- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 535
باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 535
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ تَكَفَّلَ لِيْ اَنْ لَّا يَسْاَلَ النَّاسَ شَيْئًاوَاَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ فَقُلْتُ:اَنَا فَكَانَ لَايَسْاَلُ اَحَدًا شَيْئًا.
عن ثوبان رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من تكفل لي ان لا يسال الناس شيئاواتكفل له بالجنة فقلت:انا فكان لايسال احدا شيئا.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جو شخص مجھے اِس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا،تو میں اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“(حضرت ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)میں نے عرض کی:’’یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں ضمانت دیتا ہوں۔‘‘چنانچہ اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکسی سے کچھ نہ مانگتے تھے ۔
شرح حدیث
سَیِّدُنَاثوبان کا مختصر تعارف:’’آپ ثوبان ابن بجدد ہیں،آپ کی کنیت ابوعبداللہیا ابوعبدالرحمٰن ہے،حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے آزاد کردہ غلام ہیں ،حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے انہیں مکہ معظمہ اور یمن کے درمیان مقام سرات میں خریدا، آپ حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی وفات تک سفروحضر میں حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ساتھ ہی رہے، کبھی جدا نہ ہوئے،حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی وفات کے بعد مدینہ میں دل نہ لگا، شام چلے گئے،مقام رملہ میں کچھ دن رہے،پھر مقام حمص میں رہے،وہیں۵۴سن ہجری میں وفات پائی،بہت لوگوں نے آپ سے احادیث لی ہیں۔سوال نہ کرنے کی ضمانت پر جنت:’’میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“اس کے تحتعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یعنی جو مجھے ضمانت دے کہ وہ کبھی سوال نہیں کرے گا تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے کرم سے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔بظاہر یہاں ہر چیز کے سوال کی نفی ہے۔ ابن ماجہ میں ہےکہ اگر حضر ت سَیِّدُنَاثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا کوڑا گر جاتا تو آپ کسی کو اٹھانے کے لیے نہ کہتے بلکہ خود سواری سے اُتر کر اُٹھاتے۔‘‘جنت چار چیزوں کے بعد ملےگی :’’جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘ اس کے تحت ”مرآۃ المناجیح“میں ہے:”یعنی جو مجھ سے بھیک نہ مانگنے کا عہد کرے تو میں اس کی چار چیزوں کا ذمہ دار ہوتا ہوں،زندگی تقویٰ پر، موت ایمان پر ،کامیابی قبر میں،چھٹکارا حشر میں،کیونکہ جنت اِن چار چیزوں کے بعد نصیب ہوگی۔اِس سے معلوم ہوا کہا اللہتعالیٰ نے اپنے حبیبصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنی جنت کا مالک و مختار بنایا ہے کیونکہ بغیر اختیار ضمانت کیسی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال سے بچنے والے کو حضورِ اَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنی امان میں لے لیتے ہیں،پھر اُس پر نہ شیطان کا داؤ چلے،نہ نفس اَمَّارہ قابو پائے،جسے وہ اپنے دامن میں چھپا لیں اُس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا تَصَرُّف اور حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی امن و امان عالَم میں قیامت تک جاری ہے کیونکہ حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی یہ ضمانت صرف صحابہ کے لیے نہیں،تا قیامت ہر سوال سے بچنے والے مؤمن کے لیے ہے۔شعر:
ڈھونڈا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو
یہاں شیخ (عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی)نے فرمایا کہ انبیاءکرام کی یہ ضمانتیں باذنِ الٰہی ہیں اور برحق ہیں حتّٰی کہ ایک پیغمبر کا نام ہیذِی الْکِفْلہے کیونکہ وہ اپنی اُمَّت کے لیے جنت کے کفیل ہوگئے تھے۔ (چنانچہ حضرت سَیِّدُنَاثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکسی سے کچھ نہ مانگتے تھے۔) یعنی سب سے پہلے اس حدیث پر خود حضرت ثوبان (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)نے ایسا عمل کیا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا۔ معلوم ہوا کہ علم پر عالِم پہلے خود عمل کرے۔‘‘رسولُاللہکا وعدہ سچا ہے:شیخ عبد الحق محد ث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا:”جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘اِن الفاظ میں درحقیقت اِس اَمر کی انتہائی تاکید و وُثوق ہے کہ اسے جنت ضرور مل کر رہے گی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا حکم ایسا ہی ہے اور یہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وعدۂ صادقہ ہے اور اَنبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکسی وقت کسی مخصوص طاعت پر باذنِ الٰہی ضامِن بن جایا کرتے ہیں۔‘‘حضور مالک جنت، قاسم جنت ہیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ بلا ضرورت وبلا وجہ سوال کرنا نہایت ہی مذموم فعل ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور تاجدارِرِسالت ،شہنشاہ ِنبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے مالک جنت ہیں، اگر آپ جنت کے مالک نہ ہوتے تو سوال نہ کرنے والے کو کبھی بھی جنت کی ضمانت نہ دیتےاور یہ فقط حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث کا معاملہ نہیں ہے بلکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہی کتنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو جنت عطا فرمادی تھی۔دس مشہور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجنہیں آج ہمعَشَرَہ مُبَشَّرَہکے نام سے یاد کرتے ہیں یہ وہی صحابہ ہیں جنہیں مالک جنت،قاسم نعمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ساتھ دنیا میں ہی جنت عطا فرمادی تھی۔ نیز اس رحیم وکریم آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فضل وکرم کے قربان! اپنے بعدمیں آنے والے اُمَّتِیُوں کو بھی جنت سے محروم نہ فرمایا بلکہ مختلف احادیث میں مختلف اعمال پر جنت کی ضمانت عطا فرمادی تاکہ بعد میں آنے والے اُمَّتی بھی آقا کی اس نعمت سے محروم نہ رہیں۔
تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب منافق دور ہو
ہم رسولُاللہکے جنت رسولُاللہکیلَا وَ رَبِّ الْعَرْشجس کو جو مِلا اُن سے مِلا
بٹتی ہے کونَین میں نعمت رسولُاللہکی
عرش حق ہے مسند رفعت رسولُاللہکی
دیکھنی ہے حشر میں عزت رسولُاللہکیمدنی گلدستہسَیِّدُنَا ’’ ثوبان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے مالِکِ جنَّت اور قاسم جنت ہیں، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی سے کچھ نہ مانگنے والے کو جنت کی ضمانت دی ہے ۔
(2) جنت کے حُصُول کے لیے چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے: زندگی تقویٰ پر گزرے ،موت ایمان پر واقع ہو،قبر کے امتحان میں کامیاب ہو اور حشر میں چھٹکارا ملے۔
(3) بھیک مانگنےسے بچنے والے کو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی امان میں لے لیتے ہیں۔
(4) حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ ضمانت قیامت تك آنے والے ہر اس مؤمن کے لیے ہے جو بھیک مانگنے سے بچے۔
(5) اپنی حدیث پر خود حضرت سَیِّدُناثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ایسا عمل کیا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا،معلوم ہوا کہ علم پر عالِم پہلے خود عمل کرے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سوال سے بچنے اور اپنی اور اپنے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِضا والے اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 535