Main Icon

باب : اخلاص و نیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 11

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ عَبْدِاللہِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا یَرْوِیْ عَنْ رَبِّہٖ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ: ’’ إِنَّ اللہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ ثُمَّ بَیَّنَ ذٰلِکَ فَمَنْ ہم بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَااللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً،وَإِنْ ہم بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَااللہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ واِنْ ہم بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا کَتَبَہَا اللہُ عِنْدَہُ حَسَنَۃً کَامِلَۃً وَإِنْ ہم بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔
( بخاری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۴ / ۲۴۴ ، حدیث: ۶۴۹۱ ، بتغیر قلیل )

عن ابی العباس عبداللہ بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیما یروی عن ربہ تبارک وتعالی قال: ’’ إن اللہ کتب الحسنات والسیئات ثم بین ذلک فمن ہم بحسنۃ فلم یعملہا کتبہااللہ تبارک وتعالی عندہ حسنۃ کاملۃ،وإن ہم بہا فعملہا کتبہااللہ عشر حسنات إلی سبع مائۃ ضعف إلی اضعاف کثیرۃ وان ہم بسیئۃ فلم یعملہا کتبہا اللہ عندہ حسنۃ کاملۃ وإن ہم بہا فعملہا کتبہا اللہ سیئۃ واحدۃ۔
( بخاری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۴ / ۲۴۴ ، حدیث: ۶۴۹۱ ، بتغیر قلیل )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو الْعَبَّاس عبد اللہ بن عباس بن عبد الْمُطَّلِبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمسے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت،شمعِ بزمِ ہدایت،نَوشَۂ بزمِ جنَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے رَبّ عزَّوَجَلَّ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ بے شکاللہ عزَّوَجَلَّنے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں پھر انہیں بیان فرمادیا ،پس جوکو ئی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کر سکے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کے نامۂ اعمال میں ایک کامل نیکی کا ثواب لکھتا ہے اور اگر اراد ے کے ساتھ عمل بھی کرلے تواللہ عزَّوَجَلَّدس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیوں کا ثواب لکھتا ہے اور جب کوئی برائی کا ارادہ کرے لیکن پھر اس برائی سے باز آجائے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کے لئے ایک کامل نیکی کا ثواب لکھتا ہے اور اگر ارادے کے بعد برائی بھی کر لے تواللہ عزَّوَجَلَّصرف ایک برائی لکھتا ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

بندوں پر خاص کرمعَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہشرحِ بخاری میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ اگراللہ عزَّوَجَلَّکا یہ کرم نہ ہوتا تو کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوتا کیونکہ بندوں کے گناہ ان کی نیکیوں سے زیادہ ہوتے ہیں اور یہاللہ عَزَّوَجلَّکا اپنے بندوں پر خاص کرم ہے کہ وہ ان کی نیکیوں کو بڑھا کر دُگنا( بلکہ کئی گنا) کردیتا ہے اور ان کےگناہوں کو نہیں بڑھاتا اور اس نے نیکی کے ارادے کو بھی نیکی بنادیا ہے، کیونکہ نیکی کا ارادہ کرنا یہ دل کا ایک فعل ہے جوکہ نیکی کا فعل ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس طرح نیکی کا ارادہ دل کا فعل ہے اسی طرح گناہ کا ارادہ بھی تو دل کا فعل ہے لیکن گناہ کے ارادے پر گناہ نہیں ملتا اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو گناہ کے کام سے رُک گیا تو اس نے اپنے گناہ کے ارادے کونیکی کے ارادے سے منسوخ کردیا اور برائی کی خواہش کرنے والے ارادے کی نفی کی تو یہ عمل اس کے دل کے نیک عمل میں سے ہوگیا اور اسی نیک عمل پر اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور یہ حضور اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کی طرح ہے کہ’’ ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔‘‘ عرض کی گئی:’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر مسلمان نیکی نہ کر سکے تو؟