Main Icon

باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 536

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي بِشْرٍ قَبِيْصَةَ بْنِِ الْمُخَارِقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَاَتَيْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اَسْاَ لُهُ فِيْهَا فَقَالَ:اَقِمْ حَتَّى تَاْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَاْمُرَ لَكَ بِهَا ثُمَّ قَالَ:يَا قَبِيْصَةُ! اِنَّ الْمَسْاَلَةَ لَا تَحِلُّ اِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثَةٍ:رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتّٰى يُصِيْبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٌ اَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتّٰى يُصِيْبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ.اَوْ قَالَ:سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ.وَرَجُلٌ اَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتّٰى يَقُولَ: ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجٰى مِنْ قَوْمِه:لَقَدْ اَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ. فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْاَلَةُ حَتَّى يُصِيْبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ اَوْ قَالَ:سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْاَلَةِ يَا قَبِيْصَةُ! سُحْتٌ يَاْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا.

عن ابي بشر قبيصة بن المخارق رضي الله عنه قال: تحملت حمالة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم اسا له فيها فقال:اقم حتى تاتينا الصدقة فنامر لك بها ثم قال:يا قبيصة! ان المسالة لا تحل الا لاحد ثلاثة:رجل تحمل حمالة فحلت له المسالة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل اصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسالة حتى يصيب قواما من عيش.او قال:سدادا من عيش.ورجل اصابته فاقة حتى يقول: ثلاثة من ذوي الحجى من قومه:لقد اصابت فلانا فاقة. فحلت له المسالة حتى يصيب قواما من عيش او قال:سدادا من عيش فما سواهن من المسالة يا قبيصة! سحت ياكلها صاحبها سحتا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو بشر قبیصہ بن مخارقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے ایک مال اپنے ذمہ لیا اور اس کی ادائیگی کے لیے حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں مدد لینے حاضر ہوا،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آجائے ہم اس میں سے تمہاری اِمداد کا حکم دیں گے۔‘‘پھر ارشاد فرمایا:’’اے قبیصہ!تین شخصوں کے علاوہ کسی کے لیے مانگنا جائز نہیں: (1)وہ شخص جس نے کوئی مال اپنے ذمہ لے لیا ہو اس کے لیے اُس وقت تک مانگنا جائزہے یہاں تک کہ اسے اتنا مال مل جائے جس کا اُس نے ذمہ لیا ہے اور پھر باز رہے۔(2)وہ شخص جس کے مال کو کسی آفت نے تباہ کر دیا ہو اس کے لیے بھی مانگنا جائز ہےیہاں تک کہ ایسی چیز مہیا ہو جائے جس سے وہ گزر بسر کرسکےاور (3) وہ شخص جو فاقہ میں مبتلا ہو جائےحتّٰی کہ اُس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہیں کہ فلاں شخص فاقہ زدہ ہے تو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اسے ایسی چیز مہیا ہو جائے جس سے وہ گزر بسر کرسکے۔ اے قبیصہ!اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔‘‘

