- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- حدیث نمبر 524
حدیث مبارکہ
عَنْ حَكِيمِ بِنْ حِزَامٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ:سَاَلْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَاَعْطَانِي ثُمَّ سَاَلْتُهُ فَاَعْطَانِي ثُمَّ سَاَلْتُهُ فَاَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ: يَا حَكِيمُ! اِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ اَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُوْرِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ اَخَذَهُ باِشْرافِ نَفسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيْهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَاْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حكيمٌ: فَقُلْتُ:يَا رَسُوْلَ الله! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا اَرْزَاُ اَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتّٰى اُفَارِقَ الدُّنْيَا فَكَانَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ يَدْعُوْ حَكِيمْاً لِيُعْطِيَهُ الْعَطَاءَ فَيَاْبَى اَنْ يَّقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا ثُمَّ اِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَاَبَى اَنْ يَقْبَلَهُ فقالَ:يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! اُشْهِدُكُمْ عَلَى حَكيْمٍ اَنّي اَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَهُ اللهُ لَهُ في هَذَا الْفَيْءِ فَيَاْبَى اَنْ يَاْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَاْ حَكيمٌ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم حَتَّى تُوُفِّيَ.
عن حكيم بن حزام رضی اللہ عنہ قال:سالت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم قال: يا حكيم! ان هذا المال خضر حلو فمن اخذه بسخاوة نفس بورك له فيه ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه وكان كالذي ياكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى قال حكيم: فقلت:يا رسول الله! والذي بعثك بالحق لا ارزا احدا بعدك شيئا حتى افارق الدنيا فكان ابو بكر رضی اللہ عنہ يدعو حكيما ليعطيه العطاء فيابى ان يقبل منه شيئا ثم ان عمر رضی اللہ عنہ دعاه ليعطيه فابى ان يقبله فقال:يا معشر المسلمين! اشهدكم على حكيم اني اعرض عليه حقه الذي قسمه الله له في هذا الفيء فيابى ان ياخذه فلم يرزا حكيم احدا من الناس بعد النبي صلی اللہ علیہ وسلم حتى توفي.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کچھ مانگا توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھے عطا فرمایا۔میں نے پھر مانگا، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر عطا فرمایا۔میں نے پھر مانگا، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر عطا فرمایا۔پھر ارشاد فرمایا :’’اے حکیم!یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جو اسے بغیر لالچ کے لے گا اسے اس مال میں برکت ہوگی اور جو اسے نفسانی طمع سے لے گا اُسے اِس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اُس آدمی کی طرح ہوگا جو کھائے اور سیر نہ ہواوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :’’میں نے عرض کی کہیارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اُس ذات کی قسم جس نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد مرتےدَم تک کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔ حضرت سَیِّدُنَا ابو بکرصدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو عطیہ دینے کے لیے بلایا لیکن انہوں نے کچھ لینے سے انکار کر دیا ۔پھر حضرت سَیِّدُنَاعمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں کچھ عطا کرنے کے لیے بلایا لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت سَیِّدُنَاعمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:’’اے مسلمانوں کی جماعت !میں تمہیں حکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُپر گواہ بناتا ہوں، میں اُن پر اُن کا وہ حق پیش کرتا ہوں جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُن کے لیے مال ِ غنیمت میں رکھا، وہ لینے سے انکار کرتے ہیں۔‘‘بہرحال حضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنےرسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ لیا۔
شرح حدیث
