Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 668

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍورَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِيْ جَشَرِهِ اِذْ نَادٰى مُنَادِي رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلصَّلَاةُجَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِيْ اِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ اَنْ يَّدُلَّ اُمَّتَهُ عَلٰی خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُم شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَ اِنَّ اُمَّتَكُمْ هٰذِهٖ جُعِلَ عَافِيَتُهَا في اَ وَّلِهَا وَسَيُصِيْبُ آخِرَ هَا بَلَا ءٌ وَاُمُورٌ تُنْكِرُوْنَهَاوَتَجِيْءُ فِتنَةٌ يُرَ قِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيْءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُوْلُ الْمُؤْمِنُ:هٰذِهٖ مُهْلِكَتِيْ ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيْءُالْفِتْنَةُفَيَقُولُ الْمُؤمِنُ:هٰذِهٖ هٰذِهٖ فَمَنْ اَحَبَّ اَنْ يُّزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ ويُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَاْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنَ باللهِ والْيَوْمِ الآخِرِ وَلْيَاْتِ اِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ اَنْ يُؤتٰى اِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ اِمَامًافَاَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ اِنِ اسْتَطَاعَ فَاِنْ جَاءَاٰخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنْقَ الاٰخَرِ.

عن عبد الله بن عمرورضي الله عنهما قال:كنا مع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم في سفر فنزلنا منزلا فمنا من يصلح خباءه ومنا من ينتضل ومنا من هو في جشره اذ نادى منادي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:الصلاةجامعة فاجتمعنا الی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال:انه لم يكن نبي قبلي الا كان حقا عليه ان يدل امته علی خير ما يعلمه لهم وينذرهم شر ما يعلمه لهم و ان امتكم هذه جعل عافيتها في ا ولها وسيصيب آخر ها بلا ء وامور تنكرونهاوتجيء فتنة ير قق بعضها بعضا وتجيء الفتنة فيقول المؤمن:هذه مهلكتي ثم تنكشف وتجيءالفتنةفيقول المؤمن:هذه هذه فمن احب ان يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتاته منيته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر وليات الى الناس الذي يحب ان يؤتى اليه ومن بايع امامافاعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ان استطاع فان جاءاخر ينازعه فاضربوا عنق الاخر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہ بن عَمرو رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب ایک جگہ قیام کیا تو ہم میں سے کوئی اپنا خیمہ درست کرنے لگا ،کوئی تیر اندازی کرنے لگا اورکوئی اپنے جانوروں کی دیکھ بھال میں مَصروف ہوگیا ۔اتنے میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےمُنادی نےپکارا:” نماز قائم ہونے والی ہے“پس جب ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا: ”بے شک مجھ سے پہلے جو بھی نبی آیا اس پر لازم تھا کہ جس بھلائی کو جانتاہے اس کے بارے میں اپنی اُمَّت کو آگاہ کرے اور جس بُرائی کو جانتاہے اس سے انہیں ڈرائے۔ بے شک تمہاری اس اُمَّت کا اَوَّل زمانہ عافیت والا بنایا گیا ہے اورعنقریب اس کے آخری زمانے میں مصیبت اور ایسے اُمور ہوں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ ایسے فتنے رونما ہوں گے کہ دوسرا پہلے سے بھی سخت ہوگا۔ ایک فتنہ آئے گا تومومن کہے گا:یہ مجھے ہلاک کر دے گالیکن وہ فتنہ اس سے دور ہوجائےگا پھر ایک اور فتنہ آئے گاتومومن کہے گا: یہ(مجھے ہلاک کردےگا) یہ( مجھے ہلاک کردے گا)۔پس جو یہ چاہے کہ ا سے آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تواسےموت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور آخرت پر ایمان لانے والا ہو اور لوگوں کے پاس وہی لائے جو اسے اپنے پاس لایا جانا پسندہواور جس نے کسی حاکم کی پیروی کی اوراپنا ہاتھ اور دل کاپھل اسے دے دیا تو اسے چاہئے کہ بقدرِ استطاعت اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی حاکم سےجھگڑ ے تواس کی گردن اڑا دو۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث پاک میں بھی حکمرانوں کی اطاعت کاحکم دیا گیاہے کہ جائز اَحکام میں بقدرِ استطاعت ان کی اطاعت لازم ہے کیونکہ جس حاکم سے بیعت کرلی اس کی اطاعت کا پختہ وعدہ کرلیا ،اخلاص کے ساتھ پیروی کرنے کی اسے یقین دہانی کرائی تو اب جائز کاموں میں اس کی نافرمانی جائز نہیں بلکہ جو حاکم وقت یا حکام سے جھگڑ ا کرے تو اسے قوت و سختی کے ساتھ اس بغاوت سے روکا جائے تاکہ ملک و ملت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے محفوظ رہے ۔