شرح حدیث

قرض اُتارنے کے لیے سوال کرنا :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنا ابو بشر قبیصہ بن مخارقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :’’میں نے ایک مال اپنے ذمہ لیا اور اس کی ادائیگی کرنے کے لیے حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں مدد لینے حاضر ہوا“یعنی جو ذمہ داری میں نے اپنے ذمہ لی تھی اس کو پورا کرنے کے لیے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مدد طلب کی،حضور نبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :”ٹھہرو !یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آ جائے، اُس میں سے تمہاری اِمداد کا حکم دیں گے ۔“یعنی زکوٰۃ کا مال آ جائے تو اس میں سےہم تمہاری مدد کا حکم دیں گے۔پھر اِرشاد فرمایا:”اے قبیصہ!تین شخصوں کے علاوہ کسی کے لیے مانگنا جائز نہیں یعنی زکوٰۃ مانگنا :(1)وہ شخص جومال اپنے ذمہ لے اس کے لیے اس وقت تک مانگنا جائزہے یہاں تک کہ وہ اسے حاصل کر لے اور پھر رک جائے یعنی وہ اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ مانگے جب قرض پورا ہوجائے تو مانگنے سے رُک جائے،مگر یہ کہ کوئی اور ضرورت یا حاجت پیش آ جائے تو مانگ سکتا ہے۔(2)وہ شخص جس کے مال کو کسی آفت نے تباہ کر دیا ہو اس کے لیے بھی مانگنا جائز ہے۔یعنی کسی آفت نے کھیت اور باغات سب برباد کر دیئے ہوں تو اب وہ لوگوں سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مانگ سکتا ہےیہاں تک کہ ایسی چیز مہیا ہو جائے جس سے وہ اپنا گزربسر کر سکے اور (3)وہ شخص جو فاقہ میں مبتلا ہو جائےیعنی اس کی تنگدستی اتنی شدید ہو کہ اس کی قوم کے تین عقل مندشخص جو اس کے حالات کے بارے میں جانتے ہوں اس کے بارے میں گواہی دیں۔‘‘بھیک مانگنا مُردار جانور کی طرح ہے:مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’* معلوم ہوا کہ ایسا ضامن اگرچہ مالداربھی ہو تو صدقہ مانگ سکتا ہے کیونکہ یہ مانگنا اپنے لیے نہیں بلکہ اُس مقروض فقیر کے لیے ہے جو فقیر ہے جس کا یہ ضامن ہے،ربّ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف میں غارمین(مقروضوں) کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہی مقروض ہیں۔*(دوسرا وہ شخص جس کے مال کو کسی آفت نے تباہ کر دیا ہو اس کے لیے بھی مانگنا جائز ہے۔) یعنی یہ شخص غنی تھا، آفت ناگہانی نے مال برباد کرکے اسے فقیرکردیا اگرچہ تندرست ہے، کمانے پر قادر ہے مگر کمانے تک کیا کھائے وہ اس وقت تک کے لیے مانگ سکتا ہے جب کچھ گزارہ کے لائق کمائے تو سوال سے باز آجائے۔(یہاں تک کہ ایسی چیز مہیا ہو جائے جس کے ذریعے وہ گزر بسر کرسکے۔) یعنی اتنا مال حاصل کرے جس سے فقروفاقہ رُک کر زندگی درست ہوجائے۔غرضکہ بھیک مانگنا مردار جانور کی طرح ہے جس کا جائز و حلال ہونا سخت ضرورت پر ہے۔ (وہ شخص جو فاقہ میں مبتلا ہو جائےحتّٰی کہ اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہیں کہ فلاں شخص فاقہ زدہ ہے تو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہے۔)یہ گواہی کی قید اس کے لیے ہے جس کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوکہ یہ غنی ہے اور بلاضرورت مانگ رہا ہے۔قوم سے مراد اس کے حالات سے خبردار لوگ ہیں خواہ اس کی برادری کے ہوں یا آس پڑوس کے یعنی کم از کم تین واقف حال لوگ جنہیں غریبی امیری حاجت و غنا کی پہچان ہو وہ بتادیں کہ واقعی یہ فاقہ زدہ ہے۔خیال رہے کہ حضورِ اَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی ہجرت سے پہلے اہل مدینہ قرض لینے اور سوال کرنے میں عار نہیں سمجھتے تھے ان کے وہ عادی تھے،حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کی عادتوں کو بدلنے کے لیے سوال پر تو یہ پابندیاں لگائیں۔مقروض کی نماز جنازہ خود نہ پڑھی دوسروں سے پڑھوا دی تاکہ عبرت پکڑیں اور قرض حتَّی الامکان نہ لیں۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدسوال کی چار صورتیں اور اُن کے احکام:امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں:’’جس چیز کا سوال کیا جائے وہ چار حال سے خالی نہیں ہوتی: (1)پہلی صورت،ایسی چیز جو انسان کی مجبوری ہو: مثلاً:ایسا بھوکا شخص جسے بھوک سے موت یا شدید مرض کا اندیشہ ہواس کا کھانا مانگنا یا پھر بے لباس شخص جس کے پاس سَترِ عورت (شرم گاہ چھپانے)کے لئے کپڑا نہ ہواس کا کپڑا مانگنا ،سوال کی دیگر شرائط پائی جانے کی صورت میں اس قسم کا سوال جائزہے۔