی مغفرت فرمادی۔ تو لو گو ں کواس بات پر بہت تعجب ہوا۔ ‘‘(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب فی صفۃ اوانی الحوض، ۴ / ۲۲۳، حدیث: ۲۵۰۴)(2)سمجھدارو پارسا عورتبصرہ کا ایک مالدارشخص ایک دن اپنے باغ میں گیا تو نوکر کی حسین وجمیل بیوی کو دیکھ اس کی نیت خراب ہوگئی۔اس نے نوکر سے کہاکہ’’ جاؤ! کھجوریں لے آؤ،پھر فلاں فلاں کو بلا لاؤ۔‘‘نوکر کے جاتے ہی مالدار شخص نے اس کی بیوی کواپنے محل میں بلایااور تمام دروازے بندکرنے کا حکم دیا،جب اس نے تمام دروازے بند کردیئے تو پوچھا:’’کیاتمام دروازے بند کردئیے ہیں ؟‘‘سمجھ دار و نیک عورت نے کہا:’’باقی سب تو بند کر دیئے لیکن ایک دروازہ بند نہ کرسکی۔‘‘پوچھا:’’کون سا دروازہ؟‘‘کہا:’’وہ جو ہمارے اورہمارےربّ عزَّوَجَلَّکے درمیان ہے۔‘‘یہ جملہ تاثیر کا تیر بن کر مالدار کے دل میں پیوست ہوگیا،اس نے فوراََاپنے بُرے اِرادے سے توبہ کی اور روتا ہواوہاں سے رخصت ہو گیا۔(عیون الحکایات،ص۲۳۶)(3) عورت سے زیادتی کرنے والے کی توبہمروی ہے کہ ایک شخص کا گزر کسی حسین و جمیل عورت کے پاس سے ہوا۔ اس پر نگاہ پڑتے ہی اس کے دل میں برائی کا ارادہ پیدا ہو گیا وہ اس کے پاس گیا اور اپنے ارادے کا اظہار کیا ۔عورت نے کہا :جو کچھ تو نے دیکھا ہے اس کے دھوکے میں نہ پڑ ، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن مرد پر شیطان سوار رہا حتی کہ اس نے زبردستی عورت پر قابو پا لیا۔ عورت کے ایک طرف آگ کے انگارے پڑے ہوئے تھے اس نے ان پراپنا ہاتھ رکھ دیا حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گیا ۔ جب مرد گناہ سے فارغ ہوا تو اس نے حیرت و تعجب سے پوچھا: یہ تو نے اپناہاتھ کس لیے جلا ڈالا ؟ عورت نے کہا : جب تو نے زبردستی مجھ پر قابو پا لیا تو میں ڈر گئی کہ لذتِ گناہ میں کہیں میں بھی تیری شریک نہ ہو جاؤں اور اس کی وجہ سے مجھے بھی گنہگار ٹھہرا دیاجائے ،پس اسی وجہ سے میں نے اپنا ہاتھ جلانا مناسب خیا ل کیا ۔مرد یہ بات سن کر شرم سے پانی پانی ہو گیا اور ا س نے انتہائی ندامت میں مبتلا ہوتے ہوئے کہا :اگر یہ بات ہے تواللہ عزَّوَجَلَّکی قسم !میں بھی آیندہ کبھی اپنے ربّ عزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کروں گا ۔پھر اس نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی اوراللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت میں مشغول ہو گیا۔ (ذم الھوی، الباب الثانی والثلاثون فی فضل من ذکر ربہ فترک ذنبہ، ص۲۰۵)(4) حضرتِ سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زیارتحضرتِ سَیِّدُنا عبدالرحمن بن زید بن اَسلمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَ کْرَمفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعَطَا بن یَسَار اورحضرت سیِّدُنا سلیمان بن یَسَارعَلَیْہم ارَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارچند رفقاء کے ہم راہ حج کے لئے روانہ ہوئے۔ مقامِ’’اَبْوَائ‘‘پر قافلے نے قیام کیاتو قافلے والے کسی کام سے چلے گئے جبکہ حضرت سیِّدُناعطا بن یَسَارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارسامان کے قریب نماز پڑھنے لگے۔ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ قریبی بستی سے ایک حسین وجمیل عورت آئی اور آپ کو گناہ کی دعوت دینے لگی آپ نے اس سے فرمایا : ’’جا!یہاں سے چلی جا! ‘‘ عورت مسلسل دعوتِ گناہ دیتی رہی اور آپ انکار کرتے رہے۔یہاں تک کہ آپ نے رونا شروع کردیا۔ آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکی گریہ و زاری دیکھ کر وہ بھی رونے لگی ۔ اتنے میں حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارآپہنچے۔ آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکو روتا دیکھ کر وہ بھی رونے لگے ۔پھر شرکائے قافلہ میں سے جو بھی وہاں آتا انہیں دیکھ کر رونا شروع کردیتا۔ پھروہ عورت اپنی بستی کی طرف چلی گئی ۔ دوسرے لوگ بھی ایک ایک کرکے کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔کسی نے بھی حضرتِ سیِّدُنا عَطَاءرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے رُعب وجلال کے سبب اس عورت اور رونے کے متعلق نہ پوچھا ۔
حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان بن یَسَارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارفرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے ہمت کرکے پوچھا: ’’اے میرے بھائی! اس عورت کا کیا قصہ تھا؟‘‘ فرمایا:’’میں تمہیں سارا واقعہ بتاتاہوں لیکن خبردار! جب تک میں زندہ رہوں تم کسی کو نہ بتانا۔‘‘ پھر آپ نے پو را واقعہ سنا یا اور کہاکہ اسی رات مجھے خواب میں حضرتِ سَیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زیارت نصیب ہوئی، میں رونے لگا، حضرتِ سَیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا :’’ تمہیں کس چیز نے رُلایا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی:’’اےاللہ عزَّوَجَلَّکے نبیعَلَیْہِ السَّلام! میرے ماں باپ آپ عَلَیْہِ السَّلام پر قربان! مجھے آپکے قید میں جانے ، حضرتِ سیِّدُنایعقوبعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے جدائی، عزیزِ مصرکی بیوی کے معاملے میں آزمائش میں مبتلا ہونے، آپ کی پاکدامنی اور صبر وشکر پر تعجب ہو رہا ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:’’کیا تجھے اس شخص پر تعجب نہیں ہو رہاجسے ایک دیہاتی عورت کا واقعہ پیش آیا ۔‘‘آپعَلَیْہِ السَّلامکی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ آپعَلَیْہِ السَّلامنے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارنے حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء بن یَسَارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارکی زندگی میں یہ واقعہ کسی کو نہ بتایا۔انکے انتقال کے بعد اپنے گھر والوں کو یہ واقعہ بتایا۔ پھر یہ واقعہ پورے شہر میں مشہورہو گیا ۔ (عیون ا لحکایات، ص۳۸۲)اللہ عزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
ہمارے بزرگانِ دینرَحِمَہم اللہ الْمُبِیْناپنی عزت کی حفاظت کس طرح کیا کرتے تھے انہیں دنیا کی رنگینی گناہ پر آمادہ نہ کرسکتی تھیاللہ عزَّوَجَلَّان کے صدقے ہمیں بھی ہرآن گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیکیوں کی طرف راغب ہونے اور بُرے کاموں سے بچنے کا ذہن بنا نے کے لئے’’دعوت اسلامی‘‘ کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسالے’’باحیانوجوان‘‘کا مطالعہ کیجئےاِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّبہت برکتیں نصیب ہونگی۔
گناہوں سے ہر دم بچا یا الٰہی
مجھے متقی تو بنا یا الٰہیتَوَسُّل (وسیلے) کی برکتیںجومسلمان اپنی کسی خالص نیکی کوبارگاہ ِخداوندی میں وسیلہ بنا کراخلاص سے دعا کرے تو قوی اُمید ہے کہ اللہعزَّوَجَلَّاسکی دعا کو قبول فرمائے گا جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب ان مسافروں نے اپنے خالص اعمال کاوسیلہ پیش کیا توانکی مصیبت دور ہوگئی۔ اگر ہم جیسے گنہگاربندے بھی نیک بندوں کی خالص ومقبول نیکیوں کے وسیلے سے دعا کریں تواللہ عزَّوَجَلَّکی ذات سے اُمید ہے کہ وہ ہم اری حاجات پوری فرمائے گا کیونکہ ان کی نیکیاں بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہیں۔حدیث مذکور میں تَوَسُّل( یعنی وسیلے) کا بیان ہوا لہٰذا تَوَسُّل سے متعلق اہم باتیں ملاحظہ فرمائیے !
