- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- حدیث نمبر 116
حدیث مبارکہ
عَنْ جَابِرٍ رَضِیِ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہِ. ( )
عن جابر رضی اللہ عنہ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: یبعث کل عبد علی ما مات علیہ. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر شخص اُسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس پر وہ مرا ۔ ‘‘
شرح حدیث
آخری حالت پر اٹھایا جائے گا:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ہر شخص اُسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس پر وہ مرا۔یہا ں تک کہ بانسری بجانے والا اِس حالت میں اٹھایا جائےگا کہ اُس کے ہاتھ میں بانسری ہوگی۔حدیث مذکور میں اِنسان کو اَعمالِ صالحہ کی پابندی ، تمام اَحوال میں سنتِ رسول کی پیروی اور تمام اَفعال واَقوال میں اِخلاص کو مدّنظر رکھنے پر اُبھارا گیاہے، تاکہ اچھی حالت میں موت آئے اور بروزِ قیامت اچھی حالت میں اٹھا یا جائے۔ مصنف یعنی علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا اِس باب کو اِس حدیث پر ختم کرنا کمالِ حسن ہے کیونکہ یہ حدیث اَعمال صالحہ اور زندگی کے تمام اوقات میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے پر ابھارتی ہے کیونکہ موت کسی بھی وقت آسکتی ہےاورآخری عمر، بڑھاپے اور حالتِ مرض میں تو موت کا اِمکان مزید بڑھ جاتا ہے ۔ ‘‘ ( )آخری کلام جنت میں داخلے کا سبب:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس حدیث پاک میں فرمایاکہ جس حالت میں انسان مرے گااسی حالت میں قیامت والے دن اٹھایا جائے گا۔اس حدیث کی شرح سنن ابو داود کی اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ جس کا آخری کلاملَااِلٰہَ اِلَّااللہُہو گاوہ جنت میں جائے گا۔ ‘‘ ( )جس حالت پر موت، اُسی پر اُٹھایا جانا:علاّمہ عبد الرؤف مَناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ہر شخص اسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس پر وہ مرا۔یعنی اچھی یا بری جس حالت پر آدمی مرے گا اسی حالت میں اُٹھایا جائے گا ۔ باگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!مجھے جہاداور غزوہ کے بارے میں بتائیے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ اگر تم اس حال میں قتل کیے جاؤکہ تم صبر کرنے والےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرنے والے ہو تو تمہیں صابر ومُتَوَکِّل اٹھا یا جائے گا۔اوراگر اس حال میں قتل کیے جاؤ کہ تم ریا کارومتکبر ہوتو تمہیں ریا کارومتکبر اٹھا یا جائے گا ، الغرض جس حالت پر مروگے اسی حالت میں اٹھائے جاؤ گے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا انَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ’’ جو نشے کی حالت میں مرے گا تو حضر ت سَیِّدُنَامَلَکُ الموتعَلَیْہِ السَّلَامکی تشریف آوری کے وقت اس پر نشے کی کیفیت طاری ہو گی۔ جب منکر نکیر آئیں گے تب بھی نشے میں ہوگا اور بروزِ قیامت نشے کی حالت میں ہی اٹھایا جائے گا۔پھر اسی حالت میں جہنم کے درمیان ’’ سُکران ‘‘ نامی ایک خندق میں پھینک دیا جائے گا۔ ‘‘ ( )آخری حالت کا اعتبار ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اعتبار خاتمےکا ہے ۔اگر کوئی کفر پر مرے تو کفر پر ہی اٹھے گا اگرچہ زندگی میں مؤمن رہا ہو اوراگر ایمان پر مرے تو ایمان پر اٹھے گا اگرچہ زندگی میں کافر رہا ہو۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان جو مشغلہ زندگی میں کرے گا اسی پراِنْ شَآءَ اللہمرے گااور جس پر مرے گا اُسی پر اٹھے گا۔اِنْ شَآءَ اللہذاکرین ذکر الٰہی کرتے ہوئے اٹھیں گے، شاغلین یار کے شغل میں ، واصلین وصال میں ، کاملین کمال میں حتی کہ بلال اذان دیتے ہوئے اٹھیں گے۔اللہ تعالٰیزندگی میں اچھا شغل عطا کرے اسی پر موت دے۔ ‘‘ ( ) آمین
