Main Icon

باب: مِل کر کھانےکابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 756

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاِثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الْاِثْنَيْنِ يَكْفِي الْاَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْاَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ.

عن جابر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: طعام الواحد يكفي الاثنين، وطعام الاثنين يكفي الاربعة، وطعام الاربعة يكفي الثمانية.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :” ایک کا کھانا دو کو کافی ہے اور دو کا کھانا چار کو اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہے۔“

شرح حدیث

کبھی کم کھائےکبھی روزےرکھے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ زیادہ نازک حالات کے لیے ہے جب کہ کھانے میں بہت ہی کمی ہوجائے، ان ہنگامی حالات میں آدھا پیٹ کھانا چاہیے اتنے کھانے سے بھی انسان مرتا نہیں کام چل جاتا ہے بلکہ ارزانی (یعنی فراوانی ) کے زمانہ میں بھی مسلمان کو چاہیے کہ کبھی روزہ رکھے کبھی کم کھائے تاکہ مصیبت پڑنے پر بھوک برداشت کرسکے۔ ہر ماہ میں تین روزے سنت ہیں اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ کھانا الگ الگ نہ کھاؤ مجتمع ہوکر کھاؤ جماعت میں برکت ہے۔حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمہمیشہ جماعت کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔“
معلوم ہواکہ جب بھی کھانا کھائیں تو اپنے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرلیں اور خاص طورپر دعوت وغیرہ میں جب کھانا کم ہو اور کھانے والے زیادہ ہوں تو اس بات کا زیادہ خیال رکھا جائے۔
مدنی گلدستہ’’برکت “کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اوران کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کھانا کم ہو تو پیٹ بھر کرکھانے کے بجائے بقدرِ کفایت کھا کر بقیہ کسی ضرورت مند کو دے دیں۔
(2) کثرتِ رزق کےوقت کم کھانا چاہیے اوربھوک برداشت کرنے کیلئے نفلی روزےبھی رکھنے چاہئیں۔
(3) مل کرکھانے سے کھانے میں برکت پیدا ہوتی ہےاور کم کھانا زیادہ افراد کو کفایت کر جاتا ہے۔
(4) سیر ہوکر کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے کہ حدیثِ پاک میں اس کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت وسنت کےمطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے اورہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 756