‘‘ ارشادفرمایا :’’گناہ سے باز رہنا بھی صدقہ ہے ۔‘‘(شرح بخاری لابن بطال، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ،۱۰/ ۱۹۹، تحت الحدیث:۶۴۹۱)رِضائے الٰہی ضروری ہےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیعمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :’’ جس نے کسی گناہ کا ارادہ کیا اور پھراللہ عزَّوَجَلَّکی رضا کی خاطر اسے چھوڑدیا تو اس کے لئے نیکی لکھی جائے گی اور جس نے مجبوراََ گناہ چھوڑا یعنی اس کے اور گناہ کے درمیان کوئی رکاوٹ آگئی ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے نیکی نہیں لکھی جائے گی ۔ ‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۱۵/ ۵۶۴، تحت الحدیث:۶۴۹۱)نیک نیت پر ملنے والی نیکی بھی کامل ہوتی ہےعَلَّامَہ حَافِظ اِ بْنِ حَجَرعَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفتح الباری میں فرماتے ہیں :حدیثِ مذکور کے ان الفاظ ’’عِنْدَہ کَامِلَۃٌ‘‘میں عِنْدَہ، سے نیکی کی عظمت وشان کی طرف اشارہ ہے جبکہ ’’کَامِلَۃ‘‘ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک ارادے پر ملنے والی نیکی بھی کامل نیکی ہو گی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ حضرت سیِّدُنا عَلَّامَہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :حدیث پاک کے لفظ’’ کَامِلَۃٌ ‘‘سے اس نیکی کی عظمت اور اس کے حکم کی تاکید کی طرف اشارہ ہے ، جبکہ’’سَیِّۃٌ‘‘کیساتھ کَامِلَۃٌ نہیں بلکہ وَاحِدَۃٌ ذکر کیا گیا یعنی برائی کے کام میں صرف ایک ہی برائی لکھی جائے گی زیادہ نہیں۔ حدیث پاک کے حصے’’ کَتَبَھَا اللہ ‘‘سے مراد یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّ فرشتے کو نیکی لکھنے کا حکم دیتا ہے تو وہ نیکی لکھ دیتا ہے۔ اس کی د لیل یہ حدیث قدسی ہے :’’اِذَا اَرَادَ عَبْدِیْ اَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً فَلَا تَکْتُبُوْھَا عَلَیْہِ حَتّٰی یَعْمَلَھَا‘‘ترجمہ: (اللہ عزَّوَجَلَّفرماتا ہے) کہ جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو جب تک کہ وہ گناہ نہ کر لے ۔‘‘ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ فرشتہ بندے کے دل کو جان لیتا ہے ۔ اب یہ جاننا دو طرح سے ہو سکتا ہے یا تواللہ عزَّوَجَلَّاسے مُطَّلع فرمادیتا ہے یا پھر اُسے ایسی طاقت عطا فرما دیتا ہے جس سے وہ دل کے ارادے کو جان لیتا ہے۔ پہلے قول کی تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہے کہ’’ ایک فرشتے کو یہ ندا کی جاتی ہے کہ فلاں کے لئے اتنی اتنی نیکی لکھو!‘‘ فرشتہ عرض کرتا ہے :’’یا ربعزَّوَجَلَّ! اس نے تو یہ عمل کیا ہی نہیں ؟ارشاد ہوتا ہے: ’’ اس نے نیکی کی نیت کی تھی۔‘‘( ایک قول یہ ہے کہ) بندے کے بُرے ارادے پرفرشتے کو بد بو محسوس ہوتی ہے جبکہ اچھے کام کے ارادے پر فرشتے کو خوشبو محسوس ہوتی ہے (اسطرح وہ اچھی بُری نیت کو پہچان لیتا ہے) ۔ (فتح الباری، کتاب الرقاق، باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ، ۱۲/۲۷۶، تحت الحدیث:۶۴۹۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب فرشتے کے علم غیب کا یہ عالَم ہے کہ انسان کے دلی خیالات کو جان لیتا ہے تو حبیب ِپرْوَرْدگار، دوعالَم کے مالک ومختار
