Main Icon

باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 865

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِ يْدَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:مَرّ عَلَيْنَاالنّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا.وَلَفْظُ التِّرْمِذِي:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَ عُصْبَةٌ مِّنَ النِّسَاءِ قُعُوْدٌ فَاَلْوٰى بِيَدِهِ بالتَّسْلِيمِ.

عن اسماء بنت يز يدرضي الله عنها قالت:مر عليناالنبي صلی اللہ علیہ وسلم في نسوة فسلم علينا.ولفظ الترمذي:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مر في المسجد يوما و عصبة من النساء قعود فالوى بيده بالتسليم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ہم عورتوں کے پاس سے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاگزر ہوا توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سلام کیا ۔ترمذی کے الفاظ یہ ہیں کہ ایک دن نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد سے گزرے تووہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، آپعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے ہاتھ کے اشارے سے انہیں سلام کیا۔

شرح حدیث

تینوں اَحادیث کی شرح:اس باب کی پہلی حدیث پاک میں بیان ہواکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجمعہ کے دن نماز ِجمعہ کے بعد ایک بوڑھی عورت کے پاس آ کر سلام کرتے اور وہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی دعوت کرتی۔ اس سے معلوم ہواکہ ایسی بوڑھی عورت جس سے فتنے کا خوف نہ ہو اسے سلام کرنا جائز ہے۔*دوسری حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اجنبی عورت ایسے غیرمحرم مرد کو سلام کرسکتی ہے جس سے فتنے کا خوف نہ ہو۔جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ ہانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سلام کیا کیونکہ یہاں کسی قسم کے فتنے کا شائبہ تک نہیں بلکہ یہاں تو فتنے دور ہوتے ہیں ، رشد وہدایت کا درس ملتاہے ، گناہوں سے نجات ملتی ہے ، شیطا ن کے شر سے حفاظت ہوتی ہےاوردنیا وآخر ت کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں۔البتہ عام لوگوں کے لئے یہ حکم ہے کہ نہ جوان عورتیں اجنبی مَردوں کوسلام کریں نہ مرد اجنبی عورتوں کو سلا م کریں۔اگر کوئی جوان عورت کسی اجنبی مرد کو سلام کرے تواس کا جواب آواز سے نہ دے بلکہ دل میں دے۔
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”مَحارِم واَزواج پر سلام مطلقا ًہے اور اجنبیات میں جوانوں کو سلام نہ کیا جائے ،بوڑھیوں کو کیا جائے، بلکہ جوانین اگر سلام کریں تو جواب دل میں دیا جائے انھیں نہ سنائے حالانکہ جواب دینا واجب ہے۔“حضرت اُمِّ ہانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا:حدیث مذکور میں حضرت سیدتنا اُمّ ہانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکا ذکر ہے ان کا کچھ تعار ف ملاحظہ فرمائیے: آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکانام فاختہ یا عائلہ ہے۔امیر المومنین حضرت سیدناعلی المرتضیٰ شیرا خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بہن اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چچا زاد ہیں۔آپ ہی کے گھر سےحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومعراج ہوئی،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،حضرت سَیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہکےدور حکومت میں سن51ہجری میں وفات پائی۔اس باب کی تیسری حدیث پاک میں بیان ہواکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسجد نبوی میں بیٹھی ہوئی عورتوں کو سلام کیا۔یہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصیات میں سے ہے ۔عام لوگوں کو اجازت نہیں کہ وہ اجنبی عورتوں کو سلام کریں یا ان کے سلا م کا جواب دیں۔غیر محرم کو سلام کرنے کی کراہت:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اجنبی عورتوں کوسلام کر نا نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ خاص ہے کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ اقدس کسی قسم کے فتنےسے بالاتر ہے۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علاوہ کسی مرد کاغیر محرم عورت یا کسی عورت کا غیر محرم مرد کو سلام کرنا مکروہ ہے ۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”اجنبی عورتوں کو سلام کرنا حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خصوصیات سےہے،ہم لوگ اجنبی جوان عورتوں کو نہ توسلام کریں نہ ان کے سلام کا جواب دیں۔ہاں اپنی محرم عورتوں یا بچیوں یا بوڑھی عورتوں کو سلام جائز ہے۔“ہاتھ سے سلام کرنے کی ممانعت کا جواب:سوال:احادیث مبارکہ میں تو انگلیوں سے سلام کو یہودیوں کا اور ہتھیلی سے سلام کو نصاری کا طریقہ کہا گیا ہےجبکہ ترمذی کی حدیث میں واضح موجود ہے کہ خود شارععَلَیْہِ السَّلَامنے ہاتھ کے اشارے سے سلام فرمایا ؟
جواب :جن احادیث میں ہتھیلیوں اور انگلیوں سے سلام کو یہود و نصاری کا طریقہ بتایا گیا ہے، وہاں مراد فقط ہاتھ کے اشارےسے سلام کرنا ہے اس طرح کہ زبان سے سلا م کے الفاظ ادا نہ کئے جائیں جبکہ یہاں ایسا معاملہ نہ تھا بلکہ نبی مکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مناسب آوازسے سلام کے الفاظ کہےلیکن فاصلہ زیادہ تھا ، آواز ان عورتوں تک نہ پہنچ سکتی تھی اس لئےسلام کا اظہار کرنے کے لئے دستِ اقدس سے بھی اشارہ فرمایا۔مدنی گلدستہ’’ جنت البقیع‘‘کے9حروف کی نسبت سےاحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) اجنبی عورتوں کو سلام کرنا حضورِانور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےلئےخاص ہےکیونکہ وہاں کسی فتنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
(2) کسی عام مرد کاغیر محرم جوان عورت کو سلام کرنا یا کسی جوان عورت کا غیرمحرم جوان مرد کو سلام کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہاں فتنے کاخوف ہے ۔
(3) بارگاہِ رسالت سے رُشد وہدایت ملتی ہے، گناہوں سے نجات،شیطا ن کے شر سے حفاظت اور دنیا وآخر ت کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں ۔
(4) مرد کا اپنی محرم عورتوں یا بچیوں یا بوڑھی عورتوں کو سلام جائز ہے۔
(5) اجنبی عورت ایسے غیر محرم شخص کو سلام کرسکتی ہے جس سے فتنے کا خوف نہ ہو۔
(6) جوان عورت اگر اجنبی غیر محرم مرد کو سلام کرے تو اس کا جواب آواز سے دینا منع ہے دل میں جواب دیا جائے ۔
(7) سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانہایت ہی نیک پارسا صحابیہ تھیں۔امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضٰی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بہن اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چچا زاد ہیں۔
(8) جوتہبند باندھے غسل کر رہا ہواسےسلام کرناجائز ہے۔
(9) غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کرغسل کرنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے گھروالوں کو سلام کرنے کا عادی بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 865