توَسُّل کامطلب یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکی محبوب ہستیوں کے ذکر کی برکتیں حاصل کی جائیں کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّان پر رحم فرما تا ہے ۔اولیائے کرام سے تَوَسُّل یہ ہے کہ حاجتوں کے بر آنے کے لئے اور اپنے مَطالِب کے حصول کے لئے انہیںاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں وسیلہ و واسطہ بنایاجائے کیونکہ انہیںاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں ہم اری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے،اللہ عزَّوَجَلَّان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔ (العقائد والمسائل، ص ۱۸)
امام تَقِیُّ الدِّیْن سُبْکِی شافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِیفرماتے ہیں :’’حاجت مند شخص حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مرتبے اور آپکی برکت کے طفیلاللہ عزَّوَجَلَّسے اپنی حاجت طلب کرے، یہ ہر حالت میں جائز ہے، خواہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ولادتِ با سعادت سے پہلے ہو یا ظاہری حیاتِ طیبہ میں یا وصالِ ظاہری کے بعد اور ہر حالت میں اس کے جواز پر احادیث مبارَکہ موجود ہیں۔‘‘(شفاء ا لسقام فی زیا رۃ خیر الانام،الباب الثامن فی التوسل والاستغاثۃ،ص۳۵۸(عرش اعظم پہ لکھا ہمارا نبیاللہ عَزَّوَجَلّکے محبوب ،دانائےغُیُوْب مُنَزَّ ہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جب آدم (عَلَیْہِ السَّلام) نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی :اےاللہ عزَّوَجَلَّ!میں محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے حق کے وسیلے سے دعاکرتا ہوں کہ تو مجھے معاف فرمادے۔تو ارشاد ہوا:’’ اے آدم تو محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو کیسے جان گیا میں نے تو ابھی انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟‘‘عرض کی: ’’اے باری تعالیٰ! جب تو نے مجھے اپنے دست ِقدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے سر اٹھایا ،عرش کے پایوں پر لکھاتھا:’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘پسمیں جان گیا کہ تیرے نام کے ساتھ جس ہستی کا نا م ہے وہ تیرے ہاں مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ارشاد ہو ا :’’ اے آدم!(عَلَیْہِ السَّلام) تو نے ٹھیک کہا، بے شک! محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اب کہ تو نے ان کے حق کا واسطہ دے کر مغفرت چاہی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت کردی اور اگر محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘ (مستدرک حاکم، کتاب آیات رسول اللہ … الخ، باب استغفا رآدم عیلہ السلام…الخ، ۳ / ۵۱۷،حدیث: ۴۲۸۶)
اللہ عزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو وحی فرمائی :اے عیسیٰ (عَلَیْہِ السَّلام) محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر ایمان لاؤ اور اپنی امت سے کہو کہ جو بھی ان کو پائے ان پر ضرور ایمان لائے، اگر محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نہ ہوتے تو میں آدم (عَلَیْہِ السَّلام) کو پیدا نہ کرتا اور اگر وہ نہ ہوتے تو میں جنت اور جہنم کو بھی پیدا نہ کرتا، میں نے عرش کو پانی پر پیدا کیا تو وہ ہلنے لگا، پس میں نے اس پر’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ لکھا تو ٹھہر گیا۔(مستدرک حاکم، کتاب آیات رسول اللہ …الخ، باب کان اجود الناس باالخیر…الخ، ۳ /۵۱۶، حدیث:۴۲۸۵)حیات ِظاہری میں وَسیلہ پکڑناامام تَقِیُّ الدِّیْن سُبْکِی شافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِیفرماتے ہیں :حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں آپ کی ذات والا صفات کو وسیلہ بنانا جائز ہے ، اس کے ثبوت کے لیے وہ روایت کافی ہے جس میں وسیلے کی برکت سے آنکھیں روشن ہوگئیں۔ (ملتقطاًشفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام،الباب الثامن فی التوسل والاستغاثۃ، ص۳۷۰)وسیلے کی برکت سے آنکھیں روشن ہوگئیںحضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن حنیفرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت بابرکت میں ایک نابینا صحابیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُحاضر ہوئے اور عرض کی: یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!دعا فرمائیں کہاللہ عزَّوَجَلَّمیری بینائی پر پڑے ہوئے پردے کو دور فرمادے! آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اگر تم چاہوتومیں تمہارے لئے دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کرو اور صبر تمہارے لئے بہتر ہے ۔ عرض کی: آپ دعافرمادیجئے! نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرو اور یہ دعا مانگو!’’ اللَّھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ وَاَ تَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ اَتَوَجَّہُ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہِ لِتُقْضٰی لِیْ اللھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔‘‘ترجمہ:’’ اےاللہ عزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی محمد مصطفیٰ، نبی رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں ، یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت کے سلسلے میں متوجہ ہوں تاکہ یہ حاجت پوری کی جائے، اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! اپنے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت میرے لئے قبول فرما!‘‘ راوی فرماتے ہیں کہاللہ عزَّوَجَلَّکی قسم! ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص آیا اور وہ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کبھی وہ نابینا تھا ہی نہیں۔(ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی انتظار الفرج۔۔۔ الخ، ۵/۳۳۶، حدیث:۳۵۸۹) (دلائل النبوۃ للبیھقی باب ما فی تعلیمہ الضریر ماکان فیہ شفاؤہ… الخ، ۶/ ۱۶۸)فاطمہ بنت اَسدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے لئے دعائے نبیحضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی شیرِ خداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْمکی والدۂ ماجدہ حضرتِ سَیِّدَتُنافاطمہ بنت اسدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَافوت ہوئیں تو نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس طرح دعا فرمائی ! اےاللہ عزَّوَجَلَّ!میری ماں فاطمہ بنت اسدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکی مغفرت فرما اوراپنے نبی اور مجھ سے پہلے انبیائے کرامعَلَیْہم السَّلَامکے حق کے صَدْقے (وسیلے ) سے ان کی قبر کو وسیع فرما! (معجم کبیر، ۲۴ /۳۵۱، حدیث:۸۷۱)
حضرت سیدنا امام تَقِیُّ الدِّیْن سُبْکِی شافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِیفرماتے ہیں : جس طرح حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات والا صفات سیتوَسُّلجائز ہے اسی طرح ان بزرگوں کے ذریعے بھی توَسُّلجائز و مستحسن ہے جنہیں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے خاص نسبت حاصل ہے ۔(شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام،الباب الثامن فی التوسل والاستغاثہ، ص۳۷۶)وسیلے کی برکت سے بارانِ رحمتاِمام محمد بن اسمٰعیل بُخاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ البَارِیحضرتِ سَیِّدُناانسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت کرتے ہیں کہ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکامعمول تھا کہ جب قحط واقع ہوتا توحضرتِ سَیِّدُنا عَبَّاس بن عبد المطلبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم کے وسیلے سے دعا مانگتے اور یوں عرض کرتے: اےاللہ عزَّوَجَلَّ! ہم تیری بارگاہ میں تیرے نبی کا وسیلہ پیش کرتے تھے اور تو بارش عطا فرماتاتھا اب ہم اپنے نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا کے وسیلے سے دعاکرتے ہیں کہ ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب فرما !راوی فرماتے ہیں کہ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی دعاقبول ہوتی اور لوگوں کو بارش سے سیراب کردیاجاتا۔(بخاری، کتاب الاستسقائ، باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا، ۱/ ۳۴۶ حدیث:۱۰۱۰)
وسوسہ: اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے اس عمل سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعدآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وسیلہ بناناجائز نہیں اگر جائز ہوتا تو آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ حضرت سیِّدُناعباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو وسیلہ کیوں بناتے ؟
وسوسے کا علاج :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے حضرت سیِّدُناعباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو وسیلہ بنانے سے تو یہ بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ حضورنبیِّ کریمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علاوہ اور ہستیوں کوبھی وسیلہ بنانا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ تمام صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْنمیں سے حضرت سیِّدُناعباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو اس لئے خاص کیا گیا تاکہ اہلِ بیت کی عزت وشرافت ظاہر ہو ۔وصالِ ظاہری کے بعد آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وسیلہ بنانا بالکل جائز اور کِبار صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَان سے ثابت ہے۔