سیدنا حکیم بن حزام کی قناعت پسندی:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’صدقہ دینے کے بعدحضرت سَیِّدُنَا حکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو نصیحت فرمانے میں یہ حکمت تھی کہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ مانگی ہوئی چیز میں بخل کر رہے ہیں۔“اے حکیم!کہہ کر آواز دینےسے مخاطب کو مزید خبردار کرنا مقصود ہے۔”یہ مال سرسبزاور میٹھا ہے۔“یعنی یہ مال اس سبزے کی طرح ہے جو نظر کے لیے پر کشش اور نفس کو مانوس کرنے والا ہے۔امام ابنِ حجررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’یہ مال صورت میں سرسبز و میٹھا ہے، اہل عرب ہر چمکدار چیز کونَضْروخَضَرْکہتے ہیں۔‘‘علامہ ابنِ اعرابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتےہیں:یہ مال کی صفت نہیں بلکہ تشبیہ کے لیے ہے گویا یہ فرمایا کہ مال سبز میٹھی ترکاری کی طرح ہے یاپھر یہاں مال سے مراد دنیا ہے کیونکہ یہی مال دنیا کی زینت ہےجیسا کہاللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا: (اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-)(پ۱۵، الکھف:۴۶)ترجمۂ کنزالایمان:’’مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگار(زینت)ہے۔‘‘جس نے اسے نفس کی سخاوت کے ساتھ لیا۔یعنی بغیرمانگے لیا ہو اور یہ لینے والے کے اِعتبار سے ہے جبکہ دینے والے کے اِعتبار سے بھی ہو سکتا ہے یعنی دینے والے نے نفس کی سخاوت کے ساتھ خوش دلی سے دیا ہوتو ایسی صورت میں برکت عطا کی جاتی ہے اور برکت یہ ہے کہ اس کا یہ تھوڑا مال برکت کی وجہ سے زیادہ کی جگہ کام دے گا۔”جس نے نفسانی لالچ کے ساتھ لیا اسے اس میں برکت نہیں دی جاتی اور وہ اس آدمی کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا تو ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔“یعنی جس نے انتظار و حرص کے ساتھ لیا تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جوبھوک کی بیماری کی وجہ سے سیر نہیں ہوتا جیسے جیسے بیماری بڑہتی ہے اس کی بھوک میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔حدیث میں اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچےوالے ہاتھ سے مراد لینے والا۔ایک حدیث پاک میں ہےکہ حضرت سَیِّدُناطارق محاربیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہم مدینہ منورہ پہنچے ،ہم نے دیکھا کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر پر کھڑے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے:’’یَدُ الْمُعْطِی الْعُلْیَایعنی دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے۔‘‘ جمہور کے قول کے مطابقیَدِعُلْیَاسے مراد دینے والا ہاتھ اوریَدِسُفْلٰیسے مراد مانگے والا ہاتھ ہے اور یہی قول معتمد ہے۔حضرت حکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنےسَیِّدُنَاصدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاورسَیِّدُنَا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے اپنا حق بھی نہ لیا۔فتح الباری میں ہے:’’حضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا حق ہونے کے باوجود عطیہ لینے سے انکار کرنا اس وجہ سے تھا کہ ان کو خدشہ ہو ا کہ اگر وہ کسی سے کچھ قبول کر لیں گے تو پھر مانگنے کی عادت پڑ جائے گی او رپھر ایسی چیز کی طرف تجاوز نہ ہو جائے جسے وہ لینا نہ چاہیں تو اس وجہ سے انہوں نے اسے چھوڑدیااور شک میں نہ ڈالنے والی شے کو شک کے خوف سے ترک کردیا۔‘‘حضرت سَیِّدُنَاعمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں کو ان پر اس لیے گواہ بنایا تا کہ جو لوگ(حضرت حکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے عطیہ نہ لینے کی) اندرونی کیفیت سے واقف نہیں وہ یہ الزام نہ لگائیں کہ حضرت سَیِّدُنَاعمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنےحضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا حق روک لیا۔ حضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَاابوبکرصدیق،حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروق،حضرت سَیِّدُنَاعثمان غنی اور حضرت سَیِّدُنَا امیر معاویہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْمیں سے کسی سے نہ قرض لیا اور نہ ہی اس کے علاوہ کچھ لیا ،یہاں تک کہ حضرت سَیِّدُنَا امیر معاویہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے دورِ حکومت کے دسویں سال ان کی وفات ہو گئی۔“رسولُاللہنے خوش کردیا:امام جلال الدین سیوطیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورنبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس وجہ سےسوال کیا تھا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں دیگر صحابہ کے مقابلے میں کم مال دیا تھا اس پر وہ کہنے لگے:”یارسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرا خیال یہ تھا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے کسی سے کم مال نہ دیں گے۔“چنانچہ انہوں نے اور مانگا ،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عطا فرما دیا،پھر مانگا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اور بھی عطا فرمایا، یہاں تک کہ وہ راضی اور خوش ہو گئے۔