- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- حدیث نمبر 668
باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 668
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍورَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِيْ جَشَرِهِ اِذْ نَادٰى مُنَادِي رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلصَّلَاةُجَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِيْ اِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ اَنْ يَّدُلَّ اُمَّتَهُ عَلٰی خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُم شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَ اِنَّ اُمَّتَكُمْ هٰذِهٖ جُعِلَ عَافِيَتُهَا في اَ وَّلِهَا وَسَيُصِيْبُ آخِرَ هَا بَلَا ءٌ وَاُمُورٌ تُنْكِرُوْنَهَاوَتَجِيْءُ فِتنَةٌ يُرَ قِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيْءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُوْلُ الْمُؤْمِنُ:هٰذِهٖ مُهْلِكَتِيْ ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيْءُالْفِتْنَةُفَيَقُولُ الْمُؤمِنُ:هٰذِهٖ هٰذِهٖ فَمَنْ اَحَبَّ اَنْ يُّزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ ويُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَاْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنَ باللهِ والْيَوْمِ الآخِرِ وَلْيَاْتِ اِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ اَنْ يُؤتٰى اِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ اِمَامًافَاَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ اِنِ اسْتَطَاعَ فَاِنْ جَاءَاٰخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنْقَ الاٰخَرِ.
عن عبد الله بن عمرورضي الله عنهما قال:كنا مع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم في سفر فنزلنا منزلا فمنا من يصلح خباءه ومنا من ينتضل ومنا من هو في جشره اذ نادى منادي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:الصلاةجامعة فاجتمعنا الی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال:انه لم يكن نبي قبلي الا كان حقا عليه ان يدل امته علی خير ما يعلمه لهم وينذرهم شر ما يعلمه لهم و ان امتكم هذه جعل عافيتها في ا ولها وسيصيب آخر ها بلا ء وامور تنكرونهاوتجيء فتنة ير قق بعضها بعضا وتجيء الفتنة فيقول المؤمن:هذه مهلكتي ثم تنكشف وتجيءالفتنةفيقول المؤمن:هذه هذه فمن احب ان يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتاته منيته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر وليات الى الناس الذي يحب ان يؤتى اليه ومن بايع امامافاعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ان استطاع فان جاءاخر ينازعه فاضربوا عنق الاخر.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہ بن عَمرو رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب ایک جگہ قیام کیا تو ہم میں سے کوئی اپنا خیمہ درست کرنے لگا ،کوئی تیر اندازی کرنے لگا اورکوئی اپنے جانوروں کی دیکھ بھال میں مَصروف ہوگیا ۔اتنے میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےمُنادی نےپکارا:” نماز قائم ہونے والی ہے“پس جب ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا: ”بے شک مجھ سے پہلے جو بھی نبی آیا اس پر لازم تھا کہ جس بھلائی کو جانتاہے اس کے بارے میں اپنی اُمَّت کو آگاہ کرے اور جس بُرائی کو جانتاہے اس سے انہیں ڈرائے۔ بے شک تمہاری اس اُمَّت کا اَوَّل زمانہ عافیت والا بنایا گیا ہے اورعنقریب اس کے آخری زمانے میں مصیبت اور ایسے اُمور ہوں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ ایسے فتنے رونما ہوں گے کہ دوسرا پہلے سے بھی سخت ہوگا۔ ایک فتنہ آئے گا تومومن کہے گا:یہ مجھے ہلاک کر دے گالیکن وہ فتنہ اس سے دور ہوجائےگا پھر ایک اور فتنہ آئے گاتومومن کہے گا: یہ(مجھے ہلاک کردےگا) یہ( مجھے ہلاک کردے گا)۔پس جو یہ چاہے کہ ا سے آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تواسےموت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور آخرت پر ایمان لانے والا ہو اور لوگوں کے پاس وہی لائے جو اسے اپنے پاس لایا جانا پسندہواور جس نے کسی حاکم کی پیروی کی اوراپنا ہاتھ اور دل کاپھل اسے دے دیا تو اسے چاہئے کہ بقدرِ استطاعت اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی حاکم سےجھگڑ ے تواس کی گردن اڑا دو۔