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علمِ غیب کا کیا عالَم ہوگا۔
سرِ عرش پرہے تیری گزر دلِ فرش پر ہے تیری نظر
ملکوت و ملک میں کوئی شئے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدنیکیاں اور برائیاں لکھنے سے کیا مراد ہے ؟مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث پاک کے حصے ’’إِنَّ اللہ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ۔ ترجمہ: بے شک!اللہ عزَّوَجَلَّنے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : اس سے مراد یا تو یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے فرشتوں نے نیکیاں اور برائیاں لوحِ محفوظ میں لکھ دیں یا بندے کی تقدیر میں تحریر فرمادیں یا یہ مراد ہے کہ نامۂ اعمال لکھنے والے فرشتے بندے کے نیک وبُرے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳/۳۸۴)اُمتِ محمدِیَہ پر ربِّ کریم کا خاص فضل وکرماُمتِ محمدیہ پر ربِّ کریم کا خاص فضل وکرم ہے۔ اس کے دریائے رحمت کا کوئی کنارہ نہیں۔وہ اپنے بندوں پر ستّر ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ہم گنہگاروں پر اس کا کتنا کرم واحسان ہے کہ وہ ہمیں نیکی کے ارادے پر بھی نیکی عطا فرماتا ہے اور ایک نیکی کے بدلے دس، سات سو بلکہ اس سے زیادہ جتنا چاہتا عطا فرماتا ہے۔ جبکہ گناہ کے ارادے پر گناہ نہیں ملتا بلکہ اس ارادے سے باز آنے پر بھی نیکی عطا فرماتا ہے اور اگر گناہ ہوجائے تو صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اگر وہ یہ کرم نہ فرماتا اور گناہ کے ارادے پر بھی گناہ ملتا یا ایک گناہ کے بدلے بھی کئی گناہ لکھے جاتے تو انسان بہت بڑی مشکل میں پھنس جاتاکیونکہ انسان کے بُرے خیالات اور بُرے اعمال نیک ارادوں اور نیک اعمال سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس کرم کے باوجود بھی جو محروم رہ جائے تووہ واقعی محروم ہے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدانسان کو مختلف قسم کے خیالات آتے ہیں۔ پھرکبھی تویہ خود بخود فوراًہی ختم ہوجاتے،کبھی کچھ وقت کے بعد کسی وجہ سے ختم ہوتے اورکبھی ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ انہیں عملی جامہ پہنا دیا جاتا ہے۔تو ان اچھے برے خیالات پر عذاب وثواب ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے علمائے کرامرَحِمَہم اللہ السَّلَامنے خیالات کی 5قسمیں بیان فرمائی ہیں۔خیالات کی پانچ قِسمیںحضرتِ سَیِّدُنا علامہ احمد صاوِی مالِکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : خیالات پانچ قِسم کے ہیں :
(1) ہَاجِس: اچانک کسی چیز کا دل میں خیال آجانا۔
(2)خَاطِر: دل میں کسی چیز کا بار بار خیال آنا ۔ (3)حدیثِ نَفْس: جس چیز کا خیال دل میں آیا ذہن اس کی طرف راغب ہو اور اس کے حصول کے لئے منصوبہ بنائے۔
(4)ھَمّ: یہ ہے کہ دل میں کسی چیز کا خیال آیاغالب جانب اسے حاصل کرنے کی ہو اورضَرَر ونقصان کے خوف کی وجہ سے مغلوب سا خیال اسے نہ کرنے کا ہو۔
(5)عَزْم:’’جب مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور اپنے نفس کو اس کے حصول پر آمادہ کر کے اس چیز کے حصول کا پختہ ارادہ کر لے تو یہ عزم ہے ۔ ھَاجِس، خَاطِر، حدیثِ نَفْس اور ھَمّ اگر گناہ کا ہو تو مؤ اخذہ نہیں ، ہاں نیکی کے ھمّ میں اجر ہے اور عَزْم اگر گناہ کا ہے تواس پر مواخذہ ہے اگرچہ گناہ نہ کر سکے۔اسی طرح نیکی کے عَزْمپر ثواب ہے اگرچہ کسی وجہ سے نیکی نہ کر سکے۔ (حاشیۃ الصاوی، پ۳ ، البقرۃ، تحت الایۃ: ۲۸۵، ۱/۲۴۳ )
