- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 526
حدیث مبارکہ
عَنْ عَمْرو بْن تَغْلِبَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ:اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم اُتِيَ بِمالٍ اَوْ سَبْيٍ فَقَسَّمَهُ فَاَعْطٰى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا فَبَلَغَهُ اَنَّ الَّذِينَ تَرَكَ عَتَبُوْا فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ اَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بعْدُ فَوَاللهِ! اِنِّي لَاُعْطِيَ الرَّجُلَ وَاَدَعُ الرَّجُلَ وَالَّذِي اَدَعُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنَ الَّذِي اُعْطِيَ وَلَكِنِّي اِنَّمَا اُعْطِيَ اَقْوَامًا لِمَا اَرَى فِيْ قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالهَلَعِ وَاَكِلُ اَقْوَامًا اِلٰی مَا جَعَلَ اللهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنٰى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بنُ تَغْلِبَ قَالَ عَمْرُو بنُ تَغْلِبَ:فَوَاللهِ مَا اُحِبُّ اَنَّ لِيْ بِكَلِمَةِ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم حُمْرَ النَّعَمِ.
عن عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بمال او سبي فقسمه فاعطى رجالا وترك رجالا فبلغه ان الذين ترك عتبوا فحمد الله ثم اثنى عليه ثم قال:اما بعد فوالله! اني لاعطي الرجل وادع الرجل والذي ادع احب الي من الذي اعطي ولكني انما اعطي اقواما لما ارى في قلوبهم من الجزع والهلع واكل اقواما الی ما جعل الله في قلوبهم من الغنى والخير منهم عمرو بن تغلب قال عمرو بن تغلب:فوالله ما احب ان لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حمر النعم.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاعَمرو بن تغلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے جن کو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تقسیم فرمایا۔بعض صحابہ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکو عطافرمایا اوربعض کو کچھ نہ دیا،پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ اطلاع ملی کہ جن کو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عطا نہ فرمایا انہوں نے ناپسندیدگی کا اِظہار کیا ہے۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد و ثناء کے بعدارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں ایک آدمی کو دیتا ہوں اور دوسرے کو چھوڑ دیتا ہوں اور جسے میں چھوڑ تا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جس کو میں دیتا ہوں لیکن میں کچھ لوگوں کو اس وجہ سے عطا کرتا ہوں کہ میں ان کے دلوں میں بے قراری اور شدید گھبراہٹ دیکھتا ہوں اور کچھ لوگوں کو میں اُس غَنااور بھلائی کے سپرد کر دیتا ہوں جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُن کے دلوں میں پیدا فرمائی ان میں سے عَمرو بن تَغْلِبْ(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)بھی ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُناعَمروبن تَغْلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس ارشاد کے بدلے اپنے لیے سُرخ اُونٹوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کی باب سے مناسبت:مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جن صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو مال وغیرہ نہیں دیا تھا ،اُن صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے یہ اَوصاف بیان فرمائے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُن کے دل کو غنی فرمایا ہے اور اُن کے قلوب کے اندر بھلائی پیدا فرمائی ہےاور یقیناً جس شخص کے دل میںاللہ عَزَّوَجَلَّنے سخاوت وتونگری اور بھلائی رکھی ہو وہ قناعت، اِیثار،تَوَکُّل عَلَی اللہاور لوگوں کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا اور یہ باب بھی قناعت، میانہ روی، بلاوجہ دست سوال دراز نہ کرنے کے بارے میں ہے، اِسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی۔بعض صحابہ کو مال دینے اور بعض کو نہ دینے کی وجہ :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حضورنبی رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے کلام کو قسم کے ساتھ اس لیے مؤکد فرمایا کہ جن حضرات کو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مال عطا نہ فرمایا انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید ہم میں کوئی دینی کمی ہے یا ہماری محبت حضور نبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کم ہےاس لیے ہمیں کچھ نہ دیا گیا۔(تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے کلام کو قسم کے ساتھ مؤکد فرماکے اس وہم کا ازالہ فرمادیا۔)جن صحابہ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکو مال عطا فرمایا ان سے محبت کی وجہ یہ تھی کہ وہ نئے نئے اِسلام میں داخل ہوئے تھے اور مسلمانوں کی لڑی میں پروئے گئے تھے اور وہ صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجن کو مال عطا نہ فرمایا وہ پہلے ہی رسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرنے والےتھے۔‘‘سُرخ اونٹوں سے بہتر:دلیل الفالحین میں ہے:حضرت سَیِّدُنَاعَمروبن تَغْلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکایہ فرمانا کہ”بخدا!میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس اِرشاد کے بدلے سُرخ اونٹوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔“اِس کا معنیٰ یہ ہے کہ ’’میں پسند نہیں کرتا کہ مذکورہ کلمے کےبدلے میرے لیے سُرخ اُونٹ ہوتےیا اس کے بدلے سرخ اُونٹ ہوتےتو وہ مجھے اتنے پسند نہ ہوتے جتنا یہ کلمہ مجھے پسند ہے۔‘‘( )واضح رہے کہ سُرخ اونٹ دیگر اونٹوں کے مقابلے میں نہایت ہی قیمتی، تیز رفتار اور طاقت میں بہت اچھے ہوتے ہیں۔ نیز اہل عرب سُرخ اونٹوں کو بہت پسند کرتے تھے۔ گویا اُن کے نزدیک یہ اُن کے تمام اَموال سے زیادہ قیمتی اور محبوب مال ہوتا تھا۔ اِس لیے اہل عرب جب کسی چیز کی مالی قیمت کو بیان کرتے تو سُرخ اونٹوں کےمقابل بیان کرتے ۔عشق ومحبت کا ایک لطیف نکتہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہاں حضرت سَیِّدُنَا عَمروبن تَغْلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے عشق رسول کا ایک لطیف نکتہ پیش خدمت ہے۔ وہ یہ کہ عام طور پر جب کوئی بڑا یا صاحب مرتبہ شخص اپنے سے چھوٹے یا باعتبار منصب چھوٹے شخص کی کوئی تعریف بیان کرے، اس کی ذات میں پائے جانے والے کسی وصف کو بیان کرے تو یہ اس چھوٹے شخص کے حق میں بطورِ سند ہوتا ہے اور وہ چھوٹا شخص خوشی سے اس کو دیگر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ میری فلاں صفت تو اُس صاحبِ مرتبہ شخص نے بھی بیان کی ہے۔جب دنیا کے کسی صاحبِ مرتبہ کا یہ حال ہے کہ وہ کسی کی صفت کو بیان کردے تو اس کے لیے سند بن جاتی ہے تو جس کے اَوصاف کو خود امام الانبیاءصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیان فرمادیں اس کی خوشی اور راحت کا کیا عالَم ہوگا؟ جب حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اَوصاف کو بیان فرمایا اور پھر خصوصاً حضرت سَیِّدُنَا عَمروبن تَغْلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا اُن میں سے ہونا بیان فرمایا تو یقیناًاپنے محبوب آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک زبان سے اپنے اَوصاف سن کرحضرت سَیِّدُنَا عَمروبن تَغْلِبْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی رُوح جھوم اٹھی ہوگی۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسے اہل عرب کی سب سے قیمتی چیز سے بھی زیادہ محبوب جانا۔لَا وَرَبِّ الْعَرْشجس کو جو ملا اُن سے ملا
بٹتی ہے کونَین میں نعمت رسولُاللہکیدینے والے کی تین حالتیں اور ان کا حکم:”احیاء العلوم“میں ہے:”سائل کو اگرقرائن اور احوال کے ذریعے یہ معلوم ہو کہ دینے والاخوش دلی سے دے رہا ہے تو لینا بالکل جائز ہے اوراگر قرائن سے یہ بات ظاہر ہو کہ وہ ناپسندیدگی کے ساتھ دے رہا ہے تو لینا ناجائز وحرام ہے اور اگران دونوں میں سے کسی بات کا یقین نہ ہو تو پھر انسان کو اپنے دل پر غور کرنا چاہئے اور شبہات کو ترک کرکے غیر مشتبہ چیزوں کو اختیار کرنا چاہئے کیونکہ شُبہات انسان کو گناہ تک لے جاتے ہیں۔“( )بعضاللہوالے جنہیں قلبی بصیرت حاصل تھی وہ اپنی مومنانہ فراست سے جان لیا کرتے تھے کہ دینے والا خوش دلی سے دے رہا ہے یا نہیں،وہ بعض لوگوں سے لیتے تھے اور بعض سے نہیں جبکہ بعض حضرات صرف اپنے دوستوں سے لیا کرتے تھے ۔کچھ لوگ ایسے بھی تھےجو دی جانے والی چیزوں میں سے کچھ کو رکھ لیتے تھے اور کچھ واپس کردیتے تھے۔چنانچہ،جواللہکے لئے تھا وہ انہوں نے لے لیا :ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَ لِیکوایک مَقام پر لوگوں سے سوال کرتے دیکھا توان کے اس فعل کو بُرا جانااور سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُناجنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیکی خدمت میں حاضر ہوکرانہیں اس بات کی خبر دی۔انہوں نے فرمایا:اس بات پر تعجب نہ کرو! حضرت سیِّدُناابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَ لِیلوگوں سے لینے کے لئے نہیں بلکہ انہیں دینے کے لئے سوال کرتے ہیں۔وہ لوگوں سے اس لئے مانگتے ہیں تاکہ اس سوال کو پورا کرنے پر انہیں آخرت میں اجروثواب حاصل ہو۔ غالباًحضرت سیِّدُناجنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیکااشارہ اس فرمانِ مصطفٰےکی طرف ہے:’’يَدُ الْمُعْطِيْ هِيَ الْعُلْيَایعنی دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہے۔( )بعض علماءنے فرمایا:’’يَدُ الْمُعْطِيْسے مراد مال دینے والے کا نہیں بلکہ لینے والے کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ مال قبول کرکے دینے والےکے لئے ثواب اور مرتبہ ملنے کا سبب بنتا ہے۔‘‘حضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِینے اس شخص سے ترازو منگوایا اور 100 درہم تولے ،اس کے بعد بغیر تولے ایک مٹھی درہم ان100دِرْہموں کے اوپر ڈال دیئےاورفرمایا:یہ سب درہم حضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَ لِیکی خدمت میں پیش کردو۔اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے دل میں سوچا وزن اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ کسی چیز کی مقدارمعلوم کی جائے،حضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیعقل مند شخص ہیں پھر انہوں نے100درہم کا وزن کرنے کے بعد بغیر وزن کئے چند درہم کیوں ملا دیئے؟لیکن شرم وحیا کے سبب میں اُن سے یہ سوال نہ کرسکا اورحضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَ لِیکی خدمت میں حاضر ہوگیا۔انہوں نے بھی ترازو منگایا،100درہم تول کر الگ کئےاور100سے زائد درہم اپنے پاس رکھ لئے اورفرمایا:یہ سب حضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیکو واپس کردینا اور کہنا کہ میں آپ سے کچھ نہیں لوں گا۔اس شخص کا بیان ہے کہ یہ مُعامَلہ دیکھ کر میری حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا اورمیں نےحضرت سیِّدُنا ابوالحسن نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَ لِیسے اس بارے میں عرض کی توانہوں نےفرمایا: حضرت سیِّدُناجنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیایک دانا شخص ہیں،وہ یہ چاہتے تھے کہ رسی کے دونوں سرے پکڑلیں۔انہوں نے 100 درہم اپنے لئے تولےتھے تاکہ انہیں ثوابِ آخرت حاصل ہوجبکہ ایک مٹھی درہم بغیر تولےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ڈالے تھے۔انہوں نے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے دیئے تھے وہ میں نے لے لئے اور جو اپنے لئے ڈالے تھے وہ واپس کردیئے۔وہ شخص100درہم لے کرحضرت سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیکی خدمت میں حاضر ہوا توآپ روپڑے اورفرمایا:”جو ان کے لئے تھا وہ انہوں نے لے لیا اور جو ہمارے لئے تھا وہ واپس کردیا۔“مدنی گلدستہ’’صحابہ ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضور نبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو عطا فرماتے رہتے تھے۔
(2) بعض اوقات کسی مصلحت کی وجہ سے کسی کو نہ دینا افضل ہوتا ہے جیسےآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن لوگوں کو مال عطا نہ فرمایا جن کے دلوں میں استغنا اور خیر تھی ۔
(3) کسی فعل کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شُکُوک و شُبْہَات کو دُور کرنے کے لیے اُس فعل کی وضا حت کر دینی چاہیے اور یہ سنت سے ثابت ہے۔
(4) عرب کےلوگ جب کسی چیز کی اہمیت کو بیان کرتے تو سُرخ اُونٹوں کے تقابل سے بیان کرتے تھے کیونکہ سُرخ اونٹ اُن کے نزدیک نہایت ہی قیمتی اور بہترین مال میں شمار ہوتا تھا۔
(5) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانرسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک الفاظوں کو سند سمجھتے تھے اور اسے اپنے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب رکھتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مال و دولت کی حرص سے محفوظ فرما کر دلوں کا غنا نصیب فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 526