- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حُضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”ہرمسلمان پر(حاکم کا حکم)سننا اوراس کی اطاعت کرنا لازم ہے چاہے اسے وہ حکم پسند ہو یا نہ پسند، سوائے گناہ کے حکم کے کہ جب گناہ کا حکم دیا جائے تو اسے نہ سننا لازم ہے اور نہ ہی اس کی اطاعت کرنا لازم۔‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِـمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيْمَا اَحَبَّ وَكَرِهَ اِلَّا اَنْ يُّؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَاِذَااُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَاطَاعَةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 663 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ جب ہم رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سننے اوراطاعت کرنےپربیعت کرتے توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے :” اُس میں جس کی تمہیں طاقت ہو۔ “
عَن ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَاقَالَ:كُنَّااِذَا بَايَعْنَارَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُوْلُ لَنَا:فِيْمَااسْتَطَعْتُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 664 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نےحضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”جس نےاطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہ تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ “ایک روایت میں ہے :” جو اِس حال میں مرا کہ جماعت سے دور رہنے والا تھا تو بے شک وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يقول:مَنْ خَلَعَ يَدًامِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ في عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ:وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مُفَارِقٌ لِلجَمَاعَةِ،فَاِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 665 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنے ارشاد فرمایا:”سنواوراطاعت کرو،اگرچہ تم پرحبشی غلام کو حاکم بنا دیا جائے جس کاسر کشمش کی طرح ہو۔ “
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَاَنَّ رَاْسَهُ زَبِيْبَةٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 666 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تم پر اپنی تنگدستی اورخوشحالی میں،پسندو ناپسند میں اورتم پر کسی دوسرے کو ترجیح دی جانے کی صورت میں سننا اوراطاعت کرنا لازم ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله ِصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:عَلَيْكَ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيْ عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَاَثَرَ ةٍعَلَيْكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 667 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہ بن عَمرو رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب ایک جگہ قیام کیا تو ہم میں سے کوئی اپنا خیمہ درست کرنے لگا ،کوئی تیر اندازی کرنے لگا اورکوئی اپنے جانوروں کی دیکھ بھال میں مَصروف ہوگیا ۔اتنے میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےمُنادی نےپکارا:” نماز قائم ہونے والی ہے“پس جب ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا: ”بے شک مجھ سے پہلے جو بھی نبی آیا اس پر لازم تھا کہ جس بھلائی کو جانتاہے اس کے بارے میں اپنی اُمَّت کو آگاہ کرے اور جس بُرائی کو جانتاہے اس سے انہیں ڈرائے۔ بے شک تمہاری اس اُمَّت کا اَوَّل زمانہ عافیت والا بنایا گیا ہے اورعنقریب اس کے آخری زمانے میں مصیبت اور ایسے اُمور ہوں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ ایسے فتنے رونما ہوں گے کہ دوسرا پہلے سے بھی سخت ہوگا۔ ایک فتنہ آئے گا تومومن کہے گا:یہ مجھے ہلاک کر دے گالیکن وہ فتنہ اس سے دور ہوجائےگا پھر ایک اور فتنہ آئے گاتومومن کہے گا: یہ(مجھے ہلاک کردےگا) یہ( مجھے ہلاک کردے گا)۔پس جو یہ چاہے کہ ا سے آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تواسےموت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور آخرت پر ایمان لانے والا ہو اور لوگوں کے پاس وہی لائے جو اسے اپنے پاس لایا جانا پسندہواور جس نے کسی حاکم کی پیروی کی اوراپنا ہاتھ اور دل کاپھل اسے دے دیا تو اسے چاہئے کہ بقدرِ استطاعت اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی حاکم سےجھگڑ ے تواس کی گردن اڑا دو۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍورَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِيْ جَشَرِهِ اِذْ نَادٰى مُنَادِي رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلصَّلَاةُجَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِيْ اِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ اَنْ يَّدُلَّ اُمَّتَهُ عَلٰی خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُم شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَ اِنَّ اُمَّتَكُمْ هٰذِهٖ جُعِلَ عَافِيَتُهَا في اَ وَّلِهَا وَسَيُصِيْبُ آخِرَ هَا بَلَا ءٌ وَاُمُورٌ تُنْكِرُوْنَهَاوَتَجِيْءُ فِتنَةٌ يُرَ قِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيْءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُوْلُ الْمُؤْمِنُ:هٰذِهٖ مُهْلِكَتِيْ ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيْءُالْفِتْنَةُفَيَقُولُ الْمُؤمِنُ:هٰذِهٖ هٰذِهٖ فَمَنْ اَحَبَّ اَنْ يُّزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ ويُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَاْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنَ باللهِ والْيَوْمِ الآخِرِ وَلْيَاْتِ اِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ اَنْ يُؤتٰى اِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ اِمَامًافَاَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ اِنِ اسْتَطَاعَ فَاِنْ جَاءَاٰخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنْقَ الاٰخَرِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 668 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا اَبُوہُنَیْدَہ وائل بن حجررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرت سلَمہ بن یزید جُعفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگر ہم پر ایسے حکمران مقرر ہوجائیں جو ہم سے اپنے حق کاسوال کریں اور ہمارے حق سے ہمیں منع کریں تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟یہ سن کر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے اِعراض فرمایا ۔ انہوں نےپھر سوال کیا تو فرمایا:”سنو اور اطاعت کرو،بےشک اُن پر وہ لازم ہے جس کے وہ پابند کئے گئے ہیں اور تم پر وہ لازم ہے جس کے تم پابند کئے گئے ہو۔ “
عَنْ اَبِيْ هُنَيْدَةَ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَاَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِ يْدَ الْجُعْفِيُّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:يَا نَبِيَّ اللهِ اَرَءَيْتَ اِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا اُمَرَاءُ يَسْاَلُوْنَا حَقَّهُمْ وَيمْنَعُوْنَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَاَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَاَ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوا فَاِنَّمَاعَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَ عَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 669 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرتِ سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِمُجسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”عنقریب میرے بعدکچھ ترجیحی سلوک اور ایسے کام ہوں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔“صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی:یارسولَاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم میں سےجووہ زمانہ پائےآپ اسے کیا حکم دیتے ہیں؟فرمایا:” αتم اپنی ذمہ داری نبھانااور اپنے حقوقاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے مانگتے رہنا۔“
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِيْ اَثَرَ ةٌ وَاُمُورٌ تُنْكِرُوْنَهَا قَالُوْا: يَارَسُوْلَ اللّٰہ كَيْفَ تَاْمُرُ مَنْ اَدْرَكَ مِنَّاذٰلِكَ؟ قَالَ: تُؤَدُّوْنَ الْحَقَّ الَّذِيْ عَلَيْكُمْ وَتَسْاَلُوْنَ اللهَ الَّذِيْ لَكُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 670 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کی ،جس نے میری نافرمانی کی اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی اورجس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اورجس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ “
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ اَطَاعَنِي فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللهَ وَمَنْ يُطِعِ الْاَمِيْرَ فَقَدْ اَطَاعَنِي وَمَنْ يَّعْصِ الْاَمِيْرَ فَقَدْ عَصَانِيْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 671 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جسے اپنے حاکم سے کوئی ناپسندیدہ شے پہنچے تو اسے چاہیے کہ صبر کرےکیونکہ جو سلطان سے ایک بالشت بھی دور نکلا تووہ جاہلیت کی موت مرا۔ “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ،قَالَ:مَنْ كَرِهَ مِنْ اَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ فَاِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 672 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
حضرت سَیِّدُنا ابوبَکرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:” جس نے سلطان کی اِہانت کی،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے ذلیل کرے گا۔ “
عَنْ اَبِيْ بَكْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَنْ اَهَانَ السُّلطَانَ اَهَانَهُ اللهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 673 ، باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان