Main Icon

باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 664

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَاقَالَ:كُنَّااِذَا بَايَعْنَارَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُوْلُ لَنَا:فِيْمَااسْتَطَعْتُمْ.

عن ابن عمر رضی اللہ عنہماقال:كنااذا بايعنارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم على السمع والطاعة يقول لنا:فيمااستطعتم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ جب ہم رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سننے اوراطاعت کرنےپربیعت کرتے توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے :” اُس میں جس کی تمہیں طاقت ہو۔ “

شرح حدیث

بقدرِاستطاعت اطاعت کا حکم:حدیث مذکورمیں حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اپنی اُمت پر شفقت و رحمت کا بیان ہے کہ آپ نے بیعت کو اِستطاعت سے مُقَیَّد کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو ایسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کی انہیں طاقت نہ ہو کیونکہ مطلق بیعت کی صورت میں ہرحکم پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے چاہے اس کی طاقت ہو یا نہ ہو اور یہ ایک تکلیف دہ امرہے،اس لئےحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آسانی عطا فرمائی اور بقدرِ استطاعت اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا۔چنانچہ مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :”حضورانورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمہم پرخودہم سے زیادہ مہربان ہیں کہ اُمَّت پر شفقت فرماتے ہوئے بوقتِ بیعت صحابہ(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)سے فرماتے ہیں کہ مطلقاً اطاعت کا عہد نہ کرو بلکہ بقدرِطاقت اطاعت کا عہد کرو تاکہ کبھی تم بدعہدی میں ماخوذ نہ ہو۔“اُمَّت پر آسانی چاہنا:حضورِاَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُمَّت پر شرعی اَحکام میں آسانی وتخفیف کالحاظ فرماتے اوربعض اَفعال اس خوف سے ترک فرمادیتے کہ اُمَّت پر فرض نہ ہوجائیں،جیسے ہرنماز کے لئے مِسواک یا عشاء میں تاخیریاصوم وصال کو ترک کردینا وغیرہ۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاکیا کرتے تھے کہ کبھی کسی مسلمان کیلئے کلمات غضب وہلاکت والی دعازبان سے نکل جائے تو اس کو رحمت وقربت میں بدل دے اور باعث طہارت بنادے۔جب کبھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازِباجماعت میں بچے کے رونے کی آواز سنتے او ر اس کی ماں نماز میں ہوتی تونمازمیں تخفیف فرمادیتے تاکہ اسےپریشانی نہ ہو۔جب کفارِ بداَطوار نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جھٹلایا اور حدسے زیادہ تکالیف دیں توحضرت سَیِّدُنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامنے حاضر ہوکرعرض کی:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےپہاڑوں پر مقرر فرشتے کو حکم دیا ہے کہ میرا نبی جوفرمائے ان کا حکم بجا لاؤ۔ چنانچہ پہاڑوں کےفرشتے نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگرآپ چاہیں انہیں دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں؟آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :” میں پسند کرتاہوں کہ صبر کروں اوراپنی اُمَّت سے عذاب کی تاخیر کروں شاید کہ حق تعالیٰ انہیں بخش دے اور توبہ کی توفیق دے کر اُن پررحمت فرمائے۔‘‘اُمّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ جب بھی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےان میں سے آسان بات کو اختیار فرمایا ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو اُمَّت کے لئے آسان تر ہوتی اسے اختیار فرماتے۔ حضرت سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: حضورِاَنْورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی کبھی ہمیں وعظ ونصیحت فرماتے ہمیشہ نہ فرماتے۔‘‘(یعنی ہماری رعایت فرماتے ۔)مدنی گلدستہ’’خلافت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہمارے پیارے نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم پر خود ہم سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔
(2) آپ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُمَّت پر آسانی چاہتےہیں مشقت وسختی نہیں چاہتے ۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں اطاعتِ رسول کا ایسا جذبہ تھا کہ ہر حکمِ نَبوی پر دل وجان سے عمل کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے چاہے انہیں کیسی ہی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا۔
(4) رعایا پر امیر کی اطاعت بقدرِاستطاعت ہی واجب ہے ۔
(5) دوسروں کو اچھا مشورہ دینا اور آسانی مہیا کرنا ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَخلاقِ کریمہ کا ایک حسین باب ہے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سیرتِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرعمل کرتے ہوئے شفقت ونرمی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 664