جس چیز کا سوال کیا جائے وہ چیز مباح ہو،دینے والاخوش دلی کے ساتھ دےاور مانگنے والا کمانے پر قادر نہ ہو کیونکہ جو شخص کمانےپر قادر ہونے کے باوجود نہ کمائے اس کےلئےسوال کرنا جائز نہیں۔مثلاً:جسے لکھنا آتا ہو وہ کتابت کرکے رِزقِ حلال کماسکتا ہے البتہ طالِبِ عِلْمِ دِین جس کے تمام اوقات حُصُولِ علم کے لئے مختص ہوں وہ کسب پر قادر ہونے کے باوجود سوال کرسکتا ہے۔ (2)دوسری صورت،ایسی چیز جس کی شدید ضرورت ہو: مثلاً:مریض جسے دوا کی حاجت ہواور دوا استعمال نہ کرنے پر نقصان کا خوف ہو لیکن یہ اندیشہ غالب نہ ہویا جیسے سردی کے موسم میں ایک شخص نے جُبّہ تو پہن رکھا ہو لیکن اس کے نیچے قمیض نہ ہو اور اسے سردی سے ایسی تکلیف پہنچے جو قابلِ برداشت ہو،یونہی ایک شخص مشقت اٹھاکر پیدل سفر کرنے پر قادر ہواس کے باوجود اس کا کرائے کے لئے سوال کرنا۔اس صورت میں اگرچہ صبر کرنا اور سوال نہ کرنا افضل ہے اور سوال کرنے والا ترکِ اَولیٰ کا مرتکب ہوگا لیکن بہرحال مذکورہ صورت میں سوال کرنا مباح ہے کیونکہ یہ حقیقی ضرورت ہے۔ اس صورت میں سوال کرنے والا اگر سچ بول کرمانگے تو اس کے سوال کو مکروہ نہیں کہا جائے گا۔مثلاً: اس طرح سوال کرے:میں نے جبے کے نیچے قمیض نہیں پہن رکھی اور سردی کی وجہ سےمجھے اتنی تکلیف ہورہی ہے جسے میں برداشت تو کرسکتا ہوں لیکن اس میں مشقت ہے ۔جب سوال کرنے والا اس طرح سچ بول کر مانگے گا تواِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّاس کا سچ بولنا سوال کرنے کا کفارہ بن جائے گا۔ (3)تیسری صورت،ایسی چیز کا سوال کرنا جس کی معمولی ضرورت ہو:مثلاً: کسی کا لباس پھٹا ہوا ہے اور وہ قمیض کا سوال کرے تاکہ گھر سے نکلتے وقت اسے لباس کے اوپرپہن کر اپنے لباس کی حالت کو لوگوں سے چھپاسکے،یا جس کے پاس روٹی موجود ہے اس کا سالن مانگنا،نیز گدھے کے کرائے پر قادرشخص کا گھوڑے کے کرائے کے لئے یاباربرداری والے اونٹ پر قدرت رکھنے والے کاسواری کے لئے مخصوص اونٹ کے کرائےکا سوال کرنا۔ مذکورہ صورتوں میں اگر سائل اپنی اَصْل حاجت کے علاوہ کوئی اور ضرورت ظاہر کرکے سامنے والے کو دھوکا دے تو اس کا سوال کرنا حرام ہے اوراگر ایسا نہ کرے لیکن سوال کی تین آفات یعنیاللہعَزَّ وَجَلَّکاشکوہ،غیر اللہکے سامنے ذِلَّت اور جس سے مانگ رہا ہے اسے ایذا دینے میں سے کوئی آفت پائی جائے تو بھی سوال حرام ہے کیونکہ اس قسم کی ضروریات کے لئے ممنوعہ چیزوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر اس کا سوال مذکورہ تمام مَفاسِد سے خالی ہو تو پھر اس قسم کا سوال کراہت کے ساتھ جائز ہے۔(4)چوتھی صورت،ایسی چیز جس کی ضرورت نہ ہو:مثلاً: کسی چیز کا سوال کرے حالانکہ اس کے پاس اس جیسی ایک یا مُتَعَدَّد اشیاء موجود ہیں تو ایسی چیز کا سوال کرناحرامِ قطعی ہے۔مدنی گلدستہ’’ صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے مِلنے والے6مدنی پھول
(1) اپنی حاجات کے لیے حضور نبی رحمت
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ سے مدد طلب کرنا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے، کیونکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے حضور نبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مدد مانگا کرتےتھے ۔
(2) بھیک مانگنا مردار جانور کی طرح ہے جس کا جائز و حلال ہونا سخت ضرورت کی بنا پر ہے۔
(3) ایسا شخص جس کے مال و اسباب کو ناگہانی آفت نے برباد کر دیا ہو اگرچہ وہ تندرست ہو، کمانے پر قادر ہو مگر کمانے تک کیا کھائے وہ اس وقت تک کے لیے مانگ سکتا ہے لیکن جب کچھ گزارہ کے لائق کمائے تو مانگنے سے باز آجائے۔
(4) وہ شخص کہ جو فاقہ میں مبتلا ہو جائے اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہیں کہ فلاں شخص فاقہ زدہ ہے تو اس کے لیے بقدرِضرورت سوال کرنا جائز ہے ۔
(5) گواہی دینے میں بیدار مغزی و ہوشیاری ضروری ہے جبکہ غافل شخص کی گواہی قابل قبول نہیں۔
(6) بنا کسی ضرورت کےمحض پیشہ ورانہ طور پہ بھیک مانگنا حرام اور مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حرام کمانے ، حرام کھانے اور بھیک مانگنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 536