اِن پانچ مراتب کو اس مثال سے سمجھئے مثلاََ ’’کسی کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ وہ چوری کرے تو یہ خیال ھَاجِس ہے، اگر یہ خیال بار بار آئے تو خَاطِر ہے، جب اس کا ذہن چوری کی طرف مائل ہوجائے اور وہ یہ منصوبہ بنائے کہ فلاں مکان میں چوری کرنی ہے ،اس کی فلاں دیوار توڑنی ہے، فلاں راستے سے واپس آنا ہے وغیرہ تو یہ حَدیثِ َنفْس ہے اور جب وہ چوری کا اِرادہ کر لے اور غالب جانب چوری کرنے کی ہو لیکن مغلوب گمان یہ ہو کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں لہٰذا چوری نہ کرنا ہی بہتر ہے، تو یہ ہم ہے اور جب یہ مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور وہ پختہ ارادہ کر لے کہ چوری ضرور کروں گا چاہے پکڑا ہی کیوں نہ جاؤں تو یہ عَزْم ہے۔ پہلے چار مرتبوں پر مواخذہ نہیں جبکہ پانچویں مرتبے یعنی عَزْمپر مواخذہ ہے اگرچہ وہ اپنے عَزْم پر کسی وجہ سے عمل نہ کر سکے، مثلاََ چوری کے عَزْم سے وہ کسی مکان میں داخل ہوا تو معلوم ہو اکہ یہاں تو کچھ ہے ہی نہیں ، لہٰذا واپس آگیا تو اب اسے چوری کا گناہ ملے گاکیونکہ یہ چوری کا پختہ ارادہ کر چکا تھا اگر یہاں مال ہوتا ضرور چوری کرتا ۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہحدیثِ مذکور میں نیکی وگناہ کا ذکر ہوا ،مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننیکی اور گناہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
نیکی و گناہ کی تعریف: نیکی ہر وہ عمل ہے جو ثواب کا باعث ہو اور گناہ ہر وہ عمل ہے جو عذاب کا سبب ہے ۔ لہٰذا ممنوعہ وقتوں میں نماز پڑھنا گناہ ہے اور حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر نمازیں یا جان فِدا کردینا ثواب ہے۔ کبھی قضا نیکی ہوجاتی ہے اور ادا گناہ ۔(مراۃ المناجیح، ۳/۳۸۴) مولائے کائنات مولیٰ مشکل کُشاعلی ا لمرتضٰی، شیرِ خداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیمنے اپنی نمازِ عصر حضورنبی ٔکریم،رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آرام پر قربان کر دی اور یارِ غار، عاشق ِاکبر حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اپنی جان حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قربان کردی۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنان دو واقعوں کو اشعار کی صورت میں یوں بیان فرماتے ہیں :
مولیٰ علی نے وَارِی تِری نیند پر نماز اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خَطَر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جان اُس پہ دے چکے اور حفظِ جاں توجانِ فُروضِ غُرَر کی ہے
ہاں تو نے اُن کو جان اُنہیں پھیر دی نماز پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فَرائض فُروع ہیں اَصْلُ الاُصُول بَندَگی اُس تَاجْوَر کی ہے
ایک ہی نیکی پر مختلف ثواب کیوں ؟سوال :کبھی ایک نیکی پر دس کا ثواب کبھی سات کبھی اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب :اس کی ایک توجیہ یہ ہے کہ ثواب میں یہ فرق عامل کی نیت اورعمل کے موقع ومحل کی وجہ سے ہے۔ جس کے عمل میں جتنا اخلاص زیادہ ہو گا اسے اتنا ہی زیادہ اَجر ملے گا۔ صحابۂ کرام
عَلَیْہم الرِّضْوَانکا سَوا سیر جَو خیرات کرنا ہمارے پہاڑوں برابر سو نا خیرات کرنے سے افضل ہے کیونکہ ان کا اخلاص بہت اعلیٰ درجے کا تھا، انہیں رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قُربت کی عظیم سعادت حاصل تھی،میرے آقا مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحُد ( پہاڑ) جتنا سونا خیرات کرے تو ان( صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَان)کے نہ ایک مُد کو پہنچے نہ آدھے کو۔(بخاری، کتاب المناقب، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا، ۲/ ۵۲۲، حدیث:۳۶۷۳)مُدْ کی مقدار کتنی ہے؟مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’چارمُدْ کا ایک صاع ہوتا ہے اور ایک صاع ساڑھے چار سیر کا، تومُد ایک سیر آدھ پاؤ ہوا، یعنی میرا صحابی قریباً سوا سیر جَو خیرات کرے اور ان کے علاوہ کوئی مسلمان خواہ غوث و قطب ہو یا عام مسلمان پہاڑ بھر سونا خیرات کرے تو اس کا سونا قربِ الٰہی اور قبولیت میں صحابی کے سوا سیر کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہ ہی حال روزہ ،نماز اور ساری عبادات کا ہے، جب مسجد نبوی کی نماز دوسری جگہ کی نمازوں سے پچاس ہزاردرجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔ تو جنہوں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قرب اور دیدار پایا اُن کا کیا پوچھنا اور ان کی عبادات کا کیا کہنا۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح ، ۸/ ۳۳۵)
جس طرح اخلاص کے ساتھ کئے جانے والے عمل کا اجر بڑھ جاتا ہے اسی طرح بعض مقامات اوراوقات بھی ایسے ہیں کہ ان میں کئے گئے نیک اعمال کا وزن بڑھ جاتا ہے ۔
مسجد حرام میں پڑھی جانے والی نمازوں کا ثوابشہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’مسجد حرام میں ایک نَماز پڑھنا ایک لاکھ نَمازیں پڑھنے سے افضل ہے ۔‘‘ (مسند امام احمد، ۵/۴۵۲، حدیث: ۱۶۱۱۷)مسجد نبوی اور اقصٰی میں نیک اعمال کاثوابفرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:’’ میری اس مسجد میں نَماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار نماز یں پڑھنے سے افضل ہے اور میری اس مسجد میں جمعہ ادا کرنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار جمعے ادا کرنے سے افضل ہے اورمیری اس مسجد میں رمضان کا ایک مہینہ گزارنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار ماہ رمضان گزارنے سے افضل ہے۔‘‘(شعب الإیمان، الخامس والعشرین وھو باب فی مناسک الحج، فضل الحج والعمرۃ، ۳/ ۴۸۶، حدیث:۴۱۴۷) سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : آدمی کا اپنے گھر میں نَماز پڑھنا ایک نَماز کے برابر ہے اور محلے کی مسجد میں نَماز پڑھنا پچیس نَمازوں کے برابر ہے اورجامع مسجد میں نَماز پڑھنا پانچ سو نَماز وں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ اور میری مسجد(یعنی مسجد ِ نبوی)میں نَماز پڑھنا پچاس ہزارنَمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نَمازپڑھنا ایک لاکھ نَمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا،باب ماجاء فی الصلاۃ فی المسجد الجامع،۲/ ۱۷۶،حدیث:۱۴۱۳)
ایک روایت میں ہے کہ بَیْتُ الْمَقْدِس میں ایک نَماز پڑھنا عام مساجد میں پانچ سو نَمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔ الترغیب والترہیب، کتاب الحج، باب الترغیب فی الصلاۃ فی المسجد الحرام و مسجد المدینۃ، ۲/۱۴۰، حدیث:۱۰)
نور کے پیکر
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: حضرتِ سَیِّدُناسلیمان بن داؤدعَلَیْہم ا السَّلَام(جب بَیْتُ الْمَقْدِس کی تعمیر سے فارغ ہو ئے توانہوں ) نےاللہ عزَّوَجَلَّسے ایسی بادشاہت کا سوال کیا جو اِن کے بعد کسی اور کو حاصل نہ ہو اور وہ اسکی بادشا ہت کا مَظْہَر ہو او ر یہ سوال کیا کہ اس مسجد میں جو بھی نَماز کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجائے جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘ پھر رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ’’ دو چیزیں تو انہیں عطافرمادی گئیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا فرمادی گئی ہوگی۔‘‘ (مسند امام احمد، ۲/۵۸۹، حدیث:۶۶۵۵، بتغیر قلیل)مسجدِ قُباء میں نماز کا ثوابفرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:’’ مسجد قباء میں ایک نَماز پڑھنا ایک عُمرہ کے برابر ہے۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ماجاء فی الصلاۃ فی مسجد قباء، ۲/۱۷۵، حدیث:۱۴۱۱)فرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:’’ جو اپنے گھر سے نکلے یہاں تک کہ مسجدِ قُبا ء میں آئے پھر اس مسجد میں نَماز پڑھے اسے ایک عمرہ کی مثل ثواب دیا جائے گا ۔‘‘ (مسند امام احمد، ۵/۴۱۱، حدیث:۱۵۹۸۱)ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے احسن طریقے سے وضو کیاپھر مسجدِ قُباء میں داخل ہوکر چار رکعتیں اداکیں تو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الحج، باب الترغیب فی الصلاۃ فی المسجد الحرام و مسجد المدینۃ، ۱/۱۴۲، حدیث:۱۸)
