Main Icon

باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 527

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ الله وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغنِهِ اللهُ.

عن حكيم بن حزام رضي الله عنه:ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:اليد العليا خير من اليد السفلى وابدا بمن تعول وخير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ومن يستعفف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حِزَامْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے اور (صدقہ دینے کی) ابتدا اُن لوگوں سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہواوربہتر ین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائےاور جو شخص سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے سوال کرنے سے بچا لے گااور جو بے نیازی اختیار کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بے نیاز کر د ے گا ۔‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک میں دو باتوں کا بیان:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں دو باتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ پہلی صدقہ کے حوالے سے ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور صدقہ دینے میں اپنے اہل و عیال سے ابتدا کروکہ پہلے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ ان پر خرچ کرو کہ ان کا حق زیادہ ہے اور پھردیگر فقراءو مساکین کو دینا کیونکہ بہتر ین صدقہ وہ ہی ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائے۔دوسری بات یہ بیان کی گئی کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّایسارزق عطا فرمائے گا جو اسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچائے گااور جو بے نیازی اختیار کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بے نیاز کر د ے گا۔سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’خرچ کرنے کی ابتدااُن لوگوں سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔“یعنی بیوی، ماں باپ، اولاد اور خُدَّامْ وغیرہ ۔ ان کا حق مُقَدَّمْ ہونے کی وجہ یہ ہےکہ اِن کا حق واجب ہے جبکہ اِن کے علاوہ کا حق نفل ہے اور واجب نفل پر مُقَدَّمْ ہوتا ہے۔”بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائے۔“یعنی افضل صدقہ وہ ہے جسے اپنی ذات پر یا جن کا نفقہ اُس پر لازم ہے اُن پر خرچ کرنے کی حاجت نہ ہو ۔مطلب یہ کہ افضل صدقہ وہ ہے جس کو انسان اس طرح نکالے کہ اپنے پاس بقدرِ کفایت باقی رہے۔*امام بغویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:غَنا(یعنی مال داری )سے مراد وہ غنا ہے کہ جس کے ذریعے آنے والی مشکلات میں خود کو مضبوط رکھ سکے،یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہتر صدقہ وہ ہے جس سے تم سائل کو سوال کرنے سے بچا لو(یعنی نہ تو اتنا زیادہ صدقہ کرو کہ اپنے گھر والے بھوکے رہ جائیں اور نہ ہی اتنا کم کرو کہ سوال کرنے والے کی ضرورت ہی پوری نہ ہو اور وہ مزید سوال کرے)۔ایک قول یہ بھی ہے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد صدقہ کرنے والا غنی ہی رہے ۔*امام قرطبیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اور اہل و عیال کے حقوق ادا کرنے کے بعد اس حال میں دیا جائے کہ صدقہ کرنے والے کو کسی طرح کی محتاجی نہ ہو۔حدیث پاک میں غنا کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسی چیز کا حُصُول جس کے ذریعے حاجتِ ضروریہ کو پورا کیا جائے جیسا کہ ایسی شدید بھوک کی حالت میں کھانا کھانا کہ جس پر صبر نہ کیا جا سکے۔چنانچہ ایسی ضرورت کہ جس کے ذریعے انسان اپنے نفس کو پہنچی والی ایذا دور کر سکے اس میں ایثار کرنا جائز نہیں بلکہ ایسی چیز کا اِیثار حرام ہے کیونکہ اِس ضرورت والی چیز کا ایثار کرنا نفس کو ہلاکت یا نقصان تک لے جائے گایا ایسی حاجت کہ جس کے ذریعے وہ سِتر پوشی کرےگا ایسی حاجت میں اپنے نفس کی رعایت بہتر ہے۔جب یہ تمام واجبات پورے ہو جائیں تو اب اِیثار کرنا درست ہےاور اب اُس کا صدقہ کرنا افضل ہے۔ ”جو شخص سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے سوال کرنے سے بچا لے گا۔“یعنی جو لوگوں سے سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ایسا رِزق عطا فرمائے گا جو اسے لوگوں سے سوال کرنے سے بچا لے گا۔پہلے اپنی ذات پہ خرچ کرو:عمدۃ القاری میں ہے:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،رسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’صدقہ کرو۔‘‘ایک شخص نے عرض کیا:’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے پاس ایک دینار ہے۔‘‘∞آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اس کو اپنے اوپر خرچ کرو ۔‘‘اس نے عرض کیا:’’میرے پاس ایک اور دینا ر ہے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو ۔‘‘اس نےعرض کی:’’میرے پاس ایک اور دینا ر ہے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اس کو اپنی اَولاد پرخرچ کرو۔‘‘اس نے عرض کی:’’میرے پاس ایک اور دینار ہے۔‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو۔‘‘اس نےعرض کی:’’میرے پاس ایک اور دینار ہے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’تم اُس کے متعلق زیادہ بصیرت رکھتے ہو۔‘‘ علامہ خطابیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’جب تم اِس ترتیب پر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاَلْاَولٰی فَالْاَولٰی اَلْاَقْرَبْ فَالْاَقْرَبْکو بیان فرمایا (یعنی جو زیادہ قریب تھا اسے پہلے، پھر اس کے بعد جو قریب تھا اسے بیان فرمایا۔)سب سے پہلے انسان اپنی ذات پہ خرچ کرے پھر اَولاد پہ کیونکہ اس کی اَولاد گویا کہ اسی کا جز ہے اگر وہ اَولاد پر خرچ نہیں کرےگا تو وہ ہلاک ہوجائے گی تو وہ کوئی ایسا اُن کے قائم مقام نہ پائے گا جس پر خرچ کر ے پھر مال خرچ کرنے میں تیسرے نمبر پہ زوجہ ہے کیونکہ شوہر پر زوجہ کا نفقہ واجب ہےاگر اُس پہ مال خرچ نہیں کرےگا تو اُن دونوں میں جدائی ہو جائے گی پھر خادِم پر مال خرچ کرے کیونکہ اگر وہ خادِم پر مال خرچ نہیں کر سکتا تو اسے بیچ دیا جائے گا۔‘‘
صدقے کے مزیدفضائل وتفصیلی اَحکام جاننے کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 400صفحات پرمشتمل کتاب’’ضیائے صدقات‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’صدقہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بہترین صدقہ وہ ہے جس کی ابتدا اپنے گھر والوں سے کی جائے ۔
(2) خرچ کرنے میں پہلے اپنی ذات پہ خرچ کرےپھر اولاد پھر بیوی اور پھر خدام وغیرہ ۔
(3) افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اور اہل و عیال کے حقوق ادا کرنے کے بعد اس حال میں دیا جائے کہ صدقہ کرنے والے کو کسی طرح کی محتاجی نہ ہو۔
(4) جو لوگوں سے سوال کرنے سے بچے گا
اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ایسا رزق عطا فرمائے گا جو اسے لوگوں سے سوال کرنے سے بچا لےگا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہِ خدا میں صدقہ کرنےکی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 527