چنانچہ، حضرت سیِّدُناامام بَیْہَقِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :وِصال ظاہری کے بعد مشکل کشائیایک مرتبہاَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفارق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے دورِ خلافت میں لوگ قحط میں مبتلا ہوئے توحضرتِ سَیِّدُنا بلال بن حارثرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے شَہَنْشاہِ مدینہ، سُرورِ قلب وسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضۂ مقدسہ پر حاضر ہو کر عرض کی:’’ یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اپنی اُمّت کے لئے بارش کی دعا فرمائیے کیونکہ لوگ ہلاکت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔‘‘خواب میں انہیں رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت نصیب ہوئی تو ارشادفرمایا :’’تم عمر بن خطاب کو ہمارا سلام کہو اور بتاؤ کہ انہیں بارش سے سیراب کیا جائے گا۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا بلال بن حارثرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو یہ خوشخبری سنائی تو وہ رو پڑے اور لوگ بارانِ رحمت سے سیراب ہوگئے ۔ (دلائل النبوہ للبیھقی، ۷/ ۴۷)
70ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیںحضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ پیکرِ اَنوار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’جب کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلے اور یہ کلمات پڑھے تو اللہعزَّوَجَلَّستر ہزار فرشتے مقر رفرماتا ہے جو اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اوراللہ عزَّوَجَلَّاپنے وَجْہِ کریم کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتاہے یہاں تک کہ وہ شخص اپنی نماز پوری کر لے۔(وہ کلمات یہ ہیں :)
’’اللہ م إِنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَایَ فَإِنِّیْ لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِیَاءً وَلَا سُمْعَۃً خَرَجْتُ اِتِّقَاءً سَخَطِکَ وَابْتِغَاءً مَرْضَاتِکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُنْقِذَ نِیْ مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِیْ ذُنُوبِیْ إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ‘‘
ترجمہ: اےاللہ عزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے اس حقْ کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں جو سائلوں کا تجھ پر ہے اور اس حق کے طفیل جوتیری طرف میرے اس چلنے کا ہے کیونکہ میں فخر اور غرور اور لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لئے نہیں چلا بلکہ میں تو تیری ناراضی سے بچنے اور تیری خوشنودی حاصل کرنے نکلا ہوں ،میں تیری بارگاہ میں عرض کرتا ہوں کہ مجھے جہنم کی آگ سے بچا اور میرے گناہ معاف فرما کیونکہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والاہے۔(ابن ماجہ، کتاب المساجد و الجماعات، باب المشی الی الصلاۃ، ۱/۴۲۸، حدیث: ۷۷۸)
اس حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ہر بندۂ مومن سیتَوَسُّل جائز ہے چاہے وہ زندہ ہو یا فوت ہو چکا ہو ، ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضوانکو یہ دعا سکھائی اور اسے پڑھنے کی ترغیب دلائی ہر ذی شعور اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر تَوَسُّلجائز نہ ہوتا تونہ یہ دعاسکھائی جاتی نہ اس کی ترغیب دلائی جاتی ۔
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہےصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
معلوم ہوا کہ نیک بندوں کی حیات ظاہری ا وروصال کے بعد بھی ان کو وسیلہ بنا کر دعا کرنا دعاؤں کی قبولیت کا بہترین ذریعہ ہے۔اللہ عزَّوَجَلَّاپنے نیک بندوں کے وسیلے سے مانگی جانے والی دعاؤں کو بہت جلد قبول فرماتا ہے ۔اگر ہم جیسے گنہگار بھی نیک بندوں اورانکی خالص ومقبول نیکیوں کے وسیلے سے دعا کریں تو اللہ عزَّوَجَلَّ کی ذات سے اُمید ہے کہ وہ ہماری حاجات پوری فرمائے گا کیونکہ ان کی نیکیاں بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہیں ، ہم دعا کرتے ہیں کہ’’ اے ہمارے پاک پرورد گار عزَّوَجَلَّ ! اپنے پیارے نبی، محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقبول سجدوں کا واسطہ ،حضرت ِحُسَین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی پیاری شہادت کا صَدْقہ اور حضور غوث پاکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی اطاعتوں کاواسطہ ہمیں اپنی دائمی رضا ،اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی محبت، اولیائے کرام کا اَدَب اِحترام ، نیک اَعمال پر اِستقامت، تَقْوٰی واِخلاص اوراچھے خاتمے کی دولت سے مالامال فرما!
