Main Icon

باب:مریض کی عِیادت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 897

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: عُوْدُوْا الْمَرِيضَ، وَاَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَفُكُّوا الْعَانِي.

عن ابي موسى رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عودوا المريض، واطعموا الجائع، وفكوا العاني.

حدیث ترجمہ

حضرت ابو موسیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”مریض کی عیادت کرو، بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور قیدی کو آزادکراؤ ۔“

شرح حدیث

حدیث پاک کی وضاحت :شرح ابن بطال میں ہے:حضرت سیدنا براءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہمیںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مریضوں کی عیادت کرنے کا حکم دیا۔ اس میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ عیادتِ مریض فرضِ کفایہ ہے جیسے کسی بھوکے کو کھانا کھلانا اور مسلمان قیدی کو کافروں کی قید سے چھڑانا اور ظاہرِ کلام بھی یہی بتارہا ہے۔ جب کہ ایک احتمال یہ ہے کہ مریض کی عیادت کرنا مستحب عمل ہے اور حدیث میں اس کا حکم دے کر بھائی چارگی اور اُلفت و محبت پر اُبھارا گیا ہے جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ”مؤمنوں کا آپس میں میل جول رکھنا ایک جسم کی مانند ہے کہ جب جسم کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو سارے اعضا اس تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔“مریض کی عیادت کرنے کے بارے میں احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”مریض کی عیادت کرنے والا جنت کےباغ میں ہے۔“ حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب بندہ کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو رحمتِ خدا اُسے ڈھانپ لیتی ہے حتی کہ جب وہ اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمتِ الٰہی میں ڈوب جاتا ہے۔“مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” بھوکوں کو کھاناکھلانا سنت ہے اور بھوک سے مررہا ہو تو فرضِ کفایہ بلکہ کبھی فرضِ عَین ہے۔اِس بھوک میں اِنسان جانورسبھی داخل ہیں،بعض گنہگار پیاسے کُتّے کو پانی پلانے میں بخشے گئے۔یہاں قیدی سے مراد غلام یا مقروض ہے اورچھوڑانے سے مراد آزادکرانا یا قرضہ اداکرنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جومسلمان کفار کے ہاتھوں ظلماً قید ہوگئے ہیں انہیں کوشش سے آزاد کراؤ،یہ مطلب نہیں کہ چور و بدمعاشوں کو جیل سے نکال دو تاکہ خوب چوریاں، بدمعاشیاں کریں۔“مدنی گلدستہ’’غوث پاک ‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) بندہ مؤمن بیماری کی حالت میں ربّ تعالیٰ سے بہت قریب ہوتا ہے۔
(2)
اللّٰہتعالیٰ کے ہاں بندے کی عجز و انکساری کی بڑی قدر و مَنزلت ہے ۔
(3) عیادت کی فضیلت پانے کیلئےجب بھی موقع ملے مریض کی عیادت ضرور کرنی چاہیے ۔
(4) عیادت کرنے کاثواب کسی کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے سے بھی زیادہ ہے۔
(5) بھوکے کو کھانا کھلانا سنت ہے اگر بھوک سے مررہا ہو تو فرض کفایہ ہے اور کبھی فرض عین ہے۔
(6) جب بندہ کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو رحمتِ خدا اُسے ڈھانپ لیتی ہے اورجب وہ مریض کےپاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمتِ الٰہی میں غوطہ زَن ہوجاتاہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مریضوں کی عیادت کرنے، کھاناکھلانے اور پانی پلانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 897