Main Icon

باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 535

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ تَكَفَّلَ لِيْ اَنْ لَّا يَسْاَلَ النَّاسَ شَيْئًاوَاَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ فَقُلْتُ:اَنَا فَكَانَ لَايَسْاَلُ اَحَدًا شَيْئًا.

عن ثوبان رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من تكفل لي ان لا يسال الناس شيئاواتكفل له بالجنة فقلت:انا فكان لايسال احدا شيئا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جو شخص مجھے اِس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا،تو میں اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“(حضرت ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)میں نے عرض کی:’’یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں ضمانت دیتا ہوں۔‘‘چنانچہ اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکسی سے کچھ نہ مانگتے تھے ۔

شرح حدیث

سَیِّدُنَاثوبان کا مختصر تعارف:’’آپ ثوبان ابن بجدد ہیں،آپ کی کنیت ابوعبداللہیا ابوعبدالرحمٰن ہے،حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے آزاد کردہ غلام ہیں ،حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے انہیں مکہ معظمہ اور یمن کے درمیان مقام سرات میں خریدا، آپ حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی وفات تک سفروحضر میں حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ساتھ ہی رہے، کبھی جدا نہ ہوئے،حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی وفات کے بعد مدینہ میں دل نہ لگا، شام چلے گئے،مقام رملہ میں کچھ دن رہے،پھر مقام حمص میں رہے،وہیں۵۴سن ہجری میں وفات پائی،بہت لوگوں نے آپ سے احادیث لی ہیں۔سوال نہ کرنے کی ضمانت پر جنت:’’میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“اس کے تحتعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یعنی جو مجھے ضمانت دے کہ وہ کبھی سوال نہیں کرے گا تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے کرم سے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔بظاہر یہاں ہر چیز کے سوال کی نفی ہے۔ ابن ماجہ میں ہےکہ اگر حضر ت سَیِّدُنَاثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا کوڑا گر جاتا تو آپ کسی کو اٹھانے کے لیے نہ کہتے بلکہ خود سواری سے اُتر کر اُٹھاتے۔‘‘جنت چار چیزوں کے بعد ملےگی :’’جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘ اس کے تحت ”مرآۃ المناجیح“میں ہے:”یعنی جو مجھ سے بھیک نہ مانگنے کا عہد کرے تو میں اس کی چار چیزوں کا ذمہ دار ہوتا ہوں،زندگی تقویٰ پر، موت ایمان پر ،کامیابی قبر میں،چھٹکارا حشر میں،کیونکہ جنت اِن چار چیزوں کے بعد نصیب ہوگی۔اِس سے معلوم ہوا کہا اللہتعالیٰ نے اپنے حبیبصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنی جنت کا مالک و مختار بنایا ہے کیونکہ بغیر اختیار ضمانت کیسی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال سے بچنے والے کو حضورِ اَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنی امان میں لے لیتے ہیں،پھر اُس پر نہ شیطان کا داؤ چلے،نہ نفس اَمَّارہ قابو پائے،جسے وہ اپنے دامن میں چھپا لیں اُس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا تَصَرُّف اور حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی امن و امان عالَم میں قیامت تک جاری ہے کیونکہ حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی یہ ضمانت صرف صحابہ کے لیے نہیں،تا قیامت ہر سوال سے بچنے والے مؤمن کے لیے ہے۔شعر:
ڈھونڈا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو
یہاں شیخ (عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی)نے فرمایا کہ انبیاءکرام کی یہ ضمانتیں باذنِ الٰہی ہیں اور برحق ہیں حتّٰی کہ ایک پیغمبر کا نام ہیذِی الْکِفْلہے کیونکہ وہ اپنی اُمَّت کے لیے جنت کے کفیل ہوگئے تھے۔ (چنانچہ حضرت سَیِّدُنَاثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکسی سے کچھ نہ مانگتے تھے۔) یعنی سب سے پہلے اس حدیث پر خود حضرت ثوبان (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)نے ایسا عمل کیا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا۔ معلوم ہوا کہ علم پر عالِم پہلے خود عمل کرے۔‘‘رسولُاللہکا وعدہ سچا ہے:شیخ عبد الحق محد ث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا:”جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘اِن الفاظ میں درحقیقت اِس اَمر کی انتہائی تاکید و وُثوق ہے کہ اسے جنت ضرور مل کر رہے گی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا حکم ایسا ہی ہے اور یہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وعدۂ صادقہ ہے اور اَنبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکسی وقت کسی مخصوص طاعت پر باذنِ الٰہی ضامِن بن جایا کرتے ہیں۔‘‘حضور مالک جنت، قاسم جنت ہیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ بلا ضرورت وبلا وجہ سوال کرنا نہایت ہی مذموم فعل ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور تاجدارِرِسالت ،شہنشاہ ِنبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے مالک جنت ہیں، اگر آپ جنت کے مالک نہ ہوتے تو سوال نہ کرنے والے کو کبھی بھی جنت کی ضمانت نہ دیتےاور یہ فقط حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث کا معاملہ نہیں ہے بلکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہی کتنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو جنت عطا فرمادی تھی۔دس مشہور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجنہیں آج ہمعَشَرَہ مُبَشَّرَہکے نام سے یاد کرتے ہیں یہ وہی صحابہ ہیں جنہیں مالک جنت،قاسم نعمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ساتھ دنیا میں ہی جنت عطا فرمادی تھی۔ نیز اس رحیم وکریم آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فضل وکرم کے قربان! اپنے بعدمیں آنے والے اُمَّتِیُوں کو بھی جنت سے محروم نہ فرمایا بلکہ مختلف احادیث میں مختلف اعمال پر جنت کی ضمانت عطا فرمادی تاکہ بعد میں آنے والے اُمَّتی بھی آقا کی اس نعمت سے محروم نہ رہیں۔
تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب منافق دور ہو
ہم رسولُ
اللہکے جنت رسولُاللہکیلَا وَ رَبِّ الْعَرْشجس کو جو مِلا اُن سے مِلا
بٹتی ہے کونَین میں نعمت رسولُ
اللہکی
عرش حق ہے مسند رفعت رسولُ
اللہکی
دیکھنی ہے حشر میں عزت رسولُ
اللہکیمدنی گلدستہسَیِّدُنَا ’’ ثوبان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے مالِکِ جنَّت اور قاسم جنت ہیں، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی سے کچھ نہ مانگنے والے کو جنت کی ضمانت دی ہے ۔
(2) جنت کے حُصُول کے لیے چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے: زندگی تقویٰ پر گزرے ،موت ایمان پر واقع ہو،قبر کے امتحان میں کامیاب ہو اور حشر میں چھٹکارا ملے۔
(3) بھیک مانگنےسے بچنے والے کو حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی امان میں لے لیتے ہیں۔
(4) حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ ضمانت قیامت تك آنے والے ہر اس مؤمن کے لیے ہے جو بھیک مانگنے سے بچے۔
(5) اپنی حدیث پر خود حضرت سَیِّدُناثوبان
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ایسا عمل کیا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا،معلوم ہوا کہ علم پر عالِم پہلے خود عمل کرے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سوال سے بچنے اور اپنی اور اپنے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِضا والے اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 535