¥ ایک کے ہوکر رہو:
مرآۃ المناجیح میں ہے:(یہاں )امام سے مراد دنیاوی امام بھی ہوسکتاہےیعنی سلطانِ اسلام اور دینی امام بھی،جیسے امامِ مجتہد اور شیخِ طریقت، پہلے معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں۔(اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دےدے)چونکہ مشائخ یا سلطان کی بیعت کے وقت شیخ یا سلطان کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جاتا ہے اسی لیے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےصَفْقَةَ يَدِهِ(اپنا ہاتھ دینا)ارشاد فرمایا۔عُرف میں جب کسی سے کوئی پختہ وعدہ کرتے ہیں تو ہاتھ ملا کر کہتے ہیں آؤ ہاتھ ملاؤیہ کام ضرور کرنا ہے۔مگر یہ بیعت مردوں کے لیے ہے عورتوں سے بیعت صرف کلام سے چاہیے۔ (دل کاپھل اسے دے دیا ) یعنی دل کا اخلاص اسے دے کہ دل سے اس کی بیعت کرے یا دل کے میوے سے مراد اولاد ہے یعنی اپنے بال بچوں سے بھی اس امام کی بیعت کرائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک کے ہوکر رہو۔(اگر کوئی حاکم سےجھگڑ ے تواس کی گردن اڑا دو)مطلب یہ ہے کہ دوسرا شخص حکمرانی کا خواہش مند ہے اور وہ حاکِمِ وقت سےجو کسی بھی وجہ سے معزولی کا مستحق نہیں ہے اپنی حکمرانی کے لئے جھگڑتا ہے تو اسے قتل کیا جائے گا۔اکمال اکمال المعلم لاُبَی مالکی میں ہے:”اِمَام نَوَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ جب ایک خلیفہ کی بیعت ہوجائے پھر دوسرے خلیفہ کی بیعت کی جائے تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اس کو پورا کرنا واجب ہے اور دوسرے خلیفہ کی بیعت باطل ہے اور اس کو پورا کرنا حرام ہےخواہ ان کو دوسرے خلیفہ کی بیعت کرتے وقت پہلے کی بیعت کا علم ہو یا نہ ہواور خواہ وہ دونوں خلیفہ الگ الگ شہروں میں ہوں یا ایک شہر میں ہوں۔امام مازریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:ایک وقت میں دو خُلفاء کی بیعت جائز نہیں۔ امام قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اگر ایک زمانہ میں دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ کون سا خلیفہ بیعت لینے میں پہلےہے تو محققین کے نزدیک وہ زیادہ حقدار ہے اور اگر یہ معلوم نہ ہوسکے تو دونوں کی بیعت فسخ کردی جائے،ایک قول یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب اَربابِ حل وعقد(انتظام وبندوبست کرنے والے لوگوں)پر چھوڑ دیا جائے اور ایک قول یہ کہ ان میں قرعہ اندازی کی جائے۔“مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”تمام علما کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک ہی وقت میں دو شخصوں کے لئے عقد بیعت نہیں کیا جاسکتا خواہ دارُالاسلام بہت ہی وسیع ہو یا نہ ہو۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان :”اگر کوئی حاکم سے جھگڑے تو اس کی گردن اڑادو“یہ خطاب حکمرانی میں جھگڑنے والے اور اس کی بیعت لینے والے دونوں کو شامل ہے۔“مدنی گلدستہ’’خلیفہ ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر نبی نے اپنی امت کو بھلائی کی تعلیم دی اور برائی سے ڈرایا اور اس سے دور رہنے کا حکم دیا ۔
(2) اُمَّت ِمُحمدِیَّہ کا اول زمانہ عافیت والا تھااورآخری زمانے میں مصیبت او رنا پسندیدہ اُمور ہوں گے۔
(3) جو آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہونا چاہے تواسےموت اس حال میں آنی چاہئے کہ
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور آخرت پر ایمان رکھتاہواور لوگوں کےلیے وہی پسند کرتا ہو جو اپنے لئے پسند کرتاہے ۔
(4) جو کسی حاکم سے اخلاص کے ساتھ بیعت کر لے اس پر بقدرِ اِستطاعت اس کی اطاعت لازم ہے ۔
(5) ایک وقت میں ایک ہی خلیفہ کی بیعت کی جائے گی۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں فتنوں سے محفوظ فرمائے اور بقدراستطاعت حاکم کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 668