Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 673

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ بَكْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَنْ اَهَانَ السُّلطَانَ اَهَانَهُ اللهُ.

عن ابي بكرة رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول: من اهان السلطان اهانه الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوبَکرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:” جس نے سلطان کی اِہانت کی،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے ذلیل کرے گا۔ “

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !حدیثِ مذکور سے بخوبی اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ سلطانِ اسلام کا مرتبہ کتنابلند و بالا ہے،اس کی اہانت کرنے والے کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّذلیل و رسوا فرما دیتا ہے۔شریعت و سنت کے پابند حاکم سے کوئی افضل نہیں ہوسکتا ، اس کی دعا رد نہیں کی جاتی ، بروزِ قیامت اسے قُرب ِخداوندی نصیب ہوگا ۔ اس کے علاوہ بھی اَ حادیثِ مبارکہ میں کئی مقامات پر حاکمِ اسلام کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا اور اس کی مخالفت سے منع کیا گیا ہے ۔سلطان سے مراد:دلیل الفالحین میں ہے:”جس نے سلطان کی اہانت کی یعنی اس کی بات نہ سنی اور اس کی اطاعت نہ کی تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے دنیا میں بھی ذلیل کرے گا اورعفوو درگزر کا معاملہ نہ ہوا تو آخرت میں بھی ذِلَّت و رُسوائی کا عذاب دے گا کیونکہ اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی اورایسے شخص کو ذلیل کرنے کی کوشش کی جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے عزت عطا فرمائی۔ حدیثِ مذکور میں سلطان سے مراد ہروہ شخص ہےجومسلمانوں کے امور میں سے کسی شے پر والی اور حاکم بنایا گیا ہو۔“سلطان اور بادشاہِ اسلام کی اہمیت:حدیث مذکور میں سلطان اور بادشاہِ اسلام کی اہمیت وقدرومَنزلت کا بیان ہے۔چنانچہ اس ضمن میں پانچ فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے:(1)”سلطان زمین میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(کی رحمت) کاسایہ ہے، جس نے اسے دھوکا دیا وہ گمراہ ہوا اورجس نے اس کے ساتھ خیر خواہی کی وہ ہدایت پاگیا۔“(2) ”سلطان زمین میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(کی رحمت) کاسایہ ہے،ضعیف وکمزوراس کا آسرا پکڑتاہے،اس کے طفیل مظلوم مدد پاتاہے۔ پس جس نے دنیا میں سلطان کا اِکرام کیااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت اس کا اکرام فرمائے گا۔“( )(3)”کوئی شخص ایسے حاکم سے افضل نہیں ہوسکتاکہ وہ جب بولے تو سچ بولے،فیصلہ کرے توعدل وانصا ف سے کام لے اور جب اس سے رحم طلب کیاجائے تورحم کرے۔“ (4)”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرو،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔جنہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےتم پر حاکم بنایاان کی اطاعت کرواور حکومت کے لئے حاکم سے جھگڑا نہ کرو اگرچہ حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔تم پر تمہارے نبی اور خلفائے راشِدینمَہْدِیّینکی سنت کی اتباع لازم ہے۔ان کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔“(5)”اپنے دل ودماغ کو بادشاہوں کو بُرا بھلا کہنے میں نہ لگاؤ بلکہ ان کی اصلاح کی دعاکرواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان کے دلوں کو تمہارے لئے نرم فرمادےگا ۔“خلیفہ کی توہین کرنے والے کا انجام:امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عثمان غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمسجدِ نبوی شریف کے منبرِ اَقدس پر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک شخص کھڑا ہوگیا اور آپ کے دست مبارک سے عصا چھین کر اس کو توڑ ڈالا۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے حِلم وحیاء کی و جہ سے اس سے کوئی مُواخَذہ نہیں فرمایا لیکن خدا تعالیٰ نے اس بے ادبی پر اس کو یہ سزاد ی کہ ا سکے ہاتھ میں کینسر کا مرض ہوگیا اور ایک سال کے اندرہی اس کا انتقال ہوگیا۔مدنی گلدستہ’’اسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جو سلطانِ اسلام کی توہین کرے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے ذلیل کر دیتا ہے ۔
(2) جس نے دنیا میں حاکمِ اِسلام کی تعظیم کی
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت اُس کی عزت اَفرائی فرمائےگا ۔
(3) جس نے سلطان کو دھوکا دیا وہ گمراہ ہوا اور جس نے اس سےخیر خواہی کی وہ ہدایت پاگیا۔
(4) بادشادہ زمین پر کمزوروں کا سہارا اور مظلوموں کا مدد گار ہے ۔
(5) بادشاہوں کو بُرا بھلا کہنے کے بجائےان کی اصلاح کی دعا کرنی چاہیے اس طرح
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان کے دلوں کو رعایا کے لئے نرم فرمادے گا ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اچھے اور نیک حکمران عطاکرے اور ہمیں ان کی عزت اور اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 673