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدَنی گلدستہ’’ بارہویں شریف ‘‘کی نسبت سے اس حد یثِ مبارکہ اور اس کی وضاحت سے ملنے 12 مدنی پھول
(1) کسی خالص نیکی کوبارگاہ ِخداوندی میں وسیلہ بنا کر دعا کرنا دعا کی قبولیت کا باعث ہے ۔
(2) جو خوشحالی وفراخی میںاللہ عزَّوَجَلَّکو یاد رکھے اللہ عزَّوَجَلَّ مصیبت وپریشانی میں اس کی مدد فرماتا ہے۔مصیبت چاہے کیسی ہی بڑی کیوں نہ ہواللہ عزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس پر تَوَکُّل کرتے ہوئے اُسی سے دعا کرنی چاہئے وہی ہر مصیبت کو ٹالنے والا ہے۔
(3)اِخلاص کی بدولت بڑی بڑی مصیبتیں دور ہوجاتی ہیں ان تینوں مسافروں کی نیکیاں اِخلاص پر مبنی تھیں اس لئے وہ موت کے منہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
(4)والدین کی خدمت کرنا دنیا و آخرت میں باعثِ سعادت ہے، ان کی خدمت کی برکت سے بارگاہ خداوندی میں بہت بلند مقام نصیب ہوتا ہے۔
(5)اپنے بیوی بچوں اور دیگر تمام رشتہ داروں پرماں باپ کوفَوْقِیَّت ( ترجیح)دینی چاہئے۔
(6)والدین کا جتنا بھی ادب واحترام کیا جائے ان کے احسانات کا بدلہ نہیں اتر سکتا ۔
(7)باوجود قدرت محضاللہ عزَّوَجَلَّکے خوف کی وجہ سے بدکاری سے باز رہنا بہت بڑی نیکی ہے ،اللہ عزَّوَجَلَّایسے بندوں پر خصوصی کرم فرماتا ہے۔
(8) گناہ نہ کرنا بھی کمال ہے لیکن گناہ کے سب اسباب مہیا ہونے کے باوجود گناہ سے بچنابہت بڑاکمال ہے ۔
(9)اگر گناہ سے بچنے کا پختہ ذہن ہو تواللہ عزَّوَجَلَّگناہ سے بچنے کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔
(10)دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی نیکی کی دعوت بہت جلد اثرکرتی ہے اور پتھر دلوں کوبھی موم کردیتی ہے۔
(11) امانت کی ادائیگی میں حُسنِ سُلُوک کا مظاہرہ کرنا ،مصیبتوں کے ٹَل جانے کا سبب ہے۔مزدوروں کی پوری پوری اجرت اداکردینابہت ضروری ہے اگر کوئی مزدور اپنی اجرت چھوڑ کر چلاجائے پھر کچھ عرصہ بعد مطالبہ کرے تو حُسنِ سُلُوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اجرت دینا ضروری ہے ۔
(12)غریبوں اورمزدوروں کے ساتھ بھلائی کرنا بہت عظیم نیکی ہے۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں والدین کی اطاعت وفرمانبرداری،اپنی عِصمت کی حفاظت ، لوگوں کے حقوق کی ادائیگی، امانت وتقویٰ اور اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے ، ہر کام اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭∞حاسد کب خوش ہوتا ہے؟حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : میں ہر شخص کو راضی کرسکتا ہوں سوائے ا س شخص کے جو میری کسی نعمت سے حسد کرتا ہے کیونکہ وہ اسی وقت راضی ہوگا جب وہ نعمت مجھ سے چھن جائے گی۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۱/۱۱۶)
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 12