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّجس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے موت سے پہلے نیک اعمال کی توفیق دے کر ان پراستقامت عطا فرما دیتا ہے۔پھراسی حالت میں ا سے موت آجاتی ہے اورجس سے بُرائی کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ مرنے سے پہلے راہ راست سے ہٹ جاتا ہے اور پھر اسی حالت میں مر جاتا ہے۔چنانچہ اس ضمن میں ایک حدیثِ مبارکہ اور دو عبرتناک واقعات ملاحظہ فرمائیے:موت سے ایک سال پہلے:اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے مرنے سے ایک سال پہلے ایک فِرِشتہ مقرَّر فرما دیتا ہے جو اُسے راہِ راست پر لگاتا رہتا ہے۔پھر جب اس خوش نصیب کی موت قریب آجاتی ہے تو جان نکلنے میں جلدی کرتی ہے۔ اُس وقت وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کوپسند کرتا ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ۔اور جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرتا ہے تو مرنے سے ایک سال قبل ایک شیطان اُس پر مُسلَّط کر دیتا ہے جو اُسے بہکا تا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بدترین حالت میں مرتا ہے ۔پھرجب موت آتی ہے تو اُس کی جان اٹکنے لگتی ہے۔اس وقت یہ شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملنے کو پسند نہیں کرتا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے ملنے کو پسند نہیں فرماتا ۔ ‘‘ ( )شیطان کا خطرناک جال:حضرتِ سَیِّدُنَااما م ابومحمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ تین زاہد حج کےاِرادے سےبیتُ اللہشریف کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں عیسائیوں کی ایک بستی کے قریب قیام ہو ا۔ وہاں ایک زاہد کی نظر ایک عیسائی عورت پر پڑی تو دل اس طرف مائل ہوگیا۔ جب سفرکا وقت آیا تو اس نے حیلے بہانے سے اپنے دونوں ساتھیوں کوٹا ل دیااور خود وہیں رک گیا۔ پھر عیسائی عورت کے والد کے پاس گیا اور اس سے شادی کی بات کی۔اس نے کہا: ’’ اس کا مہر تجھ پر بہت بھا ر ی ہے۔ ‘‘ پوچھا: ’’ کیا مہر ہے ؟ ‘‘ کہا: ’’ تو دینِ اسلا م چھوڑ کر عیسائی ہو جا ۔ ‘‘ چنانچہ اس نے عیسائی مذہب اختیار کر کے اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے دو بچے بھی ہوئے پھر وہ بد نصیب انہیں یتیم چھوڑ کر عیسائی مذہب پر مر گیا ۔ کچھ عرصے کے بعد اس کے ساتھیوں کا وہاں گز ر ہوا تو دریافت کرنے پر بتایا گیا وہ عیسائی ہو گیا تھا، عیسائیت پر ہی مرا اور اسے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ وہ اس کی قبر کے پاس گئے تو وہاں ایک عورت اور دو بچوں کو قبر پر روتے ہوئے پایا۔وہ دونوں بھی رونے لگے۔عورت نے ان سے پوچھا: ’’ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ ‘‘ انہوں نے اس کی عبادت، نماز، اور زہد کا تذکرہ کیا۔ جب عورت نے یہ سنا تو اس کا دل اسلا م کی طرف مائل ہوگیا اور وہ اپنے دونوں بچوں سمیت اسلا م لے آئی۔
حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابومحمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ واقعہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’سُبْحَانَ اللہ! کتنے تعجب کی بات ہے کہ جومسلما ن تھا وہ کا فر ہو کر مرا اور جو عورت کافر ہ تھی وہ اپنے بچوں سمیت اسلام لے آئی۔ پس ہرمسلما ن کو چا ہیے کہ اپنے انجام سے ڈر تا رہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے حُسنِ خا تمہ کا سوال کرتا رہے۔ ‘‘ ( )ربّتعالٰیکی خفیہ تدبیر :حضرتِ سیِّدُناعبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے اور ہمارے علاقے میں ایک نہایت غمگین شخص تھا جسے ’’قَضِیْبُ البَان‘‘ کہا جاتا تھا۔ احترام اور رُعب ودبدبہ کے باعث کوئی اس سے کلام کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ رویا کرتا تھا۔ ایک دن میں اس کے پاس گیا اور پوچھا: ’’ اے میرے محترم! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنی ذات کے سوا ہر چیز سے بے نیاز کر دیا ہے! آپ کے غم اور تنہائی کاسبب کیاہے؟ ‘‘ اس نے مجھے دیکھا اور بہت زیادہ رویا پھر اس کارنگ متغیر ہو گیا۔ کچھ اضطراب کے بعد اس پر غشی طاری ہو گئی۔ مجھے گما ن ہوا کہ وہ انتقال کرگیا ہے۔پھراسے ہوش آگیا تومیں نے کچھ باتیں کر کے اسے مانوس کرلیا اور قسم دے کر اس کا حا ل دریافت کیا۔ چنانچہ اس نے روتے ہوتے اپنا واقعہ کچھ یوں بیان کیا :
میں اپنے شیخ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بہت نیک شخص تھااور لوگوں میں ولی مشہور تھا۔میں نے چالیس سا ل اس کی خدمت کی۔ وفات سے تین دن پہلے اس نے مجھ سے کہا: ’’ میرے بیٹے ! میراتجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے، میری بات غور سے سن، میں جو وصیت کروں اس کا پورا کرنا تجھ پر لازم ہے۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ محبت اور عزت سے وصیت پوری کروں گا۔ ‘‘ کہا: ’’ میری عمر کے تین دن باقی ہیں اور میرا خاتمہ کفرپر ہوگا۔ ‘‘ جب میں مر جاؤں تو مجھے میرے کپڑوں سمیت رات کی تاریکی میں ایک تابوت میں رکھ کر شہر سے باہر فلاں جگہ لے جا نا اورطلوعِ آفتاب تک وہیں ٹھہرنا، وہاں ایک قافلہ آئے گا جن کے پا س ایک تابوت ہوگاوہ اس کو میرے تابوت کے پہلو میں رکھ دیں گے اور میرا تابوت لے جائیں گے تم وہ دوسراتابوت لے کر واپس آجانا۔ پھراس تابوت کوکھول کر اس میں موجود شخص کو نکالنا اور عزت واحترام سے اس کی تجہیز وتکفین کرنا ۔ ‘‘ یہ سن کر میں بہت غمزدہ ہوا اور روتے ہوئے اس افسوس ناک معاملے کی وجہ دریافت کی ۔ اس شیخ نے کہا: ’’ میرے بیٹے!یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھا ہواہے۔جو ہو چکا اور جوکچھ ہو گا سباللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے ہے۔ (لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ)(پ۱۷، الانبیاء:۲۳)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اس سے نہیں پو چھا جا تا جو وہ کر ے ۔ ‘‘ جب تین دن گزر گئے تو میرا شیخ مضطرب ہوگیا، رنگ متغیر ہو گیا اوراس کا چہرہ سیاہ ہو کرمشرق کی طرف گھوم گیا اور وہ اوندھے منہ گر کر مر گیا۔ میں بہت رویا اور مجھے ایسا غم لاحق ہوا جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھرمیں حسب وصیت اس کاتابوت لے کر اس مقام پر پہنچ گیا جو اس نے بیان کیا تھا ۔
صبح ہوئی تو کچھ لوگ وہاں گریہ وزاری کرتے ہوئے آئے، ان کے پاس ایک تابوت تھا، انہوں نے اپنا تابوت شیخ کے تابوت کے پاس رکھ دیا۔پھرایک شخص آگے بڑھا اور شیخ کاتابوت اٹھا کر جانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: ’’ جب تک مجھے اپنے متعلق نہ بتاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ اس نےبتایا: ’’ اس تابوت میں ایک عیسائی پادری کی لاش ہے ۔ میں چا لیس سال تک اس کا خا دم رہا ہوں ۔ اس نے موت سے تین دن قبل مجھے بلا کر کہا: ’’ میرے بچے ! میراتجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے۔میں تین دن بعد مر جاؤں گا، تو مجھے ایک تابوت میں رکھ کرفلاں جگہ لے جانا، وہا ں بھی ایک تابوت ہوگا ۔ میرا تابوت وہاں رکھ دینا اور وہ تابوت گرجے میں لے جا نا۔ اور اس میں موجود لاش کو عیسائیوں کے طریقے پر دفن کردینا۔ ‘‘ جب تین دن گزر گئے تو عیسائی پادری کا چہرہ خوشی سے کھِل اُٹھا، اس نے کلمہ شہا دت پڑھا اور مسلمان ہو کرانتقال کر گیا۔ پھر میں نے ان کے حکم کے مطابق عمل کیا اور اُن کا تابوت یہا ں لے آیا۔ یہ سارا واقعہ ہے ۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ لوگ شیخ کا تابوت لے کر چلے گئے اور میں اس خوش نصیب کا تابوت لے کر گھر آگیا جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے موت سے پہلے ایمان کی دولت سے نواز دیا تھا۔ جب میں نے تابوت کھولا تو اس میں ایک ایسے بزرگ تھے، جن پرانوار کی برسات ہو رہی تھی ۔ ان کے سارے بال سفید نورانی تھے ۔ میں نے کچھ نیک بندوں کے ساتھ مل کر تجہیز وتکفین کا انتظام کیا اور نمازِ جنا زہ پڑھ کرانہیں دفن کر دیا ۔ وہ دن گواہ ہے کہ میں جب بھی باہر نکلتا ہوں تو میرے چہرے پربُرے خاتمے کے خوف سے غم کے بادل چھا جاتے ہیں ۔ اس لیے میں لوگوں سے دُور اور غمگین رہتا ہوں ۔ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین
مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو………کر اخلاص ایسا عطا یاالٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ………میں تھر تھر رہوں کانپتا یاالٰہی
مسلماں ہے عَطاَّر تیری عطا سے………ہو ایمان پر خاتمہ یاالٰہی
¥مدنی گلدستہ
’’ خاتمہ بالخیر ‘‘ کے11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1)جو جس حالت میں مرے گا اسے اسی حالت میں اٹھایا جائے گا ۔
(2) بندے کو اعمال صالحہ پر استقامت اختیار کرنی چاہیے تاکہ اچھی حالت میں دنیاسے جائے ۔
(3) اگرساری زندگی نیکیوں میں گزرے اورمعاذَاللہخاتمہ کفرکی حالت میں ہو تو یہ سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے، لہذا ایمان پر خاتمے کی دعا ضرور مانگنی چاہیے۔
(4) ویسے تو عمر کے تمام حصوں میں نیکیاں ضروری ہیں لیکن آخری عمر میں بالخصوص بڑھاپے میں تو بہت زیادہ توبہ واستغفار اور نیکیاں کرنی چاہیے کیونکہ اب اس کے بعد تو موت ہی ہے ۔
(5)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بے نیازی سے ڈرتے رہنا چاہیے اور خاتمہ بالخیر کی دعا ضرور کرنی چاہیے۔
(6) بعض اوقات گناہوں کی نحوست ایمان کی بربادی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ لہٰذا ایمان کی حفاظت کے لیے گناہوں سے ہر دم بچنا چاہیے۔
(7) بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنجب کسی کو کفر پر مرتا دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی فکر لگ جاتی ہے ، خوف خدا مزیدبڑھ جاتا ہے، گریہ وزاری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
(8)اللہ عَزَّ وَجَلَّجس کا ایمان سلامت رکھے اسے ایمان والی موت نصیب ہوتی ہے ۔
(9) بعض اوقات لوگوں کا برا خاتمہ ظاہر کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور اپنے ایمان کی فکر کریں ۔
(10)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بعض نیک بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دنیا میں ہی ان کی ایمان افروز موت سے آگاہ کردیا جاتا ہے۔
(11) جو ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھتا رہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرتا رہے، نیک لوگوں کی صحبت سے فیضیاب ہوتا رہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات سے امید ہے کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہوگا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے، حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 116