- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 865
باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 865
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِ يْدَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:مَرّ عَلَيْنَاالنّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا.وَلَفْظُ التِّرْمِذِي:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَ عُصْبَةٌ مِّنَ النِّسَاءِ قُعُوْدٌ فَاَلْوٰى بِيَدِهِ بالتَّسْلِيمِ.
عن اسماء بنت يز يدرضي الله عنها قالت:مر عليناالنبي صلی اللہ علیہ وسلم في نسوة فسلم علينا.ولفظ الترمذي:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مر في المسجد يوما و عصبة من النساء قعود فالوى بيده بالتسليم.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ہم عورتوں کے پاس سے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاگزر ہوا توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سلام کیا ۔ترمذی کے الفاظ یہ ہیں کہ ایک دن نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد سے گزرے تووہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، آپعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے ہاتھ کے اشارے سے انہیں سلام کیا۔
شرح حدیث
تینوں اَحادیث کی شرح:اس باب کی پہلی حدیث پاک میں بیان ہواکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجمعہ کے دن نماز ِجمعہ کے بعد ایک بوڑھی عورت کے پاس آ کر سلام کرتے اور وہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی دعوت کرتی۔ اس سے معلوم ہواکہ ایسی بوڑھی عورت جس سے فتنے کا خوف نہ ہو اسے سلام کرنا جائز ہے۔*دوسری حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اجنبی عورت ایسے غیرمحرم مرد کو سلام کرسکتی ہے جس سے فتنے کا خوف نہ ہو۔جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ ہانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سلام کیا کیونکہ یہاں کسی قسم کے فتنے کا شائبہ تک نہیں بلکہ یہاں تو فتنے دور ہوتے ہیں ، رشد وہدایت کا درس ملتاہے ، گناہوں سے نجات ملتی ہے ، شیطا ن کے شر سے حفاظت ہوتی ہےاوردنیا وآخر ت کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں۔البتہ عام لوگوں کے لئے یہ حکم ہے کہ نہ جوان عورتیں اجنبی مَردوں کوسلام کریں نہ مرد اجنبی عورتوں کو سلا م کریں۔اگر کوئی جوان عورت کسی اجنبی مرد کو سلام کرے تواس کا جواب آواز سے نہ دے بلکہ دل میں دے۔
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”مَحارِم واَزواج پر سلام مطلقا ًہے اور اجنبیات میں جوانوں کو سلام نہ کیا جائے ،بوڑھیوں کو کیا جائے، بلکہ جوانین اگر سلام کریں تو جواب دل میں دیا جائے انھیں نہ سنائے حالانکہ جواب دینا واجب ہے۔“حضرت اُمِّ ہانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا:حدیث مذکور میں حضرت سیدتنا اُمّ ہانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکا ذکر ہے ان کا کچھ تعار ف ملاحظہ فرمائیے: آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکانام فاختہ یا عائلہ ہے۔امیر المومنین حضرت سیدناعلی المرتضیٰ شیرا خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بہن اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چچا زاد ہیں۔آپ ہی کے گھر سےحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومعراج ہوئی،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،حضرت سَیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہکےدور حکومت میں سن51ہجری میں وفات پائی۔اس باب کی تیسری حدیث پاک میں بیان ہواکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسجد نبوی میں بیٹھی ہوئی عورتوں کو سلام کیا۔یہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصیات میں سے ہے ۔عام لوگوں کو اجازت نہیں کہ وہ اجنبی عورتوں کو سلام کریں یا ان کے سلا م کا جواب دیں۔غیر محرم کو سلام کرنے کی کراہت:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اجنبی عورتوں کوسلام کر نا نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ خاص ہے کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ اقدس کسی قسم کے فتنےسے بالاتر ہے۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علاوہ کسی مرد کاغیر محرم عورت یا کسی عورت کا غیر محرم مرد کو سلام کرنا مکروہ ہے ۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”اجنبی عورتوں کو سلام کرنا حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خصوصیات سےہے،ہم لوگ اجنبی جوان عورتوں کو نہ توسلام کریں نہ ان کے سلام کا جواب دیں۔ہاں اپنی محرم عورتوں یا بچیوں یا بوڑھی عورتوں کو سلام جائز ہے۔“ہاتھ سے سلام کرنے کی ممانعت کا جواب:سوال:احادیث مبارکہ میں تو انگلیوں سے سلام کو یہودیوں کا اور ہتھیلی سے سلام کو نصاری کا طریقہ کہا گیا ہےجبکہ ترمذی کی حدیث میں واضح موجود ہے کہ خود شارععَلَیْہِ السَّلَامنے ہاتھ کے اشارے سے سلام فرمایا ؟
جواب :جن احادیث میں ہتھیلیوں اور انگلیوں سے سلام کو یہود و نصاری کا طریقہ بتایا گیا ہے، وہاں مراد فقط ہاتھ کے اشارےسے سلام کرنا ہے اس طرح کہ زبان سے سلا م کے الفاظ ادا نہ کئے جائیں جبکہ یہاں ایسا معاملہ نہ تھا بلکہ نبی مکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مناسب آوازسے سلام کے الفاظ کہےلیکن فاصلہ زیادہ تھا ، آواز ان عورتوں تک نہ پہنچ سکتی تھی اس لئےسلام کا اظہار کرنے کے لئے دستِ اقدس سے بھی اشارہ فرمایا۔مدنی گلدستہ’’ جنت البقیع‘‘کے9حروف کی نسبت سےاحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) اجنبی عورتوں کو سلام کرنا حضورِانورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےلئےخاص ہےکیونکہ وہاں کسی فتنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
(2) کسی عام مرد کاغیر محرم جوان عورت کو سلام کرنا یا کسی جوان عورت کا غیرمحرم جوان مرد کو سلام کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہاں فتنے کاخوف ہے ۔
(3) بارگاہِ رسالت سے رُشد وہدایت ملتی ہے، گناہوں سے نجات،شیطا ن کے شر سے حفاظت اور دنیا وآخر ت کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں ۔
(4) مرد کا اپنی محرم عورتوں یا بچیوں یا بوڑھی عورتوں کو سلام جائز ہے۔
(5) اجنبی عورت ایسے غیر محرم شخص کو سلام کرسکتی ہے جس سے فتنے کا خوف نہ ہو۔
(6) جوان عورت اگر اجنبی غیر محرم مرد کو سلام کرے تو اس کا جواب آواز سے دینا منع ہے دل میں جواب دیا جائے ۔
(7) سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانہایت ہی نیک پارسا صحابیہ تھیں۔امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضٰی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بہن اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چچا زاد ہیں۔
(8) جوتہبند باندھے غسل کر رہا ہواسےسلام کرناجائز ہے۔
(9) غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کرغسل کرنا چاہیے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے گھروالوں کو سلام کرنے کا عادی بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 865