‘‘حاکم اسلام سے کچھ مانگنا:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’اس سے معلوم ہوا کہ حاکم اسلام سے مانگنے میں کوئی عار نہیں اور یہاں اس بات کی دلیل ہے کہ سائل کے اصرار کے ساتھ مانگنے پر اسے وعظ و نصیحت کرتے ہوئے واپس لوٹا دینے میں کوئی حرج نہیں نیز اسے مانگنے اور حرص کے ساتھ مال لینے سے بچنے کا حکم دیا جائے جیساکہ حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دو بارمانگا اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں عطا فرمایا۔ تیسری بار مانگنے پر رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو حرص چھوڑنے اور مانگنے سےبچنے کا ارشاد فرمایا۔”جس نے مال کو نفس کی سخاوت کے ساتھ لیااس میں اس کو برکت عطا کی گئی۔“آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ قناعت اور اتنا مال مانگنا کہ جو اسے کفایت کر جائے اور اچھے طریقے سے مانگنا یہ تمام چیزیں برکت سے ملی ہوتی ہیں اور جس نے لالچ اور حرص کے ساتھ ایسا مال طلب کیا جس میں اس کا حق نہیں بنتا، اس مال میں اسے برکت نہیں دی جاتی۔ مال اورغَنا کی فضیلت اس وقت ہے جب اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِطاعت میں خرچ کیا جائے اور بغیر حاجت و ضرورت کسی سے سوال نہ کیا جائے۔اس سے معلوم ہوا کہ سوال کرنا اس وقت مَذْمُوْم ہے جب انسان کا کسی پر کوئی حق نہ ہو ،جب انسان نے کسی کا کوئی کام کیا اور اس کام کی اُجرت لینی ہو تو یہ مانگنا مذموم نہیں۔‘‘مذکورہ حدیث سے ماخوذ فوائد ومعلومات:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں جومفید باتیں ذِکر فرمائی ہیں وہ درج ذیل ہیں:*∞آپ(یعنی حضرت سَیِّدُنَاحکیم بن حزامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)صحابی ہیں،حضرت خدیجۃ الکبریٰ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِا)کے بھتیجے ہیں،آپ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی،ایک سوبیس سال عمر پائی،ساٹھ سال جاہلیت میں گزرے،ساٹھ سال اسلام میں۔*∞زمانہ ٔجاہلیت میں لوگ مانگنے کو عیب نہ سمجھتے تھے بلاضرورت بھی دستِ سوال دراز کردیتے تھے،نَو مسلم(یعنی نئے نئے اسلام قبول کرنے والے) حضرات اسی عادت کے مطابق اَوَّلاً مانگتے تھےنبی کریمصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّماکثر انہیں دے کر سوال سے منع فرماتے تھے۔*∞”اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہے اور نیچے والے سے مانگ کر لینے والا،خواہ دینے والا نذرانے کے طور پر نیچا ہاتھ کرکے ہی دے اور لینے والا اوپر ہاتھ کرکے ہی اٹھائے مگر پھر بھی دینے والا ہی اونچا ہے۔یہاں دینے اور لینے سے مراد بھیک دینا اور لینا ہے۔اولاد کا ماں باپ کو دینا،مرید صادق کا اپنے شیخ کامل کی خدمت میں کچھ پیش کرنا،انصار کا حضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بارگاہ میں نذرانے پیش کرنا اس حکم سے علیحدہ ہیں۔اگر ہماری کھالوں کے جوتے بنیں اور رشتہ جان کے تسمے اورحضورِ انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّماسے استعمال فرمائیں تو ان کے حق کا کروڑواں حصہ ادا نہ ہو۔اس حدیث سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ غَنا فقر سے بہتر ہے اورغنی شاکر فقیر صابر سے افضل مگر حق یہ ہے کہ فقیر صابر غنی شاکر سے افضل ہے۔ہماری اس تقریر سے یہ حدیث غنی کے افضل ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہاں بھکاری فقیر کا ذکر ہے نہ کہ صابر کا۔بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہاں اوپر والے ہاتھ سے فقیر صابر مراد ہے اور نیچے والے سے بھکاری،تب توسُبحٰن ا اللہ! بہت لطف کی بات ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’قناعت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مال وغَنا کی فضیلت اس وقت ہے جب اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں خرچ کیا جائے اور بغیر حاجت و ضرورت کسی سے سوال نہ کیا جائے۔
(2) نفس کی سخاوت کے ساتھ لیے ہوئے مال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّبرکت عطا فرماتا ہے پھر وہ تھوڑا مال زیادہ کی جگہ کام دیتا ہے۔
(3) جو صبر و قناعت کے ساتھ اس طرح مال لے کہ ناجائزکی طرف نظر نہ اٹھائے اور جائز مال کی ہوس بھی نہ ہو تو اگر چہ اس کے پاس مال کم ہواللہ عَزَّ وَجَلَّاس میں بركت عطا فرماتا ہے ۔
(4) نفسانی لالچ کے ساتھ لیےہوئے مال میں برکت نہیں ہوتی ۔
(5) حضرت سَیِّدُنَاحکیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کسی سے نہ لینے کا وعدہ ایسا پورا کیاکہ اپنے انتقال تک کسی سے کچھ نہ لیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنے دیئے ہوئے رِزق پر صبروقناعت کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہمیں بِلَا ضرورت مانگنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 524