رَبِّ کریم َنے نیکیاں کمانا کس قدر آسان فرما دیا ہے کہیں تو ایسے مقامات کی طرف رہنمائی فرمادی کہ جہاں نماز پڑھنے سے سینکڑوں گنازیادہ نیکیاں ملتی ہیں اور کہیں ایسے اوقات بیان فرمادئیے کہ جن میں نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جاتاہے۔
مُبارَک راتیںنبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس نے عیدین کی راتوں میں ثواب کی اُمید پر قیام کیا(یعنی عبادت کی)،اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن دل مر جائیں گے۔‘‘ ( ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فیمن قام فی لیلتی العیدین، ۲/۳۶۵، حدیث:۱۷۸۲) سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس نے پانچ راتوں کوزندہ کیا اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے، تَرْوِیَہ ،عرفہ او ر قربانی کی رات(یعنی آٹھویں ،نویں اور دسویں ذوالحجہ)اور عید الفطر اورنصف شعبان کی رات۔‘‘ (الترغیب والتر ہیب، کتاب الصوم، باب الترغیب فی صدقۃ الفطر وبیان تاکید ھا، ۲/۹۸، حدیث:۲)فرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم’’جس نے شب ِقدر میں ایمان اورنیت ِ ثواب کے ساتھ قیام کیا اس کے پچھلے گنا ہ بخش دئیے جائیں گے۔‘‘ (بخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب فضل لیلۃ القدر، ۱/۶۶۰، حدیث :۲۰۱۴)ایک روایت میں ہے کہ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الصوم، باب الترغیب فی صیام رمضان احتسابا، وقیام لیلہ …الخ ۲/ ۵۴، حدیث:۲)
شَوَّالُ المُکَرَّم
میں روزے رکھنے کا ثوابشوالُ المکرم کا مہینہ بہت برکتوں والا ہے اس میں بھی اعمال کا ثواب بڑھا دیا جاتاہے ۔چنانچہ، اس ضمن میں 4 فرامین مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ ہوں :
(1) جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ اس کے لئے ساری زندگی روزے رکھنے کے برابرہے۔(مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال …الخ، ص ۵۹۲، حدیث:۱۱۶۴)
(2)
اللہ عزَّوَجَلَّنے ایک نیکی کو دس گنا کردیا، لہٰذا رمضان کا مہینہ دس مہینوں کے برابر ہے اور عید الفطرکے بعدچھ دن پورے سال کے برابر ہیں۔(الترغیب والترہیب ،کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صوم ست من شوال، ۲/۶۷، حدیث:۲)
(3) رمضان کے روزے دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہیں اور اس کے بعد چھ دن کے روزے دومہینوں کے برابر ہیں تو یہ پورے سال کے روزے ہوگئے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صوم ست من شوال، ۲/۶۷، حدیث:۲)
(4)جس نے رمضا ن کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تووہ گناہوں سے ایسے نکل جائیگا جیسے اس دن تھا جس دن اسکی ماں نے اسے جنا تھا ۔(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب فیمن صام رمضان وستۃ ایام من شوال، ۳/۴۲۵، حدیث:۵۱۰۲)عَرَفَہ کے روزے کا ثواب عَرَفہ کی فضیلت پر مشتمل 4 روایات(1)اللہ عزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جو عرفہ (۹ذوالحجۃالحرام) کے دن روزہ رکھتاہے اس کے پے در پے دوسالوں کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔‘‘
(التر غیب والترہیب، کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صیام یوم عرفۃ لمن لم یکن بھا …الخ، ۲/ ۶۸، حدیث:۴)