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث پاک میں بھی حکمرانوں کی اطاعت کاحکم دیا گیاہے کہ جائز اَحکام میں بقدرِ استطاعت ان کی اطاعت لازم ہے کیونکہ جس حاکم سے بیعت کرلی اس کی اطاعت کا پختہ وعدہ کرلیا ،اخلاص کے ساتھ پیروی کرنے کی اسے یقین دہانی کرائی تو اب جائز کاموں میں اس کی نافرمانی جائز نہیں بلکہ جو حاکم وقت یا حکام سے جھگڑ ا کرے تو اسے قوت و سختی کے ساتھ اس بغاوت سے روکا جائے تاکہ ملک و ملت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے محفوظ رہے ۔
¥ ایک کے ہوکر رہو:مرآۃ المناجیح میں ہے:(یہاں )امام سے مراد دنیاوی امام بھی ہوسکتاہےیعنی سلطانِ اسلام اور دینی امام بھی،جیسے امامِ مجتہد اور شیخِ طریقت، پہلے معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں۔(اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دےدے)چونکہ مشائخ یا سلطان کی بیعت کے وقت شیخ یا سلطان کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جاتا ہے اسی لیے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےصَفْقَةَ يَدِهِ(اپنا ہاتھ دینا)ارشاد فرمایا۔عُرف میں جب کسی سے کوئی پختہ وعدہ کرتے ہیں تو ہاتھ ملا کر کہتے ہیں آؤ ہاتھ ملاؤیہ کام ضرور کرنا ہے۔مگر یہ بیعت مردوں کے لیے ہے عورتوں سے بیعت صرف کلام سے چاہیے۔ (دل کاپھل اسے دے دیا ) یعنی دل کا اخلاص اسے دے کہ دل سے اس کی بیعت کرے یا دل کے میوے سے مراد اولاد ہے یعنی اپنے بال بچوں سے بھی اس امام کی بیعت کرائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک کے ہوکر رہو۔(اگر کوئی حاکم سےجھگڑ ے تواس کی گردن اڑا دو)مطلب یہ ہے کہ دوسرا شخص حکمرانی کا خواہش مند ہے اور وہ حاکِمِ وقت سےجو کسی بھی وجہ سے معزولی کا مستحق نہیں ہے اپنی حکمرانی کے لئے جھگڑتا ہے تو اسے قتل کیا جائے گا۔اکمال اکمال المعلم لاُبَی مالکی میں ہے:”اِمَام نَوَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ جب ایک خلیفہ کی بیعت ہوجائے پھر دوسرے خلیفہ کی بیعت کی جائے تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اس کو پورا کرنا واجب ہے اور دوسرے خلیفہ کی بیعت باطل ہے اور اس کو پورا کرنا حرام ہےخواہ ان کو دوسرے خلیفہ کی بیعت کرتے وقت پہلے کی بیعت کا علم ہو یا نہ ہواور خواہ وہ دونوں خلیفہ الگ الگ شہروں میں ہوں یا ایک شہر میں ہوں۔امام مازریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:ایک وقت میں دو خُلفاء کی بیعت جائز نہیں۔ امام قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اگر ایک زمانہ میں دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ کون سا خلیفہ بیعت لینے میں پہلےہے تو محققین کے نزدیک وہ زیادہ حقدار ہے اور اگر یہ معلوم نہ ہوسکے تو دونوں کی بیعت فسخ کردی جائے،ایک قول یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب اَربابِ حل وعقد(انتظام وبندوبست کرنے والے لوگوں)پر چھوڑ دیا جائے اور ایک قول یہ کہ ان میں قرعہ اندازی کی جائے۔“مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”تمام علما کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک ہی وقت میں دو شخصوں کے لئے عقد بیعت نہیں کیا جاسکتا خواہ دارُالاسلام بہت ہی وسیع ہو یا نہ ہو۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان :”اگر کوئی حاکم سے جھگڑے تو اس کی گردن اڑادو“یہ خطاب حکمرانی میں جھگڑنے والے اور اس کی بیعت لینے والے دونوں کو شامل ہے۔“مدنی گلدستہ’’خلیفہ ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر نبی نے اپنی امت کو بھلائی کی تعلیم دی اور برائی سے ڈرایا اور اس سے دور رہنے کا حکم دیا ۔
(2) اُمَّت ِمُحمدِیَّہ کا اول زمانہ عافیت والا تھااورآخری زمانے میں مصیبت او رنا پسندیدہ اُمور ہوں گے۔
(3) جو آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہونا چاہے تواسےموت اس حال میں آنی چاہئے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور آخرت پر ایمان رکھتاہواور لوگوں کےلیے وہی پسند کرتا ہو جو اپنے لئے پسند کرتاہے ۔
(4) جو کسی حاکم سے اخلاص کے ساتھ بیعت کر لے اس پر بقدرِ اِستطاعت اس کی اطاعت لازم ہے ۔
(5) ایک وقت میں ایک ہی خلیفہ کی بیعت کی جائے گی۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں فتنوں سے محفوظ فرمائے اور بقدراستطاعت حاکم کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 668