Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 667

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله ِصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:عَلَيْكَ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيْ عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَاَثَرَ ةٍعَلَيْكَ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:عليك السمع والطاعة في عسرك ويسرك ومنشطك ومكرهك واثر ةعليك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تم پر اپنی تنگدستی اورخوشحالی میں،پسندو ناپسند میں اورتم پر کسی دوسرے کو ترجیح دی جانے کی صورت میں سننا اوراطاعت کرنا لازم ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

نفس پر گراں اُمور میں حکمرانوں کی اطاعت:امام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت اُن اُمور میں بھی واجب ہے جو سخت اور نفس پر گراں ہوں اور شریعت کے مخالف نہ ہوں ۔ ہاں اگر معصیت والے کام ہوں تو نہ سننا واجب ہے نہ ہی کسی قسم کی کوئی اطاعت جائز جیسا کہ احادیث مبارکہ میں اس کی تصریح موجود ہے کہ گناہوں کے کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ۔حُکَّام کی بات سنواوراطاعت کرو اگرچہ دُنیاوی اُمور میں تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے اور تمہیں تمہارا وہ حق نہ دیا جائے جو ان کے پاس موجود ہے۔ اَحادیث میں اس بات پر ابھارا گیاہے کہ تمام اَحوال میں حکمرانوں کی جائز بات سنی جائے اور اطاعت کی جائے کیونکہ اس میں اجتماعیت ہے اورمخالفت کی صورت میں مسلمانوں کی اجتماعیت، دِین اوردنیا کا نقصان ہے ۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُ الرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”تجھ پر حاکم کا ہرجائز حکم ماننا لازم ہےاگرچہ دشوار ہو،تیری طبیعت کے موافق ہو یا مخالف، تُو تنگدست ہو یا خوشحال بہر صورت تجھ پرحاکم کی اطاعت لازم ہے۔اگر تیرا حاکم تجھ پر کسی اور کو مستحق نہ ہونے کے باوجود ترجیح دے یا تیرا حق تجھ سے روک لے پھر بھی صبر کرنااور اس کی مخالفت نہ کرنا تجھ پر لازم ہے ۔“مدنی گلدستہ’’طاعت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ہر اس بات سے بچنا چاہیے جو مسلمانوں میں ٹوٹ پھوٹ،بکھرجانےاورفتنہ وفساد کا باعث ہو ۔
(2) اگر حق دار پر کسی غیر حقدار کو ترجیح دی جائے تب بھی امیر کی مخالفت جائز نہیں۔
(3) امیر کا ہر وہ حکم جو جائز ہواگرچہ دشوار ہو، طبیعت کے موافق ہو یا مخالف بہر صورت ماننا لازم ہے۔
(4) ناجائزوغیرشرعی اُمور میں کسی کی اطاعت نہیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیک حکمران عطا کرے اور ہمیں جائز اُمور میں اُن کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 667