(2)حضرتِ سَیِّدُنا سَعِیْد بِنْ جُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ عُمَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا:’’ ہم یہ روزہ رکھا کرتے تھے اور رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ ظاہری میں ہم اسے دوسال کے روزوں کےبرابر سمجھتے تھے۔‘‘ (التر غیب والترہیب، کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صیام یوم عرفۃ لمن لم یکن بھا …الخ، ۲/۶۹، حدیث:۸)
(3) نور کے پیکر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ جس نے عرفہ کا روزہ رکھا، اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔‘‘ (مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب صیام یوم عرفۃ، ۳/۴۳۶، حدیث:۵۱۴۲)
(4)اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا کرتے تھے کہ’’ عرفہ کا روزہ ایک ہزار دن کے روزوں کے برابر ہے۔‘‘ (شعب الإیمان، الباب الثالث والعشرون ھو باب فی الصیام، تخصیص یوم عرفۃ بالذکر، ۳/۳۵۷، حدیث :۳۷۶۴)محرم اور شعبان کے روزوں کی فضیلتمُحَرَّمُ الْحَرَام اور شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے مہینے بھی بہت برکتوں والے ہیں ان میں بھی نیک اعمال کا ثواب بہت زیارہ بڑھا دیا جاتا ہے۔چنانچہ، اس بارے میں 5 فرامین مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ فرمائیے:
(1) رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ
عزَّوَجَلَّکے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (مسلم، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، ص۵۹۱، حدیث:۱۱۶۳)(2)فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے اور رَمَضان کے بعد سب سے افضل روزےاللہ عزَّوَجَلَّکے اِس مہینے کے ہیں جِسے تم مُحَرَّم کہتے ہو۔
(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب الصیام فی شہر اللہ المحرم، ۳/ ۴۳۸، حدیث:۵۰ ۵۱)
(3)جس نے عرفہ کے دن کا روزہ رکھا تو یہ اس کے لئے دوسال(کے گناہوں )کاکفارہ ہے اور جس نے محرم کے ایک دن کا روزہ رکھا تواسکے ہر دن کے بدلے اس کے لئے تیس) (30 نیکیاں ہیں۔(معجم کبیر،۱۱/۶۰، حدیث:،۸۲۔۱۱۰۸۱)
(4) جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس میں قیام کیا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھاکرو کیونکہ اللہ
عزَّوَجَلَّغروب شمس سے طلوع فجر تک(اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور طلوعِ فجر تک ارشا د فرماتارہتاہے کہ’’ ہے کوئی مغفرت چاہنے والاکہ اُس کی مغفرت فرماؤں ؟ ہے کوئی رزق کا طلب گا ر کہ اُسے رزق عطا فرماؤں ؟ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت دوں ؟ ہے کوئی ایسا ہے کوئی ویسا؟‘‘(ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، ۲/۱۶۰، حدیث:۱۳۸۸)
(5) حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’میرے پاس جبریل (عَلَیْہِ السَّلام) آئے اور عرض کی: یہ نصف شعبان کی رات ہے اوراللہ عزَّوَجَلَّاس رات میں بَنِی کَلْب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتاہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ اس رات میں مشرک ،بغض رکھنے والے اور قطع رحمی کرنے والے اور تکبرکی وجہ سے اپنے تہبند کو لٹکانے والے اور والدین کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔‘‘ (الترغیب والترہیب، کتاب الصیام، باب الترغیب فی صوم شعبان وماجاء فی صیام النبی… الخ، ۲/۷۳،حدیث:۱۱)
سوال:’’ جس طرح ایک نیکی کے بدلے دس، سات سو یا اس سے بھی زیادہ نیکیاں عطا کی جاتی ہیں کیا اسی طرح گناہ بھی بڑھا دیا جاتا ہے ؟‘‘
جواب :’’ہمارے کریم پروردگار
عزَّوَجَلَّکاہم پر بہت بڑا کرم واِحسان ہے کہ ایک گناہ کے بدلے صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتاہے بَڑھایا نہیں جاتا ۔ ہاں کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی نُحُوسَت سے اعمال کے ساتھ ساتھ ایمان بھی برباد ہو جاتا ہے ۔ جیسے ،ذات ِباری تعالیٰ اورانبیائے کرامعَلَیْہم السَّلَامکی شان میں گستاخی کرنا وغیرہ ۔ اس کے علاوہ کچھ مقامات واوقات بھی ایسے ہیں کہ جن میں گنا ہ کرنے کا وبال بہت زیادہ ہے ۔ جیسے رمضان میں اوراسی طرح حرم شریف میں گناہ کا وبال بہت زیادہ ہے۔
انسان اچھی نیت کی وجہ سے دین ودنیا کی سعادتیں پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ بُری نیت سراسر وَبال ہے اس ضمن میں ایک حکایت پیش خدمت ہے:
اچھی اور بُری نیت کا اَثرمنقول ہے کہ ’’دو بھائی تھے، ایک عابد،دوسر افاسق ۔ عابد کی آرزو تھی کہ وہ شیطان کو دیکھے۔ چنانچہ، ایک دن شیطان اس کے پاس انسانی شکل میں آیا اور کہا: ’’افسوس! تو نے اپنی عمر کے چالیس قیمتی سال نفس کو قید اور بدن کومشقت میں ڈال کر ضائع کر دیئے ہیں۔ اب کچھ عیش وعشرت کی زندگی گزار، اپنی نفسانی خواہشیں پوری کرکے کیف وسرور حاصل کر کیونکہ ابھی تیری آدھی عمر باقی ہے بعد میں توبہ کرکے عبادت وریاضت اختیار کر لینا، بے شکاللہ عزَّوَجَلَّبخشنے والا، مہربان ہے۔‘‘ یہ سن کر عابد نے عزم( پختہ ارادہ )کر لیا کہ ’’میں نیچے جاکر اپنے بھائی کے پاس بیس سال عیش وعشرت سے گزاروں گا پھر توبہ کرکے اپنی عمر کے بقیہ بیس سال خوب عبادت کروں گا۔‘‘ چنانچہ، وہ نچلی منزل پرآنے لگا ۔ ادھر اس کے گنہگاربھائی نے اپنے نفس سے کہا: ’’تو نے اپنی عمر کو نافرمانی میں ضائع کر دیا ہے ، تیرا بھائی جنت میں جبکہ تو جہنم میں جائے گا ۔اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم! میں ضرور توبہ کروں گا اور اپنے بھا ئی کے پاس جاکر بقیہ عمر عبادت میں گزاروں گا، شاید! اللہ عزَّوَجَلَّ مجھے بخش دے۔‘‘چنانچہ، یہ توبہ کی نیت(یعنی پختہ ارادے) سے اوپر کی منزل پرچڑھنے لگا راستے میں دونوں کی ملاقات ہوئی اچانک ایک کا پاؤں پھسلا دونوں ایک دوسرے پر گرے اور فوراً ہی دونوں کا انتقال ہوگیا ۔بروزِ قیامت اس عابد کا حشر نافرمانی کی نیت پر ہو گا اور گنہگار کا حشر توبہ کی نیت پرہوگا۔ ( ا لروض الفائق، ص۱۶)مَدَنی گلدستہ
’’جنّت ‘‘کے
3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول(1)نیکی کا ارادہ بھی نیکی ہے اس پر بھی ثواب ہے مگر ثواب اور چیز ہے ادائے فرض اور چیز ، لہٰذا صرف ارادہ کرنے سے فرض ادا نہ ہوگا۔( جیسے کوئی شخص صرف نماز کی نیت کرلے اور نماز نہ پڑھے تو صرف نیت سے اس کا فرض ادا نہ ہوگا بلکہ فرض کی ادائیگی ضروری ہے جب تک فرض ادا نہ کرے گا بری الذمہ نہ ہوگا)۔
(2)گناہ کے خیال (ھَمّ ) اور گناہ کے پختہ ارادے( یعنی عزم ) میں فرق ہے پختہ ارادے پر انسان گنہگار ہوجاتا ہے، یہاں خیالِ گناہ کا ذکر ہے، لہٰذا یہ حدیث اُس حدیث کے خلاف نہیں کہ ’’جب دو مسلمان لڑیں اور ایک مارا جائے تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں کیونکہ مقتول نے بھی قتل کا ارادہ کیا تھا اگرچہ پورا نہ کرسکا‘‘ وہاں گناہ کا عَزْم بِالْجَزْم (یعنی پختہ ارادہ )مرادہے۔
(3)اگرکوئی چوری کرنے کا پختہ ارادہ کرلے مگر موقع نہ پائے تووہ بھی گنہگار ہوگا ، یونہی جو کفر کا پختہ ارادہ کرلے وہ کافر ہوجاتاہے۔ خیالِ گناہ، گناہ نہیں بلکہ بعد میں اس خیال سے توبہ کرلینا نیکی ہے ،البتہ گناہ کا پختہ ارادہ کرلینا گناہ ہے۔
اے ہمارے رحیم وکریم پروردگار عزَّوَجَلَّ ہمیں اچھی و نیک سوچ عطافرما، برے خیالات وبری فکر سے ہم اری حفاظت فرما ۔ ہروقت اپنی اور اپنے پیارے حبیب
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یاد میں گُم رہنے کی سعادت عطا فرما !
محبت میں اپنی گُما یاالٰہی نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی
اور
ایسا گُمادے اُن کی وِلا میں خدا ہم یں
ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم٭٭٭٭٭٭∞

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 11