Main Icon

باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 533

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَمُرَةَ بنِِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِنَّ المَسْاَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ اِلَّا اَنْ يَسْاَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا اَوْ في اَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ.

عن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان المسالة كد يكد بها الرجل وجهه الا ان يسال الرجل سلطانا او في امر لا بد منه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاسمرہ بن جندبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’سوال کرنا خراش ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو چھیلتا ہےالبتہ یہ کہ آدمی بادشاہ سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں سوال کے بغیر چارہ نہ ہو ۔‘‘

شرح حدیث

بھکاری دُور سے پہچانا جاتا ہے:حدیث پاک میں فرمایا:”سوال کرنا خراش ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو خراشتا ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”منہ کے کھرونچوں (خراش) سے مراد ذلت کا اثر ہے کہ جیسے منہ کے زخم دُور سے نظر آتے ہیں ایسے ہی بھکاری دُور سے پہچانا جاتا ہے، اُس کے چہرے پر نہ رونق ہوتی ہے نہ وقار بلکہ یہ آثارِ ذِلَّت قیامت میں بھی اس پر ہوں گے جیساکہ پہلے حدیث شریف میں آچکا۔(البتہ یہ کہ آدمی بادشاہ سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں سوال کے بغیر چارہ نہ ہو۔)یعنی یہ دو سوال جائز ہیں:مستحق کا حاکمِ وقت سے اپنے وظیفہ مقرر کرانا کہ یہ بھیک نہیں بلکہ اپنے حق کا مطالبہ ہے۔دوسرے سخت ضرورت کے وقت جب شرعًا اسے مانگنا جائز ہو تو کچھ مانگ لینا۔ امام غزالی نے فرمایا کہ جس مالدار پر حج فرض ہوا اور بلا وجہ حج نہ کرے پھر غریب ہوجائے تو اس پر واجب ہے کہ حج کا خرچہ مانگے اور حج کو جائے کہ اس میں اپنے کو فسق سے نکالنا ہے،جب مجبورًا بھوک یا برہنگی دفع کرنے کے لیے سوال واجب ہے تو یہ بھی ضروری ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) سوال کرنا خراش ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو چھیلتا ہے۔
(2) سخت ضرورت کے وقت انسان کے لیےسوال کرنا مباح ہے اگر چہ وہ غنی ہو۔
(3) بادشاہ سےتنگیٔ معاش میں وُسعت کیلئے وظائف مقرر کروانا جائز ہے یہ بھیک نہیں ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مخلوق کی محتاجی سے بچا کر صرف اپنا محتاج بنا ئے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 533