Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 672

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ،قَالَ:مَنْ كَرِهَ مِنْ اَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ فَاِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً.

عن ابن عباس رضي الله عنهما:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ،قال:من كره من اميره شيئا فليصبر فانه من خرج من السلطان شبرا مات ميتة جاهلية.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جسے اپنے حاکم سے کوئی ناپسندیدہ شے پہنچے تو اسے چاہیے کہ صبر کرےکیونکہ جو سلطان سے ایک بالشت بھی دور نکلا تووہ جاہلیت کی موت مرا۔ “

شرح حدیث

جاہلیت کی موت سے مراد:عمد ۃالقاری میں ہے:”جو اپنے حاکم سے کوئی ناپسندیدہ شے دیکھے تو چاہیے کہ صبر کرے اور حاکم کی اطاعت سے نہ نکلے کیونکہ اس میں جان کی حفاظت اور فتنے کی روک تھام ہے ۔مگر جب امیر کفر کرے یا اس سے خلاف اسلام کوئی دعویٰ ظاہر ہوتو پھر اس کی اطاعت ہرگز جائز نہیں۔ اس میں اس با ت پر دلیل ہے کہ فسق اور ظلم کی وجہ سے سلطان کو معزول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی وجہ سے سلطنت کے معاملے میں اس سے جھگڑا جائے گا ۔حدیثِ پاک میں بالشت کی قید لگانے سے مراد ادنیٰ مقدار کے ذریعہ بھی سلطان کی اطاعت سے نکلناہے۔ جاہلیت کی موت مرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی موت اہلِ جاہلیت کی موت کی طرح ہوگی وہ لوگ بھی کسی حاکم کی اطاعت قبول نہ کرتے تھے ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اس کاخاتمہ کفر پر ہوگا بلکہ مراد یہ ہےکہ اگر اسی حالت پر مر گیا تو گناہگار ہو کر مرے گا۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے :” اگرتم اسلامی بادشاہ کا فِسْقُ و فُجُوْر کھلم کھلا دیکھو، ان کے اَحکام و اَفعال کی کوئی توجیہ نہ ہوسکے تو ان کی اطاعت نہ کرو،مگرپھربھی ان فاسق سَلاطین پرخُرُوْجْ نہ کرو کہ ان سے لڑنا بِھڑنا باجماعِ مُسلمین حرام ہے۔ اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ بادشاہ فسق و ظلم کی وجہ سے معزول نہ ہوگاکیونکہ سلطان کا معزول ہونا بڑی تباہیٔ ملک و خوں ریزی کا باعث ہے۔ ہاں کافرسلطانِ اسلام نہیں بن سکتا، اگر مسلمان بادشاہ کافر ہوجائے تو معزول ہوگا۔“
مظلوموں کی جائے پناہ:حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بادشاہ زمین پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(کی رحمت) کاسایہ ہے ، بند گان خُدا میں سےہر مظلوم اسکی پناہ لیتاہے اگروہ عدل سے کام لے تو اس کو اجر ملتا ہے اور رعایا پر اس کاشکر لازم ہے اور اگروہ ظلم کرے تو اس کاوبال اسی پر ہے اورایسے وقت رعایا پر صبرکرنا ہے جب حُکَّام ظلم کرتے ہیں تو قحط سالی پڑتی ہے ، جب لوگ زکوٰۃ روک لیتے ہیں تومویشی ہلاک ہونے لگتے ہیں ، جب زنا عام ہوجائے توفقروفاقہ اورغریبی عام ہوجاتی ہے اور جب وعدہ اورذمہ توڑا جائے تو کافروں کا غلبہ ہوجاتا ہے۔“ہلکا حساب اور اچھا ٹھکانا:رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جوبادشاہ صلہ رحمی کرے، رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرےاور اپنی رعایاکےساتھ عدل وانصاف سے کام لے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ملک کومضبوط کر دے گا،اسے اجرِعظیم عطافرمائےگا ،اس سے ہلکا حساب لے گا اور اسے اچھا ٹھکانا عطا فرمائے گا۔“مدنی گلدستہ’’ نیک حاکم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) جو اپنے امیر سے کوئی ناپسندیدہ شے دیکھے تو صبر کرے اور امیر کی اطاعت سے نہ نکلے کیونکہ اسی میں جان کی حفاظت اور فتنے کی روک تھام ہے۔
(2) جب حکام رعایا پر ظلم وستم شروع کردیں تو قحط میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں ۔
(3) جس قوم میں زنا عام ہوجائے تو وہاں فقروفاقہ اور غربت عام ہوجاتی ہے ۔
(4) کوئی کافرسلطانِ اسلام نہیں بن سکتا،اگر مسلمان بادشاہ کافر ہوجائے تو اسے بھی معزول کر دیا جائے گا۔
(5) جو قوم ذمہ و وعدہ توڑ دے اس پر کافروں کا رعب و دبدبہ بڑھا دیا جاتا ہے۔
(6) رعایا کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے نیک بادشاہ کا حساب ہلکا اورٹھکانا اچھا ہو گا۔
(7) جوبادشاہ صلہ رحمی کرے ،رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے ،اپنی رعایاکےساتھ عدل وانصاف سے کام لے ،
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ملک کومضبوط کر دیتا ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حکمرانوں کے ظلم وستم سے محفوظ فرمائے اور ہمیں نیک حکمران عطا کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 672