- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 527
باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 527
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ الله وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغنِهِ اللهُ.
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه:ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:اليد العليا خير من اليد السفلى وابدا بمن تعول وخير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ومن يستعفف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حِزَامْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے اور (صدقہ دینے کی) ابتدا اُن لوگوں سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہواوربہتر ین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائےاور جو شخص سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے سوال کرنے سے بچا لے گااور جو بے نیازی اختیار کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بے نیاز کر د ے گا ۔‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک میں دو باتوں کا بیان:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں دو باتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ پہلی صدقہ کے حوالے سے ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور صدقہ دینے میں اپنے اہل و عیال سے ابتدا کروکہ پہلے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ ان پر خرچ کرو کہ ان کا حق زیادہ ہے اور پھردیگر فقراءو مساکین کو دینا کیونکہ بہتر ین صدقہ وہ ہی ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائے۔دوسری بات یہ بیان کی گئی کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّایسارزق عطا فرمائے گا جو اسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچائے گااور جو بے نیازی اختیار کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بے نیاز کر د ے گا۔سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’خرچ کرنے کی ابتدااُن لوگوں سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔“یعنی بیوی، ماں باپ، اولاد اور خُدَّامْ وغیرہ ۔ ان کا حق مُقَدَّمْ ہونے کی وجہ یہ ہےکہ اِن کا حق واجب ہے جبکہ اِن کے علاوہ کا حق نفل ہے اور واجب نفل پر مُقَدَّمْ ہوتا ہے۔”بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیا جائے۔“یعنی افضل صدقہ وہ ہے جسے اپنی ذات پر یا جن کا نفقہ اُس پر لازم ہے اُن پر خرچ کرنے کی حاجت نہ ہو ۔مطلب یہ کہ افضل صدقہ وہ ہے جس کو انسان اس طرح نکالے کہ اپنے پاس بقدرِ کفایت باقی رہے۔*امام بغویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:غَنا(یعنی مال داری )سے مراد وہ غنا ہے کہ جس کے ذریعے آنے والی مشکلات میں خود کو مضبوط رکھ سکے،یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہتر صدقہ وہ ہے جس سے تم سائل کو سوال کرنے سے بچا لو(یعنی نہ تو اتنا زیادہ صدقہ کرو کہ اپنے گھر والے بھوکے رہ جائیں اور نہ ہی اتنا کم کرو کہ سوال کرنے والے کی ضرورت ہی پوری نہ ہو اور وہ مزید سوال کرے)۔ایک قول یہ بھی ہے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد صدقہ کرنے والا غنی ہی رہے ۔*امام قرطبیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اور اہل و عیال کے حقوق ادا کرنے کے بعد اس حال میں دیا جائے کہ صدقہ کرنے والے کو کسی طرح کی محتاجی نہ ہو۔حدیث پاک میں غنا کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسی چیز کا حُصُول جس کے ذریعے حاجتِ ضروریہ کو پورا کیا جائے جیسا کہ ایسی شدید بھوک کی حالت میں کھانا کھانا کہ جس پر صبر نہ کیا جا سکے۔چنانچہ ایسی ضرورت کہ جس کے ذریعے انسان اپنے نفس کو پہنچی والی ایذا دور کر سکے اس میں ایثار کرنا جائز نہیں بلکہ ایسی چیز کا اِیثار حرام ہے کیونکہ اِس ضرورت والی چیز کا ایثار کرنا نفس کو ہلاکت یا نقصان تک لے جائے گایا ایسی حاجت کہ جس کے ذریعے وہ سِتر پوشی کرےگا ایسی حاجت میں اپنے نفس کی رعایت بہتر ہے۔جب یہ تمام واجبات پورے ہو جائیں تو اب اِیثار کرنا درست ہےاور اب اُس کا صدقہ کرنا افضل ہے۔ ”جو شخص سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے سوال کرنے سے بچا لے گا۔“یعنی جو لوگوں سے سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ایسا رِزق عطا فرمائے گا جو اسے لوگوں سے سوال کرنے سے بچا لے گا۔پہلے اپنی ذات پہ خرچ کرو:عمدۃ القاری میں ہے:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،رسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’صدقہ کرو۔‘‘ایک شخص نے عرض کیا:’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے پاس ایک دینار ہے۔‘‘∞آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اس کو اپنے اوپر خرچ کرو ۔‘‘اس نے عرض کیا:’’میرے پاس ایک اور دینا ر ہے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو ۔‘‘اس نےعرض کی:’’میرے پاس ایک اور دینا ر ہے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اس کو اپنی اَولاد پرخرچ کرو۔‘‘اس نے عرض کی:’’میرے پاس ایک اور دینار ہے۔‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو۔‘‘اس نےعرض کی:’’میرے پاس ایک اور دینار ہے۔‘‘آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’تم اُس کے متعلق زیادہ بصیرت رکھتے ہو۔‘‘ علامہ خطابیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’جب تم اِس ترتیب پر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاَلْاَولٰی فَالْاَولٰی اَلْاَقْرَبْ فَالْاَقْرَبْکو بیان فرمایا (یعنی جو زیادہ قریب تھا اسے پہلے، پھر اس کے بعد جو قریب تھا اسے بیان فرمایا۔)سب سے پہلے انسان اپنی ذات پہ خرچ کرے پھر اَولاد پہ کیونکہ اس کی اَولاد گویا کہ اسی کا جز ہے اگر وہ اَولاد پر خرچ نہیں کرےگا تو وہ ہلاک ہوجائے گی تو وہ کوئی ایسا اُن کے قائم مقام نہ پائے گا جس پر خرچ کر ے پھر مال خرچ کرنے میں تیسرے نمبر پہ زوجہ ہے کیونکہ شوہر پر زوجہ کا نفقہ واجب ہےاگر اُس پہ مال خرچ نہیں کرےگا تو اُن دونوں میں جدائی ہو جائے گی پھر خادِم پر مال خرچ کرے کیونکہ اگر وہ خادِم پر مال خرچ نہیں کر سکتا تو اسے بیچ دیا جائے گا۔‘‘
صدقے کے مزیدفضائل وتفصیلی اَحکام جاننے کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 400صفحات پرمشتمل کتاب’’ضیائے صدقات‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔مدنی گلدستہ’’صدقہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بہترین صدقہ وہ ہے جس کی ابتدا اپنے گھر والوں سے کی جائے ۔
(2) خرچ کرنے میں پہلے اپنی ذات پہ خرچ کرےپھر اولاد پھر بیوی اور پھر خدام وغیرہ ۔
(3) افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اور اہل و عیال کے حقوق ادا کرنے کے بعد اس حال میں دیا جائے کہ صدقہ کرنے والے کو کسی طرح کی محتاجی نہ ہو۔
(4) جو لوگوں سے سوال کرنے سے بچے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ایسا رزق عطا فرمائے گا جو اسے لوگوں سے سوال کرنے سے بچا لےگا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہِ خدا میں صدقہ کرنےکی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 527